حکومت گرانا کسی مسئلہ کا حل نہیں!


پاکستان کے حالات اگرچہ امریکہ سے مختلف ہیں لیکن صدر ٹرمپ کی مقبولیت کے تسلسل سے اگر کوئی سبق سیکھا جاسکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ جب تک عوام کی بڑی تعداد کسی حکومت کی حمایت جاری رکھے گی اور جب تک وزیر اعظم اپنے بنیادی حامیوں کو مطمئن اور خوش رکھنے میں کامیاب رہے گا، اس وقت تک اس کے اقتدار کو ان قوتوں کی طرف سے بھی خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا جو بادشاہ گری کا کھیلنے کی ماہر ہیں اور لیڈروں کو بنانا یاگرانا جن کے بائیں ہاتھ کا کھیل رہا ہے۔

یہ بادشاہ گری اسی وقت کام کرتی ہے جب کوئی لیڈر عوام میں اپنا ووٹر پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی امریکہ کے تجربہ سے جو دوسرا بنیادی سبق سیکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ کوئی لیڈر اسی وقت تک مقبول رہ سکتا ہے جب تک وہ عام لوگوں کے لئے معاشی حالات کو بہتر بنانے اور ان کی ضرورتیں پوری کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔ یہ قیاس کرلینا کہ ’ایک پیج‘ پر رہنے کی حکمت عملی حکومت کو طاقت بخشنے کے لئے کافی ہوسکتی ہے، خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ کیوں کہ ایک پیج والے غیر مقبول ہوتے لیڈر کو بوجھ سمجھنے اور کسی نئے امید وار کو اس پیج پر لانے میں دیر نہیں کرتے۔

معاشی بہبود اور عوام کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے البتہ نعرے اور دعوے کافی ثابت نہیں ہوسکتے۔ نہ ہی وزیر خزانہ کا یہ اعلان قابل غور ہوسکتا ہے کہ حکومت نے جو معاشی اقداماتکیے ہیں، ان کا بوجھ صرف ملک کے امیر طبقہ پر پڑا ہے، غریب صارفین اس سے بڑی حد تک محفوظ ہیں۔ نرم سے نرم الفاظ استعمال کرتے ہوئے بھی اس دعویٰ کو غلط کہا جائے گا۔ ملک میں براہ راست ٹیکس وصول کرنے کا کوئی نیا طریقہ یا حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے۔

حکومت نے جو محاصل عائدکیے ہیں، وہ بالآخر عام صارفین یعنی اس ملک کے غریب لوگوں کو ہی ادا کرنے پڑتے ہیں۔ کیوں کہ صنعتکار ہو یا تاجر، وہ حکومت کے عائد کردہ ٹیکسوں کو عوام تک منتقل کرنے میں دیر نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ جب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہوگی تو اس کا ان گھروں کو تو فائدہ ہوگا جن کا چولہا بیرون ملک سے ترسیلات کی وجہ سے چلتا ہے لیکن ملک کی اکثریت کا گھریلو بجٹ روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ ہی دگرگوں ہونے لگتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ عام لوگوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لئے اگر فوری اقدامات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو اس کے وزیر بے بنیاد اور گم راہ کن بیانات کے ذریعے مالی بحران کے ستائے ہوئے لوگوں کو مزید مشتعل کرنے کا سامان نہ کریں۔ وزیر خزانہ اور ان کے رفقا کو علم ہونا چاہیے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کا شکار صرف ان کے مخالفین نہیں بنتے بلکہ ان لوگوں پر بھی اس کا اثر مرتب ہوتا ہے جو تحریک انصاف کے جلسوں کی رونق بڑھاتے رہے ہیں اور جنہوں نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے قصے عام کرنے میں تحریک انصاف کی قیادت کا ساتھ دیا ہے۔

عمران خان سے جذباتی وابستگی کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن جب ان کی قیادت میں قائم حکومت مسلسل عام شہری کی مالی مشکلات میں اضافہ کا سبب بنتی رہے گی تو یہ بوجھ باقی سب وابستگیوں پر حاوی ہونے لگے گا۔ اس لئے عمران خان اور ان کے ساتھی اگر مخالف سیاسی پارٹیوں کو رگیدنے اور لوٹ کا مال واپس لانے کے نعرے بیچنے سے وقت نکال کر معاشی استحکام کے لئے پالیسی سازی کرسکیں تو خود ان کی اپنی سیاسی صحت کے لئے بہتر ہوگا۔

ملک کے معتبر اور باخبر صحافی اور تجزیہ نگار ’ان ہاؤس تبدیلی‘ اور اپوزیشن لیڈروں کے لئے نام نہاد این آر او کی خبریں سامنے لا رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے طاقت کے مراکز میں اس قسم کے نکات پر دماغ سوزی کی جاتی ہو۔ لیکن ایسی کوئی تجویز نہ ملک کے لئے بہتر ہو گی اور نہ ہی جمہوریت کو اس سے کوئی فائدہ ہوگا۔ عمران خان اس وقت تک چہیتے رہیں گے جب تک ان کی مقبولیت برقرار ہے۔ یہ مقبولیت کسی این آر او سے کم نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ایوان میں ان کے خلاف ’بغاوت‘ کے ذریعے تحریک انصاف کے ووٹر کو مایوس کیاجاسکے گا۔

اس لئے حکمران جماعت کو بھی ایسی خبروں پر بدحواس ہو کر ان کے رد میں اپنی صلاحیتیں صرف کرنے کی بجائے، عوام کو مطمئن رکھنے اور ان کی سہولت کے لئے اقدامات پر زور دینا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے اب سیاسی ہتھکنڈوں کی بجائے حکومت کے وزرا کو پروفیشنل منتظمین اور ماہرین کی طرح معاملات حکومت و معیشت بہتر کرنے کی طرف توجہ دینا ہوگی۔

منتخب حکومت خواہ کسی بھی طریقہ سے اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہو، اس کی کامیابی دراصل عوام کی کامیابی ہے۔ یہی اصل جمہوریت ہے۔ کسی منتخب حکومت کو گرانے کی جلدی میں جمہوری عمل کو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی ثابت ہوسکتا ہے۔ حکومت کاتسلسل ہی دراصل جمہوریت کی کامیابی ہے۔ اپوزیشن کے علاوہ حکمران جماعت کو بھی اس کا ادراک کرنا چاہیے۔ ورنہ پیش آنے والی تباہی کی ذمہ داری کسی ایک عنصر پر عائد نہیں کی جاسکے گی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali