یہ بھی گزر جائیں گے

میں نے عمران حکومت کی پہلی سالگرہ تھرپارکر کے سرحدی قصبے ننگر پارکر میں منائی۔ گرینائٹ کے کارونجھر پہاڑ پر چڑھ کے دیکھیں تو ان دنوں ننگر کے دامن میں تاحدِ نگاہ اتنا سبزہ گویا پاکستان بنانے والی مسلم لیگ کا پرچم پھیلا ہوا ہو جس کے اندر سفید پوشی کی پٹی کا اضافہ کر کے قومی پرچم بنا لیا گیا ہو۔

ساون تھرپارکر میں صرف سبزہ ہی ساتھ نہیں لاتا بلکہ کراچی اور حیدرآباد سمیت دور دراز قصبوں سے ہزاروں سیاحوں کو بھی پچھلے دو تین برس سے کھینچ لاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب انیس سو اٹھانوے میں پہلی بار میں مٹھی سے ننگر پہنچا تو راستے کچے ہونے کے سبب سوا سو کلومیٹر فاصلہ کاٹنے میں ہی سات گھنٹے لگ گئے۔ پر آج سڑک کے راستے کراچی سے ننگر تک کے ساڑھے چار سو کلومیٹرسات گھنٹے میں طے ہوتے ہیں۔

Read more

سلامتی کونسل اجلاس کا جشن کب تک؟

پاکستان کی تشفی کے اعتبار سے مسئلہ کشمیر دو صورتوں میں ہی حل ہو سکتا ہے۔
یا تو کشمیری مزاحمت انڈیا کو سیاسی و اقتصادی طور پر اتنی مہنگی پڑ جائے کہ وہ کسی بھی آبرو بچاؤ فارمولے کے سہارے کشمیر کی جان چھوڑ دے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بین الاقوامی سفارتی و اقتصادی دباؤ انڈیا کے لئے اتنا ناقابلِ برداشت ہو جائے کہ وہ بدنامی اور دنیا سے کٹ جانے کے امکان کی تاب نہ لا سکے اور کشمیر کے کسی سہہ طرفہ حل پر آمادہ ہو جائِے۔

Read more

حقوق کی جدوجہد: ہانگ کانگ سے سیکھنے کو بہت کچھ ہے

سوشل میڈیا تو آج کی پیداوار ہے مگر مزاحمتی تحریکوں کو منظم کرنے میں سوشل میڈیا بہت زمانے سے کام آ رہا ہے۔

اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی میں انگریز جاسوسوں سے بچنے کے لیے ہندوستانی باغی سوکھی چپاتیوں کو پیغام رسانی کے لیے استعمال کرتے تھے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد جب مولانا عبید اللہ سندھی نے ترکوں اور کابل کے امیر کے وعدے پر اعتبار کرتے ہوئے برصغیر کی آزادی کے لیے مزاحمت منظم کرنے کی کوشش کی تو پیغام رساں ایلچی سرخ ریشمی رومال بطور وٹس ایپ استعمال کرتے رہے۔ اس کا انکشاف تب ہوا جب پنجاب میں انگریز سی آئی ڈی نے ایک قاصد سے ریشمی رومال برآمد کیا جس پر عبید اللہ سندھی کی جانب سے مولانا محمود الحسن کے لیے پیغام درج تھا۔

Read more

بابا کوئی کہانی سنا دیں

پرسوں رات میرے سات سالہ بیٹے رافع نے زبردستی کمبل میں گھستے ہوئے کہا بابا آپ نے بہت دنوں سے کوئی کہانی نہیں سنائی کوئی اچھی سی کہانی سنائیں۔ میں نے کہا اس وقت مجھے کوئی اچھی تو کیا بری کہانی بھی یاد نہیں آ رہی۔ تم ہی بتاؤ کیا سناؤں۔ اس نے کہا یہ…

