میں نے اپنا ہی ہاتھ تھام لیا

اگر پہلے برس میں ہی یہ حال ہو گیا ہے کہ چھوڑوں گا نہیں ماروں گا چن چن کے، پانچ ہزار لٹکا دو تو سب ٹھیک ہو جائے گا، زرد صحافت کا علاج گالی گھونسہ اور تلوار۔ تو سوچیے کہ اگلے چار برس کس طرح یہ حکومت اور پرجا گزار پائے گی؟ اگر حکماِ عظام ہی شغلِ بے نظام اپنا لیں گے تو گلی محلوں کے تلنگے کہاں جائیں گے۔

اب تو یہ تمیز کرنا بھی دشوار تر ہوتا جا رہا ہے کہ یہ کوئی سنجیدہ تھیٹر ہے، کامیڈی ہے، بلیک کامیڈی کہ ٹریجڈی۔

Read more

گریش کرناڈ کی کہانی

چھ جون کو لاہور میں ڈاکٹر انور سجاد کا چوراسی برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ دس جون کو بنگلور میں بھارت کے مہان ڈرامہ نگار، شاعر، ڈائریکٹر، اداکار اور منتظم گریش کرناڈ کا اکیاسی برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ بہت سے پاکستانی قارئین کو یہ سمجھانا مشکل ہے کہ گریش کرناڈ تھیٹر،…

Read more

نئی نسل بھی اتنی ہی بےوقوف ہے

ہر زمانہ اپنے مسائل اور بیانیہ اسلوب ساتھ لاتا ہے۔ اس لیے زمانی موازنہ ہی بے وقوفی ہے نئی نسل سے ربط نہ رکھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ مجھ جیسوں کا خودساختہ خول برقرار رہتا ہے اور میں ماضی کے عصا سے ٹیک لگائے کمر پر ہاتھ دھرے کہہ سکتا ہوں کہ میاں…

Read more

غلاموں کو غصہ کیوں آتا ہے؟

حالیہ بھارتی لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی اور راہول گاندھی سے لے کر نچلے لیول تک کے امیدواروں اور نیتاؤں نے جلسوں میں ایک دوسرے کے بارے میں جو کھلی زبان استعمال کی اسے سنا تو جا سکتا ہے مگر لکھا نہیں جا سکتا کیونکہ لکھنے پر فحاشی کا مقدمہ پکا پکا بن سکتا…

Read more

الطاف حسین: ایک پپی اِدھر ایک پپی اُدھر

کیا زمانہ تھا جب الطاف حسین کو پہلی بار منی لانڈرنگ کے شبہ میں سکاٹ لینڈ یارڈ کے دفتر میں سوال و جواب کے لئے طلب کیا گیا تو ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کو باقاعدہ فوری بیان جاری کرنا پڑا کہ یہ معمول کی کارروائی ہے۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ شہری اپنا کاروبار جاری رکھیں۔یہ اعلان اس لئے کرنا پڑا کہ چوتھائی صدی سے سندھ کے شہری علاقوں کے لوگ عادی ہو چکے تھے کہ ایک کونسلر یا سیکٹر انچارج یا رکنِ صوبائی اسمبلی کی گرفتاری کی بھی خبر آئے تو موٹر سائیکل سوار لڑکوں کی آمد کا انتظار کئے بغیر دوکانوں کے شٹر گرا کے تالا لگا دیں۔

Read more

چونا منڈی کا لڑکا (حصہ دوم)

انیس سو چھتر تک ذوالفقار علی بھٹو ان تمام لوگوں سے ایک ایک کر کے کٹ چکے تھے جن کے خوابوں کی پالکی پر بیٹھ کر وہ اقتدار کے حجلہِ عروسی میں چار برس پہلے داخل ہوئے تھے۔ اسی آخری دور میں ڈاکٹر انور سجاد پارٹی کی تنظیمِ نو کے لیے لاہور پیپلز پارٹی کے رابطہ کار سیکریٹری بنائے گئے۔ ان کی اسلم گورداسپوری جیسے آدرشی سے سب سے زیادہ چھنتی تھی۔ پھر مارچ انیس سو ستتر کا الیکشن آ گیا اور پھر پانچ جولائی کو مارشل لا لگ گیا۔ پاکستان کی پہلی اور آخری سوشلسٹ حکومت لپٹ گئی۔ کج شہر دے لوگ وی ظالم سن کج ساہنوں مرن دا شوق وی سی۔

