صرف سیلوٹ نہیں وائرس سے تحفظ بھی

سب ریاستوں کے لیے عالمی ادارہِ صحت کی بنیادی نصیحت ایک ہی ہے۔ لاک ڈاؤن اور ٹیسٹنگ۔ اگر صرف لاک ڈاؤن ہو تو بھی کام نہیں چلے گا اور لاک ڈاؤن کے بغیر ٹیسٹنگ ہو تو بھی کام نہیں چلے گا۔ مگر ہم جیسے ممالک جن کے پاس وسائل کی چادر بس اتنی ہے کہ منہ ڈھانپیں تو پیر کھلتے ہیں اور پیر ڈھانپیں تو منہ ننگا ہوتا ہے، آخر کیسے لاک ڈاؤن اور عمومی ٹیسٹنگ بیک وقت کر سکتے ہیں؟

دنیا میں اس وقت روایتی ٹیسٹنگ کٹس محدود تعداد میں ہیں لہذا انھی لوگوں کے ٹیسٹ کے لیے استعمال ہو رہی ہیں جن میں کورونا جیسی علامات پائی جاتی ہیں یا پھر ان کی ٹیسٹنگ ہو رہی ہے جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ وہ کسی کورونا زدہ سے براہِ راست رابطے میں رہے ہیں اور وائرس کے ممکنہ کیریر ہو سکتے ہیں۔ پھر ان ٹیسٹوں کے نتائج کے لیے دو تین روز انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ چند مخصوص لیبارٹریاں ہی یہ ٹیسٹ کر رہی ہیں۔

مگر حوصلہ افزا اطلاع یہ ہے کہ اس وقت پاکستان، امریکا، جرمنی، سینیگال، جاپان سمیت کئی ممالک میں ایسی سستی ٹیسٹنگ کٹس کی تیاری اور بڑے پیمانے پر کم سے کم وقت میں مارکیٹ کرنے کی سرتوڑ کوشش ہو رہی ہے جو اتنی آسان ہوں کہ کوئی بھی مشتبہ شخص شوگر ٹیسٹ کے طرح خود اپنا ٹیسٹ کر سکے اور اس ٹیسٹ کا نتیجہ بھی دس سے پندرہ منٹ میں آ جائے۔ البتہ ایسی ٹیسٹنگ کٹس کی مارکیٹنگ جون جولائی سے پہلے ممکن نہیں۔ مگر کورونا جس رفتار سے پھیل رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے جون جولائی کئی برس دور لگ رہا ہے۔ پھر کیا کیا جائے؟ لاک ڈاؤن میں سختی کی جائے اور ان طبقات و گروہوں کی ٹیسٹنگ ترجیحی بنیاد پر کی جائے جو زیادہ خطرے میں ہیں۔ یہ ممکنہ طبقات اور گروہ کون سے ہیں؟

Read more

خبردار کسی نے ٹرمپ یا عمران کو کچھ کہا

اگرچہ روس، چین، جنوبی کوریا اور جاپان کو کورونا نے جکڑ رکھا ہے مگر ان چاروں ہمسائیوں کے عین بیچ میں پڑے ہوئے شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ ہمارے ہاں کورونا کا ایک بھی مریض نہیں اور جس نے افواہ پھیلائی اسے توپ دم کر دیا جائے گا۔

شمالی کوریا نے سچائی ثابت کرنے کے لیے اسی مہینے میں چار میزائلی تجربے کیے۔ چین نے شمالی کوریا کو تکنیکی مدد دینے کی پیش کش کی مگر ریاست کے مالک عزت ماآب کم جونگ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال ہمیں ضرورت نہیں بلکہ الٹا انھوں نے جنوبی کوریا کو ہمدردی کا پیغام بھیجا ہے۔

Read more

انسان بمقابلہ کامن سینس

بھلے چودھویں صدی عیسوی کے پسماندہ یورپ میں پھیلنے والا طاعون ہو جو یورپ کی ایک تہائی آبادی چٹ کر گیا یا پھر بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں پھیلنے والا اسپینش فلو جو پہلی عالمی جنگ کے اختتامی مراحل میں شروع تو یورپ کے محاذ پر ہوا لیکن جب جنگ سے لوٹنے والے برطانوی…

Read more

بے شک انسان خسارے میں ہے

عالمی ادارہِ محنت نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتوں نے مربوط حکمتِ عملی نہ بنائی توآنے والے دنوں میں کورونا وائرس کم ازکم ڈھائی کروڑ ملازمتیں مستقل ختم کر دے گا اور موجودہ طبی بحران کی جگہ طویل المعیاد معاشی بحران لے لے گا۔ ویسے طبل بج چکا ہے۔اب تک کی صورتِ حال کو…

Read more

کرو یا مرو

ویسے تو انسان جاتی ہی بہت عجیب ہے مگر انسانوں میں بھی اگر قسم بندی کی جائے تو ہم جنوبی ایشیائی سب سے الگ ہیں۔ سو روپے کے ادھار پر قتل کر دیں گے، خاندانی و دینی غیرت کے مارے سر اتار دیں گے، ہمیشہ اپنے کے بجائے دوسرے کو مشورہ دیں گے، بات بے…

Read more

کورونا بھی میڈیا کا کچھ نہ بگاڑ سکا

یہ وائرس کا حملہ نہیں، تیسری عالمی جنگ ہے۔ جس میں ایسے دشمن سے پالا پڑا ہے جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے کہ یہ کہاں سے آیا ہے، کب تک رہے گا اور فاتح ہو گا کہ پسپا۔ ایسے میں ذرا سی بھی کامن سینس والا شخص توقع رکھتا ہے کہ میڈیا…

Read more

کورونا اور اندر کا جانور

ہر انسان میں کوئی نہ کوئی جانور پوشیدہ ہے جو آزمائش کی گھڑی میں اندر سے نکل آتا ہے۔انسان کی اصلیت جاننے کی جو چند کسوٹیاں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ کسی شخص کے کھانے پینے کے آداب کیا ہیں۔وہ لین دین میں کتنا پکا یا کچا ہے اور آزمائش کی گھڑی…

Read more

وائرس کا مقابلہ بذریعہ مسخرہ پن

آج کل سب سے زیادہ مزے میں وہ ہے جس کی یا تو گرد و پیش کے حالات تک رسائی نہیں یا ہے بھی تو اسے اپنے محلے یا شہر یا صوبے یا زیادہ سے زیادہ ملک سے باہر کے حالات جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اس وقت انٹرنیٹ آگہی سے زیادہ فروغِ جہل کا…

Read more

کھربوں ڈالر کا خرچہ کیا مگر ہاتھ کیا آیا ؟

حضرت علی ابن ابی طالب کا ایک قول یہ بھی ہے کہ غصہ دیوانگی سے شروع ہو کر ندامت پے ختم ہوتا ہے۔اس قول کی صداقت پرکھنے کے لیے اگر کوئی سامنے کی مثال درکار ہو تو افغانستان حاضر ہے۔نائن الیون کے ایک ماہ بعد امریکا نے ٹھنڈے دل سے حکمتِ عملی بنانے اور عمل…

Read more

یہ جسم کا نہیں پیٹ کا مسئلہ ہے

ایک نقطہ محرم کو مجرم بنانے کے لیے کافی ہے لہٰذا ترجمہ ہمیشہ احتیاط سے کرنا چاہیے کیونکہ لفظ کے پیچھے پوری ثقافتی و سماجی تاریخ ہوتی ہے۔

جیسے سیاحوں کو ٹریول گائیڈز پر علاقے کی حساسیت اور کس اشارے کا کیا مطلب لیا جا سکتا ہے، سمجھاتے ہیں اسی طرح ترجمہ کرتے وقت بھی یہی اصول پیشِ نظر رہنا چاہیے ورنہ بات کہیں سے کہیں نکل کے کیا سے کیوں ہو جاتی ہے۔

Read more