پاک چین کاریڈور اور حافظ سعید کی حفاظت


\"irshad

آج کل اکثر دیواروں پر حافظ محمد سعید صاحب کا پیغام یا نعرہ لکھا نظر آتاہے کہ وہ پاک چائنہ کاریڈور کی حفاظت کریں گے۔ رمضان کے پہلے عشرے میں اسلام آباد کے ایک پوش علاقے کی عظیم الشان جامع مسجد میں خطبہ جمعہ میں انہوں نے اپنی گفتگو کا زیادہ تر حصہ پاک چین کاریڈور کی حفاظت کی ضرورت اور اہمیت اجاگر کرنے پر صرف کیا۔ اس موقع پر وہ واعظ کم اور دفاعی و خارجی امور کے ماہر زیادہ لگے۔
سمجھ نہیں آتی ایک معاشی راہداری کو برقرار رکھنے کے لیے بیس کروڑ عوام کے ملک، جس کے پاس چھ لاکھ کی فوج ہو، اسے کیوں کر حافظ صاحب کی مدد درکار ہوگی؟ حافظ صاحب کی طرح کے حضرات اس تلخ حقیقت کا ادراک نہیں پاتے یا کرنا نہیں چاہتے کہ اس طرح کے بیانات اور اعلانات، جنہیں اندرون ملک لوگ زیادہ سنجیدہ نہیں لیتے، عالمی سطح پر پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں اور پاکستان کے دشمنوں کی کوششیں آسان بنادیتے ہیں۔

ایک عشرہ ہوا چاہتاہے کہ چین کی حکومت نے اعلی ترین سطح پرپاکستان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ گوادر بندرگاہ کی صرف کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کی تشہیر کرے۔ اس کے اسٹرٹیجک پہلو کو اجاگر نہ کرے۔ اسی طرح پاک چین کاریڈور کا نام بھی اسی لیے اکنامک کاریڈور رکھا گیا کہ دنیا بالخصوص مغربی ممالک اس کی راہ میں روڑے نہ اٹکائیں۔ یہ جانتے ہوئے بھارت کبھی بھی پاکستان اور چین کے کسی مشترکہ منصوبے کا حصہ بن کر اپنے مغربی حلیفوں کو کبیدہ خاطر نہیں کرسکتا، اسے پیشکش کی گئی کہ وہ بھی اس راہ داری کا حصہ بن جائے۔ مقصد یہ تھا کہ بھارت کے شکوک وشہبات کا اگر ازالہ ممکن نہ بھی ہو تو انہیں کم ضرور کیا جائے۔

گوادر بندرگاہ کی دفاعی اہمیت اور حیثیت مسلمہ ہے اسی طرح چین کے ساتھ تعلقات میں اسٹرٹیجک پہلو ہر وقت موجود رہتاہے لیکن اس کا ڈھنڈورا اس طرح پیٹا جاتا ہے کہ وہ دنیا یا ہمسایہ ممالک کی سلامتی یا معاشی مفادات کے لیے خطرہ نظر آنے لگتا ہے۔ یہ تاثر سستی شہرت یا اکثر اوقات سیاسی یا گروہی مفادات کے حصول کے لیے عام کیا جاتا ہے لیکن اس کاخمیازہ پوری قوم بھگتی ہے۔

چین کی قیادت اور حکومت نے تصادم کی پالیسی سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔ بھارت نے نیوکلئر سپلائر گروپ کا رکن بننے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن چین سدراہ بن گیا اور بھارت کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا لیکن اس کے باوجود تجارت اور معمول کے تعلقات میں کوئی فرق نہیں آنے دیا گیا۔ اکثر بھارتیوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ چین جس کو وہ اپنا نمبر ون دشمن سمجھتے ہیں وہ ان کے ساتھ کر کیا رہا ہے؟ ایک طرف تجارت اور کاروبار میں وسعت آرہی ہے تو دوسری طرف ہر عالمی فورم پر رقابت جارحانہ مخالفت میں ڈھلتی جارہی ہے۔

دنیا کے میچور ممالک بڑی سے بڑی کامیابی کی خوشی کو بھی اعتدال سے مناتے ہیں ۔ ناکامیوں پر آزردہ ہوتے ہیں نہ ہی ان کے اوسان خطا ہوتے ہیں۔ حال ہی میں چین کو نظرانداز کرکے میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجيم (ایم ٹی سی آر) نے بھارت کو رکنیت د ی۔ یہ ایک غیرمعمولی امتیازی رویہ تھا لیکن چین کے اخبار گلوبل ٹائمز نے لکھا کہ اس خبر نے چینی شہریوں میں چھوٹی سی لہر بھی پیدا نہیں کی۔ چین کے لوگ بین الاقوامی سطح پر ملنے والے جھٹکوں کو برداشت کے لیے زیادہ بالغ ہو گئے ہیں۔ اس تبصرہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ میچور قومیں کس طرح اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کو’’پی جاتی‘‘ ہیں ۔ ہمارا عالم یہ ہے کہ پاک چین اکنامک کاریڈور کے تحفظ کا ٹھیکہ حافظ سعید لینے پر تلے ہوئے ہیں اور دلی کے لال قلعے پر جھنڈا لہرانے کا قاضی حسین مرحوم نے ذمہ لے رکھا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ1999میں ایک بھارتی مسافر طیارے کو اغوا کرکے قندھار لے جایا گیا تو تبادلے میں بھارت کی قید سے بہاولپور کے ایک مدرسے کے مولانا اظہر مسعود کو رہا کیا گیا۔ چند دن قندھار میں طالبان کی امارات اسلامی کی میربانی کا لطف اٹھانے کے بعد موصوف کراچی کے معروف مدرسہ بنوری ٹاؤن میں وارد ہوئے۔ حرکت المجاہدین کے مولانا فضل الرحمن خلیل سے تنظیم کی سربراہی حاصل کرنے میں ناکامی پر جیش محمد کے نام سے ایک تنظیم کھڑی کر ڈالی۔ بندر روڑکراچی پر اپنے پہلے ہی جلسے میں حضرت نے امریکی صدر بل کلنٹن کو جی بھر کر للکارا۔ پاکستان سے پہلے ہی خار کھائی ہوئی کلنٹن انتطامیہ نے اس جلسے میں ہونے والی تقاریر کا سخت برا منایا اور اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے عناصر کو لگام دے ورنہ نتائج بھگتنے کو تیار رہے۔

چھ برس قبل کشمیر میں نوجوانوں نے احتجاجی تحریک اٹھائی۔ لگ بھگ ایک سو بیس کے قریب نوجوان اس دوران جاں بحق ہوئے۔ پاکستان میں بھی عوامی سطح پر بہت بے چینی پیدا ہوئی۔ لوگ کچھ کرنا چاہتے تھے لیکن کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ رمضان المبارک کی ایک شام حافظ سعید صاحب نے بہت سارے صحافیوں کو افظار پر مدعو کیا۔ اس طالب علم کو دعوت نامہ موصول ہوا۔ حافظ سعید نے کشمیر کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا جو کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔ حالات حاضرہ کی طرف گفتگو کا رخ مڑا تو کشمیری نوجوانوں کی شہادتوں کا ذکر چل پڑا۔ محفل کافی افسردہ ہوگئی۔ اب حافظ صاحب نے سینئر صحافیوں سے استفسار کیا کہ انہیں یعنی حافظ صاحب اور ان کی جماعت کو کیا کرنا چاہیے۔ حاضرین مجلس میں سے بڑے بڑے ناموں نے تجویز دی کہ وہ زیادہ متحرک کردار ادا کریں کیونکہ پیپلزپارٹی کی حکومت کو کشمیر سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس لیے وہ کمان اپنے دست مبارک میں لیں اورمسئلہ کو اجاگر کریں۔ ماحول کافی خوشامدانہ سا ہو گیا۔ سامعین محو گوش ہوں تو خطابت کا مزا ہی دوبالا ہو جاتا ہے۔ موضوع کشمیر جیسا نازک ہو تو جذبات بڑی آسانی سے بھڑک جاتے ہیں۔ گفتگو لگ بھگ تمام ہو چکی تھی۔ یہ طالب علم چپکے سے سنتا رہا۔ بارہا سوچا کہ کچھ حصہ لوں لیکن فضا کچھ سازگار نہ تھی کہ کوئی عقل اور استدلال کی بات کی جائے۔ اتنے میں حافظ سعید میری جانب متوجہ ہوئے اور کہا کہ آپ بھی کچھ فرمایئے:۔

