طلبہ یکجہتی مارچ میں حجاب والی طالبات پر اعتراض

کل ملک بھر کے اہم شہروں میں طلبہ یکجہتی مارچ ہوا۔ اس میں مختلف طلبہ تنظیمیں شریک ہوئیں مگر بحیثیت مجموعی اس میں سرخ رنگ غالب تھا۔ اس مارچ میں طالبات کی شرکت نمایاں تھی اور ان طالبات میں دوپٹے یا حجاب سے سر ڈھانپنے والیاں بھی شامل تھیں۔ اس پر بعض حلقوں کی طرف سے اعتراض سامنے آیا کہ یہ کیسی سرخ ہیں جو حجاب پہنتی ہیں؟

ان معترضین کو یہ جان کر شدید صدمہ ہو گا کہ ہماری تاریخ کے ایک بڑے مشہور کمیونسٹ لیڈر حسرت موہانی تھے۔ وہ پکے کمیونسٹ ہونے کے علاوہ اتنے پکے مسلمان تھے کہ مولانا کہلاتے تھے اور انہوں نے تیرہ حج کر رکھے تھے۔

Read more

ایکسٹینشن اور بابو کا انتقام

ہر خاص و عام اس امر سے آگاہ ہے کہ گزشتہ سال ڈیڑھ سال میں بیوروکریسی کو خوب خوفزدہ کیا گیا ہے۔ افسر پہلے پہل تو چھٹی لے کر گھر بیٹھے پھر ایسی پوسٹنگ کروانے لگے جہاں دن بھر مکھیاں مارنے کے سوا کوئی کام نہ ہو، اور پھر اب گو سلو ہر چلنے لگے ہیں یعنی دفتر تو آتے ہیں مگر کوئی عملی کام کرنے کی بجائے دن بھر ایک دوسرے سے فائلوں کا تبادلہ کرتے اور کام لٹکاتے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ خرچ نہیں ہوتا اور سال کے آخر میں واپس کر دیا جاتا ہے۔

Read more

بذریعہ لیدر فوراً امیر ہونے کا آزمودہ نسخہ

کیا آپ ایک سفید پوش نوجوان ہیں جس کی خواہش ہے کہ اسے طبقہ امرا میں سے ایک سمجھا جائے تاکہ کچھ بھرم بنا رہے؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ جب لوگوں کے ہجوم میں جائیں تو آپ کی شخصیت، تصویر یا ویڈیو دیکھ کر سب پکاریں کہ یہ ایک برگر ہے؟ تو اپنی نوجوانی ضائع کرتے ہوئے اگلے بیس تیس برس جی جان سے محنت کرنے اور پچاس برس کی عمر میں خوشحال ہونے کا انتظار مت کریں۔ ہمارے بتائے ہوئے آزمودہ نسخے سے آپ ایک نہایت واجبی سی رقم خرچ کر کے ایک برگر بن سکتے ہیں۔

Read more

وجاہت مسعود سے اوریا مقبول تک، چند مشہور کالم نگاروں کا ذکر

وجاہت مسعود۔ اعلی درجے کی زبان لکھتے ہیں۔ تلخ بات کو شوگر کوٹ کر کے کہنے کا ہنر رکھنے کا ہنر رکھتے۔ تحریر میں ایسے اشارے استعمال کرتے ہیں جن کا ریفرینس حالات حاضرہ اور تاریخ سے واقف افراد کے پاس ہوتا ہے اور وہی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ سماجی مسائل اور رویوں پر کبھی کبھار لکھتے ہیں، لیکن جب بھی لکھتے ہیں کمال کر دیتے ہیں۔ ان کا مطالعہ اور یادداشت حیرت انگیز ہے۔

Read more

کپتان نے نواز شریف کو صرف پچاس روپے لے کر کیوں چھوڑا؟

گزشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے انہیں پچاس روپے کے سٹامپ پیپر پر دیے گئے بیان پر ہی باہر جانے کی اجازت دے دی۔ حکومتی وکلا نے اس کی برائے نام مخالفت ہی کی اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ بھی ظاہر نہیں کیا۔ بلکہ الٹا عمران خان سب مصروفیات ترک کر کے دو دن کی چھٹی پر چلے گئے کہ نواز شریف کو باہر لے جاؤ پھر میں کام کروں گا۔ حالانکہ پہلے انہوں نے اپنے ووٹر کو مطمئن کرنے کی خاطر نواز شریف سے باہر جانے کے عیوض سات ارب روپے کا شورٹی بانڈ مانگا تھا۔ اس پر تحریک انصاف کے حامی پریشان ہیں۔ اگر انہوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا تو جان جاتے کہ عمران خان نے نواز شریف سے پچاس روپے کا سٹامپ پیپر لے کر ان کو رسوا کر ڈالا ہے۔

