نیا سال، اصغر خان کیس اور عدالت عظمیٰ کی معصومیت
س سے عوام کو شفاف انتخابات اور حق رائے دہی سے محروم رکھ کر حلف سے رو گردانی کی گئی۔ 16 سال بعد عدالت نے 2012 میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریٹائر جرنیلوں اسلم بیگ، اسد درانی اور مہران بینک کے سربراہ یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ رقم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔
تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ ’اس وقت کے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا۔ 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی۔ اسلم بیگ اور اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہوئے لیکن ان کا یہ عمل انفرادی فعل تھا، اداروں کا نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ صدر، ریاست کا سربراہ ہوتا ہے۔ صدر حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے‘ ۔
اس تفصیلی فیصلہ کے چھے برس گزرنے کے بعد ایف آئی اے پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے برعکس یہ انکشاف ہؤا ہے کہ یہ کیس تو اخباری خبروں کی بنیاد پر بنا تھا اور اس میں تو کوئی ثبوت موجود ہی نہیں ہیں۔ اور سپریم کورٹ اصغر خان کے ورثا کو مدعی قرار دے کر ان کی رائے جاننا ضروری سمجھتی ہے۔ عدل و انصاف اور بلا امتیاز احتساب کے اس زمانے میں اصغر خان کیس میں عدالت عظمی کے ججوں کی یہ نرم خوئی بھی اسی مزاج کا شاخسانہ ہے جو ماضی میں ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے پر مجبور کرتا رہاہے۔
ریاست کے اہم کارندے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ سولہ برس کے غیر معمولی انتظار کے بعد سپریم کورٹ ملزموں کا تعین کرتی ہے۔ اور اس حکم کے چھے برس بعدایف آئی اے کی مجبوری دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ اپنے پیشرو کا لکھا ہؤا فیصلہ پڑھنے کی بجائے، اصغر خان کے ورثا کی رائے جاننا چاہتی ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا یہ معاملہ اصغر خان کی ذاتی جائیداد کی بازیابی کا معاملہ ہے یا عوام کے آئینی اور بنیادی حق پر ڈاکہ کا مقدمہ تھا۔
اس معاملہ میں تو ریاست کو مدعی اور عدالت کو ذمہ دار ہونا تھا۔ اب اصغر خان کے ورثا طے کریں گے کہ 2012 میں سپریم کورٹ نے درست فیصلہ کیا تھا یا آج کی ایف آئی اے ٹھیک رائے دے رہی ہے۔ عوام کے حق انتخاب اور اداروں کے سربراہان کی طرف سے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کا معاملہ قانونی پیچدگیوں نے کتنی آسانی سے ایک خاندان کے حق کا معاملہ بنا دیا۔ انہی گھاٹیوں میں ٹھوکریں کھاتے پاکستان نئے سال کا استقبال کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ جہاں انصاف عملیت پسند، جج عصری تقاضوں کے نبض شناس اور قانون ثبوت کے ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے۔
اہل پاکستان نے ماضی سے سبق نہ سیکھنے کی قسم کھائی ہے۔ سقوط ڈھاکہ کا سانحہ اس بات کو یاد دلاتا ہے کہ جب بھی کسی صوبے کے حق مسترد کرنے کی کوشش کی جائے گی، قومی مسائل میں اضافہ ہوگا۔ بلوچستان سے بہتا لہو اس سبق کو یاد دلاتا رہتا ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے نوجوانوں کا غم و غصہ اسی تکلیف کا اظہار ہے۔ ریاست اب بھی اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے افراد کو لاپتہ کرتی ہے اور کوئی قانون اور اس کا رکھوالا ان کی بازیابی کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ اس کے باوجود قومی سلامتی اور مفاد کو نقصان پہنچانے کا الزام انہیں ہی اٹھانا پڑتا ہے جن سے بنیادی حق کے لئے آواز بلند کرنے کا گناہ سرزد ہو۔ ہم بطور قوم ان امور کو سمجھنے سے انکار کرتے ہیں۔
سرحدوں پر خون آشام صورت حال ہے۔ ایک ہمسایہ طاقت ور اور دوسرا نالاں ہے۔ سپر پاور کے ساتھ لیکن چھپن چھپائی کا کھیل جاری ہے۔ خزانہ خالی ہے لیکن ملک معاشی طور سے درست راستے پر گامزن ہو چکاہے۔ حکمران جمہوریت کی پیدا وار ہیں لیکن وہ تدبر کی باتیں کرنے کی بجائے تعصب اور انتقام کے انگارے برساتے ہیں۔ ملک کی نیّا پار لگانے کا عزم ہے لیکن پتوار ہاتھ میں نہیں ہے۔
اہل پاکستان 2019 میں داخل ہؤا چاہتے ہیں۔ نئے سال کی مبارک رسم دنیا ہے۔ لیکن ہر نئے سال کو بہتر اور کامیاب بنانے کے لئے زاد راہ فراہم کرنا ہر فرد اور قوم کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے۔ قومیں تحمل اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔ انہیں بھائی چارہ اور اجتماعی دانش پر یقین کرنا پڑتا ہے۔ قومی مفاد کو اداروں یا افراد کی اجارہ داری بنا کر کوئی قوم ترقی کا سفر طے نہیں کرسکتی۔ نئے سال میں پاکستان کے لئے یہی خواہش کی جاسکتی ہے کہ وہ ماضی سے سبق سیکھ سکے اور غلطیوں کو دہرانے سے اجتناب کرے۔
جس جمہوری عمل کے نتیجہ میں یہ ملک وجود میں آیا تھا، یہ قوم اسے سنبھال سکے اور اس کی حفاظت کو اپنی منزل مقصود بنا سکے۔ تب ہی اس کے مقدر پر چھائے مایوسی کے بادل امید کی کرنوں میں تبدیل ہوں گے۔