Read more

کیا دعا کو عرش تک پہنچنے کے لیے عسکری اجازت درکار ہے؟

آج کچھ کہنے کو خاص نہیں۔ بس کچھ نظمیں سن لیجیِے۔ یہ نظمیں مزاحمت کے سالار فلسطینی شعرا کی ہیں۔ مگر ان نظموں کا موضوع ہر وہ خطہ اور قوم ہے جو ایک ہی طرح کی ابتلا میں مبتلا ہے۔ ’تم نے میرے جدی باغات چرا لیے وہ زمین چرالی جس پر میں اور میرے…

Read more

کشمیر اور آنے والے دن

پانچ اگست کی دوپہر تک مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہو رہا تھا اس کا ذمے دار پاکستان تھا جو کئی سال سے وہاں دہشت گرد بھیج کے معصوم کشمیریوں کو ورغلا رہا تھا۔ شکر ہے پاکستان پر سے دہشت گردی کا ٹیگ فی الحال ہٹا کے اسے بھارتی آئین کے آرٹیکل تین سو ستر پر چپکا دیا گیا ہے۔

Read more

دلہن سے نائیکہ تک

عروس البلاد کو جیو اور جینے دو کی جنگ سے فرصت ملے تو خود کو خود سے دیکھے یہ تب کی بات ہے جب کسی ایک دن آس پاس اور دور پرے کے رشتے دار اور شناسائی کے دعویدار چنچل عروس البلاد کے گھر ایک نوخیز ملک کا رشتہ لے کر آئے۔ اس سے پہلے…

Read more

آنکھوں میں جوتوں سمیت گھسنا مشکل ہے

بالاخر کل پانچ اگست دو ہزار انیس کو مسئلہ کشمیر اکہتر برس بعد حل ہو ہی گیا۔ سب کنفیوژن ختم، سب پردے چاک، بلی پوری طرح تھیلے سے باہر۔ کسی اور نے نہیں خود حکومت ِ بھارت نے اپنے ہی محسنوں نہرو اور پٹیل کے دستخطی وعدوں پر پیشاب پھیر دیا۔

Read more

عوام اینڈ سنز

حضرت عیسیٰ نے بارہ حواریوں کے ساتھ آخری بار نوالہ توڑتے ہوئے کہا ’تم میں سے ایک دھوکہ دے گا‘۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ بارہ میں سے ایک حواری جوڈا اسکریات شہر کے سب سے بڑے یہودی راہب کے پاس پہنچا اور چاندی کے تیس سکوں کے بدلے عیسیٰ کی شناخت کا سودا کر لیا۔…

Read more

تعداد تعدود کچھ نہیں ہوتی

تعداد تعدود کچھ نہیں ہوتی۔ صحیح حکمتِ عملی، وسائل کا بروقت ذہانت آمیز مصرف، حریف کو غلطی پر نہ ٹوکنا، دایاں دکھا کر بایاں جڑ دینا، حیرت کا بطور ہتھیار استعمال، درست خام مال و افرادی قوت کا چابکدست انتخاب، وقت پڑنے پر گدھے کو باپ بنانے یا باپ کو گدھا بنا دینے کی صلاحیت، زیادہ منافع کے انتظار کے بجائے تھوڑے منافع پر خود کو بھنا لینے اور خسارہ بھانپنے کی خو، کسی نئے مرغے کو پھانسنے کے لیے پچھلے کو بلا ہچکچاہٹ ذبح کر دینے کا حوصلہ، اپنے ہر گھٹیا عمل کی بڑھیا اور قائل کر دینے والی تاویلات کا ذخیرہ، کچھ ایسا چکر چلانا کہ ایک بار ڈسا جانے والا بار بار کہے آ مجھے پھر سے ڈس لے۔ ہر کارآمد شے کی قیمت کا درست تخمینہ لگانا اور خود کو اوقات سے زیادہ ظاہر کر کے مہنگا بیچنے کا فن جاننا وغیرہ وغیرہ۔ اگر ان ہتھکنڈوں میں سے آپ کو نصف بلکہ نصف چھوڑئیے ایک چوتھائی بھی ازبر ہوں تو سوائے آسمانی طاقتوں کے کوئی آپ کو سیاست و حکمرانی کے میدان میں شکست نہیں دے سکتا۔

Read more