مارکسزم، فیمنزم، اور مارکسسٹ فیمنزم: چند سیاسی اور نظریاتی نکات


حالیہ دنوں میں اور خاص طور پر عورتوں کے بین الاقوامی دن کے حوالے سے پاکستان کے کچھ مارکسی حلقوں میں صنفی سوال اور مارکسزم اور فیمنزم کے درمیان رشتے کے حوالے سے بحث چھڑی ہے۔ اس بحث کا پس منظر مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی عورتوں کی ریلیاں تھیں جن میں ہزاروں خواتین اور دوسری صنفوں کے افراد نے بڑھ چڑھ حصہ لیا۔ جہاں کراچی میں ہزاروں محنت کش اور گھر مزدور خواتین نے پہلے جداگانہ اور پھر ایک عمومی ”عورت مارچ“ میں حصہ لیا، وہیں اسلام آباد میں بائیں بازو سے منسلک کئی کارکنان نے ”وومین ڈیموکرٹیک فرنٹ“ کا تاسیسی اجلاس منعقد کیا۔ ایک طرف جدھر ٹریڈ یونین حلقوں سے جڑے کارکنان نے ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، ادھر بائیں بازو کے کئی حلقوں میں فیمنزم اور مارکسزم کے حوالے سے گرما گرم بحث بھی چھڑ گئی۔

کچھ نے فیمنزم کو سرے سے ہی ایک بورژوا اور اشرآفیہ طبقے سے جڑا رجحان قرار دیا، دوسری طرف کچھ یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ عورتوں کو اپنے طور پر منظم کرنا محنت کش طبقے میں تفریق پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ ایک سوشل میڈیائی دانشور نے تو یہ تک قرار دے دیا کے مارکسسٹ فیمنزم کوئی چیز ہی نہیں ہوتی! اس مضمون کے ذریعے میرا مقصد ان تمام خدشات اور اختلافات کو کلی طور پر دور کرنا تو نہیں، اور نہ ہی اس مضمون میں مارکسزم اور فیمنزم کے مختلف رجحانات میں جڑت اور تفریق کے تاریخی ارتقا و محرکات کا جائزہ لیا جائے گا۔ البتہ مارکسزم اور فیمنزم کے رشتے کے حوالے سے چند چیدہ چیدہ سیاسی و نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ حتمی طور پر امید یہ ہی ہے کے ان وضاحتوں کے نتیجے میں سماج میں ابھرتے تضادات و سوالات کو سمجھنے اور ان میں ایک ترقی پسند سیاسی عمل کو مزید تقویت دینے میں مدد ملے گی۔

عملی و سٹریٹجک محرکات
عملی لحاظ سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے مارکسزم اور فیمنزم کے رشتے کو ایک حکمت عملی یعنی سٹریٹجک سوال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ہمیں محنت کش یا ”پرولتاریہ“ کی تشریح کو محظ اجرتی مزدور یا فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں سے وسیع تر کر کے مارکس کی ”پرولتاریہ“ کی اس تشریح کی طرف بڑھنا ہو گا جس میں وہ ”پرولتاریہ“ کو ”درحقیقت مسکین“ قرار دیتا ہے، یعنی کے پیدا واری نظام کا وہ مخصوص سماجی طبقہ جو محظ اپنی بقا کے لئے اس بات پر مجبور ہے کے وہ اپنی قوت محنت کسی اور طبقے یا سماجی گروہ کو بیچے یا اس کی بقا کا انحصار ان کے لئے محنت کرنے پر ہو۔ اسی طرح پیداواری رشتوں کی وسیع تر تشریح بھی ہم پر یہ عیاں کرتی ہے کہ قدر زائد پیدا کرنے کے عمل کے ساتھ ساتھ محنت کش طبقے کی اپنی پیداوار کا عمل جدلیاتی۔ عضویاتی طور پر جڑا ہوا ہے۔ یہ نقطہ اکثر اس لئے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کیوں کہ مارکس خود اپنی بشری حدود کی بنا پر اپنا وہ پراجکٹ مکمل نہیں کر پائے تھے جس کے تحت ان کو نہ صرف ”سرمایہ“ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ”زمینی جائداد“، ”قوت محنت“، ”ریاست“، ”بین الاقوامی تجارت“، اور ”عالمی منڈی“ کے موضوعات پر بھی تفصیلی مقالات لکھنے تھے (مارکس، 1973: 49)۔ سیاسی معاشیات کے پروفیسر مائیکل لئبووٹز اس کو ”مارکس کی قوت محنت پر غیر موجود کتاب“ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کے اس میں مارکس (جو ہمیشہ ہی سے پیداواری رشتوں کی وسیع تر تشریح کرتے تھے) یقیناً قوت محنت کی پیداوار کے محرکات اور اس میں تاریخی (نہ کے فطری) طور پر عورتوں کے کلیدی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالتے (لئبووٹز، 2003)۔ پرولتاریہ اور پیداواری نظاماس وسیع تر تشریح کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ بات عیاں ہے کے محنت کش طبقے کا ایک بہت بڑا حصہ بلکہ ایک عمومی اکثریت ہی عورتوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں یہ بات ہمیں عملی طور بھی دیکھنے کو ملتی ہے جدھر دیہی علاقوں اور گھر مزدور محنت کشوں میں اکثریت عورتوں ہی کی پائی جاتی ہے، جب کے گلوبلائزیشن کے تحت رونما ہونے والی معاشی تبدیلیوں کا ایک عمومی اظہار ”رسمی“ لیبر فورس کی صنفی تبدیلی (feminisation of labour) میں نظر آتا ہے۔

اس سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے طبقاتی استحصال کی اکثر شکل صنفی استحصال سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ مثال کے طور پر 2000 کے اوائل میں گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین میں ایک سروے کر دوران یہ بات سامنے آئی کے 93% خواتین کام کے دوران کسی نہ کسی قسم کی ہراسانی رپورٹ کرتی ہیں اور 58% فیصد نے خواتین یہ بھی کہا کے ذہنی جسمانی و جنسی ہراسانی کی وجہ سے انہیں اکثر گھر سے باہر نوکری کو خیرباد کہنے کا بھی خیال آیا ہے (بروہی، 2000)۔ یعنی کے استحصال کی مخصوص جنسی شکل کا عورتوں کے معاشی سماجی حالات پر براہ راست اثرہوتا ہے۔ اب کام اور کام کے دوران رستے میں جنسی ہراسانی ایک ایسا ٹھوس معاملہ ہے کے جس میں ہم طبقاتی و معاشی سوال کو صنفی سوال سے الگ کر کے دیکھ ہی نہیں سکتے۔ کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کے متوسط طبقے یا اشرافیہ طبقے کی خواتین کو ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، بلکہ محظ یہ کے محنت کشوں کو منظم کرنے کے دوران بھی اگر ہم صنفی جبر اور اس کی مخصوص اشکال کا سامنا نہیں کریں گے، تو ہماری طبقاتی یکجہتی کی کاوش محظ ایک خواہش تک ہی محدود رہتی ہے۔ صنفی سوال ایک لیول پر اپنے طور پر واضح ہوتے ہوئے طبقاتی سوال سے ایک بہت مربوط طریقے سے جڑا ہوا ہے۔ اور یہ ہی وہ مماثلت بمع تفریق کا جدلیاتی تصور ہے جس پر ہم اس مضمون میں آگے روشنی ڈالیں گے۔

مضمون کا اگلا صفحہ پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” کے بٹن پر کلک کریں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں