سرسید ڈے تقریبات: کیا ہم سرسید کو اس سے بہتر خراج عقیدت پیش نہیں کر سکتے؟

ہر سال 17 اکتوبر کو دنیا بھر میں علیگ برادری اور عقیدت مندان سرسید بڑے تزک و احتشام کے ساتھ سرسید ڈے مناتے ہیں۔ سیاہ شیروانیاں زیب تن کی جاتی ہیں۔ ’پارٹنر‘ اور ’جگروں‘ کی ٹولیاں ”یہ میرا چمن ہے میرا چمن“ کا ورد کرتے ہوئے جوق در جوق جلسہ گاہ کا رُخ کرتی ہیں۔ روایتی تقاریر کے ساتھ تقریب کی شروعات ہوتی ہے جس میں مقررین ”ایک ہاتھ میں سائنس اور دوسرے ہاتھ میں قرآن“ کا فلسفہ سمجھانے کی

Read more

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: خوشہ چیں میں بھی تیرے فیض چمن زار کا ہوں

علی گڑھ کا ذکر آتے ہی یادوں کے نہ جانے کتنے چراغ روشن ہو اُٹھتے ہیں۔ ماضی کی خوشگوار یادیں باد صبا کے ٹھنڈے جھونکے کی مانند میرے وجود کو ترو تازہ کر جاتی ہیں۔ اور پھر دانش گاہ علیگڑھ سے دہائیوں پر محیط میرے رشتے کی پرت در پرت کھلتی چلی جاتی ہے۔ گرچہ میری باضابطہ تعلیم علی گڑھ میں تو نہ ہو سکی لیکن جامعہ میں داخلے سے پیشتر مہینوں مجھے علی گڑھ میں قیام کرنے کا اتفاق

Read more

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔

وہ نہ اہل تشیع کا تھا اور نہ اہل سنت کا۔ وہ مسلمانان ہند کا مشترکہ سرمایہ تھا۔ اس کی حیثیت قوم کے سرپرست اعلی کی تھی۔ ’اتحاد امت‘ اس کے لیے ایک نعرہ محض نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی کانفرنس کا موضوع اور نہ کسی جلسے کے بینر کی جلی خط میں تحریر محض تھی بلکہ وہ اس کی زندگی کا مقصد تھا۔ موجودہ ہندستان میں وہ اتحاد امت کا سب سے بڑا موئد تھا اور زندگی بھر اس کے لئے سرگرداں رہا۔ مسلکی موشگافیوں سے بے نیاز اتحاد امت کی بہت سادہ سی تدبیر اس نے تلاش کر لی تھی جو اکبر الہ آبادی کے شعر کی شکل میں یوں ہمیشہ اس کے لب پر آجاتی۔

Read more

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا جشن صد سالہ

معجزاتی طور پر معرض وجود میں آئی جامعہ ملیہ آج اپنے قیام کی سوویں سالگر ہ منا رہی ہے۔ 29 اکتوبر 1920 ء کو جب علی گڑھ کی جامع مسجد میں جامعہ کی علامتی سنگ بنیاد رکھی جا رہی تھی تو اس وقت بہت کم لوگوں کو یہ یقین تھا کہ جامعہ اپنے قیا م کے سو دن بھی مکمل کر پائے گی۔ لیکن جامعہ کا قیام تو جیسے کسی آسمانی منصوبے کا حصہ تھا۔ تاریخ کے ہر نازک مرحلے

Read more

علیگڑھ، مشرق کا آکسفورڈ اور سر سید کا خواب

تقریباً بارہ سو ایکڑ کی وسیع و عریض سبزہ زاروں میں پھیلی ہوئی علی گڑھ کی شہرہ آفاق دانش گاہ کو، محض ایک تعلیمی ادارہ سمجھنا، ایک تاریخی غلطی ہو گی۔ علی گڑھ در اصل ایک فکر ہے، ایک فلسفہ ہے۔ یہ سر سید کے انقلابی مشن کی تجربہ گاہ ہے۔ اس کی دل کش اور دل فریب عمارتوں میں ایک لٹی پٹی، بے سمت اور بے یار و مدد گار قوم کی عہد رفتہ کی تاریخ پوشیدہ ہے، جو اس کے محسن کے بلند حوصلوں اور نیک عزائم کی داستان بیان کرتی ہے، اور جو ہر لمحے ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ جاگتی آنکھوں کے خواب کبھی مرتے نہیں۔ نیت میں اخلاص ہو تو آسمانی مدد ضرور آتی ہے۔

علی گڑھ ہمیں یہ بھی بتا تا ہے کہ آندھیوں میں بھی چراغ جلائے جا سکتے ہیں۔ محنت کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ علی گڑھ میں حکمت بھی ہے اور منطق بھی۔ علی گڑھ یہ فن بھی سکھاتا ہے کہ خاردار جنگلوں سے دامن بچا کر کس طرح منزل مقصود تک پہنچا جا سکتا ہے اور حکمت اور تدبر کے سہارے تیز منجدھار اور خوفناک لہروں میں کس طرح قدم جمائے جا سکتے ہیں۔

Read more

ارطغرل غازی شوق سے دیکھیں: نام نہاد فتوؤں کی کوئی دینی وقعت نہیں

ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی روایتی فلموں میں میرے لیے دلچسپی اور کشش کا کوئی سامان کبھی نہیں رہا۔ زمانہ طالب علمی میں بھی نہیں۔ ہاں البتہ تاریخی اور سماجی موضوعات پر ہندی اور انگریزی کی بعض فلمیں میری آل ٹائم فیورٹ بھی رہی ہیں۔ اور لندن میں دور ان طالب علمی اوپر ا ہاؤس کے تھیٹر شوز، شیکسپیئر کے ڈراموں اور عظیم رومن ایمپائر کی تاریخ اور یونان کی اساطیری کہانیوں اور فلسفوں پر مبنی دستاویزی فلموں نے

Read more

جامعہ ملیہ اور جامعہ علی گڑھ کے جیالے طلبہ و طالبات کو سلام

جامعہ کے طلباء و طالبات نے جب ملک کے آئین اور جمہوریت مخالف طاغوتی حکمرانوں کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہوگا تو اُنھیں اس بات کا بخوبی اندازہ رہا ہوگا کہ یہ لڑائی ایک طویل معرکہ آرائی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اُنھیں اس بات کا خدشہ بھی یقیناً رہا ہوگا کہ پولیس کے ذریعہ بربریت اور سفاکی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ے جا سکتے ہیں اور بزور طاقت اُن کے حوصلے کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی

Read more

سپین میں مسلم کھلاڑی کی مقبولیت اور نوجوانوں کی اسلام میں دلچسپی

یہ ایک خوشگوار اور چمکیلی صبح تھی۔ اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں میرے قیام کا یہ تیسرا دن تھا اور اس پُر رونق شہر میں میری مصروفیت کا آخری دن بھی۔ اسلامک کلچرل سینٹر کا فاصلہ میری قیام گاہ سے تقریباً دو کلومیڑ کی دوری پر تھا۔ آج کی میری تمام تر مصروفیات اور سرگرمیوں کا مرکز بھی یہی سینٹر تھا۔ میرا تجربہ ہے کہ یورپ کے خوشگوار موسم، شہر کی رونقوں اور تاریخی مقامات کی سیر سے اگر لطف

Read more

ہمارے نام نہادمذہبی قائدین اپنے ارد گرد تقدیس کاہالہ کس طرح تیار کرتے ہیں؟

مولانا حسین احمد دیوبند ی فکر کے معروف عالم دین اور تحریک آزادی کے نامور قائدین میں سے ایک تھے۔ آپ رشتے میں معروف مذہبی و سیاسی رہنما اور جمیعت العلماء کے صدر مولانا اسد ’مدنی‘ کے والد اور حالیہ دنوں میں اپنے مسلم مخالف نظریات کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے متنازعہ دیوبندی رہنماء محمود ’مدنی‘ کے دادا تھے۔ مولانا حسین احمد کا خاندان بنیادی طور پر مشرقی یوپی میں فیض آباد ضلع کے ٹانڈہ قصبہ

Read more

ہندستانی انتخابات میں نریندر مودی کی پوزیشن کا جائزہ

ہندستانی تاریخ کے طویل ترین انتخا بات کے چھٹے مرحلے کے اختتام پر زمینی حقائق اورسیاسی تجزیہ نگاروں کے اندازوں کے مطابق ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک تبدیلی کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے۔ تیسرے مرحلے کے انتخابات تک جس خوشگوار تبدیلی کا ہلکا سا احساس ہونے لگا تھا، چھٹے مرحلے کی پولنگ کے بعد اب یہ احساس مزید قوی ہو چلا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں دوبارہ سے مرکزمیں حکومت سازی کے منصوبوں پر پانی پھر سکتا ہے۔

اب تک جن 844 نشستوں پر انتخابات ہوچکے ہیں اُن میں 2014 کے مقابلے بی جے پی کو کم ازکم پچاس سے ساٹھ سیٹوں کے نقصان کا اندازہ لگا یا جا رہا ہے۔ جن ریاستوں میں بی جے پی اوراس کے اتحادیوں کو سب سے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے، اُتر پردیش ان میں سر فہرست ہے جس میں عظیم اتحاد کے مسلم، یادو، دلت، جاٹ اور دیگر پسماندہ طبقات کے ووٹوں کے یکجا ہونے کی وجہ سے اور کانگریس کی دو درجن سے زیادہ سیٹوں پر بی جے پی کے خلاف اُمیدواروں کے انتخاب میں ٹیکٹیکل سلیکشن کی پالیسی اپنائے جانے سے بی جے پی کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے۔

Read more

لوک سبھا الیکشن : مسلمانوں کے لیے آزمائش کی گھڑی

لمحہ بہ لمحہ بدلتے سیاسی منظر نامے اور اور بنتے بگڑتے سیاسی محاذ نے جہاں ایک طرف ملک کے سیکولر اور امن پسند طبقے کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے وہیں بڑے بڑے صحافی اور ماہر تجزیہ نگار بھی اب تک اس بات کا صحیح اندازہ لگا پانے سے قاصر ہیں کہ 2019 کے انتخابات کے نتیجے میں لوک سبھا کی شکل کیا ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2019 کا الیکشن گزشتہ تمام انتخابات سے مختلف یوں

Read more

2019 الیکشن: شہ اور مات کا کھیل تو ابھی شروع ہوا ہے

سیاست امکانات اور ممکنات کا بے کراں سمندر ہے۔ اس میں جتنی گنجائشیں اور متبادل ہوتے ہیں شاید عام انسانی ذہن اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ 2019 کی آمد سے قبل بی جے پی اُتر پردیش کے تعلق سے کافی مطمئن نظرآرہی تھی۔ تمام سروے اور میڈیا رپورٹس اُتر پردیش میں بے جی پی کی بڑی جیت کا دعویٰ کررہے تھے۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے اتحاد کو لے کر بھی

Read more

لمحہ فکریہ: فرقہ بندی کے خلاف قرآن کا انتباہ اور مولویوں کی فتنہ انگیزی

(ادارتی نوٹ: ہم سب کی ادارتی ٹیم نئی دلی سے موصول ہونے والے اس مضمون کو نیک نیتی کے جذبے سے شائع کر رہی ہے اور تمام مسالک کا یکساں احترام کرتی ہے۔ اہل علم اس مضمون میں اٹھائے گئے نکات کی تائید یا تردید کرنا چاہیں تو ہم سب کے صفحات حاضر ہیں) حضرت جبرائیل امین  کی وساطت سے رسول اکرمؐ  تک بھیجا ہوا دین مبین، جسے مکمل کر دینے کا اعلان ہوچکا ہو اور جس کے بارے میں قران

Read more