عاطف میاں کا تنازع اور وزیر اعظم کی چندہ مہم


وزیر اطلاعات نے اقلیتوں کو ساتھ لے کر چلنے کے بلند بانگ دعوے کرنے کے بعد آج جب انتہا پسند ملاؤں کو خوش کرنے کے لئے اپنے مؤقف میں 180 ڈگری تبدیلی لاتے ہوئے یہ کہا کہ حکومت ایک نامزدگی سے قومی اتفاق رائے ختم نہیں کرسکتی تو انہوں نے محض تبدیلی کے دعوے اور حکومتی اختیار کا پول ہی نہیں کھولا بلکہ یہ بتایا ہے کہ حکومت ملک کے مٹھی بھر انتہا پسندوں کی پھیلائی ہوئی نفرت کے خلاف بند باندھنے اور ملک کے تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام ہونے کا اعلان کررہی ہے۔

حکومت آئین کی شق 25 کے تحت تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق فراہم کرنے کی پابند ہے۔ عاطف میاں کی کسی سرکاری کمیٹی میں نامزدگی کسی اقلیتی باشندے کا بنیادی حق تو نہیں ہے لیکن ان کا نام شامل کرکے اور پھر شدید دباؤ کے بعد اسے واپس لے کر اس تاثر کو قوی کیا گیا ہے کہ حکومت اصولوں ، آئینی تقاضوں اور اخلاقی ضابطوں پر چلنے کا حوصلہ نہیں رکھتی بلکہ اشتعال انگیز گروہوں کی دھمکیوں سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے کی روایت کو راسخ کرنے کا باعث بنی ہے۔ یہ تاثر کسی ملک کے جواز اور کسی بھی قوم کی شناخت کے اعتبار سے نہایت مہلک اور ضرررساں ہے۔

عمران خان سیاسی حوصلہ اور بڑے طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے دعوے کرتے ہوئے اقتدار تک پہنچے ہیں۔ لیکن جس روز عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی سے نکالا گیا ہے، اسی روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے اس متنازعہ اور افسوسناک معاملہ پر قوم کو اعتماد میں لینے سے گریز کرکے انہوں نے اپنی سیاسی کم ہمتی کے علاوہ ذاتی کمزوری اور بزدلی کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ عمران خان کو اپنی بہادری اور ہمت پر بہت ناز ہے لیکن اربوں ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والے ڈیموں کی تعمیر کے لئے چندہ مانگتے ہوئے اور قوم کی مادی ضرورتوں کا ذکر کرتے ہوئے ، بنیادی اخلاقی اصول اور قانونی و آئینی معیار کے حوالے سے ایک بحث میں اپنی دو ٹوک رائے دینے اور عوام کے دلوں میں اٹھنے والے سوالوں کو نظر انداز کرکے عمران خان نے دراصل اپنی حکومت کی ناکامی کا بالواسطہ اعتراف کیاہے۔ جو حکومت اپنے ایک بے ضرر فیصلہ پر قائم رہنے کا حوصلہ نہ رکھتی ہو، اس سے بڑے فیصلے کرنے ، ملک کا عالمی امیج بہتر بنانے اور معاشرہ کی تعمیر نو جیسے عظیم منصوبہ میں مستقل مزاجی کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے عاطف میاں کی برطرفی کے فیصلہ کی وضاحت کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں یہ محیرالعقل پیغام دیا ہے : ’عمران خان کا آئیڈیل ریاست مدینہ ہے۔ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے اراکین عاشقان رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اور حال ہی میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر حکومت نے جو کامیابی حاصل کی ، وہ بھی اسی نسبت کا اظہار ہے ‘ ۔ اس بیان میں دو بنیادی مغالطے موجود ہیں۔ ایک تو یہ کہ کہیں سے اس امر کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ہالینڈ کے گیرٹ وایئلڈرز نے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کرنے کا اعلان حکومت پاکستان کے دباؤ کی وجہ سے کیا تھا۔ پاکستان یا کوئی دوسرا مسلمان ملک اس سے قبل سلمان رشدی یا ڈنمارک میں شائع ہونے والے خاکوں سے پیدا ہونے والے تنازعہ میں یورپ و امریکہ کے کسی ملک کو دباؤ میں لانے میں کامیاب نہیں ہؤا تھا۔ اس لئے نوزائیدہ پاکستانی حکومت کا یہ دعویٰ کہ یہ اس کی سفارت کاری کا کمال ہے، اپنے منہ میاں مٹھو سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔

اس طرح خود کو اور پاکستان کے عوام کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت وہ کارنامے کرسکتی ہے جو دوسرے سرانجام دینے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ لیکن آج کے فیصلہ کے بعد تو بجا طور سے یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ جو حکومت اپنے ملک کے مٹھی بھر انتہا پسند مذہبی جنونیوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت اور ہمت نہیں رکھتی وہ یورپ کے ایک غیر متعلقہ ملک کے شدت پسند سیاست دان کو فیصلہ تبدیل کرنے پر کیسے مجبور کرسکتی ہے۔ دوسرا مغالطہ یہ ہے کہ وزیر اطلاعات کے ٹویٹ میں ختم نبوت کو سیاسی نعرہ بناتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ مدینہ کی جس ریاست کا تصور عمران خان اور ان کے ساتھی عام کرنا چاہتے ہیں ، اس میں حب رسول کی وجہ سے اقلیتوں کو اپنے برابر نہیں سمجھا جائے گا۔ رسول پاک کی سربراہی میں مدینہ میں قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں مسلمان دانشور، وزیر اطلاعات کے اس دعویٰ کی تصدیق نہیں کریں گے۔ کیوں کہ عام تفہیم میں مدینہ میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو مساوی احترام اور تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔

اقتصادی کمیٹی سے عاطف میاں کی علیحدگی سے پاکستان کے معاشی مسائل حل کرنے کا کام متاثر ہو یا نہ ہو ۔ لیکن ان کا نام شامل کرکے انتہا پسند رائے کے تحت اسے نکالنے سے ملک کی شہرت، سیاست اور حکومت کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ واقعی ایسا کام ہے جس کے بارے میں عمران خان اور تحریک انصاف دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ جو کام دوسری پارٹیاں پانچ برس میں کرتی تھیں ، وہ ہم نے دو ہفتوں میں کر دکھایا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali