ایران کے خلاف ٹرمپ کی ناکام حکمت عملی
اس سے قطع نظر کہ امریکی حکومت ایران پر حملہ کرنا چاہتی ہے یا محض دھمکا کر اس پر دباؤ میں اضافہ کرنا چاہتی ہے، ایرانی وزیر خارجہ کی اس رائے سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ اشتعال انگیز بیانات اور علاقے میں امریکی افواج کی تعیناتی کے بعد کسی حادثاتی تصادم کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ گو کہ ابھی تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق امریکہ یا ایران کسی قسم کا مسلح تصادم نہیں چاہتے۔ دونوں حکومتوں کے نمائندے الزام تراشی کرتے ہوئے بھی یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ جنگ آپشن نہیں ہے۔ تاہم جب امریکی صدر ایک ملک کو مکمل تباہ کرنے کی دھمکیوں والے ٹوئٹ جاری کرے اور اس کی حکومت میں ایسے عناصر موجود ہوں جو ایران کے خلاف جنگی کارروائی کو مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری خیال کرتے ہوں تو کسی بھی قسم کے تصادم کے امکان کو پوری طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے بارے میں بھی وہی حکمت عملی اختیار کی ہے جو انہوں نے شمالی کوریا کے بارے میں اپنائی تھی۔ انہوں نے ستمبر2017 میں جنرل اسمبلی سے خطاب میں شمالی کوریا کو دھمکاتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ وہ ا س ملک کو نیست و نابود کردیں گے۔ تاہم چند ماہ بعد ہی انہوں نے سنگاپور میں شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان سے ملاقات کی اور ان کے تدبر و فراست کے گن گانے لگے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بھی اسی قسم کا دباؤ بڑھا کر ایرانی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ۔ تاکہ آئندہ برس کی صدارتی مہم میں وہ یہ دعویٰ کرسکیں کہ انہوں نے ایران کے ساتھ بہتر معاہدہ کرکے اس کے ’زہریلے دانت‘ نکال دیے ہیں۔ ٹرمپ کی حکمت عملی کا دوسرا پہلو یہ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ امریکہ کے عسکری، سفارتی اور معاشی اقدامات سے ایران پر اس قدر دباؤ بڑھایا جائے کہ عوام موجودہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ۔ اور امریکہ تہران میں اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ ٹرمپ کے ماضی کو دیکھتے ہوئے اس بات کا امکان نہیں ہے کہ وہ ایران پر حملہ کرنے یا کسی قسم کا تصادم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
تاہم یہ بات صدر ٹرمپ کی حکومت میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے قریب ترین حلیف ملکوں سعودی عرب اور اسرائیل کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ جان بولٹن سال ہا سال سے براہ راست ایران پر حملے کی تجویز دیتے رہے ہیں ۔ جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے زبردست حامی ہیں ۔ ان کے خیال میں ایران کی طاقت کو مفلوج کرنے کے نتیجہ میں مشرق وسطیٰ میں ان کی مکمل بالادستی قائم ہو سکتی ہے۔ موجودہ بحران میں امارات کے قریب آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں کا الزام سب سے پہلے سعودی عرب نے ایران پر عائد کیا تھا۔ اس کے بعد حوثی میزائل حملوں کی خبر دیتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی مقدمہ کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی۔ گزشتہ روز حوثی میزائل حملوں کا نشانہ مکہ معظمہ کو قرار دینے کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ سعودی عرب ، ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے لئے گراؤنڈ ورک میں مصروف ہے۔ اگلے ہفتے کے دوران شاہ سلمان کی طرف سے مکہ معظمہ میں عرب لیڈروں کے طلب کئے جانے والے اجلاس کا ایجنڈا بھی ایران کے خلاف کارروائی ہی ہو گا۔
امریکہ کی طرف سے ایران کو تنہا کرنے کی کوششوں اور سعودی عرب اور اسرائیل کی طرف سے ایران کو تباہ کرنے کی شدید خواہش کے باوجود ان زمینی حقائق سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ روس اور چین کے مفادات ایران کے ساتھ وابستہ ہیں۔ قطر کے ساتھ لڑائی مول لے کر سعودی عرب نے عربوں کا غیر متنازع لیڈر ہونے کی اپنی پوزیشن کو متنازع بنا لیا ہے۔ قطر کو سعودی عرب کے ساتھ تنازعہ میں ترکی اور ایران کی حمایت حاصل تھی۔ اس لئے ایران کی مشکل گھڑی میں بھی یہ دونوں ممالک ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ عراق پر امریکی تسلط کے باوجود وہاں ایرانی اثر و رسوخ اور اس کے حامی ملیشیا گروہوں کی قوت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ شام ، یمن اور لبنان میں ایران کا اثر و رسوخ بھی مسلمہ ہے۔ ان حالات میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی آسان نہیں ہوسکتی ۔ اس خطرے کو صدر ٹرمپ کے ایک ٹوئٹ سے سمجھنا ممکن نہیں ہے۔
ٹرمپ اپنے یورپی اتحادیوں کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے یا ایران کے ساتھ نئے امریکی مذاکرات کے لئے ان کی اعانت حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ اب مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی کے ذریعے ایران کو بات چیت پر مجبور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شاید ٹرمپ یہ مقصد بھی حاصل نہ کرسکیں البتہ اس سنسنی خیزی میں کسی غلطی کا امکان موجود ہے جو مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا کے لئے تباہ کن ہو سکتا ہے۔

