آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیا ہے جس میں شہباز شریف گرفتار ہوئے ہیں؟


پنجاب کے سابق ”خادم اعلی“ اور موجودہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کو قومی احتساب ادارہ (نیب) نے گزشتہ روز آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کر لیا تو مجھے 2012ء کے وہ لمحات یاد آئے جب نیشنل انجینئیرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) کے ساتھ آشیانہ قائد ہاؤسنگ اسکیم میں بنے فلیٹس نما گھروں میں مرکزی بیڈ روم کی اندرونی چھت میں پڑنے والے کریک اور اس کے اوپری منزل پر ٹھیک اسی جگہ پڑنے والے کریک کے حل کے لئے راقم الحروف کو بلوایا گیا تھا۔ یہ کریکس ناقص تعمیر کے ساتھ ساتھ ڈیزائن فالٹ کی وجہ سے نمودار ہوئے تھے اور 3 مرلہ کے تمام گھروں میں یہ مسئلہ وقوع پزیر ہو چکا تھا۔ آشیانہ قائد اور آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیمیں چونکہ شروع سے ہی ہم چھوٹی سطح کے پرائیویٹ کام کرنے والے انجینئیرز کی نظر میں متنازعہ سیاسی پراجیکٹ تھیں لہذا راقم الحروف نے زبانی مشورہ دے کر اس معاملہ سے خود کو پرے رکھا۔ بعد میں نیسپاک نے اس معاملہ کو سیکا پاکستان (Sika) کے ماہرین سے ان کی ایک اچھی پراڈکٹ کاربن فائبر ری انفورسمنٹ پولیمر اسٹرپ کے استعمال سے حل کروا لیا جو اس مسئلہ کا واحد اور فوری حل بھی ہے۔

آشیانہ ہاؤسنگ اسکیمیں دراصل پیراگون کنسٹرکشن کے مالک ندیم ضیاء کے ذہن کا نتیجہ تھی۔ جس نے سابق 2008ء میں ن لیگی راہنماء خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کے ساتھ مل کر اس منصوبہ کا آئیڈیا شہباز شریف تک پہنچایا۔ شہباز شریف چونکہ ووٹ حاصل کرنے کے ہر اس طرح کے شور شرابا مچانے والے منصوبوں کو ہی اولیت دیتے ہیں تو انہوں نے اس منصوبہ کو زور و شور سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ پنجاب حکومت غریب اور کم آمدنی والے افراد کو سستے داموں اقساط پر شہری علاقوں میں چھت فراہم کرے گی۔

اس مقصد کے لئے پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کروا کر باضابطہ طور پر ایک خودمختار پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی) کا قیام بھی عمل میں لایا گیا اور پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے تحت فیصل آباد، ساہیوال اور لاہور میں ان رہائشی اسکیموں کا آغاز کیا گیا۔ پی ایل ڈی سی کی ابتدائی میٹنگوں میں ممبر قومی اسمبلی انجنیئر خرم دستگیر خان، چیئرمین پی ایل ڈی سی و ممبر صوبائی اسمبلی شیخ علاؤالدین، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، چیئرمین برائے خصوصی اقدامات، سیکرٹری ہاؤسنگ، کمشنر لاہور اور بنک آف پنجاب کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر کی شرکت کے بھی ریکارڈز موجود ہیں۔

اس سکیم کے تحت آشیانہ قائد نے تعمیر ہونا تھا بعد آشیانہ اقبال کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا جانا تھا۔ آشیانہ قائد ہاؤسنگ اسکیم کے پہلے مرحلہ میں لاہور میں 10 ہزار اور فیصل آباد، سرگودھا، جہلم کے لئے 3 تین ہزار گھر فراہم کیے جانے تھے۔ تین مرلہ کے گھروں کی قیمت 6 لاکھ 90 ہزار، 4 مرلہ کے گھروں کی قیمت 7 لاکھ 90 ہزار اور 5 مرلہ کے گھر کی قیمت 8 لاکھ 90 ہزار رکھی گئی۔ جبکہ مذکورہ سکیم کے تحت کل رقم کا 8 فیصد حکومت پنجاب نے خود ادا کیا جبکہ 8 فیصد مارک اپ پر پنجاب بنک نے بھی قرضہ فراہم کیا۔

پہلے مرحلے میں لاہور کے علاقے اٹاری سروبا میں 167 کنال پر 2010ء میں 2700 گھروں پر مشتمل منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور 11 مئی 2011ء کوخادم اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے خود قرعہ اندازی کے ذریعے پہلے 250 کے لگ بھگ خوش نصیب افراد میں گھروں کی چابیاں تقسیم کیں جہاں اس وقت 150 کے قریب خاندان مقیم بھی ہو گئے لیکن آج تک سوئی گیس، سیکیورٹی اورصحت و تعلیم جیسی دیگر تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اورحکومتی بلند وبانگ دعوے اور وعدے سچ ہونے کے منتظر ہیں۔

آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کو تقریروں میں اپنا گھر قرار دینے والےخادم اعلیٰ نے توکبھی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا اورنتیجہ یہ نکلا کہ 30 ارب روپے کی خطیر رقم کے یہ منصوبے گزشتہ کئی سال سے تعطل کا شکار ہیں۔ حکومت اب تک 3 ہزارکے لگ بھگ الاٹیوں سے اقساط کی شکل میں ایک ارب روپے بھی وصول کرچکی ہے مگر 250 افراد کے علاوہ ابھی تک کسی کو گھر نہیں مل سکا جبکہ ایک لاکھ درخواست گزاروں سے پراسیس فیس کی مد میں 11 کروڑ روپے کی وصولی علیحدہ کی گئی حالانکہ منصوبے کے تحت ڈھائی سال میں 9 ہزارافراد کو فلیٹس اور گھروں کا قبضہ ملنا تھا جو ابک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

ارباب اختیار کی جانب سے ان اسکیموں کو نظرانداز کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عام انتخابات 2013ء کے الیکشن سٹنٹ کے علاوہ کچھ نہیں تھا کیونکہ انتخابات سے پہلے آشیانہ اسکیموں میں گھر بسانے کے سہانے خواب دکھا کر ان کی خوب تشہیرکی گئی۔ اس اسکیم کے نام پر قومی خزانے سے کروڑوں روپے ہوا میں اڑا دیے گئے۔ اس وقت فیصل آباد میں 100 میں سے 30 افراد کو گھر تو الاٹ ہوچکے لیکن قبضہ نہیں مل سکا۔ فیصل آباد میں یہ آشیانہ اسکیم 187 کنال پر مشتمل ہے اور اس کی تخمینہ لاگت 2 ارب کے لگ بھگ ہے جبکہ ساہیوال میں 440 کنال اراضی پر مشتمل آشیانہ اسکیم کی تخمینہ لاگت بھی 2 ارب کے قریب ہے، یہاں بھی 120 گھروں میں سے صرف 77 افراد کو کئی سال سے گھر تو الاٹ کر دیے گئے مگرقبضہ نہیں دیا گیا۔

آشیانہ قائد کی جزوی تکمیل کے بعد آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کی باری آئی تو اس میں کرپشن کے نئے ریکارڈ سامنے آئے اور صرف لاہور میں ہی 3100 کنال پر مشتمل برکی روڈ پرواقع آشیانہ اقبال میں 6 ہزار 500 فلیٹس تعمیر کیے جانے تھے مگر 2 سال بعد بھی تعمیراتی کام شروع نہ ہوسکا۔

آشیانہ اقبال کے لئے پی ایل ڈی سی نے پنجاب کے 6 شہروں لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، قصور، بہاولپور، سرگودھا اور چنیوٹ میں آشیانہ ہاوسنگ اسکیم کے نام پر اربوں روپے کی زمین خریدی۔ اس کے لئے بینکوں سے قرضے لئے اور زمینوں کی خریداری میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور مالی بے قاعدگیاں بھی کیں۔ ذرائع کہتے ہیں کہ دوسری کرپشن کے علاوہ صرف کاغذات میں ہی 20 کروڑ روپے کے اضافی اخراجات کا کوئی دستاویزاتی ثبوت موجود نہیں ہے۔

آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم کے لئے حکومت نے جو زمین خریدنی تھی اس میں پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کا کردار سب سے واضح ہے۔ پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں خواجہ سعد رفیق، ان کے بھائی سلمان رفیق بھی پارٹنر ہیں جبکہ اس کے مالک ندیم ضیاء ہیں جن کے دو بھائی منیر ضیاء اور عمر ضیاء نیب کی حراست میں ہیں۔ زمینوں کی خریداری ایک فرنٹ مین محمد کاشف کے ذریعہ کی گئی جو نیب کی حراست میں ہے۔

اپنے اقبالی بیان زیر دفعہ 164 میں محمد کاشف نے کہا کہ لوگ میرے پاس زمینوں کے معاملات لے کر آتے تھے اور مشاورت کرتے تھے۔ 2014ء میں 4 ایکڑ زمین کی فروخت کے لئے اپریل 2014ء میں پیراگون کے خالد حسین نامی شخص نے زمین خریدنے کے لئے رابطہ کیا۔ ایک زمیندار محمد اکبر نے 77 لاکھ 50 ہزار کے عوض اپنی 4 ایکڑ زمین فروخت کی۔ اور محمد اکبر کو رقم کا چوتھا حصہ بطور بیعانہ دیا گیا۔ یہ سارے معاملات پیرا گون کے دفتر میں بیٹھ کر حل کیے گئے۔ اس کا طریقہ یہ طے کیا جاتا تھا کہ جہاں پراجیکٹ لگانا ہوتا تھا وہاں پیراگون ہاؤسنگ والے پہلے سے سستے داموں زمین خرید لیتے تھے اور پراجیکٹ کو انہی زمینوں پر لگوانے کی مکمل منصوبہ بندی کر لیتے تھے۔ اس چکر میں مبینہ طور پر پی ایل ڈی سی والوں کی پوری آشیر باد شامل ہوتی تھی۔

آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم کی تعمیر کے لئے جس کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا وہ پیراگون ہاؤسنگ کی ذیلی کمپنی بسم اللہ انجینئیرنگ کمپنی ہے جس کا مالک شاہد شفیق یے جو نیب کے زیر حراست ہے۔ آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے 3 کمپنیوں میں شراکت داری کرکے ایک جوائنٹ وینچر ترتیب دیا گیا جو کہ صریحاً پپرا رولز کی خلاف ورزی ہے اور اس میں بسم اللہ انجینئرنگ، اسپارکو کنسٹرکشن ڈی ایچ اے لاہور اور ایک تیسری کمپنی کاسا ڈویلپرز کو شامل کیا گیا۔

ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے اس کنسورشیم جوائنٹ وینچر میں بسم اللہ کمپنی کے 90 فیصد شیئرز بھی دکھائے گئے حالانکہ اصل صورتحال مختلف تھی۔ شاہد شفیق کے علاوہ بسم اللہ انجینئیرنگ کمپنی میں پیراگون کے مالک ندیم ضیاء کے بھائی منیر ضیاء بھی پارٹنر ہے جبکہ اس کی معاونت تیسرا بھائی عمر ضیاء بھی کرتا رہا ہے۔ منیر ضیاء اور عمر ضیاء دونوں شاہد شفیق کے ہمراہ نیب کی حراست میں ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں