کرتار پور سے دہلی ہنوز دور است


بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کرتار پور کی تقریب میں شرکت نہیں کی۔ بلکہ جس وقت یہ تقریب منعقد ہو رہی تھی ، اسی وقت ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی واضح کردیا کہ کرتار پور راہداری کے قیام پر اتفاق کرنے کو بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع ہونے کا اشارہ نہ سمجھا جائے۔ سشما سوراج اپنے ملک کی وزیر خارجہ ہیں۔ اگر بھارتی حکومت بھی کرتار پور راہداری کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالہ سے اتنا ہی اہم سمجھتی جتنا وزیر اعظم اور آرمی چیف سمجھ رہے ہیں تو اس کی وزیر خارجہ اپنی تمام دیگر مصروفیات ترک کرکے اس تقریب میں ضرورشریک ہوتیں ۔ اس کی بجائے انہوں نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ بھارت نہ تو پاکستان میں منعقد ہونے والی کسی بھی سارک کانفرنس میں شرکت کرے گا اور نہ ہی اس وقت تک پاکستان کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہو سکتا ہے جب تک وہ دہشت گردی کے ذریعے معاملات طے کرنے کی پالیسی ترک نہیں کرتا۔ واضح رہے پاکستانی دفتر خارجہ دو روز پہلے وزیر اعظم نریندر مودی کو نئی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ بھیجنے کا اعلان کرچکا ہے۔ 2016 میں بھارتی بائیکاٹ کی وجہ سے یہ کانفرنس اسلام آباد میں منعقد نہیں ہو سکی تھی ۔ اور یہ علاقائی تعاون اس وقت سے تعطل کا شکا ر ہے۔

سشما سوراج کا پیغام گو کہ بھارت کے دیرینہ نعرہ کی بنیاد پر استوار ہے لیکن اس کی سیاسی و سفارتی وجوہات کو سمجھے بغیربھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ بھارت میں آئندہ برس انتخاب ہونے والے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر سنگھ مودی کو ان انتخابات میں کامیابی کے لئے انتہا پسند ہندو ووٹوں کو راضی رکھنا ہے۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران نریندر مودی اور ان کے سیاسی ساتھیوں نے ہندو آبادی کو پاکستان کے خلاف متحرک کیا ہے۔ انتخابات سے پہلے بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ کسی ایسی پیش رفت کا حصہ نہیں بن سکتی جس سے اس کی سیاسی اپیل میں کمی واقع ہو۔ پاکستان کو بھارت کے تعلقات کے حوالہ سے اس سیاسی صورت حال کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس پس منظر میں بھارتی قیادت کے لئے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتے رہنا ہی سیاسی کامیابی کی کنجی ہے۔ اسے اس خطہ کی سیاسی بدنصیبی ہی کہنا چاہئے لیکن حقیقت احوال یہی ہے کہ پاکستان اور بھارت میں مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی روایت راسخ ہوئی ہے۔ نعرے بازی مقبول سیاست میں کلیدی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ انہی نعروں کی بنیاد پر پرجوش مذہبی گروہ سڑکوں پر نکلتے ہیں اور حکومتوں کے لئے معروضی صورت حال یا وسیع تر مفاد کی بنیاد پر فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

پھر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی تمام اعلیٰ قیادت نے کرتار پور راہداری کو اتنی اہمیت دی ہے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف سمیت سول ملٹری قیادت نے اس موقع پر موجود ہونا ضروری سمجھا۔ حالانکہ پاکستان بھی بھارتی حکومت کی طرح کسی کم درجہ کے عہدیدار کے ذریعے اس تقریب کا انعقاد کرسکتا تھا۔ بھارت میں نائب صدر ونکا نائیڈو نے کرتار پور تک سڑک کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ لیکن کرتار پور کی تقریب میں یہ کام وزیر اعظم عمران خان کے ہاتھوں سرانجام پایا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ان کے شانہ بشانہ موجود تھے۔ پاکستان اس واقع کو اہمیت دے کر دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ امن کا خواہشمند ہے اور اپنی طرف سے ہر مثبت اقدام کرنے کے لئے تیار ہے۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستانی قیادت بھارت کی سکھ اقلیت کو بھارتی حکومت پر سیاسی دباؤ کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہو۔ موجودہ عالمی سفارتی صورت حال اور بھارت کے سیاسی حالات میں یہ دونوں مقاصد حاصل کرنا ممکن نہیں۔

نئی دہلی کے ساتھ مراسم بحال کرنے کے لئے اوّل تو بھارت میں منعقد ہونے والے انتخابات کا انتظار کرنا ضروری ہے۔ اس سے پہلے کسی بڑی پیش رفت کی امید عبث ہو گی۔ دوسرے پاکستان کوبعض بھارتی شکایات کو دور کرنے کے علاوہ اس کے ساتھ تعلقات کے حوالہ سے نئی پالیسی ترتیب دینا ہوگی۔ وزیر اعظم نے کرتار پور میں تقریر کرتے ہوئے کشمیر کو دونوں ملکوں کے درمیان واحد مسئلہ قرار دیا ہے۔ یعنی پاکستان ابھی تک دہائیوں پرانی حکمت عملی کے مطابق ہی آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ نئے پاکستان میں بھی اگر کوئی نئی سوچ یا معاملات کو سمجھنے اور ان کے حل کے لئے نیا رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا تو مسائل کا حل بھی اتنا ہی مشکل رہے گا جس کا سامنا 70 برس سے کیا جاتا رہا ہے۔

دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے بھارتی شکایات کی توثیق امریکہ کے علاوہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس۔ ایف اے ٹی ایف بھی کرتی ہے۔ اس ادارے نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے جو شرائط عائد کی ہیں، ان میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی تفصیلی رپورٹ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اس مطالبہ پر کسی حد تک عمل کئے بغیر بھارت کے ساتھ بھی تعلقات کی بحالی ممکنات میں سے نہیں ہے۔ پاکستانی قیادت کو سمجھنا چاہئے کہ دنیا اس معاملہ میں اپنا بوجھ بھارت کے ہی پلڑے میں ڈال رہی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali