پہلا بچہ تجرباتی بچہ ہوتا ہے اس لیے کہ پہلے بچے کی پیدائش کے ساتھ والدین کی بھی پیدائش ہوتی ہے۔ نا تجربہ کاری، معاشرتی دباؤ، بہتر سے بہترین کرنے کی کوشش اور ضرورت سے زیادہ تحفظات کا شکار نئے نئے ماں باپ آزادی کے بعد ایک د م سے ذمہ داری پڑنے پہ بوکھلا جاتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ اگر آس پاس میں اور بھی بچے ساتھ ساتھ دنیا میں آئے ہوں تو ساری زندگی کے لئے مقابلے کی کیفیت میں پھنسا دیے جاتے ہیں۔ ہر چند کہ یہ بات ہر طریقے سے ثابت ہو چکی ہے کہ ہر بچہ اور اس کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں اور پہلے بچے اور گھر میں دوسرے یا تیسرے نمبر کی اولاد کی سمجھ بوجھ اور نشو نما میں بے انتہا فرق ہوتا ہے لیکن کھانے پینے سے لے کر گھٹنے اور پاؤں پاؤں چلنے تک اور قد کاٹھ اور بولنے سے لے کر تعلیم اور پڑھائیوں تک لوگ موازنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس سے پہلے ہی بے جا تشویش سے نمٹتے ماں باپ کے لئے مزید الجھن اور مشکل کھڑی ہو جاتی ہے۔
کاپی اور ایمبیڈ کرنے کے لیے اپنی WordPress سائٹ میں یہ یوآرایل پیسٹ کریں
اپنی ویب سائٹ میں ایمبیڈ کرنے کے لیے اس کوڈ کو کاپی اور پیسٹ کریں