تیرہ سال کی بچیوں کا سچا اور پکا فیصلہ

تیرہ چودہ سال کی ہندو بچیوں کے اسلام قبول کرنے کی خبر سے دل کو گونا گوں اطمینان محسوس ہوا۔ میں خود کبھی 13 سال کی تھی اور اب میری بچی 13 سال کی ہے لہٰذا اس معاملے میں کچھ تجربہ تو ہو ہی گیا ہے۔ لوگ جو مرضی کہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ 13 سال کی عمر میں انسان خاص کر بچیاں اپنے فیصلے لینے کے قابل ہو جاتی ہیں۔ جو لوگ 13 سال کی بچی کو بچی کہہ رہے ہیں ان کے علم میں ہونا چاہیے کہ اس عمر میں بچی بچی نہیں رہتی بلکہ بالغ ہو جاتی ہے۔

میں کوشش کر رہیں ہوں کہ اپنی بچی کی بھی تربیت ایسے کروں کہ وہ ٹھوک بجا کر فیصلہ کر سکے اور پھر اس پر دل و جان سے قائم بھی رہے۔ بس ابھی کوشش جاری ہے۔ کچھ اوپر نیچے چلتا رہتا ہے لیکن مجھے امید ہے کچھ دن میں وہ بھی روینا اور رینا کی طرح اپنے فیصلے خود لے سکے گی۔

Read more

شکر کریں عزت بچ گئی

گئے وقتوں کی بات ہے۔ اٹھارہ انیس سال عمر تھی۔ ہم گھر کے اوپر والے حصے میں اپنے بھائی کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ نیچے والے حصے کے باورچی خانے سے اوپر کے گھر کو سیڑھیاں جاتی تھیں۔ سیڑھیوں کے اختتام پر اوپر کے گھر کا دروازہ تھا۔ دروازے کے بلکل ساتھ ایک ایک چھوٹی سی بالکنی تھی۔ جس کی اونچائی کی وجہ سے وہاں سے کسی کا آنا ممکن نہ لگتا تھا۔ شاید اسی لئے ہم نے کبھی مرکزی دروازہ لاک کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ ہمارے کمرے کا دروازہ مرکزی دروازے کے بلکل ساتھ ہی تھا۔ اوپر والے گھر میں تین کمرے تھے اور تینوں کمروں کے دروازے سامنے برآمدے میں کھلتے تھے۔ جو ہم رات کو لاک کر کے سویا کرتے تھے۔شومئی قسمت ایک رات چوروں نے ساتھ والے گھر کی چھت سے بالکنی تک رسائی حاصل کر لی۔ سردیوں کے دن تھے اور ہم خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ اچھی یا بری قسمت سے نیند بے حد کچی واقعی ہوئی ہے۔ اتنی کچی کہ کوئی دروازے کو بے آواز طریقے سے بھی کھولے تو آنکھ کھل جاتی ہے۔ صبح چار بجے کا وقت تھا لیکن ابھی اندھیرا ہی تھا۔ کمرے کا دروازہ کسی نے دبے پاؤں کھولا اور باہر سے روشنی کی لکیر اندر آئی۔ آنکھ جھٹ سے کھل گئی ہم نے سوچا چھوٹا بھائی ہو گا جو اکثر رات کو ہمارا ٹیپ ریکارڈر چرانے آتا تھا۔

Read more

ویلے بھی اور غریب بھی۔۔۔

کچھ دن پہلے شومئی قسمت سے رش آور میں براستہ مری روڈ راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں مریض کی عیادت کو جانا تھا۔ جس طرح پاکستان میں لڑکیاں اپنے آپ کو بچا بچا کر چلتی ہیں تو ویسے ہی ہمارے میاں گاڑی بچا بچا کر چلا رہے تھے۔ ہم پسنجر سیٹ پر بیٹھے پاکستان کی…

Read more

شادی ہال میں ایک لڑکی

اسلام آباد کے سب سے پوش ہال میں ہونے والی شادی کا کھانا کھلا تو کچھ انتظار کے بعد میں بھی پلیٹ کر کھانے کی میز کی طرف بڑھی۔ مجھ سے آگے لائن میں ایک 13۔ 14 سال کی لڑکی پلیٹ لے کر کھڑی تھی۔ چال ڈھال اور حلیے سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ کسی گھرانے کے ساتھ آنے والی ملازمہ ہے۔ آھستہ آھستہ آگے بڑھتے یہ لڑکی ہر ڈش سے تھوڑا تھوڑا کھانا ڈالتی جا رہی تھی۔ میں بھی صبر سے پیچھے آھستہ آھستہ آگے بڑھ رہی تھی

Read more

تمھارے گھر ماں بہن نہیں ہے؟

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ عاطف اسلم نے اپنے ایک کنسرٹ کے دوران ایک لڑکی کو ہراساں ہوتے دیکھ کر گانا گانا روک دیا۔ لڑکی کو نہ صرف وہاں سے نکالا بلکہ ہراساں کرنے والوں سے کہا "یہاں تمہاری ماں بہن بھی ہو سکتی تھی"۔ عاطف کا بہت شکریہ لیکن یقین جانیے مجھے یہ…

Read more

پاکستان میں مرد ہونا آسان نہیں

پاکستان میں عورت ہونا ایک مشکل کام ہے۔ یہ تو آپ نے کئی بار پڑھا اور سنا ہو گا۔ ویسے بھی عورتوں کی جو حالت پچھلے ستر برسوں میں رہی ہے، اس کے بعد اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ سب لوگ اسی بات پر شور مچاتے ہیں۔ لیکن اس سارے شور…

Read more

افغانستان کی بچہ پوش لڑکیاں

کل نادیہ ہاشمی کی کتاب ”دا پرل دیٹ بروک ایٹس شیل“ ختم کی۔ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ اٹھا لیں تو ختم کیے بغیرچھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کتاب کی دکھ بھری کہانی دو لڑکیوں کے گرد گھومتی ہے جو افغانستان میں بچہ پوش بن کر زندگی سے لڑتی ہیں۔ یہ بچہ پوش کیا…

Read more

زینب کے قاتل کو پھانسی ہو گئی، جرم کو کب پھانسی ہو گی؟

زنیب کے قاتل کو آج تختہ وار سے لٹکا دیا گیا۔ کچھ سالوں پہلے ممتاز قادری کو لٹکا دیا گیا تھا۔ خوشی کے ساتھ کچھ دل بجھا سا ہے۔ میری کسی قسم کی کوئی ہمدردی ان دونوں کے ساتھ نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی دل کیوں بھاری ہے؟ شاید اس لئے کہ شدت سے اس…

Read more

فمینسٹ بلاؤں کی آزادیاں

اک عجب سی خواہش بچپن سے رہی ہے کہ ہفتے میں، یا مہینے میں، یا چلیں سال میں ایک دن ہو جب عورتیں مردوں کی جگہ لے لیں۔ ان کی طرح آزادی سے، ذرا پھیل کر بازار میں گھوم پھر سکیں۔ یہ خواھش پہلی دفعہ کب پیدا ہوئی، مجھے کچھ ٹھیک سے یاد نہیں ہے۔…

Read more

پاکستان میں بچوں کا جنسی استحصال

 اپنی ڈاکٹریٹ کے سلسلے میں مجھے کئی غیر منافع بخش تنظیموں، این جی اوز،  کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق ہوا ۔ اس شعبہ کے ساتھ کام کرنے پرشدت سے احساس ہوا کہ پاکستان میں ان تنظیموں کے بارے میں پائے جانے والے منفی جذبات درست نہیں ہیں۔ جہاں اس بات سے بالکل انکار نہیں کیا جا…

Read more
––>