پاناما کیس اور گوئبلز کے فلسفے پر کھڑا نیا پاکستان


اسی راست گوئی کا مظاہرہ وزیراعظم نے دو روز قبل میڈیا کے نمائیندوں سے باتیں کرتے ہوئے بھی کیا تھا کہ انہیں سپریم کورٹ کے بعض ریمارکس پر افسوس ہے کیوں کہ میرا دامن تو صاف ہے اور میں نے کبھی ’اقربا پروری‘ نہیں کی۔ میرے ایک دوست کی تقرری پر چیف جسٹس کو ایسے ریمارکس نہیں دینے چاہئیں تھے۔ چیف جسٹس جو آج بڑے رسان سے آبادی کنٹرول سمپوپزم میں وزیر اعظم کے ارشادات سن رہے تھے، چند گھنٹے پہلے کمرہ عدات میں وزیر اعظم کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے زلفی بخاری کی تقرری کو اقربا پروری کا شاہکار قرار دینے پر اصرار کر رہے تھے۔

یوں تو وزیر اعظم بھی خلفائے راشدین کے ماڈل کا ذکرکرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کس طرح خلفائے راشدین میں سے دو کو قاضی کے سامنے پیش ہونا پڑا تھا لیکن وہ خود کسی عدالت اور قاضی کو نہیں مانتے۔ وزیر اعظم کا استثنیٰ ملنے سے پہلے 2014 کے دھرنا کے موقع پر پی ٹی وی حملہ کیس میں انہوں نے کسی عدالت کو خاطر میں لانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اب بھی وہ خود کو ہر اس عدالت سے بالا سمجھتے ہیں جو ان کے نئے پاکستان کے منشور کی توثیق کرنے پر تیار نہ ہو۔

بنی گالہ کی رہائش گاہ کی باقاعدہ منظوری کا معاملہ بھی ان چند انتظامی یا عدالتی معاملات میں سے ایک ہے، جو اس نئے پاکستانی انصاف کا شاہکار ہے۔ وزیر اعظم مدینہ ریاست بنانے کا عزم تو ظاہر کرتے ہیں لیکن اس کے اصول انصاف پر عمل کے لئے شاید اس وقت کا انتظارکررہے ہیں جب یہ ریاست قائم ہوجائے گی۔ اس وقت تک وہ دوستوں کو نوازنے یا ناجائز گھر میں رہنے کو درست سمجھتے رہیں گے کیوں کہ یہ فیصلے تو بدعنوان سیاست دانوں کے بنائے ہوئے قوانین و قواعد کے تحت ہورہے ہیں۔ ان کے اچھے برے ہونے سے عمران خان کا کیا تعلق ہوسکتا ہے۔

میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے جس طرح وزیر اعظم نے صاف گوئی سے بتا دیا تھا کہ فوج تحریک انصاف کے منشور کے مطابق چل رہی ہے۔ اسی طرح انہوں نے آج کے سمپوزیم میں چیف جسٹس کو صاف بتا دیا کہ ڈیم بنانا یا آبادی کنٹرول کرنا اگرچہ حکومتوں کا کام تھا۔ ماضی کی حکومتوں نے اسے نہیں کیا تو اچھا ہے کہ چیف جسٹس نے کام اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں۔ اس صاف گو وزیر اعظم کو البتہ یہ جواب دینے کی ضرورت ہرگز نہیں کہ حکومت کے کرنے کے کام اگر سابقہ حکومتیں نہیں کرسکیں تو موجودہ حکومت ہی ان کو نمٹانے کا قصد کر لے۔

لیکن عمران خان کے پاس کہنے کو اتنا بہت کچھ ہوتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کو مصروف دیکھ کر ہی مطمئن ہونا ضروری سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ فوج کو تحریک انصاف کا منشور ازبر کروا کے اب عمران خان نے سارا کام ان اداروں کے سپرد کر دیا ہے تاکہ وہ خود اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ حساب برابر کرنے میں تساہل کا شکار نہ ہو جائیں۔

صاف گو وزیر اعظم کی غلطیوں کی نشاندہی ہو تو ان کے حامی بڑے یقین سے یہ بتاتے ہیں کہ عمران خان کی غلطیوں کی پرواہ نہ کریں بلکہ ’ان کی دیانت داری اور پاکستان کے لئے کچھ کرنے کی تڑپ‘ کو دیکھیں۔ اگر زبانی جمع خرچ والی دیانت داری اور حب الوطنی کا سوال ہے تو ملک کے دیہات کی ہر چوپال اور گلی محلے کی ہر دکان کے تھڑے پر بیٹھے ہوئے کروڑ ہا لوگ اس قسم کی دیانتداری کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ لوگ پھر بھی کسی لیڈر کو ووٹ دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی فہم اور کوشش سے ملک کے حالات کودرست کرسکے۔ اگر ووٹ لینے اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی ایمانداری کا معجون ہی فروخت کرنا ہے تو یہ بھی بتا دیاجائے کہ ملک کے مسائل کون حل کرے گا۔ نعرے لگانے کا کام تو آپ دھرنا کے کنٹینر پر چڑھ کر بھی بخوبی سرانجام دے رہے تھے۔

ملک میں بدعنوانی کو اس قدر رگیدا گیا ہے کہ ایمانداری بھی ایک بے معنی استعارہ کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف کو اپنے وسائل سے زیادہ اثاثے رکھنے کے ’جرم‘ میں سزا دی گئی ہے۔ حالانکہ نہ ان سے وسائل دستیاب ہوئے ہیں اور نہ ان پر اثاثے رکھنے کا الزام ثابت ہو سکا ہے۔ کچھ ایسے ہی الزامات میں اب شہباز شریف کو کئی ہفتوں سے نیب نے قید کررکھا ہے۔ ان ’بے ایمانوں‘ کے مقابلے میں عمران خان دیانت دار ہیں۔

کیوں کہ سپریم کورٹ نے جن دو سیاستدانوں کو ’صادق و امین‘ ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے ان میں شیخ رشید اور عمران خان ہی شامل ہیں۔ دیانتداری ایک نعرہ اور ’پیا من بھائے‘ کا استعارہ بن چکی ہے۔ اسی لئے عمران خان کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کسی معقول آمدنی کے بغیر وہ کیوں کر ایک شاندار گھر میں شاہانہ زندگی گزارتے ہیں۔ نہ ہی انہیں خود یہ توفیق ہوگی کہ اپنے گھر کے ماہانہ اخراجات مع پانی و بجلی کے بل کے عوام کے سامنے پیش کرسکیں۔ اور بتائیں کہ ان کی معلوم آمدنی کے ذرائع کیا ہیں۔

نازی دور کے چانسلر جوزف گوئیبلز سے منسوب یہ بیان آج بھی تیر بہدف ہے کہ جھوٹ اس تسلسل سے بولا جائے کہ وہ بالآخر سچ لگنے لگے۔ دور حاضر میں دیانتداری کی بحث پر بھی اس مقولہ کو منطبق کیا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali