سندھ اس بار ماتم نہیں کرے گا


\"\"سوگ سوگ سوگ! ماتم ماتم ماتم! کب تک؟ آخر کب تک؟ اور یہ کمبخت سوشل میڈیا! ہمارے کتھارسس کا میدان۔ ہم سب روُدالیوں کی طرح سوشل میڈیا کے اسٹیج پر اترتے ہیں۔ ہم آواز ہو کر بین کرتے ہیں۔ سینہ کوبی کرتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ دل کا بوجھ اتنا ہلکا ہو جاتا ہے کہ رات بھر کی نیند آ جاتی ہے۔ وزیرِاعظم کو بھی سونا ہوتا ہے اور ان کا بیان جاری کرنے والے مفت خورے کو بھی۔ ان کی طرف سے ایسا نان سینس بیان بھی جاری ہوتا جاتا ہے اور خنجر بن کر آنکھوں میں اترتا جاتا ہے کہ جی چاہتا ہے منہ نوچ لیا جائے، کم از کم اس اسکرین کا جو ہمارے سامنے کھلی ہوتی ہے۔ یہ ترقی پسند پاکستان پر حملہ ہے۔ یہ ہم سب پر حملہ ہے۔ ہم اس کا جواب دیں گے۔

او بھائی۔ ہیلو۔ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ یہ بیان ہے؟ ایسا ہوتا ہے وزیرِاعظم کا بیان؟ شرم کا مقام ہے۔ ایک ٹویٹ جیسا بیان بھی نہیں آتا آپ کو؟ اچھا! دشمن کو جواب دیں گے آپ؟ پہلے ہمیں تو جواب دیجیے۔ دشمن تو ہنستا ہوگا آپ کے جوابوں پر اب۔ ہمیں بتائیے ایسا کیوں ہوا؟ بتائیے نیشنل ایکشن پلان کیوں معذور ہے؟ بتائیے آپ کی جیب میں کس کس کے ساتھ سمجھوتہ نامے پڑے ہیں؟ اور آپ کے اور چودھری نثار کی بغل میں کون کون دبا پڑا ہے؟ بتائیے نا کس کس سے جان نکلتی ہے آپ کی؟ بتائیے سوکھا سا اور سہما ہوا منہ کیوں ہو گیا ہے آپ کا؟ بتائیے کس کس کی مٹھی میں آپ کی گردن ہے؟ ہم عوام اٹھ کھڑے ہوں آپ کی آزادی کے لیے۔ منہ تو کھولیے۔

الٹا نقار خانہ کھڑا کر دیا گیا ہے ہر طرف۔

قلندر پر حملہ۔ سندھ کی ثقافت پر حملہ؟ صوفیوں کی زمین پر حملہ؟

اب کرو سارے سندھی مل کر ماتم سندھ کی ثقافت پر۔ اور لگ جاؤ ایک اور بحث میں۔ سندھ حکومت کی کارکردگی پر آنسو بہاؤ۔ زرداری زرداری بولتے جاؤ اور سینہ پیٹتے جاؤ۔ پوچھو زرداری سے کہ ایسے بلاسٹ کے لیے ہسپتال اور مردہ خانے کیوں نہیں بنوائے۔ کیوں سندھ میں ایسے مردہ خانے نہیں بنوائے گئے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں مردے رکھے جا سکیں؟ ایسے کیمرے کیوں نہیں لگائے گئے جو دہشت گرد کو پہچان لیں۔ سندھیو! جاؤ۔ ٹکراؤ جا کر اپنے سر سندھ گورمنٹ اور بلاول ہاؤس کی دیواروں سے۔ اور الجھ جاؤ سندھ کی ثقافت اور تصوف پر حملے کی آہ و بکا میں۔ اپنے ووٹ کا حساب دو جو زرداری کو دیتے ہو۔ اور بولو کہ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے۔ بھگتو اب۔

اسی بارے میں: ۔  بولڈ فیصلہ نہ کیا تو دھماکوں کی لہریں آتی جاتی رہیں گی

شٹ اپ۔ جسٹ شٹ اپ۔

کیا سندھی اب مردہ خانوں اور دھماکوں کے لیے ہسپتالوں کے مطالبوں میں لگ جائیں؟ اور اگر اچھے مردہ خانے اور ہسپتال ہوتے تو کیا ہوتا؟ دھماکہ نہ ہوتا؟ کم لوگ مرتے؟

ایکسکیوزمی۔ جو دہشت گرد ہم پر پھٹا ہے وہ لاڑکانہ، نواب شاہ، خیرپور وغیرہ سے نہیں آیا تھا۔ نہ ہی سہون کا باسی تھا۔ جس وقت آپ کے سکیورٹی اہلکار اسلام آباد میں لال غبارے ٹرکوں میں بھر رہے تھے، اس وقت یہ دہشت گرد دور دراز کے علاقے سے، انجانے راستوں سے گذرتا قلندر پر پہنچا تھا۔ غباروں کی مصروفیت کے دوران ہی سکیوٹی الرٹ کا الہامی بیان جاری کیا گیا آپ کی طرف سے۔ آپ نے ہمیں الرٹ کیا تو تھا پر ہم ہی نہ ہوئے، اس میں آپ کا کیا قصور؟ ہے نا!

