اپنے بچپن میں ہم نے اپنے اطراف جن بڑوں کو دیکھا، جو تقسیم کے وقت موجود تھے یا کسی طور اس کا حصّہ تھے، ان کو ہمیشہ اپنی آبائی جگہوں کی باتیں کرتے ہوئے پایا۔ نانی اماں ٹونک کا ذکر کیا کرتی تھیں اور وہاں کا ذکر کرتے وقت ان کے چہرے پہ ایک خوشی کا سایا آ کے گزر جاتا تھا۔ پاکستان آکے بس تو گئے تھے لیکن اپنی جڑوں سے نہیں کٹ پائے تھے۔ ایک بار دروازے … ! ہجرتوں کے مارے لوگ پڑھنا جاری رکھیں
کاپی اور ایمبیڈ کرنے کے لیے اپنی WordPress سائٹ میں یہ یوآرایل پیسٹ کریں
اپنی ویب سائٹ میں ایمبیڈ کرنے کے لیے اس کوڈ کو کاپی اور پیسٹ کریں