میڈیا کو سرنگوں کرنے کی ایک اور کوشش


میڈیا کے بارے میں سپریم کورٹ کے سخت گیر رویہ پر سوال اٹھایا جاتا ہے کیوں کہ گزشتہ دو برس کے دوران عدالتوں نے ایک منتخب حکومت گرانے اور ایک نئی منتخب حکومت بنوانے میں کردار ادا کرتے ہوئے کسی بخل سے کام نہیں لیا۔ سیاسی عمل کا حصہ بنتے ہوئے جج حضرات اپنے لئے اس احتیاط کا مطالبہ کرتے بھلے نہیں لگتے۔ کیوں کہ یہ حق بہر طور صرف قانون کی حدود میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے کے علاوہ عدالتی روایات کے مطابق نشست و برخاست کا مظاہرہ کرنے والے ججوں کو ہی حاصل رہتا ہے۔ جولائی میں ہونے والے انتخابات سے پہلے اور بعد میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ پر بھی اس منصوبہ کا حصہ ہونے کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے جس کا اصل منظر نامہ ان قوتوں نے تحریر کیا ہے جو قومی مفاد کو اپنا ادارہ جاتی اور مخصوص حق سمجھتی رہی ہیں۔ ملک میں آخری فوجی حکومت کے بعد 2008 میں شروع ہونے والے جمہوری عمل میں 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک کو بھی اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔ اسی لئے جب سپریم کورٹ کے بارے میں یہ تاثر تقویت پکڑنے لگتا ہے کہ وہ عوامی حاکمیت کے تصور کی بجائے ایک خاص ڈھب سے حکومت چلانے اور خاص مقاصد کے حصول میں حصہ دار بن رہی ہے تو فطری طور سے معاشرہ میں ہر سطح پر بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ میڈیا بھی اس بے چینی کا کسی نہ کسی طرح سے اظہار کرتا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے بدھ کے روز اپنے ایک تبصرے کی رپورٹنگ کے بارے میں روزنامہ جنگ اور دی نیوز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا تاہم آج ان دونوں اخبارات کے مدیروں کی طرف سے غیر شروط معافی کے بعد اس معاملہ کو خارج کردیا گیا ہے۔ ایک خبر میں معمولی بھول چوک پر سپریم کورٹ کا ملک کے دو قومی اخبارات کے خلاف نوٹس اور سخت رائے کا اظہار میڈیا کی خود مختاری پر حملہ سے کم نہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ چیف جسٹس نے یہ بات ’ریمارکس یا آبزرویشن‘ دیتے ہوئے کہی تھی جس کے بارے میں جسٹس ثاقب نثار کہتے ہیں کہ انہوں نے سی ڈی اے کے بارے میں کہی تھی جبکہ ان دونوں اخبارات نے اسے حکومت کے بارے میں سپریم کورٹ کا تبصرہ قرار دیا تھا۔ یعنی جو خبر رپورٹ کی گئی تھی وہ کسی باقاعدہ عدالتی فیصلہ کا حصہ نہیں تھی بلکہ ان گوناگوں تبصروں میں شامل تھی جو سپریم کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر سننے کو ملتے ہیں۔ اس صورت میں چیف جسٹس کو اخباروں اور صحافیوں کو لتاڑنے کی بجائے، خود بھی اس قسم کے تبصرے کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن سے غلط فہی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ سی ڈی اے بھی حکومت کا ہی ایک ادارہ ہے اس لئے اگر کوئی میڈیا اس ادارے کے بارے میں چیف جسٹس کے کسی تبصرہ کو حکومت سے متعلق قرار دیتا ہے تو تکنیکی طور سے تو یہ غلط نہیں ہو سکتا۔ سی ڈی اے بہر حال حکومت کا ہی ادارہ ہے اور اس کے خلاف رائے کو حکومت کے خلاف رائے سمجھنا بے بنیاد نہیں ہو سکتا۔

اخبارات کے مدیران کے پاس چیف جسٹس کے نوٹس اور غصہ کے اظہار کے بعد غیر مشروط معافی مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس لئے اسے سپریم کو رٹ کو حالات کی درستی کے لئے اپنا کارنامہ سمجھنے کی بجائے، یہ دیکھنا چاہیے کہ عدالت کے اس قدام کو ان متعدد اقدات کے تناظر میں دیکھا جائے گا جن میں قومی میڈیا کی آزادی محدود کروانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ سپریم کورٹ میڈیا کے خلاف ہونے والے ان ا قدمات اور شکایات کے تدارک کے لئے تو متحرک نہیں ہوتی لیکن میڈیا کو گھٹنوں پر لانے کے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا جاتا۔ اس حوالے سے ہفتہ عشرہ پہلے اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف سو موٹو کیس میں وکیلوں کو ادارتی فیصلوں میں شریک کرنے کے حکم کا ذکر کرنے کے علاوہ یہ جتانا بھی ضروری ہے کہ چیف جسٹس نے گزشتہ ہفتے کے دوران کراچی پریس کلب پر سیکورٹی اداروں کے چھاپہ کے علاوہ ایک سینیر صحافی کو اچانک اٹھانے اور دو روز بعد دہشت گردی کی حمایت کے الزام میں ریمانڈ لینے کا نوٹس لینا تو ضروری نہیں سمجھا۔ نہ ہی چیف جسٹس میڈیا پر دباؤ اور نامعلوم سینسرشپ کی شکایات پر سو موٹو نوٹس لیا ہے۔ اسی طرح صحافیوں کی معمولی بات پر صدمہ اور غصہ کا اظہار کرنے والے چیف جسٹس تحریک لبیک کے فتوؤں اور دشنام طرازی پر مصلحت اور مفاہمت کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔

آئین کی بالادستی یا عدالتوں کے تقدس کا تحفظ اس قسم کی دوہری حکمت عملی سے ممکن نہیں ہے۔ جنگ اور نیوز کے خلاف چیف جسٹس کے اقدام کو میڈیا کے خلاف جاری مہم جوئی کا حصہ سمجھنے کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali