ممبئی حملے، تحریک لبیک اور پرائی جنگ


سرکاری اور قومی سطح پر موجود اسی کنفیوژن کی وجہ سے یہ بھی طے نہیں ہوسکا ہے کہ ممبئی حملوں یا بھارت جیسے ازلی دشمن ملک کی سرزمین پر اس کے مفادات کے خلاف دیگر دہشت گرد کارروائیاں کرنے والے عناصر ملک و قوم کے دشمن ہیں یا انہوں نے قومی مفاد کا تحفظ کیا تھا۔ نہ ہی یہ طے ہوسکا ہے کہ ان عناصر کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک روا رکھا جائے یا محسن سمجھ کر سر آنکھوں پر بٹھایا جائے۔  لشکر طیبہ یا جماعت الدعوۃ اور جیش محمد جیسی تنظیموں اور ان کے سربراہوں حافظ سعید اور مولانا اظہر مسعود کے بارے میں ہمارے اسی غیر واضح رویہ کی وجہ سے دنیا بھر میں ہم پر شبہ کیا جاتا ہے اور پاکستان کا نام مستقل طور سے دہشت گردوں کے سرپرست میں شمار ہوتا ہے جبکہ ہم خود کو دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کرنے والا ملک قرار دیتے ہیں۔  ان متضاد آرا کے بیچ سادہ سا سوال تو صرف اتنا ہی ہے کہ حافظ سعید جیسے لوگ اس ملک کے ہیرو ہیں یا ملکی پالیسی اور مفاد کے خلاف کام کرنے والے ایسے عناصر ہیں جن کی وجہ سے پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل عالمی دباؤ اور نکتہ چینی کا سامنا کررہا ہے۔

وزیر اعظم کی ایک تقریر یا بیرونی جنگ میں آلہ کار نہ بننے کا کوئی اعلان بھی اس غیر واضح تصویر کو نکھارنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ پاکستان کے قول و فعل کا تضاد اس کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنا رہا ہے۔  اسی قسم کی مشکل اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور پھر امریکی حملہ میں اس کی ہلاکت کے حوالے سے بھی موجود ہے یا پیدا کردی گئی ہے۔  پاکستان نے 2011 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے اس واقعہ سے لاعلمی اور لاتعلقی کا رویہ اختیار کیا تھا۔

ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت کا مؤقف رہا ہے کہ اسے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا علم نہیں تھا۔ تاہم حال ہی میں وزارت خارجہ کی سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے اور اسے ہلاک کرنے میں امریکہ کی مدد کی تھی۔ اس لئے صدر ٹرمپ کی طرف سے اس پر اسامہ کو محفوظ رکھنے کا الزام درست نہیں۔

جوش میں غیر حقیقی باتیں کرنے کی شہرت رکھنے والے امریکی صدر کے الزامات کا جواب دینے کے لئے پاکستان کو اچانک سات سال پرانا مؤقف تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ اس نئے مؤقف کے بعد فطری طور سے یہ شبہ سر اٹھانے لگتا ہے کہ پاکستان کا اصل کردار کیا ہے۔  وہ اسامہ کا سہولت کار تھا یا اس کے خلاف سرگرم عمل تھا تاکہ امریکہ اپنے دشمن کو پکڑیا ہلاک کرسکے۔  یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اگرچہ امریکہ نے پاکستانی حکومت و فوج کی رضامندی کے بغیر اس کی سرحد میں داخل ہوکر ایک خفیہ مشن میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا لیکن پاکستان نے اس حرکت پر کبھی امریکہ سے احتجاج نہیں کیا۔ ایسی صورت میں مسلط شدہ جنگ نہ لڑنے کے دعوؤں کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔

کچھ ایسی ہی غیر واضح حکمت عملی حال ہی میں لبیک تحریک نامی مذہبی سیاسی گروہ کے بارے میں دیکھنے میں آئی ہے۔  گزشتہ برس اس تحریک کے دو تین ہزار کارکنوں نے ایک بے بنیاد معاملہ پر فیض آباد دھرنا کی صورت میں وفاقی حکومت کو عملی طور سے جزو معطل بنا دیا تھا۔ اس وقت برسر اقتدار پارٹی تحریک انصاف اس دھرنا کی حامی تھی اور ملکی فوج کے سربراہ نے علی الاعلان وزیر اعظم کو یہ مشورہ دینا ضروری سمجھاتھا کہ فوج اپنے لوگوں پر تشدد نہیں کرسکتی۔

تاہم جب وہی گروہ اسی معاملہ کو بنیاد بنا کر ایک ایسی پارٹی کی حکومت کے خلاف میدان میں اترنے کی کوشش کررہا تھا جسے تمام طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل ہے تو اس کی قیادت کو حفاظتی تحویل میں لینے کے ایک اقدام سے اس منظم اور ریاست سے بھی بڑی دکھائی دینے والی جماعت کا شیرازہ بکھرتا نظر آتا ہے۔  مختلف جتھے اور افراد تحریک لبیک اور اس کی نادان قیادت سے لاتعلقی کا اعلان کرکے اس گروہ کی اصل طاقت کا پول کھول رہے ہیں۔  ایسے میں سوال تو پیدا ہو گا کہ کیا پاکستانی عوام میں اپنے رسول ﷺ کے لئے محبت کم ہو گئی ہے یا عشق رسول ﷺ کے دعوے دار جھوٹے اور دغا باز تھے۔

جن گروہوں پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے، ان کی اصل طاقت بھی دراصل وہی ادارے ہیں جو کل تک تحریک لبیک کی پشت پر کھڑے تھے۔  کیا امریکی وزیر خارجہ کی نئی اپیل اور تحریک لبیک کے خلاف ’کامیاب آپریشن‘ کے بعد حکومت ہمسایہ ملک میں دہشت گردی میں ملوث لوگوں اور گروہوں کے خلاف بھی میدان عمل میں نکلے گی یا ان کے خلاف ریاستی طاقت کا اظہار اب بھی قومی مفاد کے خلاف قرار پائے گا۔

عمران خان اس سوال کا جواب تلاش کرلیں تب ہی ان کی اس بات کو تسلیم کیا جاسکے گا کہ پاکستان آئندہ کبھی مسلط کردہ جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ ابھی تک تو ہمیں یہی خبر نہیں ہے کہ کون سی جنگ ہماری ہے اور کون سی پرائی۔ کون ہمارا دوست ہے اور کب کون سا دوست، دشمن کا روپ دھار سکتا ہے؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali