قومی مفاد اور دوہری شہریت


دنیا کے 19 ممالک میں آباد پاکستانی اگر میزبان ملک کی شہریت حاصل کرنے کی شرائط پوری کرتے ہوئے اسے اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں بدستور اپنے اصل وطن یعنی پاکستان کی شہریت برقرار رکھنے کا حق حاصل رہتا ہے۔ اصولی طور پر تو اس حق کی روشنی میں کسی بھی ایسے پاکستانی کو اپنے اصل ملک میں جہاں وہ پیدا ہؤا تھا یا اس کے والدین نے وہاں سے ترک وطن کیا تھا، دوہری شہریت کے بعد بھی وہی حقوق حاصل رہنے چاہئیں جو اسے نئے وطن میں حاصل ہو سکتے ہیں۔ لیکن حیر ت انگیز طور پر پاکستان کے لئے اپنے بیرون ملک آباد شہریوں کی اہمیت سے کے باوجود اور اس حقیقت سے قطع نظر کہ اکثر پاکستانی حکومتیں ماضی قریب میں ان پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کا وعدہ کرتی رہی ہیں۔ یہ پاکستانی اپنے ہی وطن میں بنیادی سہولتوں اور حقوق سے محرومکیے جاتے رہے ہیں۔ ایسے سینکڑوں واقعات ریکارڈ کا حصہ ہیں کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی نے اگر اپنے وطن میں جائیداد خریدی یا کوئی دوسری سرمایہ کاری کی تو اسے کسی نہ کسی دھوکہ دہی سے ہتھیا لیا گیا اور ملک کا قانونی نظام ان کی داد رسی میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے باوجود کبھی ان پاکستانیوں نے اپنے اصل وطن سے کوئی گلہ نہیں کیا۔

کسی بھی دوسرے ملک کی شہریت لینے کے بعد عام طور سے ان پاکستانیوں کو میزبان ملکوں میں شہری حقوق اور پاسپورٹ کے علاوہ وہ تمام حقوق و مراعات حاصل ہوجاتی ہیں جو ان کے ہاں پیدا ہونے والے لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں سرکاری ملازمت کا ہی نہیں بلکہ ووٹ دینے کے حق کے علاوہ انتخاب میں حصہ لے کر منتخب نمائندے کے طور پر خدمات سرانجام دینے کا حق بھی شامل ہے۔ ناروے جیسے چھوٹے ملک کی 169 رکنی پارلیمنٹ میں اس وقت تین ارکان پاکستانی نژاد ہیں جنہیں اپنی اپنی سیاسی پارٹی میں نمایاں اہمیت و مقام حاصل ہے۔ برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے۔ کوئی مقامی ادارہ ان لوگوں کی نیک نیتی، اور وفاداری پر سوال نہیں اٹھاتا۔ کیوں کہ قومی مفاد کے خلاف کام کرنا جرم کے ذیل میں آتا ہے اور کسی جرم کو ثابت کرنے کے لئے قانون کے مطابق ثبوت و شواہد فراہم کرنا پڑتے ہیں۔ لیکن پاکستان ایک ایسا انوکھا ملک ہے کہ جس کی سپریم کورٹ اپنے ہی ملک کے شہریوں کو قومی مفاد کے لئے خطرہ قرار دے رہی ہے لیکن اس بارے میں کوئی اعداد و شمار یا شواہد سامنے لانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

ناروے کی پارلیمنٹ میں حال ہی میں دوہری شہریت کا حق دینے کے لئے ایک قانونی مسودہ پیش کیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ تجویز تارکین وطن کے خلاف سیاسی ایجنڈا رکھنے والی دائیں بازو کی ایک انتہا پسند پارٹی کی طرف سے تیار کی گئی ہے۔ اگرچہ ناروے میں مقیم پاکستانی اس قانون کے حوالہ سے بہت پرجوش ہیں اور یہ انتظار کررہے ہیں کہ یہ قانون منظور ہو تو وہ جذباتی طور سے جس ملک کے ساتھ وابستہ ہیں، اس کی شہریت دوبارہ حاصل کرلیں۔ لیکن اس قانون کی مخالفت کرنے والے نشاندہی کررہے ہیں کہ حکومت کی طرف سے یہ قانون لانے کا مقصد یہ ہے کہ دوہری شہریت کے بعد اگر کوئی ایسا شخص کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہؤا تو اس کی شہریت واپس لے کر اسے اس کے اصل وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔ دوہری شہریت کا قانون نہ ہونے کی وجہ سے کسی دوسرے ملک کے سابقہ شہری کو ملک بدر یا اسٹیٹ لیس نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کی اسی منفی سوچ کی وجہ سے وکلا کی تنظیموں اور اپوزیشن کی سیاسی پارٹیوں نے اس قانون کی مخالفت کی ہے۔ اس بارے میں یہ دلیل دی جارہی ہے کہ کسی جرم کی دو سزائیں نہیں ہوسکتیں۔ اگر ملک کے قانون کے تحت کسی جرم کی سزا مقرر ہے تو دوہری شہریت والے سے ناروے کی شہریت واپس لینے کا اقدام دوہری سزا تصور کیا جائے گا۔

ناروے جیسے ملک میں یہ قانونی اور سیاسی بحث کی جارہی ہے لیکن پاکستان کی اعلیٰ ترین مسند انصاف پر بیٹھنے والے منصف ایک جنبش قلم سے لاکھوں پاکستانیوں کو صرف اس جرم میں اپنے وطن میں کام کرنے کا حق دینے سے محروم کررہے ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے اور جو اپنے بچوں کو اچھا مسلمان ہونے کے ساتھ اچھا پاکستانی بنانے کا جتن کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ یا برطانیہ میں مقیم کوئی پاکستانی خاندان اگر اپنے اعلیٰ تعلیم یافتہ بچوں کو پاکستان میں کام کرنے پر آمادہ کرتا ہے تاکہ وہ اس ملک کی خدمت کرسکیں تو ملک کی سپریم کورٹ ان کے راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہورہی ہے کہ انہیں ملک کی فکر میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کے لئے حوصلہ شکن خبر ہے۔ یہ فیصلہ قومی مفاد کے بارے میں پاکستانی اداروں اور نظام عدل کے بے بنیاد خوف کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبات اور وطن سے محبت کی توہین کی گئی ہے۔ حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے دشواریوں میں اضافہ کرنے کی بجائے ایسا قانون بنانا چاہیے جو قومی مفاد کی غیر واضح اور بے بنیاد تفہیم کی بنیاد پرکیے جانے والے فیصلوں کا راستہ روک سکے۔ اسی صورت میں یہ تسلیم کیا جاسکے گا کہ پاکستان ان لوگوں کی قدر کرتا ہے جو اس کی بہبود اور ترقی کا خواب دیکھتے ہیں اور اس کے لئے مسلسل کام کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali