نئے پاکستان کی جمہوریت میں رائے کی آزادی کے لئے جگہ نہیں
پاکستان میں اس وقت صحافت شدید مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔ ایک طرف اسے انتہا پسند مذہبی گروہوں سے خطرات کا سامنا ہے لیکن اب تمام سرکاری ادارے ملکی صحافت کو ایک خاص ڈھب پر لانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو آزما رہے ہیں۔ کبھی مالکان کو خفیہ ملاقاتوں میں ہدایت نامہ جاری ہوتا ہے اور کبھی وزیر اعظم مالکان سے ملاقات میں سرکاری اشتہارات جاری کرنے کی نئی شرائط سے آگاہ کرتے ہیں۔ کبھی آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نام لے کر بتاتے ہیں کہ کون سے صحافی کس طرح ملکی مفاد کے خلاف کام کررہے ہیں اور کبھی لکھنے والے سے کہا جاتا ہے کہ یہ تحریر ناقابل اشاعت اور فلاں پروگرام دکھائے جانے کے لائق نہیں۔ ملک کے میڈیا پر خوف و ہراس کی کیفیت طاری کر کے واضح طور سے یہ پیغام عام کیا جارہا ہے کہ اگر مقررہ حدود کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی تو متعلقہ صحافی اور اینکر کوئی دوسرا کام دیکھ لیں۔ نئے پاکستان میں پرانے طور طریقے والے صحافیوں کی ضرورت نہیں۔
ستم بالائے ستم یہ کہ آزادی رائے پر ہونے والے ان حملوں پر نہ تو منتخب لیڈروں کو آواز اٹھانے اور اس کا تدارک کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی ملکی عدالتیں میڈیا کی خود مختاری و آزادی اور صحافیوں کی حفاظت اور ان کے روزگار کے بچاؤ کے لئے کوئی اقدام کرنا ضروری سمجھتی ہیں۔ سپریم کورٹ کو بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے آئین کی شق 184 (3) کے تحت خصوصی اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ موجودہ چیف جسٹس کی نگرانی میں سپریم کورٹ نے ان اختیارات کو وزیر اعظم کو معزول کرنے، وزیروں کو خوار کرنے اور ڈیم بنانے جیسے غیر متعلقہ معاملات میں مداخلت کے لئے تو استعمال کیا ہے لیکن کسی صحافی کے خلاف ظلم کو روکنے اور آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کی منظم حکمت عملی کو ناکام بنانے کے لئے کوئی سوموٹو لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
میڈیا کے حوالے سے اگر کوئی سو موٹو لیا گیا ہے تو وہ ایک اینکر کی طرف سے زیر سماعت مقدمہ کے حوالے سے بعض دستاویز پر رائے زنی کا معاملہ ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران اے آر وائی کے اینکر ارشد شریف کے خلاف لئے گئے سو موٹو مقدمہ کا فیصلہ ملک میں آزاد صحافت اور خود مختار میڈیا کے لئے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس فیصلہ میں متعلقہ اینکر کی غیر مشروط معافی کو تو قبول کرلیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی میڈیا کو امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور بھارت کی مثالیں دے کر یہ لیکچر بھی دیا گیا ہے کہ عدالتوں کے بارے میں رپورٹنگ کرتے ہوئے کون سے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
اس فیصلہ میں پیمرا کو اپنے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ ہر ادارے میں خبروں اور پروگراموں کی نگرانی کے لئے مانیٹرنگ کمیٹی کا قیام بھی یقینی بنایا جائے بلکہ ان کمیٹیوں میں وکیلوں کی تعیناتی بھی کی جائے۔ تاکہ وہ صحافیوں اور مدیروں کو ہمہ وقت ان کی قانونی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے رہیں۔ عدالت عظمی کی طرف سے ادارتی کام میں براہ راست مداخلت کا یہ حکم ملک میں صحافت کی آزادی کے لئے سنگین جھٹکا ہے۔ جس عدالت کو حبس کی فضا میں صحافیوں کی دادرسی کرتے ہوئے ان کی مدد کے لئے میدان میں آنا چاہیے، وہ خود مزید پابندیاں لگانے، دھمکانے اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔
صحافت کے خلاف عدالتی فیصلہ ہو، کسی سرکاری ایجنسی کی کارروائی ہو یا غیر ضروری سنسر شپ کا معاملہ ہو، ملک کی منتخب حکومت اور اس کے منہ زور وزیر اطلاعات کو اس بارے میں بات کرنے کا حوصلہ یا توفیق نہیں ہوتی۔ وہ سنسر شپ سے اس طریقہ کار کو منظم اور مستحکم کرنے کے نت نئے طریقے سوچنے میں مصروف ہیں۔ لیکن جمہوریت کے نام پر حکومت کرنے والے لوگوں کو خبر ہونی چاہیے کہ وہ اس مقام تک آزاد میڈیا کی وجہ سے ہی پہنچ سکے ہیں۔ میڈیا کو بے بس کرنے کے بعد منتخب حکومت کا رہا سہا اختیار اور اعتبار بھی ختم ہوجائے گا۔

