جبران تم کافر ہو، تمہیں عشق سے کیا واسطہ؟



جبران ہم سمجھتے رہے تم ایک صاحب عقل مسلمان ہو۔ اس معاشرے کو سمجھتے اور جانتے ہو۔ تم ایک پاکستانی ہو، اس کے آئین کو مانتے ہوگے ۔ تم اسلامی جمہوریہ ملک کے شہری ہو۔ مگر ہم غلط تھے ۔ تم کیا کارنر میٹنگس کرتے پھرتے ہو۔ عاشقوں کے ا س ملک میں ہمارے سوالوں کے جواب نہیں دیتے۔ یہ دوسری بار ہے، جب ایک عاشق نے مجمع میں سوال داغا اور تم جواب نہیں دے سکے۔

اس نےایک سوال ہی پوچھا تھا نا جواب دے دیتے۔ اب تمہارے ساتھ صحیح ہوا۔ جب ملی یکجہتی کونسل نے اعلان کر دیا ہے کہ تم اسلام سے خارج ہو۔ اہل ایمان نے فیصلہ دے دیا ہے۔

ایک نوجوان نے یہی کہا تھا نا کہ کہ تم قادیانیوں پر لعنت بھیج دو۔ لعنت بھیجو کہ مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے۔ ویسے بھی تو اعلی حضرت خادم حسین رضوی کے بقول اسلام کوئی امن کا دین نہیں ہے، اور یہ تو ٹھہرے کافر دے دو گالی ان کو ، کیا جاتا ہے تمہارا؟
آگے سے سوال کرتے ہو حالانکہ سوال کرنا جرم ہے ہمارے استاد محترم کہا کرتے تھے بہت سی قوموں پےاس لیے عذاب نازل ہوئے کہ وہ سوال بہت کرتی تھیں۔ ایک عاشق نوجوان کے سوال پر جبران ناصر کے بچگانہ جواب ملاحظہ فرمائیں۔
جناب کہتے ہیں جنہوں نے اسلام سے خارج کیا، وہ پہلے تحقیق کر لیں۔
بھائی وہ تحقیق کیوں کریں؟ وہ تو فتویٰ لگاتے ہیں تم دو ہر گلی کوچے میں اپنے ایمان کی گواہی۔
نوجوان نے کہا ، نکالیں گالی، آپ گالی نکالیں گے۔ ایمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ کیوں نہیں نکالیں گے۔ آئین پاکستان کا تقاضہ ہے کہ وہ کافر ہیں۔
جواب دیتے ہیں کہ آئین کافر کہتا ہے، گالی نہیں دیتا، لو جی ایک چھوٹی سے گالی ہے نا، دے دو مگر نہیں دی۔
نوجوان نے صحیح کہا کہ آپ کے دل میں کھوٹ ہے۔ وہ جانتا تھا۔ آخر ہم خدا کی برگزیدہ امت ہیں اور اس پر پاکستانی، جانتے ہو نا اسلام کا قلعہ۔ اسلام کے نام پر بننے والا ملک۔ ہمارے ایک تجزیہ نگار تو ہر وقت غزوہ ہند کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور اکثر چائے بناتے ہوئے بھی بندوق نہیں اتارتے کیا پتا کب بارڈر سے بلاوا آ جائے۔ نوجوان کوآخر پتا چلنا چاہیے تھا کہ وہ ایک عاشق کو ووٹ دے رہا ہے، اس نے کہا کہ دلیر بنو، وضاحت دیتے کیوں ڈرتے ہو۔ مگر جبران تم جواب نا دے سکے۔

جبران کے احمقانہ جواب پر ایک بار پھر سے غور کریں ۔
میرے روزے رکھنے سے میری قبر پر، میری جنت پر فرق پڑ سکتا ہے ۔مگر میرے روزے اور حج سے لوڈ شیدنگ ختم نہیں ہو گی۔ آپ کے گھر میں پانی نہیں آئے گا۔ میں آپ کے مسائل حل کرنے کے لئے ووٹ مانگ رہا ہوں۔ عقیدے کے سوال پر کہتے ہو کہ شناختی کارڈ، پاسپورٹ بنواتے وقت عقیدہ بتاتے ہیں، میں نے بتایا۔ الیکشن کمیشن میں جاتے ہوئے عقیدہ بتاتے ہیں۔ اب میں ہر سڑک پر چلنے والے کو عقیدہ بتاتا پھروں۔

جبران صاحب غور سے بات سنیں۔ یہاں پر نکڑ پر آپ کو اپنے عقیدے کو ثابت کرنا ہو گا۔ اور ہاں دل سے ثابت کرنا ہو گا۔ دل سے، سمجھے دل سے۔ آپ کو کیا معلوم یہ ہم آپ کو بتائیں گے۔ جبران یہ وہ ملک ہے جہاں ہم گورنر کو زندہ نہیں چھوڑتے، تم کیا بلا ہو۔
آگے سے لوگوں سے کہتے ہو، خدا نہ بنو، تم انسان ہو، میرے عقیدے کا فیصلہ نہ کرو۔
ہم کیسے مسلمان ہیں جو عقیدے کا فیصلہ نہ کریں ۔ بھائی تمہیں کیا معلوم ہم یہاں لوگوں میں جنت دوزخ بانٹ دیتے ہیں اور عقیدوں کے فیصلے نہ کریں؟ حد ہے ۔دیکھو جو ہمارے پاس آتا ہے، سر جھکا کے آتا ہے، خطروں کے کھلاڑی آصف زرداری بھی جب تک مدرسہ کو زمین الاٹ نہ کریں، ہم سانس نہیں لینے دیتے۔ تمہارے خادم اعلی بھی ہمارے گھٹنے چھو کے جاتا ہے۔ اور ہاں خان تمہارا عمران خان وہ بھی سیالوی صاحب سے آشیرواد لے کر ہی جاتا ہے۔

جبران تم کہتے ہو بڑے فخر سے کہ ہمارے جناح کے پاکستان کا پہلا وزیرخارجہ ایک احمدی تھا۔ تو پھر تم نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اس جناح کے پاکستان کا نقشہ بھی تو بدل دیا ہے۔ جبران ابھی بھی وقت ہے، سمجھ جاو۔ دیکھو عاشق بنو۔ کیوں زندگی مشکل میں ڈالتے ہو۔ ان کافروں کو گالیاں دو ۔ان کو مار بھگاؤ۔ ان کے سر تن سے جدا کرو، یہی عشق ہے۔
مگر تم تو کہتے ہو تم سرکار دو عالم کے پیروکار ہو۔ تم ان کے ماننے والےہو۔ ہمیں مثالیں دیتے ہو کہ جس سرکار دوعالم پر کافرہ کوڑا پھینکتی تھی تو وہ اس کی تیمارداری کو پہنچ جاتے تھے۔ طائف میں جوتے خون سے بھر چکے ہیں مگر ایک بھی ناگوار لفظ زباں پے نہیں۔ محبوب ترین چچا کا کلیجہ چبانے والی ہندہ کو معاف کر رہے ہیں۔ یہ ہے ان کا اسوہ، یہ تھا ان کا رویہ۔
ہمیں بتاتے ہو کہ اگر سر تن سے جدا کرنا خدا اور اس کے رسول کو اتنا پسند ہوتا تو خدا ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی بجائے ایک جلاد زمین پے اتار دیتا جو اسکی بات نہ ماننے پر سر تن سے جدا کر دیتا۔ تم کہتے ہو یہ تو پھر بھی اقلیتیں ہیں، انسان ہیں، ہمارے ملک کے لوگ ہیں، انہیں جینے دو۔
دیکھو بھائی ہم تمہاری دلیلوں سے راضی نہیں۔ ایک ہی فیصلہ ہے، ان کو گالی دو جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اور ہر گلی نکڑ پے اپنے عقیدے کا ٹیسٹ کرواؤ۔
ورنہ تم کافر ہو۔ تم عاشق نہیں ہو سکتے، فیصلہ ہو چکا ہم تو اپنی بیٹی زینب کے قتل کی انکوائری کے لئے ایسے بندے کو افسر بنانا پسند نہیں کرتے جس کا عقیدہ ٹیسٹ شدہ نہ ہو۔ چاہے اس کا قاتل پکا سچا مسلمان ہو، تو ہم تمہاری ہمدردی کیسے برداشت کریں گے۔ تم پر واجب ہے گالی ۔اوئے کافر کو گالی دو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں