ٹھگوں کی چند نشانیاں


ہندوستان میں ایک قدیم برادری ٹھگ کے نام سے موجود تھی، یہ ڈاکووں اور لٹیروں کا ایک ایسا سفاک گروہ تھا جو ڈاکوں اور لوٹ مار کے عام مروجہ طریقوں سے ذرا ہٹ کر ایک خفیہ نیٹ ورک کے طریقے سے کام کرتا تھا۔ ان کے چھوٹے پڑے گروہ ہندوستان کے طول و عرض میں بکھرے ہوئے تھے، بظاہر یہ عام لوگوں کی طرح زندگی گزارا کرتے تھے، اور مہینے دو مہینے کے بعد اپنےرہائشی علاقے سے دور علاقوں میں بہیمانہ وارداتیں کیا کرتے تھے، یہ سب ایک مرکزی نظام سے مربوط تھے اور ایک مخصوص طے شدہ عرصے کے بعد تمام علاقائی سربراہان ایک خفیہ جگہ مجتمع ہوکر اپنی کارروائیوں اور وارداتوں کی تفصیلات ایک مرکزی مجلس عاملہ اور اس کے سربراہ جو کہ ایک طرح ٹھگوں کا بادشاہ ہوا کرتا تھا کے سامنے پیش کیا کرتے تھے۔ اس اجلاس میں یہ قطع نظر مذہب و نسل بھوانی یا کالی دیوی کی پوجا اپنے مخصوص انداز میں کیا کرتے تھے

ٹھگوں کے بارے میں ہوش ربا تفصیلات عوامی طور پر اسوقت سامنے آئیں جب انگریز سرکار نے ان کے خلاف ایک گرینڈ آپریشن ہندوستان گیر سطح پر لانچ کیا اور اسی آپریشن میں کئی ٹھگ اور ان کے بڑے کھلاڑی گرفتار بھی ہوئے، ان میں ایک ٹھگ امیر علی بھی تھا، جو ٹھگوں کا بادشاہ کہلاتا تھا، اس کے اعترافات نے اسوقت ہندوستان کے طول و عرض میں ایک تہلکہ سا مچا دیا تھا، یہ اعترافات بعد ازاں کتابی شکل میں بھی شائع ہوئے، انگریزی۔ ہندی اور اردو زبانوں میں کتابی شکل میں ملنے کے ساتھ ساتھ انٹر نیٹ پر بھی دستیاب ہیں۔ انگریزی میں یہ کنفیشن آف اے ٹھگ(بزبان انگریزی) بقلم کرنل ہیڈیوز ٹیلراور اردو میں پہلا ترجمہ جناب محب محسن نے کیا تھا۔ انگریز سرکار نے ایک طویل جہدوجہد کے بعد یہ اعلان کیا کہ ٹھگوں کے نیٹ ورک کو توڑ دیا گیا اور اس برادری کا قلع قمع کر دیا گیا ہے۔

مگر ایسا نہیں تھا، حالات ناسازگار و نامساعد پاکر ٹھگوں کے بچے کچے افراد نے اپنے آپ کو نئے روپ میں ڈھالا اور جو بظاہر جس بھی مذہب کا پیروکار تھا اسی کے مطابق ایک نارمل زندگی گزارنے لگا اور یہ سب کے سب مناسب موقع کے انتظار میں چپ چاپ خاموشی سے شرافت کی زندگی گزارتے رہے مگر اپنی اولادوں کو ٹھگی کی تربیت اور سارے طور طریقوں کی وراثت دے کر جاتے رہے، یہ برادری اس انتظار میں رہی کہ کب انہیں دوبارہ پنپنے کا موقع ملتا ہے کیونکہ یہ ان کے بنیادی عقائد میں سے ایک بڑا اہم عقیدہ ہے کہ ایسا تو ہوسکتا ہے کہ دنیا سے کبھی نیکی اور اچھائی بالکل ختم ہوجائیں لیکن ایسا ہونا ناممکن ہے کہ برائی اور گندگی بلکل ختم ہوجائے۔ ٹھگوں کی آئندہ نسلوں نے اپنے بنیادی عقائد کو خفیہ رکھتے ہوئے اور بظاہر ہندو، مسلم یا عیسائی مذہب کے پیروکار رہتے ہوئے خود کو دنیا سے ہم اہنگ کرنے کے لئے جدید تعلیم اور اصول و آداپ برائے حال و مستقبل سے اگاہی بھی حاصل کی اور خود کو زمانے سے ہم اہنگ کرنے میں کامیاب بھی رہے۔

اب اس دور جدید میں اکیسویں صدی میں یہ گروہ پاک وطن میں بھی موجود ہے یا نہیں اور اگر موجود بھی ہے تو کیا سرگرم عمل ہے یا نہیں، اس بارے میں کوئی یقینی شہادت تو ابھی تک نہیں سامنے آئی البتہ کچھ طبقات و افرادجو تحقیق سے علاقہ رکھنے کے دعوے دار ہیں اور اسی طرح کی تحقیقات میں اپنا وقت گویا ضائع ہی کرتے رہتے ہیں وہ اپنے پیش کردہ قرائن و شواہد کی بنیاد پر لوگوں کو یقین دلانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ یہ گروہ، یہ قبیلہ، یہ برادری نہ صرف موجود ہے بلکہ ترقی یافتہ شکل میں پوری طرح سے سرگرم عمل بھی ہے، بس اس قبیلے نے اپنا نام اور طریقہ واردات ذرا تبدیل کردیا ہے۔ یہ اب کسی مرکزی نظام کے تابع نہیں ہیں، بلکہ اپنی اپنی انفرادی سطح پر کام کررہے ہیں۔

ہمارے محققین ان کے بارے میں چند نشانیاں، جو ان کی شناخت میں کسی حد تک معاون و مددگار ثابت ہو سکتی ہیں ، کچھ یہ بیان کرتے ہیں کہ، ٹھگ ہمیشہ خوش پوش اور خوش باش حلئے میں ہوتا ہے، یہ خوش گفتار اور باتیں مٹھارنے کا ماہر ہوتا ہے، یہ پیسے کے حصول کے لئے کوئی بھی حد عبور کرنے کے لئے نہ صرف تیار بلکہ اگر بے چین کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، رہتا ہے۔ یہ اپنے زیر دست لوگوں کے سامنے شیر اور بالا دست افراد کے آگے ڈھیر ہوتا ہے، یعنی زبر دست کے سامنے گڑگڑاتا اور زیر دست کے سامنے غراتا ہے، یہ عام طور پر اپنی گفتگو میں بلند و بالا باتیں کرنے، اعلی اخلاقی اصولوں کا پر چار کرنے اوراپنے اپنے مذہب کے مذہبی حوالے دینے میں بڑا ماہر ہوتا ہے۔ نرمی، انکساری، لجاجت سے پیش آنا اور بڑی سی بڑی توہین آمیز بات پر بھی غصے نہ ہونا اور ٹھنڈا رہنا اور ٹھنڈا کر کے کھانا ان کا خاص وصف ہے، گر اسے وصف کہا جاسکے تو!

خوشامد میں اگر ڈگری دی جا سکتی ہوتی تو ہر ہر ٹھگ خوشامد میں پی ایج ڈی کے معیار کا حامل ہوتا ہے، یعنی بلا کا خوشامدی اور بانس پر چڑھانے کا ماہر ہوتا ہے۔ ایہ اپنے مقصد کے حصول اور شکار کو ٹھگنے کے لئے بڑے صبر سے انتظار کرنے میں ماہر ہوتے ہیں، یہ عام طور سے پانچ برس یا اس سے بھی زیادہ انتظار کر سکتے ہیں۔ ویسے معیاری دورانیہ پانچ برس ہی عموما ہوتا ہے۔

یہ برادری اب عام لوگوں میں اسی طرح گھل مل کر رہتی ہے جس طرح علقمند اور ہوشیار فنون لطیفہ سے منسلک اس بازار کی مستند خواتین نے کافی پہلے ہی ہوا کا رخ بھانپ کراور اپنی نئی نسل کی خواتین کی جدید خطوط پرتعلیم و تربیت دےکر اور انہیں ماڈرن طور طریقے سکھا کر عام آبادیوں میں رہائش اختیار کرلی ہے اور اس جدید ماڈرن اور فیشن ایبل ماحول، اور فنون لطیفہ و انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں ان کی شناخت کرنا اب بہت مشکل سا ہوگیا ہے کہ کون اس بازار سے تشریف لائی ہیں اور کون نہیں۔

ٹھگ جھوٹ بولنے کے بڑے ماہر ہوتے ہیں اور اس صفائی سے بڑا حساب کتاب کر کے اور اعداد و شمار کا استعمال کرکے جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کا جھوٹ پکڑنا مشکل ہی نہیں بلکہ قریب بہ محال ہوتا ہے، اور اب آج کے دور میں ایسےاعداد و شمار سے مزین جھوٹ پکڑنے کے کار عظیم کے لئے کمیشن یا فورم یا جے آئی ٹیز وغیرہ بنانے پڑتی ہیں، اور آخر میں ٹھگوں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ یہ اپنی ٹھگی کو باوزن بنانے کے لئے بات بات پر قسم کھانے اور حلف اٹھانے کو فورا ہی تیار ہوجاتے ہیں۔

امید ہے کہ ٹھگوں کی ان مبہم سی نشانیوں سے عوام الناس کوانہیں پہچاننے میں کچھ نہ کچھ مدد تو ضرورملے گی کہ عقلمند را اشارہ کافی است۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں