بھیا ڈھکن فسادی نے گاڑی خریدی

بھیا ڈھکن فسادی تڑاک سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ اندر آتے ہی بولے ”بس آج تو فوراً ہی منہ میٹھا کرا دو۔ ہم تو فسق و فجور میں پڑی ہوئی اور لہو و لعب میں ڈوبی ہوئی اس قوم سے مایوس ہو چلے تھے لیکن شکر ہے کہ ابھی بھی اس تن مردہ میں کچھ جان باقی ہے“۔

یہ کہہ کر وہ فوراً فرج پر ٹوٹ پڑے اور جلد ہی وہ میز پر بیٹھ کر چار کلو آموں کو تن تنہا کھانے میں مشغول ہو گئے۔

”کیا ہوا بھیا۔ کچھ ہمیں بھی تو پتہ چلے؟ “
”میاں تمہارے بھائی نے آخر کار گاڑی خرید ہی لی۔ اور اس پر پہلی ہی سواری بہت مبارک ثابت ہوئی“

Read more

بھیا ڈھکن فسادی نے وبا میں ولیمہ کیا

عاجز یعنی بھیا ڈھکن فسادی ایک وقفے کے بعد دوبارہ اپنی ڈائری سمیت حاضر ہے۔ ہمارے منجھلے سالے کی شادی تھی کہ یہ نامراد کرونا وائرس ٹوٹ پڑا اور حکومت نے شادی ہال بند کرنے کے ساتھ ساتھ گھروں میں بھی شادی بیاہ اور دیگر تقریبات پر پابندی عائد کر دی۔ یعنی ہماری بھاری سلامی ضائع ہونے کا مکمل بندوبست کر دیا گیا تھا۔ ہمارا تجربہ ہے کہ ولیمے میں بندہ دل کھول کر کھا لے تو سلامی کا غم جاتا رہتا ہے بلکہ حساب کیا جائے تو الحمدللہ الٹا ہمارا پلڑا بہت بھاری نکلتا ہے۔ خدا نے جوانی دی ہے اور ہاضمہ بھی تو کفران نعمت کیوں کیا جائے؟

Read more

بٹ صاحب کو بھوک لگی ہے

ہم سیاحت کے شوق میں ہر برس کہیں نا کہیں جا نکلتے ہیں۔ پہاڑ, دریا دور دیس بہت دیکھ لیے، اب گزشتہ چھے ماہ سے ہم مختلف ہسپتالوں کی سیاحت کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں اس مرتبہ ایک نہایت اچھے سرکاری ہسپتال جا نکلے۔ گو ہم نے اپنا تعارف نہیں کروایا تھا مگر ڈاکٹر بھی ہماری شخصیت کے ایسے گرویدہ نکلے کہ کہنے لگے آپ کو علیحدہ کمرے میں نہیں جانے دینا، یہ ہماری آنکھوں کے عین سامنے وارڈ میں فروکش ہوں جہاں آپ کی مسلسل دید سے ہمارے کلیجے میں ٹھنڈک پڑے۔

Read more

معصوم ماریہ بی، کرونا کک اور پنجاب پولیس

مشہور و معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی کے ساتھ پنجاب پولیس نے کچھ اچھا نہیں کیا۔ چغتائی لیب والوں نے انہیں بتایا تھا کہ ماریہ بی کے گھر میں کرونا کا ایک کنفرم مریض ہے تو اس میں پریشانی کی بھلا کیا بات تھی؟ سکون سے وقت لے کر ہفتے دس دن بعد چلے جاتے اور خیر خیریت پوچھ لیتے۔ یہ کیا کہ فون پر رابطہ کیا اور ماریہ بی کے یہ بتانے پر کہ ان کا کک تو اپنے گاؤں جا چکا ہے، رات بارہ ساڑھے بارہ بجے چھاپا مار کر ان کے شوہر طاہر سعید کو ہی گرفتار کر لیا اور پرچہ کاٹ دیا کہ اس بندے نے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر بیماری چھپا کر حکام کو مطلع کرنے کی بجائے اسے بذریعہ بس وہاڑی بھجوا دیا اور مزید کئی انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اب اس ملازم کا پورا گاؤں لاک ڈاؤن ہو گا۔

Read more

ہم جھگڑا پسند کرنے والا ہجوم ہیں

ہم دوسروں کے موقف کو ہمدردی سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا اس موقف کی بنیاد پر اس سے لڑنا ہے یا اس کے ساتھ مل کر لڑنا ہے۔

فرض کریں کہ سڑک پر ایک مرد اور عورت بحث کر رہے ہیں۔ عورت بات کاٹ کاٹ کر مرد کو زچ کر دیتی ہے اور مرد اشتعال میں آ کر اس سے گالم گلوچ شروع کر دیتا ہے تو وہاں موجود تمام خواتین و حضرات اس عورت کی حمایت میں لڑنے مرنے کو تیار ہوں گے اور بعید نہیں کہ عورت سے بدتمیزی کرنے پر مرد کا ملیدہ بنا دیا جائے۔ ہماری روایت یہی ہے کہ مجمع عورت کو کمزور سمجھ کر مرد کے مقابلے میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔

