پہلے بچے پر ماں باپ کے تجربات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلا بچہ تجرباتی بچہ ہوتا ہے اس لیے کہ پہلے بچے کی پیدائش کے ساتھ والدین کی بھی پیدائش ہوتی ہے۔ نا تجربہ کاری، معاشرتی دباؤ، بہتر سے بہترین کرنے کی کوشش اور ضرورت سے زیادہ تحفظات کا شکار نئے نئے ماں باپ آزادی کے بعد ایک د م سے ذمہ داری پڑنے پہ بوکھلا جاتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ اگر آس پاس میں اور بھی بچے ساتھ ساتھ دنیا میں آئے ہوں تو ساری زندگی کے لئے مقابلے کی کیفیت میں پھنسا دیے جاتے ہیں۔ ہر چند کہ یہ بات ہر طریقے سے ثابت ہو چکی ہے کہ ہر بچہ اور اس کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں اور پہلے بچے اور گھر میں دوسرے یا تیسرے نمبر کی اولاد کی سمجھ بوجھ اور نشو نما میں بے انتہا فرق ہوتا ہے لیکن کھانے پینے سے لے کر گھٹنے اور پاؤں پاؤں چلنے تک اور قد کاٹھ اور بولنے سے لے کر تعلیم اور پڑھائیوں تک لوگ موازنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس سے پہلے ہی بے جا تشویش سے نمٹتے ماں باپ کے لئے مزید الجھن اور مشکل کھڑی ہو جاتی ہے۔

ان سے بھی زیادہ تکلیف دہ ان لوگوں کا رویہ ہوتا ہے جن کے اپنے بچے بڑے ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ ہمہ وقت اپنی مثال دے کر یہ تاثر دیتے ہیں جیسے ان کے بچے ہر لحاظ سے بہترین اوصاف کے مالک رہے ہیں جبکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ نہ آپ نے وہ وقت دیکھا ہوتا ہے، نہ آپ ان کے زمانے میں جی رہے ہوتے ہیں، نہ ان کو آپ کو درپیش مسائل کا اندازہ ہوتا ہے اور نہ اپنی بہت سی باتیں یاد ہوتی ہیں۔

پہلے بچے کو بے انتہا اچھا بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اس پہ اوروں کی نسبت زیادہ روک ٹوک رکھی جاتی ہے ہر اس چیز سے بچایا جاتا ہے جس میں ذرہ برابر بھی برائی کا شائبہ ہو، برائی کے بدلے میں بھی اچھائی کی تلقین کی جاتی ہے اور سارے سنہرے اصول اس پہ لاگو کیے جاتے ہیں جن کی وجہ سے بیچارہ اتنا اچھا بن جاتا ہے کہ کافی نقصان اٹھاتا ہے الغرض پہلا بچہ ”عبدالباری“ ہوتا ہے (اگر آپ ابھی تک عبدالباری سے ناواقف ہیں تو آپ محروم ہیں ) ۔

ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ اس کے حصّے میں وہ بہت کچھ آتا ہے جو بعد میں آنے والوں کو نہیں مل پاتا یعنی ماں باپ کی پوری توجہ اور بلا شراکت کی محبّت۔ اس کے لئے ہر چیز بہت چھان پھٹک اور ڈھونڈ کے لی جاتی ہے اور بساط کے مطابق ہر خواہش پوری کی جاتی ہے۔ پہلے بچے کے لئے کوئی بھی برتی ہوئی چیز استعمال کرتے ہوے ماں باپ کے دل کو کچھ ہوتا ہے بہت بعد میں جا کے یہ احساس ہوتا ہے کے اس میں کوئی مضائقہ نہیں بلکے کافی بچت ہے اور یہ مشق باقی بہن بھائیوں پہ بلا جھجھک دہرائی جاتی ہے۔

خضر ہمارے گھر کا پہلا بچہ اور ہمارا ”عبدالباری“ ہے تمام سنہری اصولوں کے عمل نتیجے میں ایک بھولی بھالی اور حساس شخصیت ووجود میں آئی جس کو اب تھپڑ کے جواب میں تھپڑ مارنے کا کہو بھی تو ہمیں ایک طویل لیکچر سننے کو ملتا ہے۔ آج خضر کا مڈل اسکول گریجوشن ہے، کینیڈا میں مڈل اسکول گریجوشن بہت اہتمام سے منعقد کیا جاتا ہے شاید اس لیے کہ یہ تمام ایلیمنٹری گریڈز اور بچپن کا اختتام ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہائی اسکول کی دنیا اور نوجوانی کی بہاریں آپ کی منتظر ہوتی ہیں۔

ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے جب اس کو جونئیر کنڈر گارڈن کی کلاس میں چھوڑا تھا اور روتے ہوے چھوڑ کے آنا پہاڑ سا معلوم ہو رہا تھا۔ پورا ہفتہ یہی روٹین چلتی رہی۔ زبان کا بھی ایک بڑا مسئلہ تھا گھر میں اردو بولی جاتی تھی اور کارٹونوں کا زیادہ شوق نہیں تھا اس لیے انگلش سے کوئی خاص واقفیت نہیں تھی۔ شروع کے چند دن اپنی بات سمجھانا مشکل ہو گیا تھا لیکن دو تین ہفتے میں یوں رواں ہوا کہ پتا بھی نہیں چلا لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اردو کا لہجہ شروع سے ہی پختہ ہے اور اس سے ہم نے یہ سیکھا کہ اگر ابتدائی سالوں میں بچے کی مادری زبان پکّی کر دی جائے تو اس کا اثر ساری زندگی رہتا ہے۔

دس سال ایک ہی اسکول میں گزارے ہیں اس لیے دوسرے بچوں کو بھی سامنے بڑا ہوتے ہوے دیکھا اور ان کے والدین کے ساتھ بھی ایک خاندان کا سا رشتہ جڑا رہا اس لیے بچوں کے ساتھ ساتھ والدین بھی جذباتی کیفیات کا شکار ہیں۔ گرمی، سردی، بارش، برف طوفان، سارے موسموں سے نمٹتے ہوے اسکول چھوڑنا اور لینا، اسکول ٹرپس، پارٹیاں، دوستی، لڑائیاں، اسکول پلے، کھیل، ٹیمیں اور مقابلے اور سب سے بڑھ کر ٹیچروں کی محنت۔ بہت ساری یادوں کے ساتھ آج الوداعی تقریب ہونے والی ہے۔

خوشی اور مسرت کے ساتھ ساتھ ہائی اسکول کے خدشے اور فکریں بھی جڑی ہیں۔ اگر آپ کا بچہ ابھی چھوٹا ہے تو اس کو ادب آداب، تمیز اور قدریں سکھائیں لیکن لوگوں کے تبصروں، موازنوں اور دباؤ میں آ کر اسے ”پرفیکٹ“ اور ”بہت اچھا“ بنانے کی کوشش نہ کریں۔ ان کو بچپن کے مزے لوٹنے دیں، کھل کے ہنسنے اور شرارتیں کرنے دیں، بے جا ڈانٹ ڈپٹ اور خاص طور پہ مارنے سے قطعاً اجتناب کریں۔ بچپن کا دورانیہ بہت خوبصورت ہوتا ہے اسے صرف آپ کے وقت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ بہت جلدی بیت جاتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کے بچوں کو ساری منزلوں میں کامیاب کریں اور والدین کو ان کی خوشیاں دکھائیں۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •