زندگی دریا کی طرح ہے۔۔۔ جو بہتا رہے تو بہتر ہے۔


ایک مشرقی محبوبہ کی طرح دھیرے دھیرے مجھ پر یہ راز بے نقاب ہوا کہ زندگی ایک دریا کی طرح ہے جو بہتا رہے تو بہتر ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دریا کا ایک حصہ اگر بہنا بند کر دے تو وہ جوہڑ بن جاتا ہے جس میں پہلے کاہی جمتی ہے اور پھر اس سے بدبو آنے لگتی ہے۔

زندگی کے اس راز سے سب سے پہلے میرا تعارف میڈیکل کالج میں ہوا۔ جب میں جسمانی صحت اور بیمای کے راز سیکھ رہا تھا تو میں نے اساتذہ اور طب کی کتابوں سے یہ جانا کہ صحتمند انسان کے دل کی نالیوں میں خون ہر دم بہتا رہتا ہے۔ اگر وہ خون کی گردش رک جائے تو انسان کو ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے اور وہ مر بھی سکتا ہے۔ دل کی نالیوں کی طرح اگر جسم کے کسی اور حصے کی نالیاں بند ہو جائیں تو انسان کے جسم کا وہ عضو مفلوج ہو سکتا ہے اور مر بھی سکتا ہے۔

خون کی نالیوں کی طرح نظامِ انہضام کا بھی یہی عالم ہے۔ اگر ہماری آنتوں میں خوراک کی گردش رک جائے تو پہلے قبض ہوتا ہے اور پھر INTESTINAL OBSTRUCTION ہوتی ہے جس سے انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

خون کی نالیوں اور نظامِ انہضام کی طرح انسانی دماغ اور اعصاب کا بھی یہی عالم ہے۔ اگر اعصابی نظام میں برقی لہریں چلنی بند ہو جائیں تو انسان کے جسم کا کوئی حصہ بے حس بھی ہو سکتا اور مفلوج بھی۔

ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ انسانی جسم کا ہر نظام دریا کی طرح بہتا رہے کیونکہ یہی جسمانی صحت کا راز ہے۔

جسمانی صحت کی طرح ذہنی صحت کا دارومدار بھی حرکت پر ہے۔ صحتمند انسان اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ جو ان کا اظہار نہیں کرتے وہ اکثر کڑھتے رہتے ہیں اور آہستہ آہستہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنے کلینک میں ہم ان مریضوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار زبانی یا تحریری طور پر کریں تا کہ ان کے جذبات اور خیالات کا دریا دوبارہ بہنا شروع کر دے اور وہ ایک صحتمند اور بامعنی زندگی گزار سکیں۔

جیسے ڈاکٹر اور ماہرینِ نفسیات مریضوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اسی طرح شاعر اور ادیب جرنلسٹ اور دانشور عوام کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہیں۔ عباس تابش کا شعر ہے

سکوتِ دہر رگوں میں اتر گیا ہوتا
اگر میں شعر نہ کہتا تو مر گیا ہوتا

ایک جینون شاعر کی نظمیں اور ایک جینون دانشور کی تحریریں عوام کے جذبوں کو زبان دیتی ہیں۔

جسمانی اور ذہنی صحت کی طرح سماجی صحت کا دارومدار بھی اسی راز میں ہے کہ دولت اور طاقت چند ہاتھوں ’چند خاندانوں اور چند اداروں کے قبضے میں نہ آ جائے۔ ایسا ہو تو عوام بہت دکھی رہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے حقوق اور مراعات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ اور خاندان جو دولت اور طاقت کی ذخیرہ اندوزی کرتے رہتے ہیں اس راز سے واقف نہیں ہوتے کہ مکافاتِ عمل اٹل ہے۔ ایسے لوگ جلد یا بدیر خود نفسیاتی‘ سماجی اور سیاسی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ جیسے سورج کی روشنی ہو یا تازہ ہوا‘ چاند کی چاندنی ہو یا سمندر کا پانی وہ سب انسانوں کی مشترکہ ملکیت ہوتا ہے اسی طرح ہر معاشرے میں سیاسی طاقت اور معاشی دولت بھی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے۔ جمہویت میں عوام رہنماؤں کو ان پر حکم چلانے کے لیے نہیں ان کی خدمت کے لیے چنتے ہیں اور وہ رہنما بھی چند سالوں کے بعد بدل دیے جاتے ہیں تا کہ نئے لوگ آئیں اور سیاست کا دریا بہتا رہے۔ آمریت میں وہ دریا بہنا رک جاتا ہے اور بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ جب دولت اور طاقت ایک اقلیت کے پاس جمع ہو جاتی ہے تو اکثتریت اس سے محروم رہتی ہے۔

جب زندگی کا دریا بہہ رہا ہوتا ہے تو لوگ اپنی چیزیں خوشی سے دوسروں سے شیر کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنی دکھ اور سکھ‘ دولت اور طاقت میں شریک کرنے سے خوشی محسوس کرتے ہیں۔

مجھے یہ کالم لکھتے ہوئے لوک ورثہ کی ایک کہانی یاد آ رہی ہے۔ دانائی کی بات جہاں بھی ملے میں اسے اپنے ذہن اور دل میں سنبھال رکھتا ہوں۔

ایک پادری نے خدا سے کہا کہ میں ہر ہفتے اپنی قوم کو جنت دوزخ کی کہانیاں سناتا رہتا ہوں لیکن میں نے کبھی جنت اور دوزخ دیکھے نہیں۔ اے خدا کیا میں دوزخ دیکھ سکتا ہوں؟ خدا نے پادری کی دعا قبول کی اور کہا کہ سیدھا جاؤ تمہیں بائیں طرف ایک دروازہ نطر آئے گا اسے کھولو اور اندر جاؤ وہاں تمہیں دوزخ نطر آئے گی۔ پادری نے حکم پر عمل کیا اور جب بائیبں دروازے سے داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بہت بڑا برتن ہے جس میں لذیذ کھانا ہے لیکن اس کے چاروں طرف جو مرد اور عورتیں بیٹھے ہیں وہ سب بھوکے اور غمزدہ ہیں۔ ان مردوں اور عورتوں میں کالے بھی ہیں گورے بھی مشرقی لوگ بھی ہیں اور مغربی بھی۔ جب اس پادری نے غور سے انہیں دیکھا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ لوگ بھوکے اور غمزدہ کیوں ہیں تو اسے یہ نظر آیا کہ انسانوں کے ہاتھوں میں چھ فٹ لمبے چمچ ہیں۔ وہ اس چمچ سے کھانا اٹھا تو لیتے ہیں لیکن اپنے آپ کو کھلا نہیں سکتے اسی لیے وہ سب بھوکے اور غمزدہ ہیں۔

پادری واپس آیا تو اس نے جنت دیکھنے کی دعا کی۔ خدا نے کہا کہ اس دفعہ سیدھا جاؤ اور تمہیں دائیں طرف ایک دروازہ نطر آئے گا اس دروازے سے داخل ہو تو تمہیں جنت نظر آئے گی۔ پادری بڑے شوق سے گیا۔ دروازہ کھولا تو کیا دیکھتا ہے کہ اسی طرح کا بڑا برتن ہے اسی طرح کے ہر رنگ ’ نسل اور قوم کے مرد اور عورتیں ہیں اور ان کے ہاتھوں میں چھ فٹ کے چمچ ہیں لیکن وہ سب ہنس رہے ہیں اور خوشحال ہیں۔ پادری نے ان کی خوشی کا راز جاننے کی کوشش کی تو اسے اندازہ ہوا کہ ان لوگوں نے زندگی کا یہ راز جان لیا تھا کہ وہ چمچ سے کھانا اٹھا کر اپنے سامنے والے انسان کو کھلاتے تھے۔ گورے کالوں کو‘ مرد عورتوں کو اور مغربی لوگ مشرقی لوگوں کا۔

پادری جنت اور دوزخ کا راز جان کر بہت خوش ہوا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں انسان ایک دوراہے پر کھڑے ہیں ایک راستہ جنگ اور تباہی کی طرف جاتا ہے دوسرا امن اور آشتی کی طرف۔ یا تو انسان اجتماعی خود کشی کر لیں گے یا ارتقا کی اگلی منزل کی طرف بڑھیں گے۔ ارتقا کی طرف جانے والے یہ راز جاتے ہیں کہ ہم سب انسان ایک ہی خاندان کے افراد ہیں اور ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے۔ اور یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم یہ راز جان لیں کہ زندگی دریا کی طرح ہے جو بہتا رہے تو بہتر ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 159 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail