جادو کی چھڑی والا وزیر اعظم اور فوج کے صبر کا پیمانہ
آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے آج اپنی پریس کانفرنس میں البتہ نہ صرف ریاستی صبر کے پیمانے کا ذکر کیا بلکہ تحریک انصاف کی ایک سو دن کی کارکردگی والے جشن اور میڈیا سے عمران خان کی گفتگو کے دوران پیدا ہونے والے ابہام کو بھی دور کردیا ہے۔ انہوں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ پیغام بھی قوم تک پہنچایا ہے کہ کوئی ادارہ یا فرد آئین سے بالا نہیں ہے۔ طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق ہے۔ انہوں نے قوم کو یہ یقین بھی دلایا ہے کہ ’ہم ایک ایک اینٹ اپنی جگہ پر رکھتے ہوئے پاکستان کو معمول کی طرف واپس لائیں گے۔ ۔ ۔ پاکستان میں آئین ہی کی حکمرانی ہوگی‘ ۔
میجر جنرل آصف غفور نے وضاحت سے ملک و قوم کی تعمیر کے لئے اختیار کی جانے والی پالیسیوں اور ان حدود کا ذکر کیا ہے جنہیں اندرونی اور بیرونی دشمن توڑنے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن ریاست کے صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس صبر کو آزمانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اس موقع پر فوج کے ترجمان البتہ یہ بتانا ہرگز نہیں بھولے کہ وزیر اعظم سے منسوب یہ بات درست نہیں کہ فوج تحریک انصاف کے منشور سے اتفاق رکھتی ہے اور کہا کہ انہوں نے تین بار وزیر اعظم کی پریس ٹاک دیکھی اور سنی ہے۔ عمران خان کی باتوں کو سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یعنی فوج کے ترجمان نے اعلان مکرر کیا ہے کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔ دشمن اپنی سازشوں میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ ’پاکستان ستر برس تک کمزور معیشت، ناقص نظام حکومت، عدالتی اور تعلیمی نظام میں کمزوری اور مذہبی انتہا پسندی کا شکار رہا ہے۔ تاہم ملک اب تاریخ کے ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے وہ ایک نئی سحر کا آغاز کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کو مشکل حالات کا سامنا رہا ہے۔ مشرقی پاکستان گنوا دیا گیا، دہشت گردی کا سامنا ہؤا اور ملک معاشی بحران کا شکار رہا۔ لیکن اب حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے ہمارے صبر کو آزمانے کی کوشش کی ہے۔ تاکہ ملک کا استحکام متاثر ہو۔ لیکن اس کے ارادوں کو شکست دے دی جائے گی‘ ۔
بھارت، کرتار پور اور افغانستان کے حالات پر تبصرہ کے علاوہ میجر جنرل آصف غفور نے یہ بھی بتایا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ جیسی تحریکوں نے اپنی حدود عبور کرنے کی کوشش کی تو ریاست طاقت کا استعمال کرنے پر مجبور ہوگی۔ اس حوالے سے انہوں نے لاپتہ افراد کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ معاملات لاپتہ افراد کے کمیشن کے سامنے یا عدالتوں میں تھے۔ روزانہ کی بنیادوں پر ان کی سماعت ہو رہی ہے۔ فراہم کردہ سات ہزار افراد کی فہرست میں سے چار ہزار کیسز حل ہو چکے ہیں۔ جبکہ تین ہزار کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔
یہ بیان دیتے ہوئے البتہ فوج کے ترجمان بھی حکومت کی طرح اس بے خبری کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ملک میں آئین کی حکومت اور قانون سب کے لئے مساوی ہے تو لوگ غائب کیسے ہوجاتے ہیں۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی قیادت میں مقدمات پر غور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے خفیہ اداروں کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ اس معاملہ کی تہ تک پہنچنے کے لئے فوج نے کیا کارکردگی دکھائی ہے۔
اس سوال کا جواب آخر کون دے گا کہ مسئلہ لاپتہ افراد کے حوالہ سے انہیں تلاش کرنے کے علاوہ غیر قانونی اقدام کرنے والے افراد اور اداروں کی جوابدہی کا بھی ہے۔ کوئی بھی ریاست اس قانون شکنی کی ذمہ داری کا تعینکیے بغیر اور قصور واروں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر کیسے یہ اعلان کرسکتی ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی ہے اور قانون سب کے لئے برابر ہے۔
قانون کے سامنے عدم مساوات کے یہ مظاہر دیکھتے ہوئے ریاست کا وہ سافٹ امیج کیسے پیش کیا جا سکتا ہے جس کی خواہش کا اظہار بھی آج میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس میں سامنے آیا ہے۔ حیرت انگیز پر فوج کے نمائیندے ریاست کو ماں جیسا قرار دیتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ کے نوجوانوں کو متاثرین اور دکھی قرار دے رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ اسی لئے ان سے نرمی برتی جا رہی ہے کیوں کہ انہوں نے ابھی تک تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا ہے۔
لیکن میڈیا کے جیالے یہ استفسار کر رہے تھے کہ فوج پی ٹی ایم کے ساتھ سختی سے کیوں پیش نہیں آتی۔ اسی جیالے اور محب وطن میڈیا کے ذریعے فوج ریاست کا سافٹ میج سامنے لانا چاہتی ہے۔ ہاتھ پاؤں بندھے ملکی میڈیا کے نمائندے شاید ایسے ہی سوال کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ کبھی وہ وزیر اعظم کا اس بات پر شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے میڈیا کو آزادی دی ہے اور کہیں وہ نوجوانوں کے گروہ کے خلاف فوج کو کارروائی پر اکساتے ہیں۔
میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس میں سامنے آنے والی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنے جائز مطالبات کے حق کے لیے بھرپور آواز اُٹھائیں گے۔ اگر پاکستان ہماری ریاست ہے، تو ہمارے مطالبات پورے کیے جائیں۔ اگر آقا اور غلام کا معاملہ ہے تو پھر وہ ظلم کرتے رہیں، ہم سہتے رہیں گے‘ ۔ سوچنا چاہیے کہ اس سادہ سوال کا کوئی پرامن جواب بھی فوج یا حکومت کے پاس موجود ہے۔