ہمیں یہ لارے لپے نہ دیجیے جناب۔ ہم نہیں کریں گے سندھ کی ثقافت پر حملے کا ماتم۔ انسانی گردنوں کا حساب دیجیے۔ آپ بتائیے کہ کون ہم پر پھٹا تھا؟ آپ نے بتانا ہے کہ کیوں ہم پر پھٹا تھا۔ ہم مطلب قلندر نہیں۔ قلندر کا کیا ہے۔ قلندر کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بقول وہاں کے کمشنر کے کہ کل تک مزار کی صفائی کر دی جائے گی اور پرسوں مزار کھول دیا جائے گا۔ لو جی۔ کچرا ہوا اور وہ صاف کر دیا جائے گا۔ پرسوں سے نئے جنازوں کے لیے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ ہم مطلب، ہم مارے گئے بھوکے، ننگے، لاعلاج بیماریوں کے مارے لوگ جو درگاہوں پر پیٹ بھر نوالے اور شفا کی امید میں پڑے ملتے ہیں۔

اب دہشت گرد کی اگلی منزل کیا ہے، یہ آپ بتائیں گے عالی جناب۔

ہمیں اپنی سکیورٹی کا جواب چاہیے۔ یہ صرف اور صرف سکیورٹی ایشو ہے۔ یہ صرف سرحدوں پر آپ کی سمجھوتہ پالیسی کا نتیجہ ہے کہ دہشت گرد گھسے چلے آتے ہیں۔ یہ آپ کی اندرون خانہ کمزور عقائد کی کمزوریاں ہیں۔ یہ جو بھی ہیں، آپ کی ناک تلے ہیں۔

سہون والے پٹھان ہوتے تو آپ کہتے کہ دہشت گرد انہی میں سے تھا۔ وہ بلوچ ہوتے تو بھی اپنی موت کے آپ ذمہ دار قرار دیے جاتے۔ شکر ہے وہ سندھی ہوئے۔ فقیرانہ مزاج والے۔ بقول بہت سوں کے کہ بھٹو کو زندہ کہنے والے بیوقوف۔ اس کے نام پر ووٹ دینے والے بدھو۔ ان کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اور بولیں جیے بھٹو۔ اور دیں اس کے نام پر ووٹ۔ جناب یہ بھی آپ عوام کو بتائیں گے کہ وہ کسے ووٹ دیں اور کسے نہ دیں؟ آپ کی مرضی کے مطابق جو ووٹ نہیں ڈالے گا اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے؟

اسی بارے میں: ۔  زندگی مردہ باد، شہادت زندہ باد

جنابِ عالی۔ شٹ اپ۔ جسٹ شٹ اپ۔

عوام کا خون صوبائی بنیاد پر عوام کی گردن میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 یہ آپ کے پالتو جانوروں کا کیا دھرا ہے۔ اسے سندھ کا معاملہ بنانے کی بیوقوفانہ کوشش مت کیجیے۔ یہ قومی معاملہ ہے۔ ہمیں بتائیے آپ کے مفادات کیا ہیں جن کی ہم چاروں صوبوں کے عوام قربانی دے رہے ہیں؟ چاروں صوبوں کے عوام کو اس پیسے کا بھی حساب دیجیے جو ہم آپ پر خرچ کر رہے ہیں۔ ہم چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں۔ ہم محفوظ نہیں ہیں۔ ہم چاروں صوبوں کے لوگ کھلی آنکھوں کے ساتھ آپ سب کی جیبوں میں پڑے چہروں کو دیکھ رہے ہیں۔ جانے پہچانے ناموں کی فہرست لیے مارے مارے پھر رہے ہیں اور سسک سسک کر بتا رہے ہیں کہ جناب وہ رہا دشمن۔ وہ۔ وہ آپ کے پیچھے۔ وہ آپ کی جیب میں۔ وہ آپ کے موزے میں۔ وہ رہا آپ کے بوٹ میں۔ وہ آپ کی کرسی کے نیچے۔ جناب وہ آپ کی قلم کی نوک پر۔ اور وہ آپ کے عقب میں جناح صاحب کی تصویر کے پیچھے۔ وہ رہا آپ کے مصلے کے نیچے۔ جناب وہ آپ کی نماز والی ٹوپی میں چھپا ہوا ہے۔

آنکھیں کھولیے عالی جاہ۔ آنکھیں کھولیے۔ پانی سر سے گذر گیا تو سب سے زیادہ تکلیف آپ کو ہوگی۔ یہ چاروں صوبے پہلے بھی تھے اور بعد میں بھی ہوں گے۔ سیلابِ بلا کے بعد اگر جگہ نہیں بچے گی تو آپ جناب کی مسند رکھنے کی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 56 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah

3 thoughts on “سندھ اس بار ماتم نہیں کرے گا

  • 18-02-2017 at 1:20 am
    Permalink

    سہون میں دھماکا ہوا۔۔
    ہم سب کو لگا کہ یہ سانحہ درگاہ قلندر ہے
    مگر جلد ہی سب کی یہ غلط فہمی دور ہوگئی
    یہ سانحہ درگاہ قلندر نہیں تھا بلکہ یہ سانحہ اسپتال تھا
    داعش نے دھماکا کرکے گویا سندھ حکومت کی پول کھول دی تھی اور اس سلسلے میں ہم سب کو ابوبکرالبغدادی کا مشکور ہونا چاہیے
    بتایا گیا کہ سہون میں کوئی اسپتال نہیں ہے، پہلا اسپتال 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے
    پھر بتایا گیا کہ سہون میں کوئی ایمبولینس نہیں ہے
    ایک اطلاع یہ بھی آئی کہ دھماکے کی رات کو ہی سہون کا ٹراما سینٹر کھولا گیا
    بس یہ اطلاعات آنا تھیں اور جناب کیسا دھماکا اور کہاں کے دہشت گرد
    سندھ حکومت کی وہ درگت بنائی گئی کہ دھماکا کرنے والے کہیں گم سے ہوگئے
    بہرحال، ایک صورت حال یہ بھی سامنے آئی کہ دنیا میں اسپتال آبادی کے حساب سے بنتے ہیں
    دہشت گردی کے حساب سے نہیں
    درگاہ سے آدھا کلومیٹر کے فاصلے پر ایک تعلقہ اسپتال اور ٹراما سینٹر تھا
    جہاں 210 زخمیوں کا علاج ہوا جن میں سے 76 جاں بحق ہوگئے، اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 88 ہے
    ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد کراچی میں چودہ زخمیوں کو منتقل کیا گیا، حیدرآباد میں 23 زخمی آئے جن میں سے صرف 12 کو داخل کرکے باقی کو طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا
    سہون تعلقہ اسپتال میں آٹھ ایمبولینسیں تھیں، ہلال احمر سوسائٹی کی ایمبولینسیں بھی تھیں، یہ ایمبولینسیں کم تھیں تو درگاہ والی روڈ پر ایک رکشہ سروس چلتی ہے، اس میں زخمیوں کو تعلقہ اسپتال منتقل کردیا گیا، سہون جیسے ایک لاکھ آبادی والے ایسے شہر میں جو کراچی کے ایک محلے کے برابر ہے، 250 زخمیوں کے لیے 250 ایمبولینسیں شاید ممکن نہ ہوں، اتنی سہون سے کئی گنا بڑے شہروں میں نہیں ہوتیں
    سہون کے اطراف کئی بڑے اسپتال ہیں جیسے بھان سعید آباد جو 54 کلومیٹر دور ہے، دادو اور نواب شاہ جو تقریبا 50 کلومیٹر دور ہے، جامشورو جو 140 کلومیٹر دور ہے
    اسی طرح پانچ پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر مختلف علاقوں میں چھوٹی ڈسپنسریاں بھی ہیں
    دھماکے کی صرف دوگھنٹوں میں جائے وقوعہ سے تمام مریض اسپتال اور اسپتال سےدیگر شہروں میں منتقل ہوچکے تھے
    اہلیان سہون گھروں سے نکل آئے، خون دیا ، امداد کی
    پیپلزپارٹی نے دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹا، یہ بات درست ہوسکتی ہے
    بھٹو نے ملک توڑا ۔۔ یہ بھی سولہ آنے درست ہوسکتا ہے
    اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کی زندگیوں کا ہر مسئلہ سندھ حکومت کی وجہ سے ہے۔۔ یہ بات بھی حق پر مبنی ہوسکتی ہے
    مگر پیپلزپارٹی دھماکا کرنے والی داعش سے زیادہ قابل مذمت نہیں ہوسکتی
    سہون میں ہونے والے سانحے کو سانحہ درگاہ قلندر ہی رہنے دیں
    سانحہ اسپتال بنا کر دہشت گردوں کے سہولت کار بننے میں اگر کوئی حرج نہیں لگتا تو بن جائیں بھئی
    ہم کون ہوتے ہیں روکنے والے
    COPIED

  • 18-02-2017 at 9:42 am
    Permalink

    سوشل میڈیا پر ترقی پسند پنجابی انشوروں کا سندھیوں کو مزاروں پر حاضری بھرنے پر لعن طعن کرنا اور الکٹرونک و پرنٹ میڈیا پر پیپلز پارٹی یا زرداری کو سندھ میں ہسپتال اور مردہ خانے نہ بنوانے پر اموات کا ذمہ دار ٹھرانے پر سندھ دھرتی سے نور الھدیٰ شاہ کا پنجابی اسٹیبلشمنٹ کو بھرپور جواب
    شاندار ادی۔ مہا اُتم

  • 18-02-2017 at 2:05 pm
    Permalink

    Typical Sindhi mindset. those who talk about their heritage and culture arrange marriages of their daughters in thialand as of a christian marriage. those whose women remained in housed now making them show pieces for everyone and all questions of corruption of ppp are answered by single argument…. the failure of security agencies. and Police does not come under security agency since they are personal guards of the PPP VIPS in sindh. Typical SIndhi mindset, to justify the actions of PPP and criticize the army and punjabis. let see how long this can last..

Comments are closed.