کپتان صفدر نے منصور خازنی کی غلط مسلمانی کر ڈالی


قومی اسمبلی کے دوسرے نمبر کے مشہور کپتان جناب صفدر صاحب نے قرارداد بعنوان ”نام تبدیلی شعبہ فزکس قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد“ پیش کی ہے جس پر 19 اراکین قومی اسمبلی کا نام درج ہے۔ اس قرارداد میں لکھا ہے

”قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ فزکس کا نام مشہور اور معروف سائنسدان کے نام سے منسوب کیا جائے ابو الفتح عبدالرحمٰن منصور الخزینی (بعینہ)، یہ دنیا میں مسلمانوں کے سب سے بڑے فزکس کے سائنسدان تھے۔ تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ اس شخص نے سب سے پہلے سائنس کی دنیا میں اپنے استاد البیرونی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فزکس کی دنیا میں حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے اور پوری یورپ دنیا (بعینہ) نے اس مسلمان سائنسدان سے فائدہ حاصل کیا“۔

قرارداد پیش کرنے والے انیس خواتین و حضرات میں سے ایک ہمارے قومی اسمبلی کے دو نمبر کپتان، دو انجینئیر، دو ڈاکٹر اور دو مولانا شامل ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کی یہ قرارداد بائنڈنگ نہیں ہے یعنی حکومت کا جی چاہے تو اس پر عمل کر لے ورنہ کوڑے میں پھینک دے۔

یہ قرارداد پیش ہوتے ہی سوشل میڈیا دیوانہ ہو گیا۔ پوری قوم خزینی نامی عظیم ترین مسلمان طبیعات دان کھوجنے لگ گئی مگر افسوس کہیں نہ ملا۔ پھر چند محققین نے یہ دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کر لی کہ اس عظیم سائنسدان کا نام خزینی نہیں خازنی تھا اور یہ گیارہویں اور بارہویں صدی میں گزرا ہے۔

الخازنی کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں۔ جو ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ 1071 میں سلجوق سلطان الپ ارسلان نے بازنطینی شہنشاہ رومانوف چہارم پر ملازکرد کی جنگ میں عظیم فتح حاصل کی تو ادھر غلام بننے والے بازنطینیوں میں منصور بھی شامل تھا۔ سلجوقی شہر مرو کے خزانچی علی بن محمد خازن مروزی کے حصے میں یہ مسیحی غلام آیا جس کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے مروزی نے اسے مسلمان کیا اور بہترین تعلیم دی۔ اس زمانے میں مرو شہر اپنے کتب خانوں کے لئے مشہور تھا اور علم دوست شہزادہ سنجر بن ملک شاہ نے دنیا بھر سے اہل علم کو اپنے اس شہر میں اکٹھا کر دیا تھا۔ اپنے آقا کی نسبت سے منصور کو الخازنی کہا جانے لگا۔ الخازنی کے اساتذہ میں رباعیات لکھ کر یورپی دنیا پر احسان کرنے والے عمر خیام بھی شامل ہیں۔

الخازنی کی خاص مہارت سائنسی آلات بنانے میں تھی۔ انہوں نے ایک ترازو خاص سلطان سنجر کے خزانے کے لئے بنایا تھا جو کھرے کھوٹے کی پہچان اور درست ترین ناپ تول کے لئے لاجواب تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے علم فلکیات پر بہت کام کیا، اس پر کتابیں لکھیں اور ستارے تاڑنے کے لئے حساس آلات بنائے۔

لیکن دنیا کو یہ پہلی مرتبہ کیپٹن صفدر کے ذریعے ہی علم ہوا ہے کہ الخازنی کو البیرونی کی شاگردی کا شرف بھی حاصل ہے جو الخازنی کی پیدائش سے کئی برس پہلے سنہ 1048 میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ غالباً کپتان صاحب کو کسی روحانی ذریعے نے خبر دی ہو گی کہ الخازنی نے عالم رویا میں البیرونی سے تعلیم حاصل کی ہے۔ نہ صرف یہ کہ پہلی مرتبہ خزینی نے سب سے پہلے فزکس کی دنیا میں حیرت انگیز کارنامے سرانجام دینے کا شرف حاصل کیا ہے۔

چند شرپسند یہ افواہ بھی پھیلا رہے ہیں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے دسمبر 2016 میں قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس نہیں بلکہ نیشنل سینٹر فار فزکس کا نام تبدیل کر کے پروفیسر عبدالسلام سینٹر فار فزکس رکھنے کا حکم دیا تھا۔

قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ فزکس کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عارف ممتاز ہیں۔ جبکہ پروفیسر عبدالسلام سینٹر فار فزکس جو وزیراعظم اور صدر کے احکامات کے باوجود خود کو پرانے نام یعنی نیشنل سینٹر فار فزکس سے یاد کیا جانا پسند کرتا ہے، کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے ڈائریکٹر جنرل کا نام ڈاکٹر حفیظ حورانی ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق پہلے یہ سینٹر قائداعظم یونیورسٹی میں تھا مگر اپریل 2004 میں حکومت پاکستان سے اپنا چارٹر ملنے کے بعد اس نے جولائی 2006 سے اپنی الگ عمارت بنا لی ہے۔ ویب سائٹ یہ بھی انکشاف کرتی ہے کہ یہ ادارہ ”دی عبدالسلام انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹکل فزکس، اٹلی“ کے خطوط پر بنایا گیا ہے۔

اب ہماری سیاست کے دو نمبر کپتان صاحب کے سامنے دو مسائل سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ پہلا یہ کہ انہوں نے تمام تر نیک نیتی کے باوجود انیس بندے ساتھ ملا کر غلط ادارے کی مسلمانی کر ڈالی ہے۔ دوسرا یہ کہ صحیح والا ادارہ ڈاکٹر عبدالسلام کے بین القوامی سینٹر کے خطوط پر قائم کیا گیا ہے۔ کپتان صاحب کو نہ صرف اس کی مسلمانی کرنی پڑے گی بلکہ اس کی تعمیر نو کر کے اسے مرو کے مدرسہ عمر خیام کے خد و خال کے مطابق دوبارہ تعمیر کرنا پڑے گا تاکہ وہ اصل والے خازنی کی طرح یورپی دنیا کو فائدہ پہنچا سکے۔ نوکیلی داڑھی والے ایک عامل کامل قانون دان نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس کے تحت اس موضوع پر کوئی دوسری قرارداد کم از کم چھے ماہ تک پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔

بہرحال چاہے ہمارے دو نمبر کپتان کی قیادت میں قومی اسمبلی قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا نام بدلے یا سابقہ نیشنل سینٹر فار فزکس کا، لیکن ہماری خواہش ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کا نام کپتان صفدر کے نام پر رکھا جائے۔ ہزار برس میں کوئی یہ تحقیق نہ کر پایا کہ ”الخزینی“ نے البیرونی کے فوت ہونے کے کئی دہائیاں بعد اس سے تعلیم پائی لیکن کپتان صفدر نے اپنے دو ڈاکٹروں، دو انجینئیروں اور دو مولویوں سمیت انیس افراد کی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے ہزار برس پرانا یہ راز کھوج نکالا ہے۔ کپتان صاحب کی اس عظیم خدمت کا اعتراف کیا جانا تو ضروری ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 903 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar