ریاست مدینہ، قرارداد پاکستان اور 16 دسمبر
ملک کے دونوں حصوں کے لوگوں کی اکثریت کا عقیدہ چونکہ اسلام ہی تھا اس لئے اس قرارداد کے خلاف صرف اقلیتی گروہوں کے نمائیندے آواز بلند کرکے بے بس ہوگئے۔ تاہم بعد کے برسوں میں قرارداد مقاصد کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابی کو مزید راسخ کرنے کی کوششوں کا آغاز ہؤا اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان دیوار اونچی ہونے لگی۔ سیاسی مفادات کی بنیاد پر بننے والے اتحاد اور گروہ بندی نے مشرقی حصہ کے لیڈروں کو بے اثر اور بے دست و پا کردیا۔
اسی سیاسی داؤ پیچ کی سیاست میں پہلے ملک غلام محمد نے من مانی کے ذریعے سیاسی عمل کو مجروح اور لیڈروں کو بے دست و پا کیا۔ اور 1958 میں ایوب خان نے فوجی بغاوت کے ذریعے آمریت کے دس سالہ دور میں قومی اتحاد اور افہام و تفہیم کے علاوہ باہمی احترام اور مذہبی قوت برداشت کی تمام حسیات کو ختم کرنے کے عمل کو تیز کیا۔
1966 میں شیخ مجیب الرحمان کے 6 نکات اسے سیاسی بے چینی اور ذہنی و فکری انتشار کا اظہار تھے۔ مشرقی حصہ سیاسی بنیادوں پر حقوق کے حصول اور وسائل کی تقسیم کی بات کررہا تھا جبکہ مغربی حصہ کے سیاست دان اور فوجی لیڈر ’نظریہ پاکستان‘ کا چورن بیچنے اور اس کی بنیاد پر نعروں کے ذریعے شہریوں کے محب وطن یا ملک دشمن ہونے کا فیصلہ کررہے تھے۔
اس تناؤ میں 1971 میں اپنے ہی شہریوں کو ’فتح‘ کرنے کے لئے باقاعدہ فوجی کارروائی کا آغاز ہؤا جس کا انجام 16 دسمبر 1971 کو پاک فوج کے ہتھیار پھینکنے اور سقوط ڈھاکہ کی صورت میں سامنے آیا۔ شیخ مجیب الرحمان اور مشرقی پاکستان میں بنیادی جمہوری حقوق کے لئے چلائی گئی مہم کے بدتر مخالفین بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ مشرقی پاکستان کے عوام مغربی حصے میں رہنے والے اپنے بھائیوں کے مقابلے میں کم تر مسلمان تھے۔ لیکن تاریخ کا دیانت دارانہ تجزیہ کرنے والا ہر مؤرخ یہی نتیجہ اخذ کرے گا کہ حکمرانوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں کو اکثریت میں ہونے کے باوجود مساوی حقوق دینے سے انکار کیا۔ انہیں حقیر اور کم تر سمجھا گیا اور اس سیاسی طوفان کو بڑھانے میں کردار ادا کیا جو بنیادی معاشی اور سیاسی حقوق سے انکار کی صورت میں جنم لے رہا تھا۔
مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی کہانی یہ بھولا ہؤا سبق یاد کرواتی ہے کہ 1 ) اکثریت کے فیصلوں کا احترام جمہوری نظام کی بنیاد ہوتی ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں۔ 2 )نظریہ پاکستان نام کی کوئی اصطلاح اگر تحریک پاکستان کے دوران موجود تھی تو اس کا واحد مقصد مسلمان آبادی کے معاشی اور سیاسی حقوق کا تحفظ کرنا تھا۔ 3 ) مارچ 1949 میں قرار داد مقاصد کے ذریعے جس نظریہ پاکستان کی تبلیغ کرنے کی کوشش کی گئی تھی، وہ ملک کی اکثریت کو احساس محرومی سے نجا ت دلانے کا باعث نہیں بن سکی۔
اس سبق کی روشنی میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ مغربی حصہ میں رہنے والے لوگوں اور لیڈروں کے لئے اس لحاظ سے اہمیت رکھتا تھا کہ وہ یہ جان سکیں کہ لوگوں کے کسی گروہ کو مذہب کا جھانسہ دے کر اور نعرے بازی کے ذریعے زیادہ دیر تک دھوکے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ جب بھی مذہب کو لوگوں کے حقوق کے مقابلے میں لانے کی کوشش کی جائے گی تو سقوط ڈھاکہ جیسا سانحہ رونما ہوگا۔ یہ موقع ملنے کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو جیسا زیرک سیاسی لیڈر بھی قرار داد مقاصد کو 1973 کے آئین کا حصہ بنانے پر مجبور ہوگیا۔
یعنی ملک کا بڑا حصہ کھو دینے کے بعد بھی نئے ملک نے نئی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے اس اصول کو سمجھنے سے انکار کردیا کہ ملک نعروں سے نہیں چلتے اور ترقی کے لئے عقیدہ نہیں بلکہ ٹھوس سیاسی نظام اور متحرک معیشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ قدرت نے اس قوم کو سبق سیکھنے کے متعدد مواقع فراہمکیے لیکن یہ قوم جنرل ضیا جیسے ’مرد مجاہد‘ کی سرکردگی میں پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے علاوہ ہمسایہ سرزمین کو اس میں شامل کرنے کے مقدس کام میں مصروف ہو چکی تھی۔ اسی سوچ نے اس خطے میں پہلی افغان جنگ کو ہم پر مسلط کیا اور اس دھرتی کو احتیاج اور محرومی کے علاوہ دہشت گردی اور مذہبی شدت پسندی کی آماجگاہ بنا دیا گیا۔
اسی دہشت گردی اور شدت پسندی کی کوکھ سے جنم لینے والے ناسور کی وجہ سے 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پشاور میں طالب علموں اور استادوں کا قتل عام کیا گیا۔ اس سانحہ کی چوتھی برسی پر ملک کے صدر اور وزیر اعظم نے امن کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ لیکن تحریک انصاف کی قیادت اسی ٹیڑھی بنیاد پر عمارت استوار کرنے کا اعلان کررہی ہے جس نے 43 برس قبل مشرقی حصہ کو علیحدہ ہونے پر مجبور کیا تھا۔ اب بھی لوگوں کی معاشی و سیاسی محرومیاں ختم کرنے کی بجائے مدینہ جیسی ریاست بنانے اور سیاسی دشمنوں کو قید کرنے کے نعرے حکومتی پالیسی کی بنیاد ہیں۔
یہ قوم چوبیس برس کی غلطیوں کا خمیازہ 1971 میں بھگت چکی ہے۔ آج بھی یہ سمجھنے سے انکار جاری ہے کہ دسمبر 2014 کا سانحہ انہی غلطیوں کی وجہ سے رونما ہؤا تھا جنہیں پاکستانی ریاست درست کرنے میں ناکام رہی تھی۔ تاریخ کا یہ سبق سیکھے بغیر کوئی اعلان یا وعدہ امن یا خوشحالی کو اس ملک میں واپس نہیں لاسکتا۔

