پاکستان کے خلاف جنرل راوت کی ہرزہ سرائی
نریندر مودی اس وقت جی۔ 20 کے اجلاس کے لئے ارجنٹائین کے شہر بونس آئرس میں ہیں۔ وہاں انہوں نے سب سے پہلے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے تاکہ بھارت تیل کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے نئے ذرائع تک رسائی حاصل کر سکے۔ بھارت انرجی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ایران سے تیل حاصل کرتا ہے۔ ایران پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف از سر نو اقتصادی پابندیاں عائد ہونے کے بعد بھارت نے ایران سے تیل خریدنے اور اس کی چاہ بہار بندرگاہ کو استعمال کرنے کے لئے خصوصی استثنیٰ حاصل کیا تھا۔
چاہ بہار کی ایرانی بندرگاہ بھارت کے لئے افغانستان تک رسائی اور وہاں اپنی اجناس اور برآمدات بھیجنے کا واحدقابل عمل متبادل ہے۔ بھارتی حکومت چاہ بہار بندرگاہ کو وسعت دے کر پاکستان کے راستوں کی بجائے ایران کے راستے افغانستان تک رسائی کا بند و بست کررہی ہے۔ اگر جنرل بپن راوت کے بیان کردہ اصول کو رہنما اصول مان لیا گیا تو ایران سے بھی مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اسلامی نظام ترک کرکے ایک ایسے سیکولر نظام پر عمل کرنا شروع کرے جس کی توثیق بھارتی فوج بھی کرسکے۔
جنرل بپن راوت کا یہ مطالبہ سیاسی گرم جوشی اور نریندر مودی سے یک جہتی دکھانے کی کوشش میں دیا گیا ایسا بیان ہے جو بھارتی فوجی سربراہ کی مبلغ سیاسی اور سفارتی صلاحیت کا پول بھی کھولتا ہے۔ اس بیان سے ایک طرف یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عالمی تعلقات کی نزاکتوں سے یکسر نابلد ہیں تو دوسری طرف یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بھارتی حکومت اور فوج پاکستان کے ساتھ کسی اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ حجت اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر دوری قائم رکھنے پر اصرار کرتی ہے تاکہ ملک کی ہندو اکثریت کو مطمئن کرکے بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کے مذہبی قوم پرستی پر مبنی بیانیہ کو تقویت دی جاسکے۔
بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس کی فوج عددی اعتبار سے دنیا کی تیسری بڑی فوج ہے۔ اس کا سربراہ اگر دوسرے ملکوں کی خودمختاری و نظام حکومت اور علاقے میں امن کے بارے میں اس قسم کی ناقابل قبول شرائط بیان کرے گا تو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انتہا پسندی کے رجحانات بھارت کے عوامی جذبات میں ہی سرایت نہیں کررہے بلکہ اس ملک کی سیاسی کے بعد فوجی قیادت بھی اب ایسی قوم پرستی کی راہ پر گامزن ہورہی ہے جو علاقائی امن کے لئے اندیشہ ثابت ہوسکتی ہے۔
بھارت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران مذہبی انتہا پسندی نے فروغ حاصل کیا ہے۔ نریندر مودی کی سربراہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندو قوم پرستی کے رجحان کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اس کے لیڈر فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث پائے گئے ہیں۔ مسلمانوں پر حملے تو روز کا معمول ہیں لیکن بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی سے دوسرے عقائد بھی محفوظ نہیں ہیں۔ عیسائیوں، سکھوں اور دیگر مذاہب کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر زیادتی اور ظلم کی کہانیاں سامنے آتی ہیں۔
1984 میں سابقہ بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دو سکھ محافظوں کے ہاتھوں قتل کے بعد ملک بھر میں مسلح جتھوں نے سکھ شہریوں کا قتل عام شروع کیا تھا۔ خود مختارانہ جائزہ لینے والے اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق اس قتل و غارت گری میں 8 ہزار سکھ قتلکیے گئے جن میں سے اڑھائی ہزار کے لگ بھگ صرف دارالحکومت نئی دہلی میں مارے گئے تھے۔ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی 2002 میں جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو مسلمانوں کے خلاف ہونے والے فسادات میں بارہ سو کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس بربریت کے دوران مسلمان خاندانوں کو گھروں میں زندہ جلا دینے کے متعدد واقعات بھی پیش آئے تھے۔ نریندر مودی پر ان مسلم کش فسادات کا براہ راست الزام عائد ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے وزیر اعظم بننے سے پہلے امریکہ انہیں ویزا دینے پر بھی آمادہ نہیں تھا۔
اس ٹریک ریکارڈ کے حامل ملک کی فوج کا سربراہ نہایت ڈھٹائی اور بے شرمی سے اپنے ملک کو سیکولر اور پاکستان کو مذہبی قرار دے کر اپنی حکومت کی غیر حقیقت پسندانہ سیاسی حکمت عملی کو درست ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ بیان دراصل جنرل راوت اور ان کے سیاسی ناخدا ؤں کا دوسرے ملکوں پر تسلط حاصل کرنے کے خواب کو ظاہر کرتا ہے۔ سیکولر ازم کے ان دعوے داروں کو دوسرے ملکوں کے معاملات میں جھانکنے سے پہلے اپنے ملک کی مذہبی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے اور کشمیری عوام کو حق خود اختیاری دینے کا حوصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

