اس شہر میں بھی فرشتوں پر نیت خراب ہوتی ہے

مقدس صحیفوں میں لکھا ہے کہ فسق و فجور میں مبتلا ایک شہر میں ایک پیغمبر رہتے تھے۔ پیغمبر کے پاس انسانی روپ میں چند فرشتے آئے تو شہر کے بدکار لوگوں کی نیت ان پر خراب ہوئی۔ پیغمبر نے لاکھ منع کیا اور بدکاروں کو توبہ کے لئے کہا مگر ان کی نیت خراب ہی رہی۔ نتیجہ یہ کہ شہر پر قہر الہی آگ کی صورت برسا اور وہ نابود ہوا۔ اب آخری پیغمبر کو رخصت ہوئے کوئی ڈیڑھ ہزار برس گزر گئے ہیں۔ اب شہروں پر آگ کی صورت عذاب نہیں برستے۔ اب ننھے فرشتوں کو بدکاروں سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ اب ہمارے اس شہر میں بھی فرشتوں پر نیت خراب ہوتی ہے۔

Read more

پاکستانی شہری اب کرپشن سے پریشان نہیں ہیں

جب کپتان نے کرپشن کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ کارزارِ سیاست میں قدم رکھا تھا تو کسی کو یقین نہیں آیا تھا کہ اتنے زیادہ کرپٹ معاشرے میں کوئی شخص کرپشن کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ مگر یہ دنیا دار لوگ بھول گئے کہ جس برگزیدہ حکمران کے سر پر بزرگوں کا ہاتھ ہو وہ ناممکن کو ممکن بنا کر دکھا دیتا ہے۔ جب کپتان وزیراعظم بنا تو پونے دو کروڑ ووٹروں نے اسے کرپشن ختم کرنے کے نام پر ووٹ دیا، اور آج کپتان کی حکومت کو دو برس بھی نہیں گزرے کہ صرف دو فیصد پاکستانی اب کرپشن کو اپنی بڑی پریشانی قرار دیتے ہیں۔ یہ نتائج کسی بکی ہوئی مقامی ایجنسی کے نہیں ہیں بلکہ دنیا کی تیسری بڑی مارکیٹنگ ریسرچ کمپنی اپسوس نے پاکستان کے 120 سے زائد شہروں اور دیہات میں سروے کے بعد یہ ڈیٹا فراہم کیا ہے۔

Read more

کیا نون لیگ میں شریف خاندان کا متبادل لیڈر ابھر رہا ہے؟

مسلم لیگ نون کے ایکسٹینشن کے حق میں غیر مشروط ووٹ دینے کے فیصلے نے اس کے حامیوں کو بہت مایوس کیا۔ گزشتہ دو برس سے نواز شریف کا بیانیہ تھا کہ ”ووٹ کو عزت دو“ مگر جب ووٹ کو عزت دینے کے لئے سٹینڈ لینے کی باری آئی تو پارٹی نے اپنی عزت دے دی۔ اس کے بعد نون لیگ کے حامیوں میں تو مایوسی دکھائی دی ہی تھی مگر اس کی لیڈر شپ میں قربانیاں دینے والے افراد بھی مایوس دکھائی دیے۔

Read more

سیاسی ماہرین کے بارے میں ایک ولایتی لطیفہ اور دیسی سبق

روایت ہے کہ سات سمندر پار امریکہ میں ایک مردک کہ نام اس کا جیک تھا، اپنی گاڑی میں ایک دور دراز کے دیہاتی علاقے سے گزر رہا تھا۔ سڑک کے ارد گرد بڑے بڑے فارم کہ امریکہ میں رانچ کہلاتے ہیں، دکھائی دے رہے تھے مگر دور دور تک آدم تھا نہ آدم زاد۔ اچانک گاڑی نے چند جھٹکے کھائے اور بند ہو گئی۔ جیک اپنی قسمت کو کوستا ہوا باہر نکلا۔ پھر جیسا کہ مرد ذات کا طور ہے، گاڑی کا بونٹ کھول کر انجن کو اس طرح گھورنے لگا جیسے اس کی نگاہوں کی تاب نہ لا کر متاثرہ پرزہ خود پکار اٹھے گا کہ ہاں میں ہوں مجرم۔

Read more

ایران سے سیکھے شیوہ مردانگی کوئی

آپ نے داستانِ امیر حمزہ پڑھ رکھی ہو تو آپ بخوبی واقف ہوں گے کہ غیرت مند پہلوان دشمن پر وار کرنے سے پہلے اپنا نام بتاتے تھے اور کچھ اس طرح کے جملوں سے لڑائی کا آغاز کرتے تھے ”منم لندھور بن سعدان، اے ملعون، میرا وار آیا ہی چاہتا ہے، بچ سکتا ہے تو بچ جا، پھر نہ کہنا کہ خبر نہ کی“۔ اس کے بعد ڈز سے اپنا گرز مار دیتے تھے۔ بلکہ جو زیادہ بڑے چیمپئن ہوتے تھے وہ پہلے دشمن کو وار کرنے کی دعوت دیتے تھے کہ لا جو حربہ ہے وہ دکھا اور اس کے بعد اپنا وار کیا کرتے تھے۔

Read more

ایران کا حملہ اصلی تھا یا نمائشی؟

گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں ایرانی سٹریٹجی کے معمار جنرل قاسم سلیمانی کو میزائل حملے میں ہلاک کر دیا۔ جنرل قاسم کو ایران میں ایک ہیرو کی حیثیت حاصل تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اتنے اہم تھے کہ گزشتہ امریکی صدور ان کے کارناموں پر دانت تو خوب پیستے تھے…

Read more

بہادر نواز شریف قول کا پکا نکلا

لگتا ہے کہ اس کلجگ میں ہر لیڈر ہی دھوکے کا پتلا ہے، مکر کا مادہ گوندھ کر اس کا خمیر بنایا گیا ہے، فریب کا خمیر اس کی ذات کا جزو ہے، نام جمہوریت کا لیتا ہے مگر آمریت کا خوگر ہے۔ ایسے میں اگر نواز شریف جیسا نمایاں لیڈر نہ ہوتا تو قوم مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتی۔

Read more

نابینا افراد کے مسائل کا ایک حل

آپ اپنی آنکھیں بند کیجئے اور صرف ایک لمحے کے لئے سوچیئے کہ آپ کو دنیاکیسی دکھائی دے رہی ہے۔ یقیناً اس لمحے میں رنگ، روشنی، پھول اور منظر سب گم ہو جائیں گے۔ اس لمحے صرف اندھیرے کی کیفیت آپ کو درپیش ہوگی۔ البتہ آپ کو آوازیں زیادہ واضح سنائی دیں گی۔ صرف قدموں…

Read more

کہیں حریم شاہ نے تو اپوزیشن لیڈروں سے ہاں نہیں کروا دی؟

اپوزیشن پارٹیاں بہت پکی تھیں کہ وہ ووٹ کو عزت دلوا کر رہیں گی۔ اس مقصد کی خاطر میاں نواز شریف اپنی محبوب اہلیہ کے آخری لمحات میں ساتھ نہیں رہے اور مریم نے اپنی ماں کے پہلو کی بجائے جیل کی کوٹھڑی قبول کی۔ سال ڈیڑھ سال نواز شریف نے صعوبتیں برداشت کیں مگر…

Read more

کاکڑ، دنبہ اور وسی بابا

گزشتہ دنوں ید بیضا کاکڑ میری بیماری کی خبر سن کر اپنے ساتھ وسی بابے نان کاکڑ کو لے کر عیادت کے لئے آیا تھا۔ گو میں نے عیادت قبول نہیں کی اور واشگاف الفاظ میں بتا دیا کہ عیادت کے لئے آتے ہوئے ڈرائی یا کم از کم تازے فروٹ لانے لازم ہوتے ہیں اس لئے پشین سے آنے والے تیمار دار کے ساتھ اگر چلغوزوں کی بوری یا قندھاری اناروں کی پیٹی نہ ہو تو مجھ جیسا مریض اپنی صحت نہایت گری ہوئی محسوس کرتا ہے۔

Read more