جمال خشوگی کا قتل: پھانسی کا پھندا کس کی گردن میں پڑے گا؟


سعودی عرب کے علاوہ صدر ٹرمپ اور ان کی مشیروں کا خیال تھا کہ جزوی ذمہ داری قبول کرنے کے اس ڈرامائی اعلان اور اس الزام میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کو برطرف کرنے کی وجہ سے اس کہانی کو قابل اعتبار بنا لیا جائے گا۔ اور اس معاملہ کو میڈیا کی توجہ سے دور کرنے کا مقصد حاصل ہو جائے گا۔ اس کے بعد ری پبلیکن پارٹی یا سیاسی حلقوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا اندرون خانہ جواب فراہم کرکے معاملہ دبا لیا جائے گا۔ لیکن سعودی عرب کے بیان کو صدر ٹرمپ کی طرف سے قابل اعتبار قرار دینے کے باوجود قبول نہیں کیا گیا۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے علاوہ اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹر نیشنل سمیت سب ملکوں اور ادروں نے اس وضاحت کو ماننے سے انکار کر دیا اور اسے سعودعی عرب کا نیا جھوٹ قرار دیا گیا۔ اسی دباؤ کی وجہ سے اب صدر ٹرمپ بھی اپنا مؤقف تبدیل کرنے اور سعودی جواب کو نا مکمل قرار دینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ اب بھی غلط اعداد و شمار کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ جاری کاروبار اور اسلحہ کی فروخت کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ معاملات خراب کرنے کی صورت میں امریکہ کے دس لاکھ سے زائد لوگوں کا روزگار متاثر ہوسکتا ہے۔ ایک تو یہ معلومات کسی دستاویزی شواہد کے بغیر پیش کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے قابل اعتبار نہیں ہیں۔ دوسرے متعدد امریکی لیڈروں اور میڈیا کی طرف سے یہ دلیل دی جارہی ہے کہ یہ معاملہ معیشت سے زیادہ ان اقدار کا ہے جن پر امریکی معاشرہ کی تشکیل ہوئی ہے۔ سابق نائب صدر جوبائیڈن نے گزشتہ روز ایک جذباتی تقریر میں کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کو نظر انداز کرکے اور اصولی مؤقف اختیار کرنے سے انکار کرکے صدر ٹرمپ امریکہ کو دنیا کی قیادت کے اخلاقی حق سے محروم کر رہے ہیں۔

جمال خشوگی کی موت کی ذمہ داری قبول کرکے اس کی تحقیقات کروانے اور چند لوگوں کی گرفتاریوں کا اثر زائل ہوتے دیکھ کر اب سعودی حکام ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اس معاملہ سے بچانے کے لئے نت نئی تفصیلات سامنے لارہے ہیں۔ ایک اعلیٰ سعودی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ اصل مقصد خشوگی کو ہلاک کرنا نہیں بلکہ اغوا کرکے سعودی عرب لانا تھا۔ تاہم جب خشوگی نے اونچی آواز میں بات کی تو سعودی ٹیم کے ارکان گھبرا گئے اور ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر انہیں خاموش کروانے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے وہ حادثاتی طور پر فوت ہوگئے۔

اس غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے اس ٹیم کے ارکان نے پہلے تو خشوگی کے کپڑے ایک رکن کو پہنا کر قونصل خانہ کے پچھلے دروازہ سے نکالا تاکہ یہ کہا جا سکے کہ وہ تو قونصل خانہ سے باہر نکل گئے تھے۔ اس ذریعہ کے مطابق خشوگی کی لاش ایک مقامی شخص کے حوالے کی گئی تاکہ وہ اسے ٹھکانے لگا سکے۔ تاہم اس شخص کی قومیت یا نام بتانے سے گریز کیا گیا ہے ۔ اس سعودی افسر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابتدائی سعودی مؤقف بھی درست تھا کیوں کہ ٹیم نے اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے غلط رپورٹ اعلیٰ حکام کو دی تھی۔ اس رپورٹ کے نقص کا سراغ بعد میں ہونے والی تحقیقات میں لگایا گیا۔ سعودی افسر نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ شہزادہ محمد کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں۔

تاہم پہلے بیان کی طرح یہ وضاحتی بیان بھی امریکی میڈیا یا دنیا کے لیڈروں کو مطمئن نہیں کرسکے گا۔ اب اس معاملہ میں سعودی ولی عہد پر براہ راست انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔ یہ دباؤ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے اس معاملہ میں بہت زیادہ مزاحمت کی کوشش کی تو ان کی اپنی پوزیشن کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی لئے وہ ہر روز اپنا مؤقف تبدیل کرکے اس معاملہ سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور جمال خشوگی کے قتل کی اقوام متحدہ کے ذریعے تحقیقات کرواکے اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔

 بعض مبصر اب واضح طور سے کہنے لگے ہیں کہ سعودی ولی عہد کی تبدیلی سے پہلے یہ بحران قابو میں نہیں آسکتا۔ واشنگٹن پوسٹ نےسعودی اعتراف کے بعد ایک سخت اداریہ میں یہ مطالبہ کیا ہے: ’(تحقیقات مکمل ہونے تک) انسانی حقوق اور آزادی رائے کو اہمیت دینے والے سب لوگوں کو سعودی عرب اور اس کی حکومت کو مجرم سمجھنا چاہئے۔ جن تجارتی کمپنیوں نے اس ہفتہ کے دوران ریاض میں ہونے والی سرمایہ کانفرنس کا بائیکاٹ کیا ہے، انہیں ولی عہد سے ہر قسم کا تعلق ختم کرنا چاہئے۔ واشنگٹن میں لابی کرنے والوں کو سعودی ولی عہد کے لئے کام کرنا بند کرنا چاہئے۔ کانگرس کو سعودی عرب کو دئیے جانے والے ہر قسم کے اسلحہ کی فراہمی روکنا چاہئے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات اور تعاون جاری رہے لیکن انہیں نئی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ خشوگی کے قتل کا پورا سچ سامنے لایا جائے اور اس منصوبہ کے ممکنہ مصنف محمد بن سلمان کو کٹہرے میں لایا جائے‘۔

امریکہ کے معتبر اخبار کی طرف سے اس دوٹوک اور واضح مؤقف کے بعد یوں لگتا ہے کہ جمال خشوگی کے معاملہ پر پردہ ڈالنے کی کوششیں زیادہ دیر تک کامیاب نہیں ہوں گی۔ شکوک کا سایہ سعودی ولی عہد کے گرد گہرا ہو رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے انہیں بچانے کی غیرروایتی کوشش کی تو وہ خود اپنی انگلیاں جلا بیٹھیں گے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali