پلوامہ حملہ: برصغیر میں امن کے لئے مایوس کن خبر
پاکستانی حکومت نے پٹھان کوٹ حملہ کے بعد جیش محمد کے خلاف کارروائی بھی کی تھی اور اس کے متعدد دفاتر سیل کردیے تھے۔ اس کے لیڈر مولانا مسعود اظہر کو بھی انہیں دنوں میں گرفتار کرکے منظر نامہ سے غائب کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے مسعود اظہر کا نہ تو کوئی بیان سامنے آیا ہے اور نہ ہی انہیں کسی نے دیکھا ہے۔ البتہ اس اقدام کے باوجود پاکستانی حکومت نے کسی بھی الزام میں جیش محمد کے قائد کے خلاف کوئی مقدمہ قائم کرکے انہیں سزا دلوانے کا اہتمام نہیں کیا۔
بھارت کے خلاف سرگرم حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کے خلاف بھی ممبئی حملوں کے الزام میں کی جانے والی قانونی کارروائی کسی انجام کو نہیں پہنچی تھی۔ اس لئے اگر یہ سچ ہے کہ بھارتی حکومت اور نریندر مودی پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان بھی کبھی ان عناصر سے مکمل طور سے دست کش نہیں ہؤا جنہیں بھارت دہشت گرد اور اپنے ملک میں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار اور ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے۔ لیکن وہی عناصر پاکستان میں ’اثاثہ‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پٹھان کوٹ حملہ کے بعد البتہ یہ تبدیلی ضرور آئی تھی کہ حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کی بھارت مخالف بیان بازی کو لگام دی گئی۔ لیکن بھارت اور اس کے سب سے بڑے حامی امریکہ کے لئے پاکستانی حکومت کی پالیسی میں یہ تبدیلی کافی نہیں ہے۔
دوسری طرف جولائی 2016 میں نوجوان حریت پسند برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں احتجاج اور خود مختاری کی تحریک نے شدت اختیار کی ہے۔ نریندر مودی کی حکومت اس تحریک کی شدت اور قوت کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لئے سیاسی اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ برہان وانی کی شہادت نے نوجوان کشمیری نسل کو زیادہ پرجوش کردیا ہے اور وہ اب بڑی تعداد میں عسکریت پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین اور معتدل مزاج لیڈر متنبہ کرتے رہے ہیں کہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے سیاسی مذاکرات کے ذریعے راستہ تلاش کیا جائے لیکن بھارت کشمیری قیادت کو پاکستان سے توڑ کر ’سیاسی خلا‘ میں کسی معاہدہ پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کشمیری سیاسی لیڈروں نے نریندر مودی کی حکومت کے ساتھ بات چیت سے انکار کیا ہے۔ تصادم کی اس صورت حال میں بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کرکے اور سفارتی سطح پر اس کے خلاف متحرک ہو کر یہ کوشش کرتا رہا ہے کہ پاکستان کو کشمیر کے سوال پر مؤقف تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اسی حکمت عملی کے تحت اکتوبر 2016 بھارت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل اسٹرائک کرنے اور دہشتگرد کیمپوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے اور بھارت بھی اس فوجی کارروائی کے کوئی ناقابل تردید شواہد پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔
اس کے باوجود بھارتی حکومت نے سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کو بھارتی عوام اور انتہا پسند ہندو گروہوں کو جوش دلانے اور ان کی سیاسی تشفی کے لئے بھرپور طریقے سے استعمال کیا ہے۔ اب بھی بھارت کے فوجی اور سیاسی لیڈر اس نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کو پاکستان سے نمٹنے کا واحد ذریعہ قرار دیتے رہتے ہیں۔ اسی لئے پلوامہ حملہ کے بعد یہ اندیشہ پیدا ہونا فطری ہے کہ بھارت اس قسم کی کسی حرکت کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان مسلح تصادم کا راستہ کھولنے کا سبب نہ بن جائے۔
یا ایسے ہی کسی نئے جھوٹ کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف نفرت اور مہم جوئی کا ایک نیا سلسلہ نہ شروع کردیا جائے۔ دونوں صورتوں میں پلوامہ حملہ برصغیر میں امن کے لئے ایک برا سانحہ ثابت ہوگا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت انتخابات میں اس واقعہ کی سیاسی قیمت وصول کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے دوسرے بھارتی سیاسی رہنما بھی نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں کی زبان درازی اور فریب کاری کو لگام دینے کے قابل نہیں ہوں گے۔
اس حملہ کی ذمہ داری اگرچہ جیش محمد نے قبول کرکے بھارتی پروپیگنڈا کی توپوں کو بارود فراہم کرنے کا کام کیا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ گزشتہ برسوں میں مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی مقامی لوگوں کی مایوسی اور احتجاج کا نتیجہ ہے۔ وہاں عسکری حملے کرنے والے گروہ اور نوجوان سیاسی طور سے تنہا نہیں ہیں بلکہ کشمیر عوام کی ہمدردیاں اور حمایت ان کے ساتھ ہے۔
پلوامہ کا خود کش حملہ آور عادل ڈار بھی اسی ضلع کا رہنے والا تھا۔ جو وہیں پیدا ہؤا اور بھارتی فوج کے مظالم سہتے سہتے عسکریت پسندی کی طرف مائل ہؤا۔ حملہ آور عادل ڈار کے والد غلام حسین ڈار نے پلوامہ حملہ کے بعد اخباری نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس جنگ میں دونوں طرف کے لوگ مر رہے ہیں۔ یہ لیڈروں کی سیاست ہے۔ سب کو مل کر اس سوال کا جواب تلاش کرنا چاہیے کہ نوجوان بندوقیں کیوں اٹھا رہے ہیں‘ ۔
نریندر مودی اور ان کے خونخوار بیان بازوں کو اس بیان کی صداقت اور اصابت کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی جنگجوئی اور کشمیری عوام کے خلاف فوج کشی ترک کرکے کشمیریوں اور پاکستان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کا راستہ ہموار کرنا چاہیے۔