ڈاکٹر انور سجاد بھی ضیا کے ابتدائی دور میں تین بار پونے دو برس کی مجموعی مدت کے لیے جیل گئے۔ ان پر ٹی وی کے دروازے ہی بند ہوگئے۔

Read more

پیشِ خدمت ہے راگ بجٹ میں تازہ ٹھمری

دو روز بعد (گیارہ جون) عمران حکومت اپنا پہلا سالانہ قومی بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ گذشتہ بجٹ مسلم لیگ ن حکومت نے پیش کیا تھا۔ مگر عمران حکومت نے اس بجٹ میں پچھلے ایک برس کے دوران دو اضافی منی بجٹ بھی سی دئیے۔ نئے بجٹ میں اہتمام رکھا جائے گا کہ محصولاتی…

Read more

چونا منڈی کا لڑکا (حصہ اول)۔

تقسیم سے پہلے لاہور میں دو طبیبوں کی دھاک تھی۔ دونوں کنگ ایڈورڈز کے گریجویٹ تھے۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر دلاور علی شاہ تھے جو اندرونِ شہر چونا منڈی میں کلینک کرتے تھے۔ ان کے ہاں انیس سو پینتیس میں انور سجاد کی ولادت ہوئی۔ ڈ اکٹر دلاور چونکہ صوفی منش تھے لہذا کشادہ دل تھے۔ انور کو یاد ہے کہ ان کے گھر میں اکثر اجتماعِ ضدین رہتا تھا۔

ایک رشتے کے ماموں کٹر کیمونسٹ تھے اور ایک خالو جو نویں محرم کو امام بارگاہ سے ذوالجناح نکالتے تھے۔ دونوں سے انسان دوست ابا کی مذہبی و نظریاتی بحثیں رہتی تھیں۔ تینوں اپنے اپنے نقطہِ ہائے نظر پر اڑے رہتے مگر ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے۔ تو گویا ننھے انور سجاد کی غیر شعوری مذہبی و سیکولر تعلیم و تربیت ایسے بوقلموں نظریاتی ماحول میں ہو رہی تھی ( بقول انتظار حسین انور سجاد محلے کی مسجد میں اٹھارہ برس کی عمر تک اذان دیتے بھی پائے جاتے۔ یعنی آؤ فلاح کی طرف ) ۔

Read more

کیا صور پھونکا جا چکا ہے ؟

انسانی نفسیات بھی کیا عجوبہ ہے۔اگر میں کہوں کہ پاکستان میں ہر سال پانچ لاکھ بچے پیٹ کی قابلِ علاج بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہماری انفرادی و اجتماعی ، سماجی و ریاستی لاپرواہی کے سبب مر جاتے ہیں تو ننانوے فیصد امکان ہے کہ آپ کے کان پر جوں تک نہ رینگے اور آپ کا دل اسے شائد این جی او کلچر کا مالیخولیا سمجھ کر غور کرنے سے پہلے ہی مسترد کردے اور دماغ میں لال بتی روشن ہوجائے کہ توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک اور سستا جھوٹ۔

Read more

یہ صحت کا نہیں ریاست کا انہدام ہے

حالانکہ عید کے موقع پر کچھ اچھا اور میٹھا لکھنا بنتا ہے لیکن جب کوئی خبر دل اور دماغ کو کڑوا زہر بنا دے تو پھر اچھے کا خیال و ارادہ پرلے درجے کی منافقت لگتا ہے۔ جیسے یہی خبر کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ساہیوال میں ہفتے اور اتوار کے درمیان نرسری وارڈ میں…

Read more
––>