استاد کا یہ قتل لہو کی بارش کا پہلا قطرہ ہے

قاتل کہتا ہے کہ اس کا استاد ”اسلام کے خلاف بہت بھونکتا تھا۔ روز بھونکتا تھا۔ قانون کون سا ہے۔ قانون تو گستاخوں کو رہا کرتا ہے۔ “ کیا یہ بات ماننے والی ہے کہ بہاولپور جیسے شہر میں ایک استاد سینکڑوں طالب علموں کے سامنے اسلام کے خلاف بات کرتا ہو اور کسی نے رپورٹ نہ کی ہے؟ ہاں رپورٹ ہوئی ہے مگر اس بات کی کہ کالج انتظامیہ نئے طلبہ کے لئے ویلکم پارٹی کے انتظامات کر رہی تھی اور اس کے خلاف شہر میں بینر لگے ہوئے تھے۔

احمد نورانی کے مطابق رپورٹ یہ ہوا ہے کہ ”گزشتہ رات ایک میٹنگ میں شہید پروفیسر نے پرنسپل کو قتل کی دھمکیوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ طلبہ کا ایک گروہ ایک نفرت پھیلانے والے ملا سے متاثر ہو کر نہ صرف اس ویلکم پارٹی کے منتظمین کے خلاف ایک مہم چلا رہا تھا بلکہ انہیں دھمکیاں بھی دے رہا تھا۔ اس پارٹی کے خلاف بینر لگائے گئے تھے ضلعی انتظامیہ اس صورتحال سے باخبر تھی مگر کوئی حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے۔ کوئی براہ راست کنفرمیشن نہیں ہے لیکن پولیس کا دعوی ہے کہ بہاولپور کا یہ قاتل خادم رضوی گروپ سے تعلق رکھتا ہے“۔

Read more

کریم کا رسوائے زمانہ اشتہار کس گمراہی کی ترغیب دے رہا ہے؟

گزشتہ دو تین دن سے ٹیکسی سروس کریم کے ایک اشتہار نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کیا ہوا ہے۔ اس اشتہار میں ایک لڑکی سولہ سنگھار کیے دلہن بنی سرخ عروسی جوڑا پہنے، غالباً بیوٹی پارلر سے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس گمان کی وجہ یہ ہے کہ اس نے کالا چشمہ پہنا ہوا ہے اور یہ چشمہ صرف اسی صورت میں ایک دلہن پہن سکتی ہے اگر اس نے ابھی آنکھوں کا میک اپ نہ کروایا ہو۔ ساتھ لکھا ہوا ہے کہ ”اپنی شادی سے بھاگنا ہو تو کریم بائیک کرو۔ “

اس پر شور مچ گیا ہے کہ کریم ٹیکسی سروس لڑکیوں کو شادی سے بھاگنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ اور وہ بھی ایک نامحرم اور انجان لڑکے سے جڑ کر موٹرسائیکل پر بھاگنے کی۔ بجا طور پر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ یہ ہماری روایت نہیں ہے۔

Read more

نیوزی لینڈ میں دہشت گردی اور ایک پاکستانی ہیرو

”بچپن سے ہی وہ کہا کرتا تھا کہ انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی دوسروں کی مدد کرتے ہوئے بسر کرے، اور جب وہ مرے تو لوگ اس پر فخر محسوس کریں۔ “ نعیم راشد کے بھائی خورشید عالم نے نیوزی لینڈ کی النور مسجد میں نہتا ہونے کے باوجود خودکار دہشت گرد سے بھڑ کر نمازیوں کی زندگی بچانے کی کوشش کرنے والے ہیرو کے بارے میں بتایا۔

عام طور پر دنیا میں کہیں دہشت گردی کی خبر آتی ہے تو سب سے پہلے یہی دعا دل سے نکلتی ہے کہ اس میں پاکستان کا نام نہ لیا جائے۔ افغان جنگ نے پاکستان کو بدنام کر دیا ہے۔ دنیا بھر سے انتہاپسند یہاں اکٹھے ہوئے اور دنیا بھر میں پھیلے۔ ایسے میں جب نیوزی لینڈ میں مسجد پر دہشت گرد حملے کے ساتھ یہ خبر آئے کہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے تین سو مسلمانوں میں سے جس واحد شخص نے نہتے ہوتے ہوئے بھی خودکار گن سے مسلح شخص کو روکنے کی کوشش کی، وہ ایک پاکستانی نعیم راشد تھا تو اس المیے سے بجھا ہوا دل کچھ تسلی پاتا ہے۔

ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے نعیم راشد تقریباً دس گیارہ برس پہلے نیوزی لینڈ گئے۔ حملہ آور کی بنائی ہوئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کی نیم خودکار گن گولیاں برسا رہی ہے ایسے میں اچانک ایک شخص اس پر جھپٹتا ہے اور اسے قابو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ناکام ہو جاتا ہے لیکن ایک ہیرو کے طور پر امر ہو جاتا ہے۔ نعیم راشد کو گولیاں لگیں اور وہ بعد میں ہسپتال میں شہید ہو گئے۔ ان کا اکیس بائیس برس کا بیٹا بھی شہدا میں شامل تھا۔

Read more

پریشان کن عورت مارچ کی چند غیر شائع شدہ تصاویر

مشہور پوسٹر ”میرا جسم میری مرضی“ کے بعد اس برس کے عورت مارچ میں چند نئے نعرے ان خواتین کے پوسٹروں پر دکھائی دیے۔ ان میں سے چند پریشان کن نعرے کچھ یوں تھے ”لو، بیٹھ گئی صحیح سے۔ مطلقہ اور خوش باش۔ گھٹیا مرد سے آزادی، سر درد سے آزادی۔ کھانا گرم کر دوں گی، بستر خود گرم کرو۔ مارو گے تو مار کھاؤ گے۔ مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے۔ میری شرٹ نہیں تمہاری سوچ چھوٹی ہے۔ میرے کپڑے میری مرضی۔ اکیلی، آوارہ، آزاد۔ میں آوارہ، بدچلن۔ تو کرے تو مرد، میں کروں تو بدکردار۔ خبردار، گنہگار عورت آ رہی ہے۔ اپنے عضوئے تناسل کی تصویریں اپنے پاس رکھو۔ نظر تیری گندی اور پردہ میں کروں؟ “

ان پر نیک طینت مرد و زن نے خوب لے دے کی اور کہا کہ یہ تو عام عورت کے مسائل ہی نہیں ہیں۔ یہ تو امیر طبقے اور این جی او آنٹیوں کے مسائل ہیں، عام پاکستانی عورت کا ان سے کیا تعلق؟ عام عورت کا مسئلہ تو تعلیم، صحت، گھر کا کام کاج اور بجٹ، ملازمت وغیرہ ہے جنہیں مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے، نیز ان مظاہروں میں سب مغرب زدہ بگڑی ہوئی عورتیں ہی تھیں اور کسی معقول عورت کو معقول نعرے کے ساتھ ان مظاہروں میں نہیں دیکھا گیا۔ اسی جائز پریشانی کو دیکھتے ہوئے راقم نے عورت مارچ کے مزید نعرے اکٹھے کیے ہیں

Read more

گمراہ فیمینسٹ عورتوں کا فتنہ و فساد

پچھلے برس 8 مارچ کو یوم خواتین پر ایک دو شہروں میں چھوٹا موٹا سا جلسہ ہوا تھا۔ لیکن سچ کہا ہے درد دل رکھنے والے مفکرین نے کہ فتنے سے فوراً نہ نمٹا جائے تو وہ بڑھتا جاتا ہے۔ ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ پچھلے برس لگا تھا۔ اب یہ نعرہ نری گمراہی ہے۔ یعنی کیا واقعی کسی عورت کا جسم اس کی مرضی کے تابع ہو گا؟ کیا ان خواتین کو یہ علم نہیں ہے کہ شادی سے پہلے ان کو اپنے باپ بھائی چاچے مامے کے احکامات پر اپنی زندگی گزارنی ہوتی ہے، اور شادی کے بعد اپنے شوہر کے؟ ان کی اپنی شخصیت کی کوئی اہمیت ہوتی تو گھر ان کی مرضی پر چلا کرتا۔ ان کی زندگی کا مقصد ہمارا معاشرہ صدیوں سے مقرر کر چکا ہے، اور وہ گول روٹی بنانا اور اپنے مالک، اپنے مجازی خدا کے احکامات ماننا ہے۔ ان کی مرضی کہاں سے آ گئی؟ کیا وہ مغرب کے بہکاوے میں آ کر خود کو بھی انسان سمجھنے لگی ہیں جس کے مردوں جتنے حقوق ہوں گے؟ بدقسمتی سے اس برس یوم خواتین پر ان گمراہ فیمینسٹ عورتوں نے زیادہ پریشان کن پوسٹر بنا کر زیادہ بڑے پیمانے پر مظاہرے کر ڈالے ہیں۔

پہلے ”میرا جسم میری مرضی“ کو ہی لے لیں۔ ایک بی بی کہہ رہی ہیں ”کانسینٹ کی تسبیح روز پڑھو“۔ دوسری کہتی ہیں ”دیکھ مگر کانسینٹ سے“۔ تیسری کا حکم ہے ”میرے انکار میں اقرار مت ڈھونڈ“۔ چوتھی کی فرمائش ہے ”یہ کانسینٹ نہیں اگر مجھے نہ کہنے سے خوف آئے“۔

کانسینٹ کا مطلب کیا ہے؟ یہ کہ خاوند اپنی منکوحہ سے اجازت لے کر وظیفہ زوجیت وصول کرے۔ یعنی اب وظیفوں کے لئے بھی مرد اپنی عورتوں سے اجازت لیا کریں گے؟ کیا ان گمراہ عورتوں کو یہ نہیں معلوم کہ نکاح ہونے کے بعد ان کی اپنی مرضی ختم ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے مجازی خدا کی ملکیت بن جاتی ہیں۔ انہیں ہر قیمت پر اسے خوش رکھنا ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی سیکس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ انسان اس سے کسی قسم کا نشاط کشید کرے۔ اس کا مقصد تو صرف بچوں کی پیدائش ہوتا ہے۔ یہ فطرت نے خواتین کو ایک فریضہ تفویض کیا ہے۔ کیا وہ فطرت کی انکاری ہیں؟

Read more

نواز شریف شطرنج کی خطرناک ترین چال چل رہے ہیں

شطرنج میں دلچسپی رکھنے والوں کے جسم میں ایک کھلاڑی کا نام جیسی سنسنی دوڑاتا ہے ویسا کوئی دوسرا کھلاڑی نہیں کر پاتا۔ یہ نام ہے شطرنج کے آٹھویں ورلڈ چیمپئن میخائل تال کا۔ میخائل تال کو تاریخ کے بہترین اٹیکنگ پلیئرز میں گنا جاتا ہے۔ انہیں شطرنج کی دنیا میں ”ریگا کا جادوگر“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مشہور کتابوں ”دی میمتھ بک ہو ورلڈز گریٹسٹ چیس گیمز“ اور ”ماڈرن چیس بریلینسز“ میں تال کی گیمز کی تعداد کسی بھی دوسرے کھلاڑی سے زیادہ ہے۔

گرینڈ ماسٹر لیول پر شطرنج کی گیم تقریباً ویسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک اژدھا شکار کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ شکار کے گرد گھیرا تنگ کیا جاتا ہے۔ ایک پیادے کا ایڈوانٹیج بھی گرینڈ ماسٹرز کی گیم کا فیصلہ کر ڈالتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک ایسا کھلاڑی سامنے آئے جو دنیا کے بہترین چیس پلیئرز کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس دھیمی گیم میں اچانک اپنا فیل، رخ حتی کہ وزیر بھی بظاہر بلاوجہ ہی قربان کر دے تو بڑے بڑے مبصر بھی چند لمحوں کے لئے حیران رہ جاتے ہیں۔ لیکن چار پانچ چالوں کے بعد جب اپنے آدھے سردار حریف کے پیادوں کے بدلے مروانے کے بعد جب اچانک میخائل تال شہ مات دیتے تو ان کا حریف اور شطرنج کے مبصر دونوں ششدر رہ جاتے۔

Read more

قومی اسمبلی میں پہلی مرتبہ نماز کی ادائیگی

پاکستان کی موجودہ قومی اسمبلی سنہ 1973 کے دستور کے نتیجے میں اپنی موجودہ شکل میں آئی۔ دستور میں واضح کیا گیا کہ ملک اسلامی جمہوریہ ہو گا اور اس کا سرکاری مذہب اسلام ہو گا۔ لیکن یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ 1973 سے چھے مارچ 2019 تک قومی اسمبلی میں نماز ادا نہیں کی گئی۔ ایک سے بڑھ کر ایک دیندار شخص اسمبلی کا ممبر بنا۔ بے شمار علما نے اس ایوان کو تقدیس بخشی۔ لیکن یہ اعزاز جناب اسعد محمود کے حصے میں آیا کہ انہوں نے درجن بھر نمازی ممبران تلاش کر کے ان کی جماعت کھڑی کر دی۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ قومی اسمبلی میں نماز پڑھی گئی۔

اللہ جانے اس سے پہلے نمازی بچارے کہاں نماز پڑھتے ہوں گے۔ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے متعلق سنا ہے کہ پکے نمازی ہیں۔ عمران خان بھی اکثر نماز پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کو تو خاص طور پر بہت دقت ہوتی ہو گی۔ کبھی کسی برآمدے میں نماز پڑھتے ہوں گے کبھی کسی کونے میں۔

Read more

فیاض چوہان: وہ بکا نہیں لیکن کالے جادو کی ہڈی اسے مار گئی

فیاض الحسن چوہان ایک عظیم بطل حریت ہیں جو حق بات کہنے سے کبھی نہ ڈرے۔ بلکہ حق کیا اکثر وہ ناحق بات بھی بلا کسی خوف کے کہہ ڈالتے تھے۔ ان کی یہی حق گوئی تھی جو ان کے مخالفین کو خوفزدہ رکھتی تھی۔ ان مخالفین نے انہیں خریدنے کی کوشش کی۔ وہ نہ بکے۔ یہ تو دلوں کے سودے ہوتے ہیں۔ ریٹ مناسب نہ ہو تو سودا کہاں ہوتا ہے۔اپنی وزارت کے پہلے دن سے ہی وہ اپوزیشن کے سینوں پر مونگ دل رہے تھے۔ وہ ایک متحرک سیاسی کارکن تھے۔ جماعت اسلامی کے صالحین نے ان کی کردار سازی کی جو جماعت چھوڑنے کے بعد بھی ان کے قول و فعل سے ٹپکتی تھی۔ بلکہ ٹپکتی کہاں تھی، فیاض کے اس فیض کے تو تند و تیز چشمے ان کے انگ انگ سے جاری ہوتے تھے۔ایسا شخص جس کے دل میں وزارت نے رتی بھر غرور پیدا نہ کیا۔ کبھی کوئی غلطی نہ بھی کی تو پھر بھی وسعت قلبی دکھاتے ہوئے کھلے دل سے اس کی معافی مانگ لی۔ مثلاً وہی نرگس اور میگھا والا بیان دیکھ لیں۔

Read more

پاکستان نے ابھینندن کے ذریعے بھارت سے کیا گیم کھیلی ہے؟

انڈیا ابھینندن کا میڈیکل کروا کر خوش ہو رہا ہے کہ اس پر تشدد نہیں کیا گیا۔ بھارتی میڈیا اسے ایک بہت بڑے ہیرو کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ کہیں سے بھارتی میڈیا کو ایک ایسے میزائل کا ٹکڑا مل گیا ہے جو اس کے خیال میں صرف ایف سولہ استعمال کر سکتا ہے اور اسے دکھا دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ میزائل گرا ہے تو ایف سولہ بھی گرا ہو گا۔ اللہ جانے انڈیا میں بڑا سا پاکستانی بم گرنے پر یہ لوگ کیا ثابت کرتے ہوں گے؟ غالباً یہ کہ اتنا بڑا بم گرا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پورا پاکستانی فضائی بیڑہ ہی گر گیا ہو گا۔ وہ سردار جی یاد آ گئے جنہیں ایک جگہ گاڑی کی چابی پڑی مل گئی تھی تو خوش ہو گئے کہ واہے گرو کی کرپا سے مفت میں گاڑی ملی ہے، پہلی قسط میں اس کی چابی ہاتھ لگ گئی ہے، اگلی میں باقی بھی ایسے ہی کہیں پڑی مل جائے گی۔ لیکن بھارتی میڈیا ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ پاکستان نے ابھینندن کے ذریعے کیا کھیل کھیلا ہے۔

بھارتی میڈیا تو بے خبر ہے، لیکن بھارتی حکومت کو اندازہ ہے کہ پاکستانی ایجنسیاں کتنی چالاک ہیں اور کیسی بہترین منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ ایسے ہی تو وہ نمبر ون نہیں کہلاتی ہیں۔ اسی وجہ سے جیسے ہی ابھینندن نے واہگہ بارڈر کراس کیا تو اسے بھارتی حکومت نے اسے کسی سے نہیں ملنے دیا بلکہ سیدھا بھارتی ائیر فورس کے ہوائی جہاز میں بٹھا کر دہلی کے فوجی ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ ادھر پہلے اس کا ایم آر آئی سکین کیا گیا۔ عام طور پر یہ دماغی حالت جانچنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس سکین کے دو نتیجے بتائے گئے۔ پہلا یہ کہ ابھینندن کی پسلی ٹوٹی ہوئی ہے جو پیراشوٹ سے جمپ میں عام بات ہے۔ دوسرا انکشاف یہ کیا گیا کہ پاکستان نے ابھینندن کے جسم میں کوئی خفیہ کمپیوٹر چپ نہیں لگایا ہے۔

پاکستانی منصوبہ ساز یہ دیکھ دیکھ کر ہنس رہے ہوں گے۔ ایسا کوئی ٹیسٹ نہیں ہے جو یہ دیکھ سکے کہ پاکستان نے ابھینندن کے ساتھ کیا کھیل کھیلا ہے اور اسے آنے والے دنوں میں بھارت کے خلاف کیسے استعمال کیا جائے گا۔ حالانکہ یہ کھیل پوری دنیا کی کھلی آنکھوں کے سامنے کھیلا گیا ہے۔

Read more

کلینک سے کتاب تک

ہفتے بھر اسلام آباد اور وزیر آباد کی سیر کرنے کے بعد آج صبح لاہور واپسی ہوئی تو دفتر پہنچتے ہی میز پر ایک کتابی پارسل دکھائی دیا۔ ڈاکٹر مبشر سلیم کی کتاب ”کلینک سے کتاب تک“ نکلی۔

ڈاکٹر مبشر اچھا لکھتے ہیں۔ میری خواہش رہی کہ وہ ”ہم سب“ پر ریگولر اپنے مضامین بھیجا کریں۔ دو چار بھیج کر وہ تھک گئے۔ ان کا انداز بیان دلچسپ ہے۔ چھوٹے چھوٹے دلچسپ واقعات کو مضامین کی شکل دیتے ہیں۔

عام طور پر وہ اپنے کلینک میں پیشے آنے والے واقعات کے بارے میں لکھتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ عام لوگ طبی معاملات کے بارے میں کتنا کم علم رکھتے ہیں اور ایک ڈاکٹر کو اس سے کہیں زیادہ پریشانی کا شکار ہونا پڑتا ہے جتنا آپ ”شکوہ ایڈیٹری“ میں ایک ایڈیٹر کو پریشان دیکھتے ہیں۔ ایڈیٹر نے صرف مضمون کی زندگی موت کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے، ڈاکٹر نے انسان کی۔

Read more