عرض کیا کہ صاحب کشمیریوں کی سب سے بڑی خدمت یہ ہوگی کہ آپ خاموش ہو کر بیٹھ جائیں۔ انہیں آپ کی کسی مدد یا کمک کی ضرورت نہیں۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں کہ انہیں کرنے دیں۔ وہ اپنے بل بوتے پر کھڑے ہوں گے تو دنیا ان کی طرف ضرور متوجہ ہوگی۔ ان کی آواز میں اتنی طاقت اور سوز ہے کہ دنیا ہی میں نہیں بلکہ دلی میں بھی اہل دل کو جھنجھوڑ سکتی ہے۔

جب آپ اپنی آواز کشمیریوں کی آواز میں ملاتے ہیں تو عالمی ضمیر ان سے منہ موڑ لیتا ہے۔ دہلی میں ان کی بات سننا اور سمجھنا تو درکنار انہیں منہ لگانے کو کوئی تیار نہیں ہوتا لہذا میری صلاح یہ ہے کہ آپ کشمیریوں کو اپنا مقدمہ خود لڑنے دیں۔

ماحول کچھ تناؤ کا شکار ہوگیا کہ سینئر صحافی اور اینکر محسن رضا نے میرے نقطہ نظر کی تائید کی اور کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا تقاضہ ہے کہ انہیں اپنی تحریک خود چلانے دی جائے۔ شدت پسند تنظمیں ان کی حمایت اور تائید تو درکنار ان کے قریب بھی نہ پھٹکیں۔

بھولا بسرا یہ قصہ حافظ صاحب کے اس بیان پر یاد آیا۔ پاک چین اقتصادی راہداری کی حفاظت کے لیے ریاستی ادارے بہت ہیں۔ کسی جماعت اور خاص طور پر اقوام عالم میں شدت پسند گروہ سمجھے جانے والوں کو یہ ریاستی ذمہ داری سنبھالنے کی ضرورت نہیں۔ نہ ہی اس طرح کے بیانات جاری کرکے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کرنی چاہیے جو کہ الٹا ملک کو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 35 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood

2 thoughts on “پاک چین کاریڈور اور حافظ سعید کی حفاظت

  • 04-07-2016 at 6:36 am
    Permalink

    ارشاد محمود صاحب
    حافظ سعید خود سے کم ہی بولتے ہیں انہیں بلوایا جاتا رہا ہے تاکہ ہر سیدھے معاملے کو بھی سٹرٹیجک کی پخ لگائی جا سکے۔ ہمارے ہاں کئی عشروں سے اس لفظ کا استعمال ثواب کے طور پر کیا جارہا ہے۔ نہایت عمدہ اور فگر انگیز تحریر ہے جس کے بعد اُمید کی جاسکتی ہے کہ آپ کو پہلے اسلام دشمن اور پھر کشمیر دشمن بھی قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ آپ نے ہمارے پسندیدہ لفظ سٹرٹیجک کی راہ میں روڑے اٹکائے ہیں۔

  • 04-07-2016 at 9:13 am
    Permalink

    حضرت ایسا ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ آگ سے کھیلو گے ہاتھ تو چلیں گے۔غیر مقبولیت کے خوف سے سچائی بیان کرنے سے کتراتے یا معاشرے میں ہیجان پیدا کرنا کا کاروبار کرتے تو کب کے مقبولیت کے عروج پر ہوتے اور لکشمی دیوی بھی مہربان ہوجاتی۔

Comments are closed.