ایک کالے کی موت پر ہڑبونگ

ہمارے معیار کے اعتبار سے کسی بھی گناہگار یا بے گناہ کا پولیس کے ہاتھوں ٹارچر یا غلطی سے مرجانا، تھوڑی بہت ہاہا کار مچنا اور پھر اسی طرح کے اگلے واقعے تک زندگی معمول پر آجانا کوئی بڑی بات نہیں۔

ریاست، عدلیہ اور عام آدمی سب نے ایسے واقعات و سانحات کو ایک ناخوشگوار معمول سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ ہمارے ایسے ممالک میں قانون محض کاغذی ہے لہذا مثالی انصاف کا حصول ناممکن ہے۔ ابھی ہمیں تہذیب کے اگلے مرحلے تک پہنچنے تک کئی عشرے درکار ہیں۔

Read more

زیادہ سے زیادہ مر ہی تو جائیں گے

تشکیک کے عنصر سے بنے انسانی ذہن کو ہر نئی صورتِحال سمجھنے اور قبول کرنے میں ایک ضروری مدت درکار ہوتی ہے۔ چنانچہ سمجھنے سمجھانے میں ہی اکثر بہت سا قیمتی وقت نکل جاتا ہے اور کوئی بھی واقعہ وقوع پذیر ہو جانے کے باوجود ایک عرصے تک ذہن پر قسط وار کھلتا چلا جاتا ہے۔…

Read more

داؤ لگا تو پاجی ورنہ ہم سب حاجی

میری بلا سے سردرد کی پیٹنٹ گولی دس روپے کی آئے کہ سو کی۔مجھے تو کوئی بس یہ بتا دے کہ کیا دس روپے کی گولی بیس روپے کی ہونے کے بعد خالص ملے گی ؟ یہ سوال یوں پیدا  ہو رہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی ڈرگ مارکیٹ میں جعلی دواؤں کا تناسب…

Read more

عید ہوندی سی ساڈھے ویہلے ۔۔۔

ہم اور ہمارے بڑے تو ہر برس کی طرح اس سال بھی بس باتیں ہی بگھارتے رہ گئے کہ عید سادگی سے منانا چاہیے اور آس پاس کے لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔

پر اچھا یہ ہوا کہ اس بار کورونا بھی سادگی کے عملی معنی دیکھ کر سٹپٹا گیا۔ باقی دنیا میں بھلے جو بھی تماشا ہو رہا ہو۔ ہمارے ہاں کورونا آگے آگے اور لوگ پیچھے پیچھے ہیں۔

آصف زرداری نے صدر بننے کے بعد گڑھی خدا بخش میں جب یہ الفاظ کہے تھے تو کورونا پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ ’ارے موت ہمیں کیا ڈرائے گی۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو موت کا تعاقب کرتے ہیں۔‘

Read more

خوش قسمت لاوارث اور بدقسمت لاوارث بچے

سرکاری آنکڑوں کے مطابق اس وقت پاکستان میں نابالغ یتیم بچوں کی تعداد بیالیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ مگر ان میں سے کتنے اپنے دیگر رشتے داروں کے زیرکفالت ہیں، کتنوں کی دیکھ بھال کی ذمے داری ریاستی و غیر ریاستی فلاحی اداروں اٹھا رہے ہیں اورکتنے اپنی زندگی کو خود لڑھکانے پر مجبور ہیں۔ اس بابت جتنے منہ اتنی باتیں۔

جو بچے اپنا بوجھ خود اٹھا رہے ہیں ان میں بارہ سے پندرہ لاکھ کے درمیان پاکستانی بچے اسٹریٹ چلڈرن یعنی بڑے اور درمیانے پاکستانی شہروں کی سڑکوں اور گلیوں میں رہنے سہنے پر مجبور ہیں۔

Read more

پیدائش سے پہلے مرنے والا خوش نصیب بچہ

میں خیرمقدم کرتا ہوں ان سورما جہادیوں کا جنھوں نے گذشتہ منگل کو کابل کے ایک زچہ بچہ ہسپتال میں کافر نوزائیدہ بچوں، ان کی دس دین دشمن ماؤں، اغیار کی ایجنٹ چند نرسوں اور ایک مشرک سیکورٹی گارڈ سمیت چوبیس ناپاک روحوں کو قتل اور سولہ کو زخمی کر دیا اور وہ بھی ایک…

Read more

طبی توہمات سے گھبرائیے نہیں

یحییٰ جعفری کورونا سے متاثر پہلے پاکستانی شہری تھے۔ انھیں چھبیس فروری کو آئسولیشن میں بھیجا گیا اور وہ صحت یاب بھی ہو گئے۔ مگر جیسے ہی انھیں کورونا سے متاثر ڈکلئیر کیا گیا۔ کسی نے ان کی تصویر سوشل میڈیا پر شائع کردی اور کچھ چینلوں نے تصویر کے ساتھ خبر بھی نشر کر دی۔ طبی و صحافتی اخلاقیات کی دھجیاں تو بکھری ہیں مگر یحیی اور ان کے اہل خانہ کے لیے سب سے تکلیف دہ مرحلہ کورونا سے بھی زیادہ لوگوں کے غیرہمدردانہ اور کسی حد تک سفاکانہ تبصرے تھے۔

Read more

کورونا بمقابلہ شکم

’بھوک سے ایک انسان مرے تو المیہ ہے۔ دس لاکھ مر جائیں تو محض اعداد ہیں‘ ( جوزف اسٹالن)۔ انفرادی موت زخم اور اجتماعی موت مرہم۔ یعنی درد کا حد سے گذر جانا دوا ہو جانا۔ میں نے پارٹیشن دیکھی نہیں بس کہانیاں سنی ہیں کہ بیس لاکھ انسان قتل اور لگ بھگ ایک کروڑ…

Read more

کیا کورونا تصور حیات بدل رہا ہے؟

( چوالیس سالہ یووال نوح ہراری اسرائیل کی ہیبرو یونیورسٹی میں تاریخ پڑھاتے ہیں اور ان کا شمار جواں فکر مورخوں کی نئی عالمی کھیپ میں ہوتا ہے۔ تاریخی ارتقا اور مستقبل کے موضوع پر ان کی تین معرکتہ الا آرا کتابیں شایع ہو چکی ہیں، سیپینز (بنی نوع انسان کی تاریخ ) ، ہومودیوس ( مستقبل کی مختصر تاریخ ) اور اکیسویں صدی کے لیے اکیس اسباق۔ ان کتابوں کے چالیس سے زائد زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں کورونا کی وبا کے تعلق سے یوال کا ایک مضمون ”کیا کورونا موت و حیات کے بارے میں ہمارا طرز عمل بدل سکے گا“ شایع ہوا۔ پیش خدمت ہیں اس مضمون کے اقتباسات ) ۔

Read more

منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ

لگتا ہے کئی برس سے آزاد صحافت شہری حقوق کے کھاتے سے نکال کر جرائم کی فہرست میں ڈال دی گئی ہے۔ حکومتی کارندوں کی ایک اہم ذمے داری یہ بھی قرار پائی ہے کہ کس طرح میڈیا کو پابند سلاسل کر کے منہ سی دیا جائے۔ جیسے جیسے کورونا پھیل رہا ہے، ویسے ویسے…

Read more