نیاگرا کے پار

پچھلی داستان سفر میں ہم نے کہا تھا نا، کہ اگلی بار نیاگرا کو امریکہ کی جانب سے دیکھیں گے۔ اگرچہ لوگوں نے سرپھرا جانا، کہ لوگ کہتے ہیں، نیاگرا کا حسن کینیڈا کے رخ سے ہی قابل دید ہے، پر کہی سنی پر کیوں جائیں، چل کر دیکھتے ہیں۔ ہم نے بھی ٹھان لی
ہم ٹورنٹو کے CN tower کے عقب میں یارک اسٹریٹ پر ایک ائر بی این بی اپارٹمنٹ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ یونین اسٹیشن چند منٹ کی واک پر تھا۔ اس لیے ٹرین سے جانے کا پروگرام بنایا۔
وہ جون کی ایک خوشگوار صبح تھی آسمان ابر آلود تھا۔ ہمیں تو بادلوں سے ڈھکی دودھیا فضا بہت دلکش لگتی ہے، لیکن مقامی، نکھری ہوئی دھوپ پہ مرتے ہیں۔ سردی گئی، تہہ بہ تہہ لباس سے جان چھٹی اور غسل آفتابی کے دن آئے۔ سڑک پر، بازار میں، کالج اور یونیورسٹی کیمپس میں، ریلوے اسٹیشن اور بس اسٹاپ پر، نوجوان لڑکیاں حتی الامکان مختصر لباس میں بے نیازی سے مٹر گشت کرتی نظر آئیں۔ ذرا ذرا مستور کندن سے بدن، لانبی خوش وضع ٹانگیں، لپ گلاس سے دمکتے لب، مسکارے سے مرصع اصلی یا پھر نقلی خم دار پلکیں ؛ ہم تو اپنی چھوٹی چھوٹی پلکیں جھپکنا ہی بھول گئے۔ میاں جی ساتھ تھے۔ جی چاہا، ان کی آنکھوں پر ہاتھ دھر دیں۔
نیاگرا کے حسین مضافاتی قصبے سے گزر کر آبشار پہنچے تو سورج تمتما رہا تھا۔ کینیڈا کا موسم یونہی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے۔ میاں جی پہلی بار نیاگرا کے درشن کر رہے تھے۔ نیاگرا پر پہلی نظر پڑتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے یہ جاننے کے لئے آپ ہماری پچھلی تحریر ”آبشاروں کا شہنشاہ نیاگرا“ پڑھیے۔
نیاگرا تین آبشاروں کے مجموعے کا نام ہے۔ ہارس شو فال جسے کینیڈین فال بھی کہتے ہیں، امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حد فاصل قائم کرتی ہے۔ لائم اسٹون کی موجودگی کے سبب اس کا پانی سبزی مائل ہے۔ 167 فٹ کی بلندی سے بیش بہا پانی گہرائی میں گرتا ہے تو پانے کے قطرے فضا میں کثیف ہو جاتے ہیں اور ایک دودھیا مرغولہ سا فضا میں تیرتا ہے۔ یہ ایک سحر انگیز نظارہ ہے۔ امریکی فصیل سے گرتی دو نسبتاً چھوٹی آبشاریں امریکن فال اور برائیڈل ویل فال کہلاتی ہیں۔ ان کا سفید جھاگ دار پانی سنیما کے پردے جیسا دکھتا ہے۔
ہم۔ نے میاں جی سے پوچھا ”آپ نیاگرا کو کیسا محسوس کرتے ہیں۔“
کہنے لگے ”پانی آتا ہے، پانی گرتا ہے، پانی جاتا ہے“
”لگتا ہے آپ کو پیاس لگ رہی ہے چلیں آپ کو ٹھنڈا“ پانی ”پلائیں۔ “ بھنا کر ہم نے پانی پہ زور دیتے ہوئے کہا۔
اگرچہ میاں جی نیاگرا کی خوبصورتی بیان کرنے سے قاصر رہے تاہم فوٹو گرافی میں وہ خاصے پرجوش دکھائی دیے وہ بھی سولو فوٹوز۔
ہمیں دریا پار امریکہ جانا تھا۔ اس کے لئے پاسپورٹ، امریکی ویزہ اور مبلغ 1 ڈالر درکار تھا۔ میاں جی اور صاحبزادی کے پاس امریکی پروانہ راہداری نہیں تھا اس لئے انہیں سرحد کی اسی جانب ٹھہر کر ہمارا انتظار کرنا تھا۔ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان
آمدورفت اور ترسیل کے لئے چھ پل تعمیری کیے گئے ہیں۔ دو تو ریلوے برج ہیں بقیہ حامل سڑک ہیں۔ پیس برج (peace bridge) ، کوئینسٹن لیوسٹن برج (Queenston Lewiston) ، اور رین بو برج (rainbow bridge) ۔ عوامی گزرگاہ ہیں۔ ان تمام پلوں کی دیکھ بھال نیاگرا فال برج کمیشن کے ذمے ہے۔
رین بو برج 1450 فٹ طویل اسٹیل آرچ برج ہے۔ یہ سطح آب سے 202 فٹ بلند ہے۔ یہ پل امریکن فال کے شمال میں 1000 فٹ کے فاصلے پر تعمیر کیا گیا۔ اس فاصلے کے پیچھے ایک تاریخی واقعہ ہے۔ 27 جنوری 1938 کو ایک یخ بستہ سہ پہر کو لوگوں نے اپنے دور کے عظیم ”ہنی مون برج“ کو دریا برد ہوتے دیکھا۔ یہ پل امریکن فال سے 500 فٹ کے فاصلے پر تھا جہاں دریا کی گھاٹی تنگ ہے اس کی اونچائی صرف 150 فٹ تھی۔ شدید سمندری طوفان کے باعث برف کے تودے آبشاروں سے پھسل کر گرتے اور باٹل نیک ایفیکٹ (bottle neck effect) کے تحت پل کے نیچے اکٹھے ہوتے گئے۔ ان برفانی تودوں کا دباؤ اس قدر بڑھا کہ پل ڈھے گیا۔ پیش بندی کے باعث کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن انتہائی اہم ذریعہ آمدو رفت کی کمی نے ارباب اختیار کو نئے پل کی جلد تعمیر پر مجبور کیا۔ تین سال میں تعمیر مکمل کر کے یکم نومبر 1941 کو نئے پل کا افتتاح کر دیا گیا۔ نیا پل خطرے کے مقام سے 500 فٹ دور اور 202 فٹ بلند، تعمیر کیا گیا۔ اس کی بنیادوں کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنایا گیا آبشار کے قطرے جب منشور کی طرح سورج کی کرنوں کو منتشر کرتے ہیں تو اسی مقام پر قوس قزح ابھرتی ہے۔ اسی لئے اس پل کو رین بو برج کا نام دیا گیا۔ اس میں چار ٹریفک لین ہیں۔ بائیسکل ٹریک اور فٹ باتھ بھی ہے۔ لہذا آپ گاڑی میں، بائیسکل پر، یا پھر پیدل بھی پل عبور کر سکتے ہیں۔ ہم نے پیدل جانے کا پروگرام بنایا۔ پیادہ سفر میں جو کیف، قدم بہ قدم، منظر بہ منظر دید کو حاصل ہوتا ہے وہ شر سے گاڑی گزر جانے میں کہاں۔
ایک ڈالر کا سکہ ہماری صاحبزادی نے مشین میں ڈالا گویا کھل جا سم سم کا منتر پڑھ دیا۔ رکاوٹ ہٹ گئی اور ہم میاں جی اور صاحبزادی کو الوداعی ہاتھ ہلاتے رین بو برج پر چڑھ گئے۔ ہم شاید گنگنا رہے تھے۔
”میں چلی میں چلی، مجھے روکے نہ کوئی“
اور پھر پل کے عین وسط میں پہنچے تو ٹھٹھک کر ٹھہر گئے۔ نیاگرا فال کا اس سے خوبصورت اور پینورامک ویو کہیں اور سے ممکن نہیں۔ ایک فریم میں تینوں آبشاریں اور، نیاگرا ریور سمٹ آتے ہیں۔ ہم۔ منڈیر پر کہنیاں جمائے ہاتھوں کے پیالے پہ چہرہ ٹکائے، دنیا کے حسین ترین نظارے میں محو تھے بلکہ دم بخود تھے۔ بائیں ہاتھ اونچائی پر امریکہ کی سرحد سے کھلکھلاتی امریکن فال آر برائیڈل ویل فال اور ریلنگ سے جھانکتے شائقین۔ دائیں جانب نشیب میں کینیڈا کا ساحل اور وسط میں زقند لگاتی چنچل ہارس شو فال۔ نیچے دریا میں سرخ اور نیلے رین کوٹ پہنے سواروں سے بھری کشتیاں، جوں کسی نے پانی میں چراغ بہا دیے ہوں۔
ہم نے گنگنایا
Superfragilisticexpialidocious
جی چاہتا تھا یہیں شام کر دیں، لیکن یاد آیا میاں صاحب اور صاحبزادی پیچھے منتظر ہیں۔ اس لئے پر لے کنارے پر موجود امریکن امیگریشن پوسٹ کی طرف بڑھ گئے۔
پاکستانی پاسپورٹ ہونے کے ناتے ذرا سے مشوش تھے لیکن ہوا یہ کہ، مکھن میں سے بال کی طرح نکل گئے۔
اب ہمارے آگے میلوں تک پھیلا نیاگرا پارک تھا جو ریاست نیویارک کی حدود میں آتا ہے۔ ہمارا مطمح نظر اس روز صرف نیاگرا فالز دیکھنا تھا اس لیے کسی اور طرف توجہ دیے بغیر ہم ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ چلے گئے۔ ”میڈ آف مسٹ“ ڈیک پر ایک طویل قطار تھی لیکن ہم اس میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے کیونکہ ہم نے ”ہارن بلوور“ کی سواری کرلی تھی۔ (ہارن بلوور اور میڈ آف مسٹ کے بارے میں جاننے کے لئے ”آبشاروں کا شہنشاہ نیاگرا“ پڑھئے ) ۔
ہمارا پہلا پڑاؤ لونا آئی لینڈ تھا۔ امریکن فال اور برائیڈل ویل فال کے درمیان چھوٹا سا خشکی کا قطعہ لونا آئی لینڈ (Luna) کہلاتا ہے۔ ایک طرف بے بہا امریکن فال تھی تو دوسری جانب منحنی شرماتی لجاتی برائیڈل فال۔ اتنے پاس اتنے قریب کہ بوچھاڑ آپ کے رخسار بھگو دے۔ فضا میں نغمگی تھی۔ کون کہتا ہے امریکی رخ سے نیاگرا حسین نہیں۔
وقت کی کمی نے ایک بار پھر پیروں میں پہیے جڑ دیے۔ ہم گوٹ آئی لینڈ کی طرف دوڑ چلے
(گوٹ آئی لینڈ برائیڈل فال اور ہارس شو فال کے درمیان ہے۔ ) ۔
ایک دوراہا آ گیا تھا۔ دائیں جانب ایک خاص اسپاٹ ہے جہاں سے آبشار کو چھو سکتے ہیں۔ بائیں جانب کی راہ ہارس شو فال کو جاتی تھی۔
ہم بائیں جانب چل پڑے
تنگ راستے اچانک وا ہو گئے۔ نئے افق طلوع ہوئے حد نظر فراخ ہوئی۔ بے کراں، بے پایاں دریائے نیاگرا ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ ہارس شو کے مقام پر دریائے نیاگرا کینیڈا کی سرزمین کو کورنش بجا لاتا۔ ہم۔ منظر کی سحر آفرینی و رعنائی میں کھو گئے۔
نیاگرا کو امریکہ کی طرف سے دیکھنے کا قصد پورا ہو گیا تھا۔ ہم روش روش اپنے نقش پا پر لوٹنے لگے۔ اچانک پھوار پڑنے لگی اور ہم سرمستی سے گنگنائے
”ٹھنڈی ہوا کالی گھٹا آہی گئی جھوم کے“
لیکن پھر موٹی موٹی بوندیں پڑنے لگیں۔ ہم نے رفتار تیز کردی لیکن بارش بھی تیز تر ہوتی گئی۔ رین بو برج تک پہنچنے تک ہم شرابور ہوچکے تھے۔ ٹھنڈی ہوا اور کالی گھٹا مل کر حملہ کر رہے تھے۔ تاہم رین بو برج کے وسط میں رک کر نیاگرا سے کہنا پھر بھی نہیں بھولے
Supercalifragisticexpialidocious
اب ہمیں کینیڈین امیگریشن سے گزرنا تھا۔ چھاجوں پانی برس رہا تھا۔ عمارت کے باہر کھلے آسمان تلے قطار لگی تھی۔ مجال ہے رحم کھا کر سب کو اندر بلا لیا ہو۔ ایک ایک کر کے ہی بلایا گیا۔
کینیڈا کی سرزمین پر صاحب اور صاحبزادی منتظر تھے۔
”“ مما آپ تو بہت بھیگ گئی ہیں۔ ”ہماری ننھی نے ماں کی سی فکر مندی سے کہا۔ چلیے سووینئر شاپ سے کپڑے خرید لیتے ہیں۔ نیاگرا فال کے پرنٹ والے کپڑے پہن کر اور صاحب کی نئی جیکٹ پہن کر دھواں اڑاتی کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے کھڑکی سے باہر نظر دوڑائی تو دیکھا بارش بند ہو گئی تھی۔
کینیڈا کی بارش: یوں آئی یوں گئی۔
”موسم سرما میں تو یہ آبشار بھی جم جاتی ہوگی“
ہم نے کہا
صاحبزادی نے گوگل کیا۔ ”آبشار نہیں جمتی مگر اس کے چہار جانب سفید چادر تنی ہوتی ہے حتی کہ یہ سفید مرغولہ بھی برف ہو جاتا ہے۔“
”یہ کیسا لگتا ہو گا“ ہم نے تصور کرنے کی کوشش کی۔
انشاء اللہ اگلی بار سرما میں آ کر دیکھتے ہیں۔




مدیران۔بہت شکریہ ۔تصاویر نے لطف دوبالا کردیا۔