ڈاکٹر اسلم فرخی: اردو ادب کا ایک تابناک باب


????????????????????????????????????

ڈاکٹر اسلم فرخی دنیائے ادب کی ایک ایسی مایہ ناز شخصیت تھے جنھیں ادب سے تعلق رکھنے والے بحیثیت، خاکہ نگار، محقق اور نقاد جانتے تھے۔ فرخی صاحب ایک ہمہ گیر شخصیت کے حامل تھے انھوں نے بچوں کے لیے کہانیاں بھی تحریر کیں۔ بچوں کی کہانی ’’قلفی والی سائیکل‘‘ کے دیباچے میں تحریر کرتے ہیں کہ میری دوچھوٹی چھوٹی پوتیاں انوشے اور غزل کتابیں پڑھنے کی بہت شوقین تھیں ایک دن ایک انگریزی کہانی دے کر کہا کہ دادا آپ بھی پڑھیں، جب میں پڑھ چکا تو انوشے نے کہا کہ یہ کتاب تو انگریزی میں ہے جن بچوں کو انگریزی نہیں آتی وہ کیسے پڑھیں گے آپ اسے اردو میں ترجمہ کر دیجیے، انوشے کے کہنے پر 1997میں انھوں نے اس کہانی کا ترجمہ کیا بعد میں بچوں کے لیے متعدد کہانیاں تحریر کیں۔

’’سات آسمان‘‘ اسلم فرخی کے تحریر کردہ خاکوں کا مجموعہ ہے جوانھوں نے برما شیل کے سالانہ مشاعروں میں پڑھنے کے لیے تحریر کیے تھے ان خاکوں میں میر تقی میرؔ، مرزا رفیع سودا، ؔ خواجہ میر دردؔ، غلام ہمدانی مصحفی، خواجہ حیدر علی آتشؔ، شیخ امام بخش ناسخؔ، محمد ابراہیم ذوق ؔ کے خاکے شامل ہیں۔ یہ خاکے بعد میں آصف فرخی کے کہنے پر انھوں نے شائع کروائے تھے ان خاکوں کے حوالے سے ڈاکٹر اسلم فرخی کا کہنا تھا کہ ’’ یہ کوئی تحقیقی، تنقیدی یا علمی کارنامہ نہیں، من کی موج ہے، عام قاری کے لیے اردو کے سات آسمانوں کا مرقع ہے، شاید آپ کو پسند آئے۔

ڈاکٹر اسلم فرخی نے ’’ہمارے نامور ادیب اور شاعر مولانا حسرت موہانی‘‘ کا خاکہ لکھا اس خاکے میں حسرت موہانی کی شخصیت کی بھر پور عکاسی نظر آتی ہے اور فرخی صاحب کا فن عروج پر نظر آتا ہے۔

ڈاکٹر اسلم فرخی کا کہنا تھا کہ میری پہچان خاکہ نگاری کے علاوہ وہ کام ہے جو میں نے حضرت سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء کے حوالے سے کیا ہے۔ آپ نے نظام الدین اولیاء کے بارے میں چھ کتابیں لکھیں۔ آپ اولیاء اللہ سے غیر معمولی عقیدت رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ نے چھوٹی چھوٹی کتابوں کا سلسلہ بھی شروع کیا ۔

اپنی کتاب ’’ صاحب جی سلطان جی ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ حضرت سلطان جی کا ارشاد ہے ’’قفل سعادت کی متعدد کنجیاں ہیں، واسطہ ہر کنجی سے رکھنا چاہیے، کیا معلوم کون سی کنجی کام کر جائے، ایک سے کام نہ ہو تو دوسری سے۔ ۔ ۔ ۔ اس سے نہ کھلے تو کسی اور سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ناچیز مؤلف نے اس ارشاد کی روشنی میں ’’نظام رنگ‘‘ کا مرقع سجایا تھا کہ اس عاجز کی سعی و فکر کے مطابق یہ بھی قفل سعادت کی ایک کلید تھی ۔ اب ’’صاحب جی سلطان جی‘‘ کی محفل آراستہ کی ہے تاکہ ایک اور کلید ہاتھ آئے قفل کھل جائے اور

’’ہمائے اوجِ سعادت بدام ما افتد‘‘

انھوں نے ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا، غزلیں بھی لکھیں اور نظمیں بھی مگرخود کو کبھی شاعر کی حیثیت سے متعارف نہیں کروایاان کا کہنا تھا کہ نہ شاعری میری شناخت بنی اور نہ تحقیق۔ یہاں ان کی ایک غزل درج ذیل ہے جس سے بحیثیت شاعر ان کی ادبی حیثیت کا بہ خوبی اندازی کیا جاسکتا ہے۔

aslam farrukhiآگ سی لگ رہی ہے سینے میں

اب مزا کچھ نہیں ہے جینے میں

آخری کشمکش ہے یہ شاید

موج دریا میں اور سفینے میں

زندگی یوں گزر گئی جیسے

لڑکھڑاتا ہو کوئی زینے میں

دل کا احوال پو چھتے کیا ہو

خاک اڑتی ہے آبگینے میں

کتنے ساون گزر گئے لیکن

کوئی آیا نہ اس مہینے میں

سارے دل ایک سے نہیں ہوتے

فرق ہے کنکر اور نگینے میں

زندگی کی سعادتیں اسلم

مل گئیں سب مجھے مدینے میں

ڈاکٹر اسلم فرخی 23 اکتوبر 1923ء کو لکھنؤ ہندوستان میں پیدا ہوئے، ان کا سابق وطن فتح گڑھ، ضلع فرخ آباد تھا۔ انھوں نے ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جو صدیوں سے علم و ادب کا گہوارہ تھا۔ ان کے خاندان کے ہر شخص کو شعرو سخن سے لگاؤ تھاایسے ادبی ماحول کا اثر اسلم فرخی پر پڑنا فطری تھا یا یہ کہیے کہ ذوقِ سخن ان کو خاندانی ورثے میں ملا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد وہ درس و تدریس سے منسلک ہو گئے۔ فرخی صاحب نے سندھ مسلم کالج کراچی، سینٹرل گورنمنٹ کالج کراچی اور جامعہ کراچی میں اردو کے استاد کے فرائض انجام دیے۔ جامعہ کراچی میں انھوں نے ناظم شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور جامعہ کراچی کے رجسٹراربھی رہے۔ انہوں نے پی ایچ۔ ڈی اور ایم فل کے متعدد مقالوں کی نگرانی کے فرائض انجام دیے۔

ان کی تالیفات و تصانیف مندرجہ ذیل ہیں۔

(1)’’محمدحسین آزاد۔ حیات و تصانیف‘‘

(2) ’’تذکرہ گلشن ہمیشہ بہار‘‘ تدوین

(3) ’’چاند بی بی سلطانہ‘‘ زوجہ وزیر حسن

(4) ’’قتیل و غالب‘‘ اسد علی انوری

(5) ’’اردو کی پہلی کتاب‘‘ آزاد کی درسی کتابیں

(6) ’’نیرنگ خیال‘‘ محمد حسین آزاد

(7) ’’قصص ہند‘‘ محمد حسین آزاد

(8) ’’ادعیتہ القرآن‘‘ ڈپٹی نذیر احمد

(9) ’’نظام رنگ‘‘ حضرت سلطان جی کا خاکہ

(10) ’’گل دستہ احباب‘‘ خاکے

(11) ’’آنگن میں ستارے‘‘ خاکے

(12) ’’فرید و فرد فرید‘‘بابا فرید

(13)’’دبستان نظام‘‘ (نظام الدین اولیا)

(14) ’’بچوں کے سلطان جی‘‘

(15) بچوں کے رنگا رنگ امیر خسرو‘‘

(16) ’’فرمایا سلطان جی نے‘‘

ڈاکٹر اسلم فرخی براڈ کاسٹر کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ ریڈیو پاکستان کراچی سے بہ حیثیت مسودہ نگار چھ سال منسلک رہے ہیں۔ انھوں نے ریڈیو کے لیے فیچر، ڈرامے اور تقریریں لکھیں۔ وہ شاہد احمد دہلوی کے بھتیج داماد، نسیمہ بنت سراج دہلوی کے بہنوئی آصف اسلم فرخی کے والدتھے۔ ڈاکٹر انوار احمد کا کہنا ہے کہ ’’رات ڈاکٹر اسلم فرخی کی وفات کی خبر ملی ہے، ہم ایسے طالب علم محمد حسین آزاد پر ان کی تحقیق و تنقید کے مداح تھے اور یہ جانتے تھے کہ جامعہ کراچی سے وابستہ تھے، پھر ان سے قریب تر ہوئے، جب معلوم ہوا کہ آصف فرخی کے والد ہیں، بہت موثر خاکوں کے تین مجموعوں کے مصنف ہیں، حسن منظر کے پہلے ناول کی طرف انھو ں نے ہی ادبی حلقوں کی توجہ مبذول کرائی، بزرگانِ دین سے بہت عقیدت رکھتے تھے، دلی میں دو مرتبہ میَں نے دیکھا کہ نظام الدین اولیا کی درگاہ کے سجادہ نشیں نے آصف کے ذریعے بھیجے ان کے پیغامات کی بہت پذیرائی کی، ہمارے لطیف عارف کا بہت عمدہ خاکہ لکھا، بہت مہذب، نفیس اور وضع دار انسان تھے، اللہ کو اپنی جنت سجانے کے لئے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے، مگر ہماری دنیا ایسے لوگوں سے خالی ہوتی جا رہی ہے۔ ‘‘

23اکتوبر 1923کو پیدا ہونے والی یہ ہمہ جہت شخصیت 15جون 2016ء (9رمضان المبارک)کو اس دنیا سے رخصت ہو گئی ۔ فاطمہ ثریا بجیا، اشتیاق احمد، جمیل الدین عالی، انتظار حسین، انور سدید کے بعد اردو ادب کا ایک اور عہد اختتام کو پہنچا ۔ ان کی علم دوستی کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ آج جامعہ کراچی مین آسودہ خاک ہوئے۔ انھوں نے نئی نسل کے لئے بڑا سرمایہ چھوڑا ہے۔ بہت ہی سنجیدہ، سلجھی ہوئی شخصیت کے حا مل متین و بُردبار ڈاکٹراسلم فرخی صاحب اپنے علمی، فکری، ادبی کارناموں کے باعث ہم سب پڑھنے لکھنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ ز ند ہ و تا بند ہ رہیں گے۔

شہر میں صرف رقصِ بسمل ہے

مور …… جنگل میں ناچتا ہوگا


Comments

FB Login Required - comments