عاطف میاں کا تنازع اور وزیر اعظم کی چندہ مہم
وزیر اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ڈیم فنڈ کو وزیر اعظم فنڈ میں تبدیل کرتے ہوئے بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں سے چندہ دینے کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان 2025 تک نئےڈیم تعمیر کرنے میں کامیاب نہ ہؤا تو ملک کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس صرف تیس دن کی ضرورت پوری کرنے کے لئے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے حالانکہ ہر ملک کے پاس کم از کم 120 دن کی ضرورت پوری کرنے کا پانی ذخیرہ ہونا چاہئے۔ بھارت کے پاس ایک سو دن کی ضرورت کے لئے پانی ذخیرہ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ دنیا اب پاکستان کو قرضے دینے کے لئے تیار نہیں ہے، اس لئے اسے خود اپنے وسائل پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لئے غیر ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کو کم از کم ایک ہزار ڈالر فی کس اس فنڈ میں چندہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ رقم جمع ہوجائے تو پاکستان پانچ برس میں ضروری ڈیم تعمیر کرسکتا ہے۔
حیرت انگیز طور پر عمران خان نے قوم کے نام دوسرے خطاب میں اپنی حکومت کی اس اخلاقی کوتاہی ، سیاسی کم ہمتی اور آئینی کمزوری کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا ،جس کے بارے میں وزیر اطلاعات کے ایک ٹویٹ پیغام کو کافی سمجھا گیا ہے کہ پرنسٹن یونیورسٹی کے عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد ماہر معیشت عاطف میاں کو حکومت کی نامزد کردہ اقتصادی مشاورتی کمیٹی سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ عاطف میاں کے احمدی عقیدہ سے متعلق ہونے کی وجہ سے کیا گیا کیوں کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق ’حکومت علماء اور تمام معاشرتی طبقات کو ساتھ لے کر ہی آگے بڑھنا چاہتی ہے اور اگر ایک نامزدگی سے مختلف تاثر پیدا ہوتا ہے تو یہ مناسب نہیں‘۔
عاطف میاں کو دنیا کے بیس بہترین اور قابل قدر معیشت دانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہیں وزیر اعظم عمران خان نے خود اس کمیٹی میں شامل کیا تھا تاکہ نئی حکومت ملک کی ابتر معاشی حالت کو سنبھالنے کے لئے بہترین رائے اور مشورہ کی بنیاد پر پالیسی بنا سکے۔ تاہم اس نامزدگی کے ساتھ ہی یہ تنازعہ بھی سامنے آگیا تھا کہ عاطف میاں احمدی عقیدہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ملک کے مذہبی گروہوں کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے عناصر نے بھی اس نامزدگی کے خلاف واویلا شروع کیا تھا۔ حتیٰ کہ تحریک انصاف کے متعدد عناصر نے اس نامزدگی کو ختم کرنے کے لئے مہم جوئی کی تھی۔ البتہ دو روز قبل وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے یہ بیان دے کر اس نکتہ چینی کو مسترد کیا تھا کہ ملک کی اقلیتیوں کو بھی مساوی حقوق حاصل ہیں اور حکومت نے عاطف میاں کو معاشی مشاورت کی کمیٹی میں شامل کیا ہے انہیں کسی مذہبی یااسلامی نظریاتی کونسل میں شامل نہیں کیا گیا۔
اس بیان سے امید پیدا ہوئی تھی کہ عمران خان کی حکومت اس متنازعہ سوال پر سخت اور اصولی مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کررہی ہے ۔ اس طرح ملک کی اقلیتوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہو گا اور انتہا پسند قوتیں پسپا ہوں گی۔ عمران خان کو عوامی مقبولیت حاصل ہے اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ ایک ناقص اور آئین سے متصادم مطالبہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرکے ملک میں اعلیٰ جمہوری اقدار کے استحکام کے لئے کام کریں گے اور اس طرح دنیا بھر میں پاکستان سرخرو ہوگا۔ حکومت نے عاطف میاں کی ماہرانہ خوبیوں اور معیشت میں ان کے قابل قدر کام کی وجہ سے ان کی خدمات حاصل کرنے کی سعی کی تھی۔ اس فیصلہ سے مذہب اور فرقہ کی بنیاد پر ملک میں تفریق اور نفرت پیدا کرنے والی قوتوں کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ ملک کی نئی حکومت ان سرکش اور گمراہ قوتوں کے سامنے سرنگوں نہیں ہوگی۔ تاہم آج صبح وزیر اطلاعات کی طرف سے اپنے ہی بیان کے برعکس عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی سے نکالنے کا اعلان کرکے حکومت کی کمزوری کو ظاہر کرنے کے علاوہ یہ واضح کیا گیا کہ ملک میں مذہبی انتہا پسند پونے دو کروڑ ووٹ لے کر کامیاب ہونے والی حکومت کو بھی بلیک میل کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔
اس پس منظر میں آج شام عمران خان نے جب قوم سے خطاب کیا اور اپنی اپیل کو صرف تارکین وطن پاکستا نیوں سے ڈیم فنڈ میں چندہ مانگنے تک محدود رکھنے پر اکتفا کیا تو پانچ برس تک نواز شریف کی حکومت کو للکارنے والا عمران خان ایک بزدل ، کمزور اور کم ہمت لیڈر کے طور پر سامنے آیا۔ 22کروڑ آبادی کے ملک کا وزیر اعظم اگر اپنی حکومت کے ایک ایسے فیصلہ کے بارے میں بات کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا ہو جو بنیادی انسانی ، اخلاقی اور قانونی اصولوں سے متصادم ہونے کے علاوہ عالمی چارٹرز کے بھی خلاف ہو اور جس کے بارے میں ملک بھر میں گزشتہ چند روز کے دوران سخت مباحث اور الزام تراشی کا سلسلہ دیکھنے میں آیا تھا۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


