پلیجو کی پہلی برسی

سندھ کے ایک بڑے دماغ رسول بخش پلیجو کے انتقال کو ایک برس ہو گیا۔ پہلی برسی کی مناسبت سے تین تقریبات ہوئیں، ایک ٹھٹھہ میں، دوسری آرٹس کونسل کراچی میں اور تیسری پلیجو صاحب کے آبائی گاؤں گوٹھ منگھر خان پلیجو ( جنگ شاہی ) میں۔ یعنی ایک تقریب عوامی رابطہ تحریک نے منظم…

Read more

رسول بخش پلیجو کی پہلی برسی

سندھ کے ایک بڑے دماغ رسول بخش پلیجو کے انتقال کو ایک برس ہو گیا۔ پہلی برسی کی مناسبت سے تین تقریبات ہوئیں، ایک ٹھٹھہ میں، دوسری آرٹس کونسل کراچی میں اور تیسری پلیجو صاحب کے آبائی گاؤں گوٹھ منگھر خان پلیجو ( جنگ شاہی ) میں۔ یعنی ایک تقریب عوامی رابطہ تحریک نے منظم کی، دوسری ایاز لطیف پلیجو کی جماعت قومی عوامی تحریک نے اور تیسری رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک نے منعقد کی۔ دو تقریبات میں پیشہ ورانہ مصروفیات کے سبب خواہش کے باوجود شرکت کا موقع نہیں مل سکا۔ البتہ گوٹھ منگھر خان کی تقریب میں شرکت کر پایا۔

Read more

بانٹنے والا ہی اپن کا بھگوان ہے

کل بھی کراچی میں زمین اسی طرح تپ رہی تھی جیسے آج تپ رہی ہے۔ کل بھی میں اسی زیرِ تعمیر موڑ سے گزرا جہاں آتی جاتی گاڑیوں کے ٹائروں کی دھول آج بھی اس دو ڈھائی سال کی بچی کے منہ پر پینٹ کی طرح جمی ہوئی تھی جس کی ماں مسلسل ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی۔

جیسے اس زیرِ تعمیر موڑ پر ایک عرصے سے پڑے پتھر، مسلسل اٹھتی گرد، ٹوٹے فٹ پاتھ کا کنارہ پڑے ہیں۔ بالکل ویسے ہی یہ بچی اور اس کی ماں اس منظر کا حصہ ہیں۔ اگر یہ انسان ہوتے تو اسی جگہ نیم ایستادہ نہ رہنے دیے جاتے۔

Read more

ایک منتخب جمہوری معزول دہشت گرد کی موت

اگر جدید مصر کی تاریخ کے پہلے منتخب معزول صدر محمد مرسی کی موت طبعی ہے تو جنرل ریٹائرڈ و حاضر سروس ریفرینڈمی صدر عبدالفتح السسی کی حکومت کو اقوامِ متحدہ سمیت عالمی تنظیموں اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے اس تحقیقاتی مطالبے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کہ جیل میں سابق صدر کو کس معیار کی طبی سہولتیں میسر تھیں اور انھیں کون کون سے امراض لاحق تھے کہ وہ اچانک عدالت کے پنجرہ نما کٹہرے میں پٹ سے گر پڑے اور جھٹ سے مر گئے اور گرنے کے بیس منٹ بعد بھی انھیں جیل کے اسپتال روانہ نہیں کیا گیا البتہ جیل کے مردہ خانے میں انھیں نہلایا ضرور گیا۔

Read more

قاتل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم!

مچھر ضرور مارنے چاہئیں کیونکہ ان سے ملیریا اور گندگی پھیلتی ہے لیکن جن جوہڑوں اور نالیوں میں مچھر پیدا ہوتے ہیں وہ چند ہی دنوں میں مچھروں کی ایک نئی کھیپ تیار کردیتے ہیں اور ہم پھر انھیں مارنے پر لگ جاتے ہیں۔ جوہڑ اور نالیاں جوں کی توں رہتی ہیں۔ بالکل ایسے جیسے کنوئیں کو پاک کرنے کے لیے چالیس ڈول پانی نکال لیا جائے مگر کتا نہ نکالا جائے تو فائدہ؟

Read more

امریکی حیلہ سازی: یہ کہانی نئی تو نہیں

اگلے چند روز میں خلیج میں کیا ہونے والا ہے اور کیا نہیں۔ یہ تو ایران، خلیجی ریاستیں اور امریکا جانیں۔ البتہ پچھلے سوا سو برس کی تین امریکی کہانیاں مجھ سے سن لیجیے۔

انیسویں صدی کے آخری عشرے میں اسپین اپنی آخری جنوبی امریکی نوآبادی کیوبا پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ ریاستہائے متحدہ امریکا پورے براعظم کا بلا شرکتِ غیرے نیا آقا بننا چاہتا تھا۔ لہذا صدر ولیم کونلے نے کیوبائی مزاحمت کار قوم پرستوں سے برسرِپیکار اسپین پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی بحریہ کا جنگی کروزر یو ایس ایس مین کیوبا کے دارالحکومت ہوانا کے قریب کھلے سمندر میں لنگر انداز کر دیا۔ تین ہفتے بعد پندرہ فروری اٹھارہ سو اٹھانوے کو یو ایس ایس مین خوفناک دھماکے سے دو ٹکڑے ہو کر غرق ہو گیا۔ عملے کے دو سو ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔ صرف اٹھارہ زندہ بچ پائے۔

Read more

میں نے اپنا ہی ہاتھ تھام لیا

اگر پہلے برس میں ہی یہ حال ہو گیا ہے کہ چھوڑوں گا نہیں ماروں گا چن چن کے، پانچ ہزار لٹکا دو تو سب ٹھیک ہو جائے گا، زرد صحافت کا علاج گالی گھونسہ اور تلوار۔ تو سوچیے کہ اگلے چار برس کس طرح یہ حکومت اور پرجا گزار پائے گی؟ اگر حکماِ عظام ہی شغلِ بے نظام اپنا لیں گے تو گلی محلوں کے تلنگے کہاں جائیں گے۔

اب تو یہ تمیز کرنا بھی دشوار تر ہوتا جا رہا ہے کہ یہ کوئی سنجیدہ تھیٹر ہے، کامیڈی ہے، بلیک کامیڈی کہ ٹریجڈی۔

Read more

گریش کرناڈ کی کہانی

چھ جون کو لاہور میں ڈاکٹر انور سجاد کا چوراسی برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ دس جون کو بنگلور میں بھارت کے مہان ڈرامہ نگار، شاعر، ڈائریکٹر، اداکار اور منتظم گریش کرناڈ کا اکیاسی برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ بہت سے پاکستانی قارئین کو یہ سمجھانا مشکل ہے کہ گریش کرناڈ تھیٹر،…

Read more

نئی نسل بھی اتنی ہی بےوقوف ہے

ہر زمانہ اپنے مسائل اور بیانیہ اسلوب ساتھ لاتا ہے۔ اس لیے زمانی موازنہ ہی بے وقوفی ہے نئی نسل سے ربط نہ رکھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ مجھ جیسوں کا خودساختہ خول برقرار رہتا ہے اور میں ماضی کے عصا سے ٹیک لگائے کمر پر ہاتھ دھرے کہہ سکتا ہوں کہ میاں…

Read more

غلاموں کو غصہ کیوں آتا ہے؟

حالیہ بھارتی لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی اور راہول گاندھی سے لے کر نچلے لیول تک کے امیدواروں اور نیتاؤں نے جلسوں میں ایک دوسرے کے بارے میں جو کھلی زبان استعمال کی اسے سنا تو جا سکتا ہے مگر لکھا نہیں جا سکتا کیونکہ لکھنے پر فحاشی کا مقدمہ پکا پکا بن سکتا…

Read more