آبشاروں کا شہنشاہ، نیاگرا


پچھلی بار کینیڈا گئے تھے تو دل میں کسک لے کر لوٹے تھے کہ نیاگرا آبشار نہیں دیکھی۔ اس لئے اس بار پہلی منزل ہی نیاگرا تھی یعنی ہوائی اڈے سے سیدھا شہنشاہ نیاگرا کے دربار میں۔

نیاگرا کے مقابل چودہ منزلہ ہوٹل کی بارہویں منزل پر آبشار کے رخ ہمارا کمرہ بک تھا، جہاں سے نیاگرا کا وسیع النظر مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔ ٹورنٹو انٹرنیشنل ائر پورٹ سے نیاگرا کا فاصلہ تقریباً 123 کلومیٹر ہے۔ ٹریفک کا رش نہ ہو تو ایک گھنٹہ پندرہ منٹ میں یہ فاصلہ طے کیا جاسکتا ہے، لیکن رش تھا، اس لئے ہم ڈھائی گھنٹے میں نیاگرا پہنچے۔ ہماری نور نظر ڈھائی گھنٹے پہلے ہی یونیورسٹی سے ہوٹل پہنچ کر انتظار کی کوفت بھگت رہی تھیں۔ غروب آفتاب کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ استقبالیہ سے کارڈ لے کر شتابی اوپر پہنچے۔ کمرہ کشادہ اور آرام دہ تھا۔ آبشار کے رخ شیشے کی دیوار سے پردہ کیا سمیٹا، گویا مصوری کے حسین ترین شاہکار کی نقاب کشائی کردی ہو۔ نیاگرا کا وہ پہلا نظارہ میری آنکھ کی پتلی میں خوبصورتی کے استعارے کے طور پر ہمیشہ کے لئے ثبت ہو گیا۔ اگر میرا اگلا بیان قاری کے دل کے تار نہ چھیڑ سکے تو اس میں منظر کا نہیں منظر تراش کی کج نویسی کا دخل ہو گا۔

مصور کائنات نے قدرت کے ان گنت رنگوں سے اسے تصویر کیا تھا۔ جاتے سورج نے مغربی افق کی دلہن کو لالہ رنگ اوڑھنی پہنا دی تھی میرے دائیں جانب۔ قوس نما ”ہارس شو فال“ حشر ساماں تھی۔ اس کا سبز پانی 187 فٹ کی بلندی سے گر کر سطح زمین کو چومتا تو اچھال کے سبب پانی کے ننھے ننھے قطرے اوپر کو اٹھتے اور فضا میں کہر کا مرغولہ بن کر منجمد ہو جاتے جیسے سردیوں میں جھونپڑی کی چمنی سے اٹھتا دھواں۔ آبشار کا پانی کہیں کاہی رنگ تو کہیں نیلگوں تھا۔ کچھ حصے پر سورج کی سنہری کرنوں کے انعکاس نے اسے پگھلے ہوئے سونے کے سیل رواں کا روپ دے دیا تھا۔ بائیں جانب سفید جھاگ اڑاتی ”امریکن فال“ اور ”برائیڈل ویل فال“ دلکش ہونے کے باوجود ہارس شو فال کے مقابلے میں یوں دکھتی تھیں، جیسے شہزادی کی سنگت میں وزیر زادیاں۔ اوپر امریکی بارڈر پر، ریلنگ سے جھانکتے اور دوسرے زاویے سے ہارس شو فال کا نظارہ کرتے ہجوم کا ہالہ دیکھا جاسکتا تھا۔ نیچے اونٹاریو لیک میں نیلے اور سرخ پلاسٹک رین کوٹ پہنے سیاحوں سے بھری کشتیاں تیر رہی تھیں۔ ساحل پر تفریح کے شائقین چہل قدمی کرتے، تصویریں کھنچواتے، اور سووینئر شاپس کی جانب بڑھتے تھے یا اشتہا انگیز خوشبو کو لبیک کہتے کافی ہاؤس میں گھس جاتے۔

جیسا کہ قارئین جانتے ہیں نیاگرا آبشار، امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حد فاصل ہے۔ نیاگرا درحقیقت تین آبشاروں کا مجموعہ ہے۔ ہارس شو (horse shoe fall) فال، امریکن فال اور برائیڈل ویل (bridal veil fall) ۔ پانی کی یہ فصیل کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکہ کی ریاست نیویارک کے درمیان واقع ہے۔ ان میں سب سے منحنی آبشار برائیڈل ویل فال ہے۔ اونچائی تو اس کی بھی امریکن فال جتنی ہی ہے لیکن چوڑائی صرف 56 فٹ ہے۔ میری کھڑکی سے یہ اپنے نام کی طرح دلہن کے سفید نقاب کی مانند دکھتی تھی۔ امریکن فال کی اونچائی قریباً سو فٹ اور عرض ایک ہزار فٹ ہے۔ دونوں آبشاروں کے بیچ خشکی کا قطعہ لونا آئی لینڈ کہلاتا ہے۔

ہارس شو فال گھوڑے کی نعل سے مشابہ ہے۔ اس کا طول 187 فٹ اور عرض 2590 فٹ ہے۔ یہ دنیا کی سب سے اونچی آبشار تو نہیں مگر پانی کے بہاؤ کے لحاظ سے یہ سب سے عظیم آبشار ہے۔ ہر ایک منٹ میں چھ ملین کیوبک فٹ پانی چٹان کی بلندیوں سے نیچے گرتا ہے۔ اس یگانہ روزگار آبشار کے پانی کے رنگ بھی جداگانہ ہیں۔ کہیں یہ نومولود کی آنکھ کی مانند شفاف نیلا ہے تو کہیں کونپل سے پھوٹتے برگ نو کی طرح سبز، لہلہاتا مچلتا سبز۔ آنکھوں کو تراوٹ بخشتا یہ سبز رنگ دراصل نیاگرا کے پانی میں موجود کئی ٹن نمکیات اور راک فلور (rock floor) کا مرہون منت ہے۔ اس میں سر فہرست لائم اسٹون ہے۔

نیاگرا قدرت کا ایک کرشمہ ہے جو ہزاروں سال سے رواں دواں ہے۔ برف کے تودے پگھلنے سے اس سیل رواں کی ابتدا ہوئی تھی، تب سے جاری و ساری ہے۔

اس عظیم آبی ذخیرے کا منبع گریٹ لیکس کو کہا جاتا ہے۔ مشی گن لیک، ایری لیک، سپیرئر لیک، ہورن لیک، اور کلیئر لیک۔ ان جھیلوں کا پانی دریائے نیاگرا میں شامل ہوتا ہے جو نیاگرا آبشار کی اونچائی سے گرنے کے بعد اونٹاریو لیک کے قالب میں ڈھل جاتا ہے۔ اونٹاریو لیک سنٹ لارنس ریور میں اترتی ہے اور سنٹ لارنس ریور، بحر اوقیانوس (Atlantic ocean) میں ضم ہو جاتا ہے۔ مشی گن لیک سے بحر اوقیانوس تک پانی کا سفر صرف پندرہ گھنٹے پر محیط ہوتا ہے۔

ہم نیاگرا کے سحر میں مبہوت کھڑے تھے کہ صاحبزادی کی آواز نے سحر توڑ دیا۔ ”مما بھوک لگ رہی ہے۔“ پھر صاحبزادے نے بھی یہی راگ الاپا تو ہمیں بھی احساس ہوا کہ جہاز میں کھایا پیا کب کا ہضم ہو چکا تھا۔ سو ہم تینوں ڈنر کے لئے چل دیے۔

رات کے دس بجے ہم تینوں چودھویں منزل پر آبزرویشن پوائنٹ پہنچ گئے، جہاں اور لوگ بھی رنگ و نور کا کھیل دیکھنے کے منتظر تھے۔ رات دس بجے ہارس شو فال پر رنگین روشنیوں کا شو ہوتا ہے۔ رات کے سیاہ پس منظر میں رنگ بدلتی آبشار کی چھب دید کے قابل تھی، گویا کوئی حسین نار آتشی لباس میں رقص کناں ہو۔

اگلے دن 14 اگست تھا۔ ہم نے سفید لباس پر سبز آنچل اوڑھا۔ دن روشن اور ہوا خوشگوار تھی۔ پچھلی شام کمرے کے دریچے سے نیاگرا کا پنورامک ویو دیکھا تھا اب ہم اس کے پہلو میں تھے۔ یوں جیسے دور سے درشن دینے والا محبوب آپ کے پہلو میں آ بیٹھے۔ آپ اس کی خوشبو محسوس کر سکتے ہوں، اس کی سانس کا ردھم سن سکتے ہوں۔ دن کے اجالے میں نیاگرا ریور کا سبز اور سفید پیرہن اور بھی خوش رنگ لگ رہا تھا۔ وہ مدہم لے میں گنگناتا چٹان کی کگر کی طرف بڑھتا، اور پھر گہرائیوں میں کود جاتا۔ ایک مقناطیسی قوت اس طرف کھینچے لئے جاتی تھی۔ جیسے کوئی سحر زدہ معمول کی حالت میں چلے چلا جائے، بہاؤ میں بہہ جائے، کود جائے۔ یہ خواہش بہت سے منچلوں کے دل میں اس شدت سے جاگی کہ وہ ایسا کیے بنا رہ نہ سکے اور اس محبوبہ کے قدموں میں مر مٹے۔ کبھی مہم جوئی کے نام پر اور کبھی خود کشی کے لئے۔

اینی ایڈسن ٹیلر (Annie Edson Tayler) ، 63 سالہ امریکی خاتون نے 1901 میں یہ مہم زندہ سلامت سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ ایک ناند (custom barrel) میں بند ہو کر نیاگرا آبشار سے کودی تھیں یا شاید یہ کہنا صحیح ہو گا کہ لڑھکی تھیں۔ اس کے بعد چند ہی لوگ زندہ بچے مگر ثابت سلامت نہیں۔ 1951 میں ایسی مہم جوئی پر پابندی لگادی گئی۔ ایسی کوشش پر 25000 ڈالر جرمانہ ہے۔ اب آپ جنگلے کے پار سے ہی نظارہ کر سکتے ہیں۔ البتہ اونٹاریو لیک میں کشتی رانی کی جا سکتی ہے۔ کینیڈا کی جانب سے چلنے والی کشتی کو ”ہارن بلوور“ (horn blower) ، کہتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے چلنے والی کشتی کو ”میڈ آف مسٹ“ (maid of mist) ، کا نام دیا گیا ہے۔ سب کی طرح ہم تینوں نے بھی سرخ رنگ کے رین کوٹ چڑھا لیے۔ اب آپ کہیں گے ”کیا بارش ہو رہی تھی“ ؟ نہیں، چمکیلی دھوپ میں رین کوٹ پہننے کی ضرورت یوں تھی کہ جب کشتی آبشاروں کے قریب پہنچتی ہے تو پانی کی شریر بوچھاڑیں آپ کو شرابور کر سکتی ہیں۔ یہ ایک پر لطف تجربہ تھا، بھیگے صرف پانی سے نہیں بلکہ سرور سے بھی سرشار ہوئے۔

اب ہم سووینئر شاپ میں داخل ہو گئے تھے۔ دوستوں کے لئے تحفے خریدے۔ پھر بہت دیر تک ساحل پر چہل قدمی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی، اور انسانی تاریخ کی قدیم ترین جبلت یعنی بھوک نے ہمیں عازم ریستوراں کر دیا۔

آبشار کی قربت مسحور کن تھی۔ دل تھا کہ سیر نہ ہوتا تھا پر ہمیں یہ سہولت حاصل تھی کہ اس کے لئے ہمیں پا پیادہ مارے مارے پھرنے کی ضرورت نہیں تھی ہوٹل کے کمرے میں کھڑکی کے پہلو میں، صوفے پر پاؤں پھیلا کر، کشمیری شال کی نرم گرمائش اور بھاپ اڑاتی کافی کی مہک کے ساتھ بھی نیاگرا کا نظارہ کیا جاسکتا تھا۔ سو ہم نے یہی کیا۔ پوری شام یونہی گزاری۔ رات کو لائٹ شو پھر سے دیکھا، اور اگلی صبح آفتاب کو آبشار کے اوپر طلوع ہوتے دیکھا اور جب آفتاب عین سر پر آن پہنچا تو آبشار کو ”پھر ملیں گے“ کا سندیسہ دے کر چیک آؤٹ کیا۔ ایک کسک پھر ساتھ چلی۔ نیاگرا کو امریکی سرحد کی جانب سے نہیں دیکھا۔ رین بو برج سے گزر کر آپ اس طرف جا سکتے ہیں بس آپ کے پاس پاسپورٹ اور امریکی ویزہ ہونا چاہیے۔ چلو اگلی بار سہی۔

 

Facebook Comments HS