پا کستان آرمی ایک سویلین کی نظر میں
اتنی دیر میں یہ واقعہ آرمی کی اعلی اتھارٹی کے پاس رپورٹ ہو چکا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ملٹری پولیس کی پانچ چھ گاڑیاں ہم سے کچھ دور آکر کھڑی ہو گئیں۔ اس میں سے کوئی سپاہی نیچے نہیں اترا صرف ایک خوش شکل نوجوان ہمارے پاس آیا اور ایک خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ غالبا اپنا تعارف کور کمانڈر کے اے ڈی سی کے طور پر کروایا اور مجھ سے سارے معاملے کے بارے میں پوچھا، میں نے اسے تفصیل سے آگا ہ کیا اور ساتھ ہی اپنی شرط بھی رکھی اس آرمی افسر نے نہایت تحمل سے میری بات سنی اور میری بات کی تائید کی کہ تھپٹر مارنے والی حرکت بہت غلط ہوئی ہے۔
اس نے خود بھی انتہائی عاجزانہ انداز میں معذرت کی اور مجھ سے معاملہ ختم کرنے کی استدعا کی میں نے اس کی یہ استدعا یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ میں کسی آرمی کے سینئر افسر سے مذاکرات کرنا چاہتا ہوں۔ یقینا میری اس بچگانہ حرکت پر اس اے ڈی سی کا دل کر رہا ہو گا کہ دو تھپٹر لگا کر اسے بھی سیدھا کرو کہ جسے یہ نہیں پتا کہ کور کمانڈر کا اے ڈی سی کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔ لیکن میں سلام پیش کرتا ہوں آرمی کہ اس جوان کو کہ ایک منٹ کے لیے بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ غائب نہیں ہوئی ایک منٹ کے لیے بھی اس کی آواز اونچی نہیں ہوئی البتہ میرے اور میرے دوست کے لہجے میں بہت تلخی تھی۔
کیونکہ بس چلتی ہی افشاں کالونی سے تھی تو اس وقت بس میں چار یا پانچ طالب علم ہی موجود تھے اور اس آرمی افسر کے لیے یہ بہت آسان تھا کہ وہ اپنے سپاہیوں کو حکم دیتا بس کو سائیڈ پر کرتا، اور ہمارے دماغ درست کر دیتا لیکن اس نے اپنے سپاہیوں کو گاڑی سے اترنے تک کی اجازت نہیں دی وہ اکیلا مذاکرات کرتا رہا آخر اس نے ہماری انا کی تسکین کی خاطر ایک کرنل صاحب کو بلوایا انھوں نے بھی وہی معذرت خواہانہ رویہ اپنایا اور ان کے ڈرائیور کی غلطی کی معافی مانگی، ہماری انا کی تسکین شاید تب بھی نہ ہوتی، کہ جنرل سب نے خود فون پر بات کر کے معذرت کی اور معاملہ ختم کرنے کی استدعا، کی ایک جنرل صاحب کی معذرت سے ہمیں محسوس ہوا کہ ہم نے شاید آج پوری آرمی کو اپنے سامنے جھکا دیا ہے۔ ہم نے ڈرائیور کو معاملہ ختم کرنے کا اشارہ دیا اور واپسی کی تیاری شروع کی۔
یہاں یہ ایک بار پھر بتاتا چلوں کہ یہ مشرف دور تھا اوراسی بس میں آئی ایس آئی کے ایک میجر صاحب جو انتہائی ملنسار اور نفیس انسان تھے اور آرمی کے کوٹے پرقائد اعظم یونیورسٹی میں ڈیفینس اینڈ سٹیرٹیجک سٹڈیز میں زیر تعلیم تھے۔ اس سارے واقعے میں بس میں بیٹھے رہے اور ہم پر کسی طرح بھی اثر انداز ہونے کی کوئی کوشش نہ کی، بلکہ جب ہم بس میں بیٹھے تو ہمارے موقف کی تائید کی، ہمیں یوں لگ رہا تھا کہ ہم اس وقت پاکستان آرمی سے زیادہ طاقت ور ہیں اور ایک سویلین کو یہ طاقت دینے والی کوئی اور نہیں صرف پاکستان آرمی تھی وہ آرمی جس کا جنرل تک ایک سویلین کے سامنے جھک گیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا، کہ غلطی اس کے سپاہی کی ہے۔ پاکستان آرمی کے افسر ز نے ایک منٹ کے لیے بھی ہمیں یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم آرمی والے ہیں، ہمارے پاس بندوقیں ہیں۔
ہم اس احساس کے ساتھ واپس لوٹے کہ ایک عام سویلین کی حثیت میں ہم پوری پاکستاں آرمی سے زیادہ طاقت ور ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اپنے اس رویہ پر ہم آج بھی نادم ہیں لیکن اس واقعے کے بعد پاکستاں آرمی کا احترام ہمارے دل میں مزید بڑھ گیا۔ اس کے بعد نا صرف یونیورسٹی کی بس کو آرمی نے خود ٹھیک کر کے دیا۔ بلکہ ہمیں یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ اس شخص کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔
میں آج ان تمام سیاسی جاعتوں کے کارکنان کو یہ کہنا چاہتا ہوں جو یہ تاثر دیتے ہیں کہ پاکستان آرمی کسی بھی پاکستانی سویلین کو کوئی حیثیت نہیں دیتی اور اور سویلین کے خلاف طاقت کا استعمال کرتی یہ سب جھوٹ ہے۔ پراپیگنڈا ہے۔ اس کے پیجھے کوئی شک نہیں کہ پیرونی طاقتیں ہیں جو پاکستان کو کبھی مستحکم نہیں دیکھنا چاہتی ہیں اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان آرمی کا کمانڈ اور کنٹرول سسٹم بہت مضبوط ہے جہاں غلطی کرنے والے کو سزا ملتی ہے، چاہے وہ جنرل ہو یا عام سپاہی، یہ پاکستان آرمی ہے جو جہاں ایک طرف ہماری سرحدوں کی حفا ظت کرتی ہے تاکہ ہم چین کی نیند سو سکیں تو دوسری طرف اگر کوئی ناگہانی آفات ہم پر آن ٹوٹے تو یہ پاک آرمی ہی ہے جو سب سے پہلے ہماری مدد کو آتی ہے شرم کرنی چاہیے ان تمام لوگوں کو جو پاکستان آرمی پر گھٹیا الزام لگاتے ہیں آئیں آج ہم ایک عہد کریں کہ ہم دشمن کے سارے ایسے ناپاک منصوبے خاک میں ملائیں گے ا اور پاکستان آرمی سے محبت کا ثبوت دیں گے پاکستان زندہ باد پاک فوج پائندہ باد۔