اگر یہی منظر ٹی وی پر دکھائی دے، عورت کا نام ماروی سرمد ہو اور مرد کا خلیل الرحمان قمر تو اکثریت قمر پرست دکھائی دے گی۔

Read more

پہلے یہ تو طے کر لیا جائے کہ عورت انسان ہے بھی یا نہیں

گزشتہ دو چار برس سے خواتین کے ایک گروہ نے حقوق پانے کے نام پر دن منانا شروع کر دیا ہے۔ پہلے تو ذی شعور لوگوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ انہیں جتنے حقوق درکار تھے وہ انہیں دیے جا چکے ہیں، مزید کی توقع مت رکھیں اور انہیں نظرانداز کر دیا۔ مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ پھر ان کا خوب مذاق اڑایا گیا کہ گھر میں بیٹھی عورت ملکہ ہوتی ہے اور گلی میں نکلنے والی بہت بری۔ مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ پھر انہیں خوب ڈرایا دھمکایا گیا کہ انہیں کسی قیمت پر مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا، مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ اور اب مخالفین خود اس دن گھر بیٹھنے کی بجائے اپنی عورتیں گلی میں لا کر عورت مارچ کرنے لگے ہیں گو ان کے حقوق کا سیٹ مختلف ہے۔

اب یہ معاملہ تو طے ہوا ہے کہ دونوں گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ عورتوں کو کسی قسم کے حقوق کی ضرورت ہے، مگر اس بات پر اتفاق نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہ حقوق کیا ہوں گے جو انہیں دیے جائیں۔ اس لئے پہلے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کن حقوق کی بات کی جا رہی ہے۔ عورت کے حقوق کا تعین کرنے سے پہلے یہ تو طے کر لیا جائے کہ ہمارے معاشرے میں عورت انسان ہے بھی یا نہیں

Read more

مولوی، عورت مارچ اور کرونا وائرس

جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے علما و فضلا اس مرتبہ عورت مارچ کے خلاف مولوی مارچ کی تیاری پکڑ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سکھر سے جنگ شروع ہو گی۔ عورت آزادی مارچ کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس برس سکھر سے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر سکھر میں جمعیت علمائے اسلام نے عورت آزادی مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آئین قانون اور مشرقی روایات کے خلاف قرار دیتے ہوئے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا راشد محمود سومرو نے تو یہ بھی بتایا ہے کہ ”میرا جسم میری مرضی“ جیسی مہم کے ذریعے ملک کو سیکولر ریاست بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Read more

ایک ظالم بادشاہ کی عبرتناک شکست اور گدھے کی ولولہ انگیز تقریر

پیارے بچو۔ بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک نیمروز پر ایک نہایت ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اسے خون بہانے کا بہت شوق تھا۔ اڑوس پڑوس کی ریاستوں پر لشکرکشی کرتا رہتا تھا اور مفتوحہ شہروں میں کھوپڑیوں کے مینار بناتا تھا۔ جن دنوں تفریح کا موڈ ہوتا تو چھٹی لے کر کسی جنگل میں شکار کھیلنے نکل جاتا۔

ایک مرتبہ اس رعایا نے فریاد کی کہ قریبی جنگل میں ایک آدم خور شیر آ گیا ہے جو ان کے ڈھور ڈنگر مارنے کے بعد اب انسانوں پر بھی حملے کرنے لگا ہے۔ یہ سنتے ہی اس ظالم بادشاہ نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ جنگل کا رخ کیا۔ اعلان تو اس نے شیر مارنے کا کیا تھا مگر ہاتھی گھوڑا بکرا خرگوش جو بھی سامنے آیا، اس نے مار ڈالا۔ دس ہرن کھاتا اور سو ہرنوں کو محض خون بہانے کے شوق میں ہلاک کر ڈالتا۔

Read more

پولیو کے بعد کرونا ویکسین کی اسرائیلی سازش

اسرائیلی لیب میگال نے کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لیب کی فنڈنگ اسرائیلی محکمہ زراعت اور سائنس نے کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ چار برس سے مرغیوں کے زکام کی ویکسین تیار کرنے پر کام کر رہی تھی کہ اسے اچانک یہ پتہ چلا کہ ناول کرونا وائرس تو بالکل مرغیوں کے زکامی وائرس کی طرح کا ہے۔ میگال نے ویکسین کو انسانوں کے جسم کے مطابق بنایا اور اب وہ اپنی ویکسین کو نوے دن میں مارکیٹ میں لا سکتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ بھی یہود و نصاریٰ کی گزشتہ سازش یعنی پولیو ویکسین کی طرح مسلمان مجاہدین کو قوت مردمی سے محروم کرنے کی بھیانک کوشش ہو گی۔ اس خدشے کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ پولیو کی ویکسین کی طرح یہ بھی قطروں کی صورت میں پلائی جائے گی۔

Read more