Read more

نواز شریف سے فروغ نسیم شورٹی بانڈ کس وجہ سے مانگ رہے ہیں؟

بہت سے لوگ حیران ہیں کہ وزیراعظم اور پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی تصدیق کے باوجود کہ نواز شریف کی صحت خراب ہے اور یہ سیاست کا نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے، کیا وجہ ہے کہ وزیر قانون جناب فروغ نسیم اس بات کی مخالفت کر رہے ہیں کہ نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے غیر مشروط طور پر نکالا جائے بلکہ وہ نواز شریف سے سات ارب روپے کا شورٹی بانڈ بھروانا چاہتے ہیں۔ کیا ان کا یہ مطالبہ بلاجواز ہے یا پھر اس کے پیچھے ٹھوس وجوہات موجود ہیں؟

Read more

سوشل میڈیا پر سیاسی شدت پسندی کی لہر

کیا آپ نوٹ کر رہے ہیں کہ سال ڈیڑھ سال پہلے سوشل میڈیا پر جو اچھے بھلے سمجھدار افراد معتدل ہوا کرتے تھے وہ سیاسی شدت پسندی کی لہر میں بہہ چکے ہیں؟ ایک لطف انگیز ماحول پر اب ہر طرف نفرت اور انتہا پسندی چھائی دکھائی دینے لگی ہے۔ پہلے موضوعات میں تنوع ہوا کرتا تھا اور اب بیشتر افراد صرف سیاست پر ایک شدت پسند پوزیشن لینے کے بعد خامہ فرسائی کرتے ہیں؟ کیا ہمیں اپنے اس رویے کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے؟

Read more

حکومت کی جبری تبدیلی ہوئی تو پرامن نہیں ہو گی

سیاسی حالات دلچسپ ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں صرف دھرنوں اور جلسے جلوسوں سے حکومت نہیں جاتی۔ ہاں اگر ان دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے پیچھے کوئی بڑی طاقت ہو تو پھر دوسری بات ہوتی ہے، پھر جنرل ایوب، بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کی طاقتور حکومت بھی چلی جاتی ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ نصرت جاوید صاحب نے لکھا تھا کہ وہ بھٹو کے خلاف تحریک نظام مصطفٰی کا جی جان سے حصہ تھے۔ بھٹو حکومت کے رخصت ہونے کے کئی دہائیوں بعد انہیں پتہ چلا کہ عوامی دکھائی دینے والی تحریک نظام مصطفیٰ کسی کے اشارے پر تھی۔ یعنی اس کا ظاہر کچھ تھا اور باطن کچھ۔

Read more

کپتان کی جیت اور شاہ محمود قریشی کی ہار

شاہ محمود قریشی اور کپتان کی ٹسل چل رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی کے بارے میں مسلسل اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ کپتان کو ہٹا کر خود وزیراعظم بننے کی دڑک میں ہیں۔ کبھی وہ مقامی حلقوں میں جوڑ توڑ کرتے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی اہم غیر ملکی طاقتوں کے پاس جا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ بہت سنجیدہ اور معتبر سمجھے جانے والے تجزیہ کار بھی کہہ رہے ہیں کہ کپتان کو ہٹا کر شاہ محمود قریشی کو وزیراعظم بنانے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ اقتدار کی سب سے سنگین لڑائی ہے جو کپتان لڑ رہا ہے کیونکہ اس میں اسے اپنی پارٹی کے اندر سے ہی باہر کرنے کی طاقتور مہم چلائی جا رہی ہے۔

Read more

اقرا عزیز کی اشتعال انگیز تصویر

اقرا عزیز نے قومی جذبات کو مستقل آگ لگائی ہوئی ہے۔ پہلے وہ لاکھوں دیکھنے والوں کو سلگاتے ہوئے لکس ایوارڈز کی تقریب کے دوران یاسر حسین کے ہاتھوں یوں سرعام پروپوز ہو گئیں جیسے یاسر حسین انہیں پروپوز نہ کر رہے ہوں بلکہ بقول یوسفی قلمی آم چوس رہے ہوں۔ ان دونوں کو مشرقی اقدار کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ بہتر ہوتا کہ یاسر حسین اپنے بزرگوں کو اقرا عزیز کے گھر بھیجتے اور وہ شگن اقرا کے ہاتھ پر رکھ کر بات پکی کر آتے۔ اب یہ کیا حرکت کی انہوں نے؟ کیا انہوں نے سوچا کہ ان کے بزرگ تو ٹی وی پر اپنے بچوں کی ایسی منگنی دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے ہوں گے۔ نوجوان نسل نے اس منگنی کا کیا اثر لیا ہو گا؟ وہ بزرگوں سے چھپ چھپ کر اپنی منگنیاں کیسے کر رہی ہو گی؟ اور ننھے منے معصوم بچے اب تخمی آم کو کس نظر سے دیکھنے لگے ہوں گے؟

Read more