لمحہ فکریہ: فرقہ بندی کے خلاف قرآن کا انتباہ اور مولویوں کی فتنہ انگیزی


(ادارتی نوٹ: ہم سب کی ادارتی ٹیم نئی دلی سے موصول ہونے والے اس مضمون کو نیک نیتی کے جذبے سے شائع کر رہی ہے اور تمام مسالک کا یکساں احترام کرتی ہے۔ اہل علم اس مضمون میں اٹھائے گئے نکات کی تائید یا تردید کرنا چاہیں تو ہم سب کے صفحات حاضر ہیں)

حضرت جبرائیل امین  کی وساطت سے رسول اکرمؐ  تک بھیجا ہوا دین مبین، جسے مکمل کر دینے کا اعلان ہوچکا ہو اور جس کے بارے میں قران کا یہ اصرار اور تنبیہ کہ اس میں رتی بھر بھی اضافے یا رد و بدل کی کوئی  گنجایش موجود نہیں، ہاں! غور و فکر کے دروازے ضرور کھلے رکھے گئے ہیں۔  پھر آخر کیا وجہ ہے کہ ہماری مذہبی قیادت، ہمارے دینی ادارے اور ہماری ملی تنظیمیں اسلام کے بجائے اپنے اپنے مسلکوں کی ترویج و اشاعت کے ذریِع قران کی صریح خلاف ورزی میں ملوث ہیں۔

دین کی خدمت کے نام پر بے دین رواجوں اور قران کے مقابلے انسانی ذہنوں کی اختراع کو جو تقدیس حاصل ہوگئی ہے تو آخر  اس کا جواز کیا ہے؟ فتوی سازی کی صنعت جس تیزی سے پھل پھول رہی ہے اور ایک فرقہ دوسرے فرقے کو جس طرح بے دین اور کافر قرار دینے میں ذرا بھی شرم وحیا کا مظاہرہ نہیں کرتا تو اس کی بنیاد کیا ہے اور اس کی اجازت ان کو کہاں سے حاصل ہوگئی؟ اب وقت آگیا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں۔ نام نہاد مولویوں سے اسلام سیکھنے کے بجائے راست قرآن سے اکتساب کریں کہ اب پانی سر اونچا ہو چکا ہے اور یہ اُمت انتشار در انتشار شکار ہوتی جاتی ہے۔

اگر آپ خود  کو شیعہ یا سنی کہلوانا پسند کرتے ہیں، تو یقین جانیے کہ پھر آپ کا اُس قرآن سے کوئی تعلق نہیں جو اہل ایمان کو یا ’ایھا المسلمون‘ اور ’یا ایھا المومنون‘ سے مخاطب کرتا ہے۔ اگر آپ دیوبندی یا بریلوی ہیں تو بھی قرآن میں آپ کے لیے کوئی گنجایش موجود نہیں کہ قرآن کے صفحات آپ کے ذکر سے بھی خالی ہیں۔ اگر آپ کا تعلق اہل حدیث، یا اہل سنت یا اس طرح کے کسی دیگر خود ساختہ فرقے سے پایا جاتا ہے تو یہ بھی قران کی مطلوبہ جماعتیں نہیں ہیں۔ مقلد اور غیر مقلد کی اصطلاح بھی قرآن کی نظر میں ایک اجنبی اصطلاح سمجھی جاتی ہے۔ اور اگر آپ وحدت الوجود اور وحدت الشہود پر عقیدہ رکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ہر شئے میں حلول کرتا ہے تب بھی آپ خود فریبی میں مبتلا ہیں کہ ایسا کوئی طبقہ قرآن کا منظور نظر طبقہ ہو ہی نہیں سکتا۔

قرآن تو رنگ و نسل اور مسلکی بتوں کو توڑ کر ایک ملت میں گم ہوجانے کا مطالبہ کرتا ہے جہاں اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت ہو اور بس۔

فرقہ بندی کے خلاف قرآن کا کھلا اعلان اور سخت سرزنش ملاحظہ فرمائیں اور دین کے اُن نام نہاد شعبدہ بازوں سے سوال کریں کہ جس مذہب کی تبلیغ میں وہ شب و روز سرگرداں ہیں وہ کون سے مذہب کی تبلیغ ہے۔ قال اللہ اور قال الرسول کی چیخ مارتے وہ کس مذہب کی سر بلندی کے لیے اپنے حلق خشک کرتے آرہے ہیں  اور اس کی اجازت اُنھیں کس نے دی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

1۔ بے شک جن لوگوں نے اپنے دین میں فرقے بنائے اور گروہوں میں بٹ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے کوئی تعلق نہیں، ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے پھر وہ ان کو بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے۔ (الانعام 159 )
2۔ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمھیں موت نہ آئے مگر یہ کہ تم مسلم ہو۔ اور تم سب اللہ کی رسی (کتاب اللہ) کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ فرقہ نہ ہو جاؤ۔ (آل عمران 102۔ 103)

3۔ اور نہ ہو جانا ان لوگوں کی طرح جنھوں نے روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی اختلاف کیا اور فرقہ فرقہ ہوگئے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (آل عمران 105)
4۔ اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تابع فرمانی کرتے رہو، اور آپس میں تنازع نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ (الانفال 46)
5۔ اللہ کی طرف رجوع کرتے رہو اور اسی سے ڈرو اورنماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہو جانا۔ ان لوگوں میں سے جنھوں نے اپنے دین میں فرقے بنا لیے اور گروہوں میں بٹ گئے، ہر گروہ اسی چیزمیں مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔ (الروم 31۔ 32)

ظاہر ہے قران کی مندرجہ بالا آیات کی تفہیم کے لیے کسی تفسیر کی چنداں ضرورت نہیں۔ کیوں کہ یہاں تمثیلات اور تشبیہات کا کوئی معاملہ نہیں کہ ہر آیت بالکل عام فہم زبان میں وضاحت کے ساتھ بیان کردی گئی ہے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ قران کے اتنے واضح اور  دوٹوک احکامات کے باوجود اگر ہماری مذہبی دانش گاہیں، دینی تنظیمیں، ہمارے علمائے کرام اور فقہائے عزام اپنی علاحدہ شناخت پر بضد ہیں، تو اس کا جواز کیا ہے؟

ہمیں ایک نبی کی امت مسلمان ہونے کے بجائے اپنے شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث، اہل سنت اور نہ جانے اس طرح  کی غیر قرانی اصطلاحوں پر اس قدر اصرار ہے،  تو اس کا ماخذ کیا ہے؟ کیا  قران ہمیں اس بات کی اجازت فراہم کرتا ہے کہ ہم گروہوں اور فرقوں میں تقسیم ہو کر اپنی مسجدیں، مدرسے اور مجلسیں علاحدہ آباد کرلیں؟ کیا قران کریم کے مقدس صفحات میں  کسی شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی فرقوں کے وجود کا کوئی جواز پا یا جاتا ہے؟  کیا یہ اصطلاحیں غیر قرانی اصطلاحوں کو رواج نہیں دے رہی ہیں؟ اور نئے دین کے بنیاد کی وجہ نہیں بن رہی ہیں؟ کیا اس سے فرقہ واریت اور منافرت میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے؟

قران کے اِن مقدس آیات کو  حفظ کرلیں۔ چاہیں تو فریم کر اپنے گھروں کی دیواروں پر آویزاں کر دیں۔ کوئی آپ کو مسلک اور فرقے کے نام پر گم راہ کرنے کی کوشش کرے تو اُسے قران کریم کی یہ آیات مبارکہ پیش کر دیں اور خود کو کسی فرقے سے منسلک کرنے کے بجائے محض مسلمان  ہونے پر اکتفا کریں، کہ یہی قرآن کو مقصود ہے اور یہی نجات کا راستہ ہے۔ یقین جانیں اس سے بہتر اسلام کی تبلیغ اور اتحاد اُمت کی کوئی اور جہت نہیں ہوسکتی۔ اس کے علاوہ فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔ کوئی زبان سے تسلیم کرے نہ کرے مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں شدید مخاصمت اور منافرت کا لاوا تیار ہو رہا ہے اور دشمن اس اندرون خانہ دبی چنگاری کو ہوا دینے کی تاک میں ہے۔ حرکت کیجئے قبل اس سے کے دیر ہو جائے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
مرشد کمال، دہلی، ہندوستان کی دیگر تحریریں
مرشد کمال، دہلی، ہندوستان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں