بے وفا سے سگریٹ اچھا!


بڑا عجیب سا لگتا ہے جب تمباکو نوشی کے مضر اثرات پر سب سے زیادہ تنقید انھیں کرتے دیکھتا ہوں جنہوں نے کبھی سگریٹ کا کش تک نہیں لیا۔ ایسوں کو سمجھایا بھی نہیں جا سکتا کہ عشق اور اسموکنگ بس لاحق ہوجاتے ہیں۔ عشق کا بھوت تو دیر سویر اتر ہی جاتا ہے ( سب سے آسان طریقہ شادی ہے ) لیکن اسموکنگ ایک جان لیوا محبوبہ ہے۔ آدمی کو معلوم ہے کہ وہ کس راستے پے چل رہا ہے پھر بھی زہر میں بجھی حسینہ کا ہاتھ تھامے رکھتا ہے۔ اپنے خرچے پر بیمار ہوتا ہے اور دوسروں کے خرچے پر مر بھی جاتا ہے۔

سچا عاشق ہو کہ اسموکر اسے نہ کوئی سمجھا سکتا ہے نہ ڈرا سکتا ہے جب تک وہ خود نہ سمجھنا یا ڈرنا چاہے۔

آپ بھلے اینٹی اسموکنگ سیمینار، ورکشاپس، واکس کرتے رہیں۔ سگریٹ کی اشتہار بازی بند کردیں۔ سگریٹ کے ہر پیکٹ پر کینسر سے کٹے جبڑوں کی رنگین تصاویرچھاپتے رہیں اور یہ وارننگ بھی موٹے موٹے لفظوں میں لکھتے رہیں کہ خبردار تمباکو نوشی مضرِ صحت ہے۔ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کو قابلِ سزا قرار دے ڈالیں۔ ہر سال اس پے ٹیکس اور ڈیوٹی بڑھاتے چلے جائیں۔

سگریٹ نہ پینے والوں کو یہ کہہ کہہ کر ڈراتے رہیں کہ سالانہ ساٹھ لاکھ افراد دنیا بھر میں اسموکنگ کے نتیجے میں کینسر اور دل کی بیماریوں سے مرجاتے ہیں اور ان میں وہ چھ لاکھ بھی شامل ہیں جو اسموکرز نہیں لیکن اسموکرز کے دھوئیں کے سبب بیماریاں گلے لگا کر بے موت مارے جاتے ہیں۔ یا پاکستان میں گذشتہ پندرہ برس میں اگر ساٹھ ہزار افراد خودکش حملوں، بم دھماکوں، فرقہ وارانہ حملوں یا کراچی میں رہنے کے سبب مرے ہیں تو انھی پندرہ برس میں پچیس لاکھ پاکستانی تمباکو سے مرے ہیں۔ دہشت گردی کے لیے تو نیشنل ایکشن پلان بن گیا مگر اسموکنگ اس لیے قومی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ سگریٹ پھٹتی نہیں ہے۔

کچھ بھی کرلیں۔ جس نے کرنی ہے وہ کرکے رہے گا۔ بڑھیا برانڈ خریدنے کی استطاعت نہیں ہوگی تو گھٹیا پر اتر آئے گا۔ بیس سگریٹ کا پیکٹ خریدنے کی اوقات نہیں ہوگی تو دس خرید لے گا مگر آپ اسے ڈرا دھمکا کر یا پیار محبت سے پچکار کے ترک نہیں کروا سکتے۔ کیا آپ بھول گئے کہ سگریٹ نہ پینے والوں نے سگریٹ نوشوں کے ساتھ ویسا ہی دھوکا کیا جیسے امریکا نے افغان مجاہدین کے ساتھ کیا۔ پہلے انھیں کہا گیا کہ بندوق اٹھا لو اور جہاد کرو۔ جب انھوں نے بندوق اٹھالی اور وہ اس کے استعمال کے عادی ہوگئے تو پھر ان سے کہا کہ بندوق رکھ دو کیونکہ اب اس کا استعمال جہاد نہیں دہشت گردی ہے

برِ صغیر کا انسان سو برس پہلے تک بیڑی پیتا تھا یا پھر حقہ۔ پھر برطانوی سگریٹ ساز کمپنیاں ہمیں فتح کرنے آ گئیں۔ پہلی عالمگیر جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں کو بتایا گیا کہ سگریٹ بے چینی کو کم کرتی ہے۔ انھیں بیڑی کے بجائے سگریٹ کا کوٹہ ملنے لگا۔ مختلف کمپنیوں نے مارکیٹ پر قبضہ کرنے کے لیے عوام الناس کو مفت سگریٹ پیش کرنا شروع کی۔ یہ سینہ گزٹ بھی جاری ہوا کہ کش لگانا پیٹ کے اپھارے کے لیے مفید ہے۔ روسا نے جب سونے چاندی کے خوشنما سگریٹ کیس رکھنے شروع کیے تو ہر کش و نا کش میں اشرافی رومان پیدا ہوتا چلا گیا۔ تب تک یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ سگریٹ کے تمباکو سے زیادہ مضر تو وہ کاغذ ہے جس میں تمباکو لپیٹا جاتا ہے۔

کیا تمباکو نوشی کو ہالی وڈ کی سن چالیس تا ستر کے عشرے کی فلموں نے ہیرو پنتی کی نشانی نہیں بتایا تھا؟ کیا کھیلوں کی کروڑوں روپے کی اسپانسر شپ کش لگانے والوں نے سگریٹ ساز کمپنیوں کے حوالے کی تھی؟ کیا سگریٹ نوش خواتین کو جدت، آزادی اور فیشن کی نشانی غفور بیڑی فروش نے قرار دیا تھا؟ کیا سگریٹ کی صنعت سے حاصل کردہ اربوں ڈالر کے ٹیکسوں سے حکومتوں نے اپنی تجوریاں بھریں یا ان میں سے کچھ رقم تمباکو نوشوں کی فلاح پر بھی خرچ کی؟ کیا ہر سال پاکستان میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے پردے میں کروڑوں ڈالر کی سگریٹیں مشتاق چرسی اسمگل کرواتا ہے؟

اور اب وہی لوگ، وہی حکومتیں، وہی میڈیا کہہ رہے ہیں کہ تمباکو نوشی مت کرو یہ تو خود کشی ہے۔ اچھا تو اگر خودکشی ہے تو پھر یہ آلہِ خودکشی جگہ جگہ کیوں دستیاب ہے؟ کیا خنجر پر یہ لیبل چپکانے سے دھار کند ہوجاتی ہے کہ خبردار اسے اپنے یا کسی کے پیٹ میں گھونپنا منع ہے۔ یا تو بھوٹان کی طرح سگریٹ پر ہی پابندی لگا دیں یا پھر بک بک سے پرہیز کریں۔ اگر آپ ریونیو کے لالچ میں سگریٹ سازی بند نہیں کروا سکتے تو پینے والوں کو کس لیے لعن طعن اور خوفزدگی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

میں نے اٹھائیس برس سگریٹ پی اور چھ سال پہلے چھوڑ دی۔ اس لیے نہیں کہ میں یہ سن کر لرز گیا تھا کہ ہر سال ایک لاکھ اسی ہزار پاکستانی تمباکو نوشی سے مرجاتے ہیں بلکہ اس لیے چھوڑی کہ میرے سال بھر کے بچے نے منہ سے آنے والی تمباکو کی تیز بو سے گھبرا کے میری گود میں آنا چھوڑ دیا تھا۔ اس لیے چھوڑی کہ ہر سردیوں میں میرا سینہ شدید کھانسی سے کھوکھلا ہوجاتا تھا۔ سگریٹ کے دھوئیں نے میری زبان پر موجود ذائقہ محسوس کرنے کے ہزاروں مسام بند کردیے تھے۔

دسمبر دو ہزار نو میں جب مجھے شدید کھانسی شروع ہوئی تو دو ہفتے تک سگریٹ نہیں پی گئی اور بیمار بدن نے بھی نکوٹین کا مطالبہ نہیں کیا۔ دو ہفتے بعد جب نکوٹین کی طلب ہوئی تو میں نے اپنے جسم کو سامنے بٹھا کر سمجھایا کہ ابھی تم پوری طرح بیماری کے اثرات سے نہیں نکلے لہذا دو ہفتے ٹھہر جاؤ۔

چنانچہ اگلے دو ہفتے جسم نے میرے ساتھ تعاون کیا اور پھر نکوٹین طلب کی۔ میں نے کہا یار تمہیں اٹھائیس سال سے نکوٹین دے رہا ہوں بس دو ہفتے اور صبر کرلو اس کے بعد تو کش ہی لگانے ہیں۔ جسم پھر میری باتوں کے چکر میں آگیا۔ لیکن جب اگلی مدت پوری ہونے کے بعد بھی میں نے نکوٹین کی فراہمی کا وعدہ پورا نہیں کیا تو پھر میرے جسم کو یقین آگیا کہ یہ شخص پرلے درجے کا جھوٹا ہے اس لیے بغیر نکوٹین کے ہی گذارہ کرنا پڑے گا۔ وہ دن اور آج کا دن میں نے سگریٹ لبوں سے نہیں لگائی۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر دس برس بعد بھی میں نے خود سے یا کسی کے اصرار پر ایک سگریٹ پی لی تو اگلے دن پورا پیکٹ میری جیب میں ہوگا۔ سگریٹ نوش حالتِ ترک میں بھی مرتے دم تک ریڈ زون میں رہتا ہے۔ اور یہ وہ ریڈ زون ہے کہ اس میں سے کسی کا چوہدری نثار علی بھی باہر نہیں نکال سکتا۔
3 مئی 2016

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں