نریندر مودی کی بدحواسی اور ایم بی ایس کا مشورہ


پاکستان کے ساتھ کسی تصادم کی صورت میں سامنے آنے والے انہیں مناظر کے خوف کی وجہ سے 2016 میں پٹھان کوٹ اور اڑی حملوں کے بعد بھارتی حکومت اور فوج نے نام نہاد سرجیکل اسٹرئیک کا ڈھونگ رچایا تھا لیکن یہ دعویٰ ابھی تک ثابت نہیں کیا جاسکا۔ امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے تین روز پہلے اپنے بھارتی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے پلوامہ حملہ کے پس منظر میں یہ ضرور کہا تھا کہ ’بھارت اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے‘ تاہم دریں حالات لگتا ہے کہ امریکی حکومت صرف زبانی بیان کی حد تک ہی بھارت کے اس حق کی حمایت کرتے ہوئے اس سے اظہار ہمدردی کررہی ہے۔ پلوامہ حملہ کے بعد امریکی صدر یا حکومت کے کسی ذمہ دار نے پاکستان کے خلاف کوئی سخت مؤقف اختیار نہیں کیا۔ امریکی وزیر خارجہ اور وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے پاکستان سے دہشت گردوں کے خلاف کارورائی کرنے کا مطالبہ ضرور کیا تھا۔

یوں لگتا ہے کہ امریکی حکومت کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ اگر بھارت اس کی حوصلہ افزائی پر پاکستان کے خلاف مہم جوئی کرتا ہے تو اس کا پہلا اثر افغانستان میں امن کی صورت حال پر پڑے گا۔ امریکہ، پاکستان کے تعاون سے افغان طالبان کے ساتھ معاہدہ کرنے کا خواب دیکھ رہاہے۔ پاک بھارت تصادم کی صورت میں یہ مذاکرات فوری تعطل کا شکار ہوں گے اور طالبان امریکہ کی نیت کے بارے میں مزید شبہ میں مبتلا ہوجائیں گے۔

دنیا کے لئے دو وجوہات کی بنا پر بھارت کی پوزیشن ناقابل فہم حد تک ناقابل قبول ہے۔ ایک تو یہ کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیوں کر مسئلہ کاحل ہو سکتا ہے؟ دنیا بھر میں مسلح تصادم کی صورت میں بھی بالآخر فریقین کو مذاکرات کے ذریعے ہی معاملات طے کرنے پڑتے ہیں۔ پاکستان کی مسلسل یہی پوزیشن رہی ہے کہ کشمیر سمیت ہر معاملہ پر بات چیت کے ذریعے کوئی راستہ نکالا جائے جبکہ بھارت نے نریندر مودی کے دور حکومت میں پاکستان کے ساتھ ہرقسم کا رابطہ ختم کرنے کی کوشش کی ہے اور ہمہ قسم مذاکرات سے انکار کیا ہے۔ اس پس منظر میں بھارتی وزیر اعظم کا یہ بیان حقائق سے منافی ہے کہ پلوامہ واقعہ کے بعد مذاکرات کا راستہ بند ہو گیا ہے اور اب ’دہشت گردوں‘ کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ مودی حکومت تو گزشتہ تین سال سے یہی مؤقف دہرا رہی ہے۔ لیکن مذاکرات کا کوئی متبادل سامنے لانے میں ناکام رہی ہے۔

بھارتی مشکل کی دوسری وجہ کشمیر کی صورت حال ہے۔ کشمیری عوام اور ان کی قیادت بیک زبان معاملہ کا سیاسی حل تلاش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تمام تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کے شواہد سامنے لاتی ہیں اور بھارتی فوج اور حکومت کے طرز عمل کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔ بھارت ہر واقعہ کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کے باوجود کبھی اس کا ٹھوس ثبوت سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہؤا۔

 بھارتی حکومت جن ملکوں کو بھی پاکستان کا سفارتی بائیکاٹ کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گی، وہ اس سے یہی دونوں سوال پوچھیں گے۔ کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں عوام کیوں بے چین ہیں اور اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ پاکستان ہی مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندی کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستانی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ یہ بات بھی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان 80 کی دہائی میں اختیار کی گئی مداخلت کی حکمت عملی تبدیل کرچکا ہے۔ لیکن بھارت مسئلہ کشمیر کو مل جل کر حل کرنے کی دیرینہ یک طرفہ پالیسی تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

ان حالات میں بھارت کے پاس پاکستان سے انتقام لینے یا اس کو ’سزا‘ دینے کے بہت کم آپشن باقی رہ جاتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول یا پاکستانی سرحد کے پار کسی بھی حملہ کا ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے گا جو بھارت کے لئے مہلک ہوگا۔ سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ اگرچہ پرانا ہوچکا ہے لیکن اس قیاس کو درگزر نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت ایک بار پھر ویسا ہی اعلان کرکے اپنی حکومت کے عزم کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ تاہم اس بار شاید بھارتی عوام بھی اس ڈرامہ پر پہلے کی طرح اعتبار نہ کریں۔ اس کے باوجود اگر بھارت کسی قسم کے مسلح تصادم کا خطرہ مول لینے کی حماقت کرتا ہے تو اس کے فوری بعد اسے بہر حال مذاکرات ہی کی میز پر آنا پڑے گا۔ اس طرح مودی کا یہ دعویٰ باطل اور گمراہ کن ہے کہ مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی آج وطن روانہ ہونے سے پہلے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل حل کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔ ایم بی ایس منگل کو نئی دہلی پہنچ رہے ہیں۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ’جوش اور انتقام کی آگ سے بھرے‘ نریندر مودی کو بھی یہی بات کہیں گے۔ مودی کے پاس اس مشورہ کا کوئی ٹھوس اور مدلل جواب نہیں ہوگا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali