سعودی صحافی کا قتل: بنیادی اقدار پر مغرب کے ایمان کا امتحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس حوالے سے یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب اس اہم واقعہ کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور دنیا بھر میں اس خبر کو نمایاں جگہ دی جارہی ہے تو استنبول میں سعودی قونصل جنرل ترکی سے وطن روانہ ہوگئے ہیں۔ کل سے امریکی ٹیلی ویژن سی این این یہ خبر نشر کررہا ہے کہ سعودی عرب جمال خشوگی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے اور اس کے ذمہ داروں کو سزا دینے کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کرنے والا ہے۔

اس قسم کی کسی پیش رفت کا امکان امریکی صدر کے گزشتہ روز کے بیان سے بھی ہوتا ہے جب انہوں نے اخباری نمائیندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شاہ سلمان سے فون پر بات ہوئی ہے لیکن شاہ سلمان نے اس قسم کے کسی بھی واقعہ سے لاعلمی ظاہر کی ہے اور اس کی تہ تک پہنچنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے جمال خشوگی کو بعض بدمعاش عناصر نے مارا ہو۔ امریکی میڈیا صدر ٹرمپ کے اس بیان کے علاوہ آج دن کے دوران سیاسی مخالفین کے خلاف طنزیہ ٹویٹ پیغامات کو اس اہم معاملہ کو پس منظر میں دھکیلنے کی کوشش قرار دے رہا ہے۔ دوسری طرف ری پبلیکن پارٹی کے بعض اہم سینیٹرز نے جمال خشوگی کے مبینہ قتل کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس بارے میں سچ تلاش کرنے اور سعودی عرب کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اگر اس جرم پر سعودی عرب کے ساتھ رعایت کی تو اس کی اخلاقی حیثیت متاثر ہوگی ۔ معاملات کو سنبھالنے کے لئے وزیر خارجہ مائک پومیو کو فوری طور سے سعودی عرب بھیجا گیا جنہوں نے شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کرنے کے بعد صدر ٹرمپ کو رپورٹ دی ہے ۔ امریکی وزارت خارجہ کے اعلان کے مطابق مائیک پومیو نے سعودی شاہ اور ولی عہد سے جمال خشوگی کے معاملہ کے سارے حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترک صدر طیب اردوآن اس معاملہ میں ذاتی طور سے دلچسپی لے رہے ہیں ۔ شام ، ایران اور قطر کے ساتھ تعلقات کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں قیادت کے سوال پر سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ اس لئے یہ کہا جاتا ہے کہ ترکی اس معاملہ کو اپنی سیاسی اور سفارتی پوزیشن مستحکم کرنے اور سعودی عرب سے رعایات لینے کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ترک وزیر خارجہ مہوت اوگلو نے جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک انسان کا قتل ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم انسانی حقوق اور سیاسی مخالفین کے ساتھ سلوک کے حوالے سے ترک حکومت کا ریکارڈ بھی اچھا نہیں ہے ۔اس لئے ترکی کے سخت مؤقف کا بنیادی مقصد سیاسی کھینچا تانی ہے۔

سعودی عرب کو کبھی بھی بنیادی انسانی حقوق کے حوالے مثالی پوزیشن حاصل نہیں رہی۔ ملک میں سیاسی مخالفین کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں اور شاہی خاندان طاقت کے زور پر اپنی مرضی کی پالیسیاں نافذ کرتا ہے۔ تاہم سعودی مالی وسائل اور عالمی تیل کی منڈیوں میں سعودی تیل کی اہمیت کی وجہ سے اکثر مغربی ممالک اور امریکہ سعودی عرب کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرتے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر درشت لہجے میں بات نہیں کی جاتی۔ اس کے برعکس ایران ، روس یا کسی دوسرے ملک کے معاملات پر بات کرتے ہوئے تند و تیز بیانات سننے کو ملتے ہیں۔ گزشتہ دنوں کینیڈا کی وزیر خارجہ نے جب انسانی حقوق کی جد و جہد کرنے والی ایک خاتون کی سعودی عرب میں حراست کے معاملہ پر ٹویٹ کی تو سعودی عرب نے کینیڈا کے خلاف سخت اقدامات کئے تھے۔ کینیڈا سے سعودی سفیر واپس بلانے کے علاوہ کینیڈین یونیورسٹیوں سے تمام سعودی طالب علموں اور ہسپتالوں میں مریضوں کو واپس لانے کا حکم دیاگیا تھا۔ سعودی حکومت کے اس شدید رد عمل پر کسی مغربی ملک نے آگے بڑھ کر کینیڈا کا ساتھ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔

اب یہ بات تقریباً واضح ہو چکی ہے کہ جمال خشوگی کو سعودی قونصل خانہ میں ہی قتل کیا گیا تھا۔ تاہم امریکہ اور ترکی سعودی عرب کے ساتھ مل کر یہ طے کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایسا کون سا راستہ تلاش کیا جائے کہ سعودی شاہی خاندان اور اعلیٰ حکام پر اس کی آنچ نہ آئے اور میڈیا کی طرف سے اٹھنے والا شور و غل بھی دب جائے۔ امریکہ میں صدر ٹرمپ ’امریکہ سب سے پہلے‘ کی حکمت پر عمل کرتے ہوئے انسانی حقوق کے سوال پر کوئی بڑا قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ سعودی عرب کسی طرح اس معاملہ سے نکلنا چاہے گا اور ترکی یہ راستہ دینے کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایسے میں میڈیا اور بعض سیاست دان یہ توقع کررہے ہیں کہ یہ سانحہ سعودی عرب کے عالمی اثر و رسوخ کو محدود کرنے میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کرسکتا ہے۔

جمال خشوگی کا قتل البتہ سعودی عرب کے لئے کسی مشکل سے زیادہ امریکہ اور مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کے دعوؤں کا امتحان ہے۔ امریکہ اگر اس قتل کے اصل ذمہ داروں کو سزا دلوانے میں کامیاب نہ ہؤا تو واضح ہو جائے گا کہ انسانی حقوق کا نعرہ صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1615 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali