بھارت کو وزیر اعظم کا مسکت جواب مگر اپنا آنگن بھی درست کرلیں
اگر وزیر اعظم سیاسی نعروں کو اپنے اہم قومی خطاب کا حصہ بنائیں گے اور غیر ملکی دوروں میں بات کرتے ہوئے دیگر سیاسی پارٹیوں یا سابقہ حکومتوں کے ساتھ اختلافات کو مسائل کی جڑ قرار دے کر خود کو مسیحا بنا کر پیش کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کی باتوں کا اعتبار کم ہو گا اور بطور لیڈر ان کا قد چھوٹا رہ جائے گا۔ بدنصیبی سے عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد سے ابھی تک اپنی اس کمزوری پر قابو نہیں پاسکے ہیں۔ وہ بیرونی دوروں میں پاکستانی نظام کے نقائص اور بدعنوانی کا ذکر اس انداز میں ہی کرتے رہے ہیں گویا ان سے پہلے حکومت کرنے والے سب لیڈر پاکستان کے دشمن تھے، اصل محب وطن اب اقتدار میں آیا ہے۔ بھارت کے بارے میں ان کا پالیسی بیان بھی اس تاثر سے خالی نہیں ہے۔
امور مملکت کے حوالے سے موجودہ حکومت کا یہ طرز عمل وزیر اعظم کی باتوں کے علاوہ ان کے وزیروں کے بیانات اور حکومت کے اقدامات سے بھی عیاں ہوتا ہے۔ اس طرح حکومت پاکستان میں وہ یک جہتی، اتفاق رائے اور قومی جذبہ پیدا کرنے میں ناکام ہورہی ہے جو بھارت جیسے ملک کے الزامات اور دھمکیوں کے جواب میں بے حد اہم ہے۔ پلوامہ حملہ کے بعد اگر پاکستانی لوگوں، سیاست دانوں، میڈیا یا مبصرین کو یہ اندازہ ہورہا ہے کہ نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی ا س موقع کو جان بوجھ کر پاکستان دشمنی کے لئے استعمال کرتے ہوئے دو ماہ بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے تو بھارتی سیاست دانوں کو بھی اس کا ادراک ہوگا۔
اس کے باوجود سب بھارتی لیڈر بیک آواز نریندر مودی کے بیانیہ کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں حکومت نے ملک کے تمام سیاسی عناصر کے ساتھ ’ہم اور تم‘ کی تفریق پیدا کر رکھی ہے۔ حکومت اپوزیشن پارٹیوں اور مخالف رائے کو سختی سے مسترد کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو ان کا واجب احترام دینے کی دیرینہ جمہوری روایت کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کررہی ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد پر ان کے اعزاز میں دیے جانے والی سرکاری ضیافتوں میں اپوزیشن لیڈروں کو مدعو کرنے سے گریز کیا گیا اور وزیر اطلاعات نے اس کی یہ وجہ بتانا بھی ضروری سمجھا کہ یہ لوگ چونکہ بدعنوان ہیں، اس لئے انہیں غیر ملکی مہمان کے ساتھ ملنے کا موقع نہیں دیا جاسکتا۔ یہ کسی جمہوری حکومت کا رویہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس طرز عمل سے قومی یگانگت کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایرانی سرحدی گارڈز کی ہلاکت پر مسلم لیگ کے سینیٹر مشاہد حسین کے ایک ٹویٹ پر جواب دیتے ہوئے جارحانہ انداز اختیار کیا ہے اور اپوزیشن لیڈر کو ملک دشمن قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔
مشاہد حسین نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’پاکستان کو اپنا گھر درست کرنا چاہیے اور کسی کو بھی اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ دوسرے ممالک کے خلاف پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرے‘ ۔ یہ وہی مؤقف ہے جو آج وزیر اعظم عمران خان نے بھی اختیار کیا ہے لیکن وزیر اطلاعات نے مشاہد حسین کو ان الفاظ میں جواب دے کر اپنی حکومت کی کوتاہ اندیشی اور کم نظری کا مظاہرہ کیا ہے : ’کچھ لوگوں کو ہندوستان امیگریشن آفر نہیں کر رہا ورنہ ہماری جان چھوٹ جائے۔ کتنا ہاؤس ان آرڈر کریں۔ نہ آپ نے وزیر خارجہ بننا ہے نہ آپ کی اقدامات سے تسلی ہونی ہے‘ ۔
ان منافرانہ بیانات سے قطع نظر حکومت کے بعض اقدامات سے بھی قومی یک جہتی اور خارجہ امور کی تفہیم میں کوتاہی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ایران کے ایک جنرل نے گزشتہ ہفتے 27 ایرانی گارڈز کی ایک خود کش حملہ میں ہلاکت کا الزام پاکستانی سرزمین سے متحرک ایک گروہ پر لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے یا ہم خود کریں گے‘ ۔ پاکستان کو ضرور اس اشتعال انگیز بیان کا جواب دینا چاہیے تھا لیکن سعودی ولی عہد کے دورہ کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کی پریس کانفرنس میں اس معاملہ کو اٹھایا گیا۔
سعودی وزیر نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کو دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سپانسر اور القاعدہ کے بورڈ آف ڈائیریکٹرز کا میزبان قرار دیا۔ ایران کے بارے میں پاکستان کی یہ پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان، سعودی عرب کی محبت میں ایران کے ساتھ دشمنی کا رشتہ استوار کرسکتا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کو اپنی سفارتی پوزیشن اور اس معاملہ کی حساسیت سے آگاہ ہونا چاہیے تھا اور پاکستانی سرزمین کو سعودی ایران تفرقہ میں ’میدان جنگ‘ بنانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔
بھارتی جارحیت کے خلاف عمران خان کا بیان زوردار اور درست ہے لیکن انہیں اپنے مؤقف کو پوری قوم کی آواز بنانے کے لئے اپنا آنگن اور رویہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کے نمائیندوں کے لئے ایسے بیانات اور اقدامات سے گریز کرنا اہم ہے جو داخلی تفریق اور سفارتی شرمندگی کا سبب بنیں۔

