مطالعہ پاکستان کی آخری کتاب۔ سچ کیا جھوٹ کیا


zunaira saqibگزشتہ تحریر پر کافی تنقید ہوئی۔ کچھ پڑھنے والوں نے کہا کہ پاکستان تو ایسا نہیں ہے۔ کچھ کہنے لگے ہم بھی اسکول سے پڑھ کر آئے ہیں ہم نے کبھی ایسا کوئی ٹیچر نہیں دیکھا۔ ہمارے ساتھ بھی اقلیتیں پڑھتی تھیں ان سے تو کبھی ہم نے برا سلوک ہوتے نہیں دیکھا۔ کچھ لوگوں نے الزام دے ڈالا کہ پیسے لے کر یہ سب لکھا گیا ہے اور مجھے انڈیا یا اسرائیل ہجرت کر جانی چاہئے۔ اب ہجرت بندے نے کرنی ہی ہے تو کینیڈا یا آسٹریلیا کی طرف کرے گا نا! انڈیا میں کونسے لڈو مل رہے ہیں اور اسرائیل میں تو آپ کو پتا ہے ہمارا داخلہ ہی ممنوع ہے۔ بہرحال۔۔۔ فیصلہ یہ کیا کہ بجائے ایک ایک کو جواب دینے کے اس تحریر میں وہ ریفرنس دے دوں جس کو دیکھ کر شاید دوستوں کی آنکھیں کھل جائیں۔ اگر آپ کے ہاضمے کے لئے یہ تحریر بھی زود ہضم نہ ثابت ہو تو مہربانی فرما کر یہاں پر ہی صلواتیں سنا دیجئے گا۔ انباکس میں ایک ایک کر کے جواب دینا مشکل ہوتا ہے۔

مطالعہ پاکستان کی آخری کتاب

پاکستان میں اسلامیات اور مطالعہ پاکستان لازمی مضامین ہیں۔ تاہم اگر آپ غیر مسلم ہیں تو آپ کے لئے اسلامیات لازمی مضمون نہیں ہے۔ آپ اس کی جگہ ایتھکس یعنی اخلاقیات پڑھ سکتے ہیں۔ بات تو بہت اچھی ہے۔ لیکن کیا آپ کو پتا ہے کہ پاکستان میں کتنے اسکول اخلاقیات کا مضمون پڑھاتے ہیں؟ چلیں آپ کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ پچھلے سال کے پی کے کی حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ اخلاقیات کی کتابوں پر کام شروع کیا ہے۔ اس سے پہلے اخلاقیات کی کتاب کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ یہی حال سندھ میں ہے۔ جہاں جامشورو بورڈ نے پہلی دفعہ اخلاقیات کی کتاب کو نصاب میں شامل کیا ہے۔ یہ ہے جناب آپ کے سرکاری اسکولوں کا حال۔ جب کتاب ہی نہیں، نصاب ہی نہیں تو بچوں نے اسلامیات ہی پڑھنی ہے۔ میں خود بہت سارے طالب علموں سے ملی ہوں جو کہ کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن چاروں قل ان کو فر فر آتے ہیں۔ وجہ؟ اخلاقیات کا مضمون تھا نہیں تو اسکولوں میں اسلامیات پڑھنا پڑی۔ اب پرائیویٹ اسکول کی طرف آ جائیں۔ سوائے چرچوں سے منسلک اسکولوں کے (جیسے کے کانونٹ وغیرہ) زیادہ تر اسکول اس مضمون کو آفر ہی نہیں کرتے۔ اس کی وجہ؟ وجہ یہ ہے کہ 50 بچوں کی کلاس میں بمشکل 1-2 بچے اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب 1-2 بچوں کے لئے ایک ٹیچر رکھی جائے۔ یہ تو منافع نہ ہوا نا۔

اب بات کرتے ہیں کہ ہماری نصاب کی کتابوں میں اقلیتوں کے خلاف کہاں جھوٹ بولا جاتا ہے اور نفرت سکھائی جاتی ہے؟ بے شمار مثالیں ہیں جو کہ یہاں بیان کی جا سکتی ہیں لیکن تھوڑے کو بہت سمجھنے پر اکتفا کرتے ہوئے اور کچھ پیش خدمت ہیں۔ باقی آپ خود ڈھونڈ لیجیے، اچھے خاصے پڑھے لکھے تو ہیں۔

فیڈرل منسٹری آف ایجوکیشن کی کی سوشل اسٹڈیز کی کتاب جو کہ کلاس 4 کے لئے لکھی گئی ہے کچھ یہ بات کرتی ہے:

“The Muslims of Pakistan provided all the facilities to the Hindus and Sikhs who left for India. But the Hindus and Sikhs looted the Muslims in India with both hands and they attacked their caravans, buses and railway trains. Therefore about 1 million Muslims were martyred on their way to Pakistan.”

جی ہاں جانی نقصان ہوا تھا بہت زیادہ ہوا تھا۔ لیکن ہم بھی دودھ دھلے تو تھے نہیں۔ یہاں جو مارا ماری آپ نے ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ کی ہیں اس کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ بس 10 سال کے بچے کے دماغ میں میں یہ بات ڈال دیں گے ہم نے ان کو کچھ نہ کہا ہاں انھوں نے ہمارے ساتھ بہت خون خرابہ کیا۔ یہ بھی آپ مذہب کے نام پر سکھا رہیں ہیں۔ آگے چلیں اسی کتاب میں لکھا ہے کہ:

“India invaded Lahore on the 6th of September, 1965 without any ultimatum. After 17 days, the Indian authorities laid down arms acknowledging the bravery and gallantry of the Pak Army and civilians.”

جھوٹ پر جھوٹ۔۔ تاشقند معاہدے اور سیز فائر کا ذکر ہے۔ نہ پاکستان نے ہتھیار ڈالے تھے اور نہ انڈیا نے۔ ہاں پاکستانی کی فوج بہت بےجگری سے لڑی اور اپنے سے بہت بڑی آرمی کو ناکوں چنے چبوا دیے لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ یہ جنگ آپریشن جبرالٹر کے نتجے میں شروع ہوئی تھے۔ عرض ہے کہ اور کچھ نہیں تو شہاب نامہ ہی پڑھ لیں جس میں بہت سے لوگوں کے پسندیدہ قدرت اللہ شہاب (میرے نہیں) نے اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ جنگ اسی آپریشن کے نتیجے میں چھڑی تھی۔ جب ہم جھوٹ پڑھاتے ہیں تو بچے یہ سیکھ لیتے ہیں کہ ہمارا ملک سب ٹھیک کرتا ہے اور زیادتی ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوتی ہے۔ اب یہ پوچھنے کی جرات تو مجھ میں نہیں کہ کارگل جنگ کس وجہ سے چھڑی تھی کیونکہ بہت سے لوگ اس کو بھی دل پر لے جائیں گے۔ خیر بات کہیں اور نکل گئی چلیں نفرتوں کی طرف واپس چلتے ہیں۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی دسویں جماعت کی کتاب کچھ یہ بیان کرتی ہے:

“Because the Muslim religion, culture and social system are different from non-Muslims, it is impossible to cooperate with Hindus.”

جب آپ سیدھا سیدھا ہندوؤں سے اتنی نفرت سکھائیں گے تو خاک اس ملک میں امن آئے گا۔ 5-15 سال کے بچے یہ سب پڑھ پڑھ کر بڑے ہوتے ہیں۔ ہندوؤں کو اپنا قدرتی دشمن سمجھتے ہیں۔ مار دھاڑ کو، جنگوں کو اپنا جینے کا طریقہ سمجھتے ہیں۔ پھر آپ کہتے ہیں امن نہیں ہے اس ملک میں۔ کے پی کے کی ایک کتاب بچوں کو یہ سکھاتی ہے کہ اگر خود جہاد نہیں کر سکتے تو کم از کم جہاد کرنے والوں کی مالی مدد کرو۔ پھر لوگ پوچھتے ہیں یہ جو مدرسے خود کش حملہ آور تیار کرتے ہیں ان کی فنڈنگ کہاں سے آتی ہے۔

بنگلہ دیش کے بارے میں بھی سن لیجئے۔  ایک اور ٹیکسٹ بک کیا کہتی ہے:

“A large number of Hindu teachers were teaching in the educational institutions in East Pakistan. They produced such literature which created negative thinking in the minds of Bengalis against the people of West Pakistan.”

کہتے ہیں آدھا سچ جھوٹ سے زیادہ برا اور خطرناک ہوتا ہے۔ بس یہ وہ آدھا سچ ہے جو ہم اپنی آنے والی نسلوں کے دماغوں میں گھول رہے ہیں۔ یہیں سے بچے سیکھتے ہیں کہ کیسے اپنی غلطیاں ہمیشہ دوسروں کے سروں پر ڈال کر بری الذمہ ہو جانا ہے۔ یہیں سے بچے سیکھتے ہیں کہ اس ملک میں جو مقدس گائے ہے اس کے بارے میں بات کرنا بھی ممنوع ہے۔

آنکھیں کھول کر جینا سیکھ لیجئے۔ ریت میں سر دے کر کہتے ہیں اس ملک میں کچھ غلط نہیں ہو رہا۔ غلطی تسلیم کرنا خرابی کو سدھارنے کا سب سے پہلا قدم ہے یہ مانا جائے کہ کوئی غلطی ہے۔ نہ ہم دودھ کے دھلے ہیں نہ یہ ملک ہمیشہ معجزوں کے سہارے چلے گا۔ آئیں آنکھیں کھولیں اور کچھ نہیں تو اپنے دل سے نفرت کی سیاہی مٹانی شروع کریں۔ لمبا سفر ہے لیکن شروع تو کرنا چاہیے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “مطالعہ پاکستان کی آخری کتاب۔ سچ کیا جھوٹ کیا

  • 07-06-2016 at 6:37 pm
    Permalink

    بہت اچھا لکھا ھے ۔ھمیں سچ کا سبق پڑھانا چاھئے۔ اگر کچھ وقت نکال کرانڈیا اور بنگلہ دیش میں پڑھائے جانے والی تا ریخ کا بھی اسی طرح تجز یہ ھو جاتا تو بات مکمل ھو جا تی اور یکطرفہ اپنے آپ کو قصور وار نہ ٹہراتے۔

    • 07-06-2016 at 9:05 pm
      Permalink

      excellent

  • 08-06-2016 at 3:15 am
    Permalink

    محترم اسدالله خان صاحب يه ضروری ہے کہ ہم بنگلہ دیش اوربھارت کے ساتھ نصاب کا تقابلی جائزہ لیں؟ چلیں مان لیا کہ ان کا نصاب بھی انہی خامیوں کا شکار ہے تو کیا اس سے ہمارا مسئلہ حل ہوجائیگا۔جو بات میں سمجھ پایا توصاحبہ قلم نے تاریخ کی نصابی کتب میں ان متنازعہ تشریحات اورتاریخ کی ادھوری تدوین کا معاملہ اٹھایا جس کی وجہ سے اس ریاست کے جغرافیائی حدود میں رہنے والی اقلیتیں متاثر ہورہی ہیں۔۔ہندوستان بے شک ہمارا حریف ملک ہے لیکن نصابوں میں شامل تشریحات سے ہم بھارت میں رہنے والے ہندووں یا بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے کارکنوں کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ اگر وہ اپنی تاریخ کو مسخ کرنا چاہتے ہیں تو بے شک انہیں کرنے دیں لیکن اپنے بچوں کو تو وہ پڑھاو کہ جس پر عمل کرکے وہ ماضی میں کی جانیوالی غلطیوں کا اعادہ تو نہ کرے۔ اور یہاں کے ہندووں کو کم سے کم یہ تو تحفظ ہوں کہ یہ ریاست اس کے مذہبی تشخص کی دل وجان سے عزت کرتی ہیں کہ بقول اعتزاز صاحب ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے جو ہر بچے سے پیارکرتی ہے

Comments are closed.