بائیس کروڑ۔ پاکستان کا ”ان لکی“ نمبر!

مطالعہِ پاکستان کے مضمون کی تباہی کے بعد اب ملک کو ”علمِ رمل“ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے! کیا آپ کو معلوم ہے؟ دیواروں پر لکھے بنگالی بابے اور بی بی جادوگرنیاں بالآخر اپنے عمل میں کامیاب رہے اور سب نے مل کر پاکستان کا وہ نمبر نکالا ہے جو بدنصیب ترین نمبر بتایا جاتا ہے، بل کہ ثابت بھی کیا جا چکا ہے! وہ ہے نمبر 22 کروڑ! بابوں اور بیبیوں کا کہنا ہے کہ ملک کو جب

Read more

میرا جسم میری مرضی

یاد رکھو، حبس زدہ معاشرے میں جو چیخ بلند ہوگی وہ فلک شگاف ہوگی۔ بچی جو مردود مردوں کے ہاتھوں ریپ ہوئی، یا کبھی نہ کبھی ہوگی اور کچرے کے ڈھیر پر پھینک دی جائے گی کہ تحفظ کی ضمانت نہ ریاست دیتی ہے اور نہ سماج، وہ بچی یہ بھی نہ کہے کہ میرا جسم میری مرضی؟ مجنون کزن کی دل لگی اور عاشقانہ رشتہ ٹھکرانے پر جو لڑکی تیزاب سے جھلسا دی جائے، وہ جھلسا چہرہ کندھے پر

Read more

رب العالمین کا رحمت للعالمینؐ

بعثت نبوت کو ابھی چھ سال ہوئے تھے اور ابھی مکہ کے گنے چنے افراد مسلمان ہوئے تھے۔ ابوجہل کعبہ کی حدود میں بیٹھا محمدﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ بول رہا تھا۔ آپﷺ اس وقت کعبہ میں تنہا تھے اور ارد گرد کوئی نہیں تھا جو آپﷺ کی طرف سے ابوجہل کو روکے۔ ابوجہل حدیں پار کرتا جا رہا تھا۔ کسی کی باندی یہ منظر دیکھ رہی تھی اور محمدﷺ کا صبر دیکھ کر حیران ہو رہی تھی۔ برداشت

Read more

وہ ہندو قرآن کا محافظ بن گیا تھا

سندھ کے ہندوؤں اور مسلمانوں کا ایک واقعہ سناتی ہوں سنو! ایک ڈرامہ کی شوٹنگ کے لیے مجھے کراچی میں قدیم حویلی چاہیے تھی۔ چینل کے دفتر کی طرف سے ملیر میں ایک قدیم فارم ہاؤس کا پتہ دیا گیا کہ وہاں ہمارے ہی چینل کے ڈرامے کی شوٹ مکمل ہو چکی تھی۔ اپنی ٹیم کے ساتھ لوکیشن پر پہنچی۔ ایک پرانا مگر ایکڑوں پر پھیلا ہوا اجاڑ فارم ہاؤس تھا، جسے حویلی بنایا جا سکتا تھا۔ فارم ہاؤس کے

Read more

نیرہ نور – شہرت کو تیاگ کر منزل تلاش کرنے والی

آہ روح کی جو گفتگو ہمیں ابھی کرنا تھی، ہو نہ سکی اور سفر تمام ہوا! جب نیرہ نور سے میری پہلی ملاقات ہوئی، اسے موسیقی کی راہ چھوڑے ہوئے ایک عرصہ بیت چکا تھا۔ سادہ تو وہ ہمیشہ سے تھی ہی مگر سادگی کی انتہا اختیار کر چکی تھی۔ شادی کی اس تقریب میں، بنی سنوری میں، اس کی سادگی کے سامنے بے رنگ ہوئی جا رہی تھی۔ میں ہمیشہ سے اس کی آواز کی مداح تھی۔ تنہائی میں

Read more

میری بیٹی کو فرینڈ ریکوئیسٹ بھیجنے والے لوگ

میری بیٹی کو مجھ سے اکثر ایک شکایت بہت ہی شدید طریقے سے رہی ہے۔ وہ یہ کہ اکثر میرے فیس بک پر موجود لوگ اسے فرینڈ ریکئسٹ بھیجتے ہیں۔ گو کہ چند خواتین یا لڑکیاں بھی اس میں شامل ہوتی ہیں مگر ظاہر ہے کہ اسے مرد یا لڑکے زیادہ کھٹکتے ہیں یا یوں کہا جائے کہ برے لگتے ہیں۔ کیونکہ خود دبئی میں رہتی ہے اس لیے آئے دن فرینڈ ریکوئیسٹ کا اسکرین شاٹ اور ایک بپھرا ہوا

Read more

گھپ اندھیرے کے پیچھے مجھے بٹھا دیا گیا ہے

اچانک ہی ایسا محسوس کیا ہے میں نے! بالکل ہی اچانک! ورنہ لمحہ بھر پہلے تک تو مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میں دنیا کے اسٹیج پر اپنی بھرپور پرفارمنس کے ساتھ کھڑی ہوں اور کھچا کھچ بھرے ہال میں سب کی نگاہ مجھ پر ہے اور تالیوں کی ایک گونج ہے جو مجھے اڑائے لیے جا رہی ہے! مگر ابھی ابھی، اس لمحۂ موجود میں مجھے احساس ہوا ہے کہ میں تو پچھلے ایک عرصے سے اسٹیج پر ہوتے

Read more

ایک شیر ضیاء۔۔۔ دوسرا کون؟

آج صبح صبح نجانے کیوں ایک یاد ذہن کے کینوس پر اپنا سیاہ و سفید رنگ چھوڑ گئی۔ اپنا پہلا اردو سیریل جنگل میں نے ضیاء کے سفاک دورِ عروج میں لکھا۔ میری عمر اس وقت 26 سال تھی۔ ایک دن پی ٹی وی کراچی سینٹر سے کال آئی کہ اسلام آباد سے پی ٹی وی کے بڑے صاحب آئے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ جی ایم کراچی سخت پریشان تھے کہ آپ کو آنا ہوگا، میری نوکری

Read more

مدینہ منورہ سے واپسی کا سفر اور گدڑی کے لعل

مدینہ یا جدہ سے فلائٹ پکڑو تو آپ کو ایک اور ہی ہجوم ٹکرائے گا۔
بہت سے پہلی بار جہاز کا سفر کررہے ہوتے ہیں۔ بہت سے پہلی بار عمرہ کرکے یا مدینے میں سرکارﷺ کے حضور سلام پیش کرنے کے نشے میں اونچا اونچا اُڑ رہے ہوتے ہیں اور اس کیفیت میں انہوں نے اپنا حلیہ بھی مصنوعی اور عربی بنایا ہوا ہوتا ہے۔
اکثریت غریب، میلی، انگوٹھا چھاپ یا برائے نام پڑھی لکھی ملے گی۔
اگر فلائٹ ایمرٹس کی ہے تو پھر دبئی تک کئی اور ہمارے آس پاس کے ملکوں کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔
جیسے بنگلہ دیشی، انڈین، برمی وغیرہ۔
یہ مسافر اپنی ایکسائٹمنٹ میں اتنے لاؤڈ ہورہے ہوتے ہیں کہ جہاز مچھلی مارکیٹ کا منظر بن جاتا ہے۔ عملہ بڑی جفاکشی کے بعد انہیں نشستوں پر بٹھانے میں کامیاب ہو پاتا ہے۔

اکثر مرد تازہ تازہ گنجے ہوئے ہوتے ہیں۔ تازہ تازہ داڑھی بڑھائی ہوتی ہے۔
غور سے دیکھو تو سب مردوں کا سینہ فخر سے یوں پھولا ہوا ہوگا، جیسے ابھی ابھی میلہ لوُٹ کر لوٹے ہوں!

ایسے میں اگر مجھ جیسی عورت کو سیٹ ایسی ملے کہ اسے اس طرح کے مسافروں کے بیچ میں گھس کر بیٹھنا پڑے تو گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔
اس بار بھی میری ساتھ والی سیٹ پر سادہ سے داڑھی والے بنگالی مولوی کو دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں ناک سُکیڑ لی کہ اب اس کے ساتھ جُڑ کر بیٹھنا پڑے گا!
ہر پاکستانی لبرل عورت کی طرح مجھے بھی مولوی دکھتے چہرے سے خواہ مخواہ کی جھنجھلاہٹ محسوس ہوتی ہے، جیسے ہر برائی کا ذمہ دار وہی ہو!

Read more

مدینہ منورہ کے خواجہ سرا

 میں نے دنیا میں آنکھ کھولی تو مدینہ منورہ کو زندگی کا حصّہ پایا۔ میری پیدائش سے پہلے ہی اماں اور بابا کے عشق کا رُخ مدینہ منورہ کی طرف مڑ چکا تھا۔ دونوں میں اگر کوئی قدر مشترک تھی تو وہ یہ منزل تھی، جہاں ہر سال انہیں روضہِ پاک کے سامنے جا کھڑے ہونا ہوتا تھا اور اپنے وجود کے پورے عجز و انکسار کے ساتھ سلام پیش کرنا ہوتا تھا نبیؐ جی کے حضور۔ میں کچھ دن

Read more

وہ خط میں نے لکھا تھا!

زوال ہوتے سورج کی نیم تاریکی میں خلیفۂ وقت جو خط لہرا لہرا کر رعیت کو دکھا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اس میں میرے خلاف سازش لکھی گئی ہے اور میرے تخت و تاج کو اچھالا گیا ہے مگر ابھی میں اس سازشی کا نام اس لیے نہیں بتاؤں گا کہ کہیں وہ مجھ پر خطرناک جانی حملہ نہ کردے! تب سے مملکت خداداد پریشان ہے کہ وہ کون خطرناک ہے جس نے خلیفے کی شان میں

Read more

مرد بنو! مرد کا بچہ بنو!

معاشرہ اس ایک سوچ کا نچوڑ بن چکا ہے کہ مرد بن کر دکھاؤ۔ مرد کا بچہ بن کر دکھاؤ۔ دیکھا جائے تو مذہبی اور سماجی سطح پر راہ چلتی لڑکیوں کے جسم کے پرائیویٹ پارٹ میں چاقو گھونپنے سے لے کر خودکش بمبار بن کر پھٹنے اور زندہ انسانوں کی دھجیاں اُڑا دینے تک کا معاملہ اور ماں جائی بہنوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے اور زندہ جلانے سے لے کر کسی کی بیٹی کو انتقاماً ننگا

Read more

جب دبئی گوادر ہوا کرتا تھا

 عدنان خان کاکڑ کا مضمون پڑھا کہ گوادر کا کھارو چان بننا چاہیے یا دبئی۔ مجھے وہ دبئی یاد آ گیا جو 1966 اور1968 کے ارد گرد کے دنوں میں میری چھوٹی سی نگاہ سے گزرا تھا۔ ہم حج پر جا رہے تھے۔ پی آئی اے کا جہاز حسبِ عادت خراب ہو گیا تھا اور اسے ایمرجنسی میں دبئی ائرپورٹ پر لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔ سامان بھی جہاز سے اتار دیا گیا تھا۔ ایک رن وے تھا اور اس کے

Read more

آج بھی منٹو کا پاکستان اور ”کھول دو“ کی سکینہ کا کھلا ازار بند

یہ وہی پاکستان ہے نا، جس کا مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کے تحفظ کے لیے جناح صاحب نے مطالبہ کیا تھا؟
یہ وہی پاکستان ہے نا جس کا وعدہ تھا کہ یہاں بسنے والی تمام قوموں کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے؟
یہ وہی پاکستان ہے نا، جو طاقتور شہنشاہیت کی غلامی سے آزادی کا دعویدار تھا؟

Read more

میری زندگی کی دو کہانیاں

کچھ کہانیاں انسان کی پرورش اور تربیت کے دوران اس کے خون میں شامل ہو کر اس کے ساتھ ساتھ عمر کا سفر طے کرتی ہیں اور زندگی گزارنے کے ہُنر یا گُر کے طور پر ایک گہرا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ آج 22 جولائی کا دن میرا یومِ پیدائش لوٹ آیا ہے تو جانے کیوں مجھے دو ایسی کہانیاں یاد آ گئی ہیں جو مجھے ہمیشہ میری بنیاد کی تہوں میں پڑی ملی ہیں۔ اس طرح کی کہانیاں اب

Read more

مولوی صاحب! میں مدینے میں ہوں

پیارے مولوی صاحب! گزارش ہے کہ میں اس وقت مدینے میں ہوں۔ ویسی ہی ہوں جیسی پاکستان میں ہوتی ہوں۔ اِک بندہ گندا۔ باہر سے دھلی دھلائی اندر سے گناہوں اور خطاؤں سے لدی اور میلی۔ شیطان مردود یہاں بھی ساتھ ساتھ چلا آیا ہے اور عین نماز میں میرے سر پر پنجے گاڑ کر آ بیٹھتا ہے۔ امام تکبیر دیتا ہے تو چونک کر یاد آتا ہے کہ میں تو نماز میں ہوں! ساتھ ہی آنکھیں پھاڑ کر سامنے

Read more

62-63  کا حمام اور ننگے صادق و امین

اس ملک کا پہلا صادق و امین جنرل ضیاء تھا۔

جو خود ایک ایسا نفسیاتی مریض تھا جسے بھٹو دشمنی میں جل کر سیاہ ہو چکے مولویوں اور فتویٰ سازوں نے وردی کے اوپر امیرالمومنین کی شیروانی پہنائی تھی۔

انہوں نے اسے اس ذہنی بیماری میں مبتلا کر دیا تھا کہ ایک بھٹو کو پھانسی چڑھا کر تم بخشے جا چکے ہو۔ تمہارے تمام پوشیدہ گناہ کبیرہ بھی اور صغیرہ بھی معاف ہو چکے ہیں۔ اب تم باوضو ہو۔

ہر انسان کی طرح وہ بھی اپنی ذاتی زندگی میں گناہوں اور خطاؤں سے گزرا ہی ہو گا۔

Read more

ملک انصاف کا قبرستان ہوا

عدالت عالیہ کے برآمدوں میں بہت دنوں سے تعفن کی شکایت کی جا رہی تھی
برآمدوں سے گزرتے لوگ اپنی اپنی ناک پر رومال رکھ کر گزرنے لگے تھے
دھیرے دھیرے یہ بو قاضی القضاء کے کمرہ انصاف تک بھی جا پہنچی
بالآخر قاضی القضاء کا بیٹھنا بھی محال ہوا
بالآخر ہتھوڑا انصاف کی میز سے ٹکرایا

Read more

مائی باپ! آپ کے بوٹ کے نیچے میرا ووٹ پڑا ہے

عالی جناب مائی باپ!
سات سلام قبول ہوں۔
آپ کا اقبال بلند رہے۔

گزارش ہے کہ میں آپ کی عالیشان ریاست کا اک بندہ گندہ ہوں۔
آدھا ننگا، آدھا ڈھکا ہوا۔ آدھا خالی، آدھا بھرا ہوا۔

آپ تو مجھے نہیں جانتے ہوں گے مگر اس بندہِ خاکی کا نام عوام ہے مائی باپ!
اکیلا ہوں تو بھی عوام ہوں۔ لاکھوں کروڑوں میں ڈھل جاؤں، تو بھی عوام ہوں۔

Read more

جنید جمشید بچ گیا ماں!

جنید جمشید کی موت پر مجھے آج زہرہ نگاہ سے سنی ہوئی ایک نظم یاد آ گئی ’’میں بچ گئی ماں‘‘۔ نظم ایک ایسی بیٹی کی زبان میں کہی گئی ہے جسے پیدا ہو کر سماج کی گندگی کی نذر ہونا ہے، مگر جسے ماں اس گندگی کی نذر ہونے سے پہلے ہی اپنی کوکھ میں ضائع کر دیتی ہے۔ اب وہ ضائع ہو چکی بیٹی زہرہ نگاہ کی نظم میں کہہ رہی ہے کہ ’’میں بچ گئی ماں‘‘۔

ایسا لگ رہا ہے کہ جنید جمشید کو بھی اسے تخلیق کرنے والے نے اوپر ہی فضا کی کوکھ میں ضائع کر دیا، ہمارے ہاتھوں مزید گندا ہونے سے پہلے اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے اور وہ اب کہیں بیٹھا کہہ رہا ہے کہ ’’میں بچ گیا ماں‘‘۔

Read more

اٹھو مریم نواز ! ہم تمہارے ساتھ ہیں

5 جولائی 1977 کی صبح 1 بج کر 45 منٹ کی روداد بینظیر بھٹو بتاتی ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں ممی میرے کمرے سے صنم کے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے کہہ رہی تھیں ” اٹھو، جاگو، کپڑے بدلو. فوج نے قبضہ کر لیا ہے”۔ اور جب حفیظ پیرزادہ کی بیٹی نے فون پر روتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میرے والد کو مارا پیٹا اور ساتھ لے کر چلے گئے تو پنکی کے پاپا نے کہا کہ پُرسکون رہو

Read more

ریاستِ مدینہ، رات، قلم اور قحط الرجال

‏ریاست مدینہ مدینہ میں یہودیوں کو مذہبی آزادی ہو گی یہودیوں کے مسلمانوں کے برابرحقوق ہوں گے مسلمانوں پر حملے کی صورت میں یہودی مسلمانوں اور یہودیوں پر حملے کی صورت میں مسلمان ان کاساتھ دیں گے نبیﷺمسلمانوں اور یہودیوں کی“متحدہ“ افواج کے سربراہ ہوں گے یہودیوں کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی ‏رات اک گماں سا، پروں کو پھڑپھڑاتا ہوا میرے قریب سےگزرتا گیا کہتا گیا اپنی عبادتوں کی گنتی زمانے کے سامنے نہ کر

Read more

قوم، ملک، سلطنت (کہانی)۔

قیامت، قیامت کی چال چل چکی ہے!
فضا میں معلق زمین کے گولے سمیت کائنات کے تمام گولے آپس میں ٹکرا کر ایک بگ بینگ کے ساتھ پارہ پارہ ہوچکے ہیں!
حسب توقع روئی کے گالوں کی طرح بکھر چکا ہے جہاں!
اب حد نگاہ سے بھی آگے تک انسانی سروں کا لامتناہی سمندر ہے جو عالم نفسانفسی میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور جسم ایک دوسرے پر گرے پڑتے ہیں!

کہتے ہیں کہ بہت آگے کہیں خدا بہ ذات خود ہر ایک سے سوال بھی کر رہا ہے اور فیصلے بھی لکھ رہا ہے!
لیکن ابھی خدا ہماری نگاہ سے اوجھل ہے اور انسانی قطاریں ہزار ہا برس جتنی طویل ہیں!
سورج سوا نیزے کے فاصلے سے سروں پر کھڑا ہے اور زمین کی تپش اتنی ہے کہ پیر اکھڑ اکھڑ جاتے ہیں!
میرے آگے کھڑا شخص زمین کی اس دہکتی تپش سے ننگے پیروں پر اچھل کر میری جانب گھوم جاتا ہے۔

کیا دیکھتا ہوں کہ یہ تو میرے ملک کا بادشاہ ہے!
بادشاہ تو ہے مگر قیامت کی اس گھڑی بالکل مجھ جیسا دکھ رہا ہے!
میری طرح ماتھا پسینے سے تر!
چہرہ دھول سے اٹا ہوا!
چہرے پر خوف و وحشت!
وہی میری طرح پیاس سے سوکھے ہونٹ اور چٹختی زبان!
نہ تاج! نہ ریشم! نہ اطلس و کمخواب! نہ لعل و جواہر اور نہ جاہ و جلال!
عجب! کہ ہے مگر میرے ملک کا بادشاہ!

آنکھیں چار ہوتے ہی میرا عادی جسم آپ ہی آپ، روبوٹ کی طرح جھک جھک کر بادشاہ کے حضور فرشی سلام پیش کرتا ہے!

Read more

مطالعۂ پاکستان، حملہ آور اور مفتوحین

جنگوں، حملہ آوروں کی تاریخ کا مطالعہ کرتے وقت قاری کو اپنی گہری نگاہ اس زمین اور قوم اور ان کے حالات اور تہذیب پر رکھنی چاہیے، جس پر حملہ کیا گیا۔ جسے فتح کیا گیا۔ مفتوح زمین کے لوگ انسانی المیے کے بدترین منظر سے گزرتے ہیں۔ وہ لڑتے بھی ہیں۔ مزاحمت بھی کرتے ہیں۔ ان کے سپہ سالار اور گمنام سپاہی مارے بھی جاتے ہیں۔ ان کی موت ان کے لیے کسی عظیم المیے سے کم نہیں ہوتی۔

Read more

المیہ (وبا کے دنوں کی کہانی)

زمین پر سکندر اعظم کا زمانہ شروع ہوا تھا، جب پہلی مرتبہ وہ کرہ ارض کا چکر کاٹنے آیا۔ کرہ ارض کے سبزہ زاروں، سمندروں، دریاؤں، برف پوش پہاڑوں اور ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں اور وہاں کی مخلوق کے عقل و تدبر کا بہت ذکر سن رکھا تھا اس نے سن رکھا تھا کہ کائنات میں وہ سب سے اشرف مخلوق کہے جاتے ہیں۔ ان کی باتیں سنو تو اپنا ہزاروں گنا طوالت لیے وجود چھوٹا لگنے لگتا ہے، حالانکہ

Read more

سندھ کی سوتیلی اور سگی ماں اور ایک مسافر

مجھے اچھا لگ رہا ہے کہ PDMA Sindh کی طرف سے روزانہ دو میسج آتے ہیں۔ ایک اردو میں اور ایک انگریزی میں کہ آپ خود کو آئسولیشن میں رکھیے، کیونکہ آپ باہر کا سفر کرکے آئی ہیں۔ اب کچھ دنوں سے فون آنا شروع ہوگئے ہیں۔ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ کرونا کا کوئی آثار تو نہیں؟ پلیز اپنا خیال رکھیے۔ ہمارے نمبر محفوظ رکھیے۔ ضرورت پڑنے پر فون کیجیے۔ ہم حاضر ہوجائیں گے۔ دل خوش ہوتا ہے کہ

Read more

بھٹائی کی ایک بیت بے نظیر کے نام

شاہ عبدالطيف بھٹائی کے ایک بیت کا ترجمہ آج میری طرف سے بینظیر بھٹو کے نام. بیت کا کردار عشق کے دریا میں اتری ہوئی "سوہنی(سھڻي)” ہے. (ترجمہ: نورالہدیٰ شاہ) شوقِ سفرِ عشق میں جاں کچے گھڑے پر دھرے معاملہِ دل، رب پے رکھے بپھرے دریا میں اترے گی لڑکی گرجتی، لپکتی موجوں کے ہنگامہ و غوغا میں کوئی نہ ہوگا جو سنے اس کی آہ و بکا دریا میں چھپ بیٹھا مگر مچھ منہ پھاڑے منتظر ہو گا کہ

Read more

عورت ۔۔غیرت کا سرکس اور نفس کا کنواں

غیرت کیا ہے؟ غیرت کے نام پر قتل کیوں کیا جاتا ہے؟ غیرت کیوں بلبلا اُٹھتی ہے؟ غیرت دراصل آدمی کے اندر کی فطری عُریانیت کا خود ساختہ ظاہری لباس ہے۔ غیرت کے نام پر قتل، دراصل بھائی اور باپ نامی مرد کے اندر سرایت کی ہوئی جنسی بیماری کا ردعمل ہے! جب اس کی بہن یا بیٹی کسی مرد کی طرف راغب ہوتی ہے تو یہ بات اس کے اندر کی فطری عریانیت کے تصوّر میں عین اُس طرح

Read more

زندہ ہے سندھو دریا زندہ ہے

15 ستمبر کو گھوٹکی میں ہندو پرنسپل نوتن لال پر چودہ سالہ مسلمان شاگرد کی طرف سے بلاسفیمی کے الزام کے ردعمل میں مشتعل ہجوم مندر اور اسکول پر ٹوٹ پڑا اور شدید توڑ پھوڑ ہوئی۔ صد شکر کہ انسانی جانوں کی بچت ہو گئی۔

گو کہ پاکستان میں یہ منظر اب نیا نہیں ہے، مگر الاس!
سندھ میں بھی ایسا ہوسکتا ہے!

Read more

جب شیعہ قتل ہوجائے گا

جس بے دردی سے سوشل میڈیا پر ہم شیعہ کو مذاق اور شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور وہ بھی ایسے دنوں میں جب لفظ لفظ نمایاں دِکھ بھی رہا ہے اور نشتر بن کر چُبھ بھی رہا ہے، وہ یقیناً ان لوگوں کے لیے شیعہ کا قتل آسان بنادے گا جو انہیں سمجھتے ہی کافر اور قابلِ قتل ہیں۔

جب شیعہ قتل ہوجائے گا تو ہم سوشل میڈیا ایکٹوِسٹ شدت پسند سنّیوں کی ملامت میں سوشل میڈیا پر پھر سے ٹوٹ پڑیں گے اور شیعوں کو پرسہ دے رہے ہوں گے، یہ بھول کر کہ اس قتل میں ہم بھی حصے دار ہیں!

Read more

میرے نامکمل حج اور پرانا مکہ

میں نے آنکھ کھول کر دنیا کو دیکھا تو ہر سال کا حج زندگی کا لازم حصّہ پایا۔
بابا اور اماں کی زندگی مکہ اور مدینہ کے گرد منڈلاتی تھی دو پروانوں کی طرح۔
تیسری میں آ گئی جسے ان کی انگلی پکڑ کر اس مرکزِ حیات کے گرد منڈلانا ہوتا تھا۔

بابا سرکاری ملازم تھے۔ ہر سال حج کے لیے ان کی چھٹی کا معاملہ پھنس جاتا۔ اعتراض آتا کہ ابھی پچھلے سال تو گئے ہو! اُدھر چھٹی کی درخواست چیف سیکریٹری کی ٹیبل پر پڑی پھڑپھڑا رہی ہوتی اور اِدھر وہ بے چین ہوئے پھرتے اور اماں کو سفر کی تیاری کا کہہ رہے ہوتے۔ مزاجاً بابا optimist تھے اور اماں pessimist۔ اماں بھر آئی ہوئی آواز میں مایوسی کے ساتھ کہتیں کہ اس بار بلاوا نہیں آیا! اس بار ہمیں یاد نہیں کیا گیا! ہاں اتنی بھیڑ میں ہم کہاں یاد ہوں گے! اور بھی کئی چاہنے والے پہنچے ہوئے ہوں گے وہاں۔ وہی ہم سے زیادہ عزیز ہوں گے!

Read more

بلاول، آصفہ، بختاور۔ لب آزاد کرو بیٹا

جب بھی سندھ کے حالات پر بات کرو تو غیر سندھی یہ کہتے ہوئے ٹوٹ پڑتے ہیں کہ اور بولو زندہ ہے بھٹو!
سندھ کے سیاسی، انتظامی، سماجی، معاشی حالات پر بات کرو تو یہ جواب تو آتا ہی ہے لیکن اگر قتل کا بھی کوئی انفرادی عمل سوشل میڈیا پر سامنے آ جائے تو ہر طرف سے آوازے کسے جاتے ہیں کہ اور بولو زندہ ہے بھٹو۔
ایسا صرف تب ہوتا ہے جب بولنے والا یا لکھنے والا سندھی ہوتا ہے۔
اور لہجہ یہ ہوتا ہے کہ بھُگتو۔ اور بھُگتو۔ اور ووٹ دو پیپلز پارٹی کو۔ !

Read more

ابھی انتظار کر چیف جسٹس! اب محشر میں ہو گی ملاقات

پرانے زمانے کی بات ہے
وقت کا چیف جسٹس اپنی رٹائرمنٹ والے دن شہر کی مرکزی مسجد میں لوگوں سے مخاطب تھا۔

لوگو!

میں نے تمہارا بھلا چاہا۔ تمہارے بھلے کے لیے میں نے سخت سے سخت تر قدم اٹھایا۔ پھر بھی اگر مجھ سے بھول چوک ہوگئی ہو تو مجھے معاف کردینا۔ اور مجھے اچھے الفاظ میں یاد رکھنا۔ تم سب کے درمیان یہ میرا آخری دن ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جاتے جاتے بھی تمہارے درمیان انصاف کرتا جاؤں۔ اگر کسی نے کوئی مقدمہ پیش کرنا ہے تو ابھی اٹھ کر کہہ دے۔

جمع کا دن تھا اور مسجد کا صحن کھچا کھچ بھرا تھا۔
سفید کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان اٹھ کھڑا ہوا۔

Read more

کمسن بچی کی شادی؟ خدا کا خوف کرو علی محمد!

پیارے علی محمد!

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جس اونچی کرسی پر شان سے بیٹھے ہو، اس کرسی کی جڑوں میں رینگتے سماج پر کبھی جھک کر نگاہ ڈالی ہے؟

تم اور میں جس جاگیردارانہ سماج سے تعلق رکھتے ہیں علی محمد! وہاں جرگے کے نام پر بچیوں کا لین دین ہوتا ہے، کیا تم اس سے بے خبر ہو؟

خدا کو حاضر ناظر جان کر سچ کہو کہ کیا تم نہیں جانتے کہ بڑی بڑی کلف لگی اونچی پگڑیوں والے جب محکوم رعایا کے فیصلے کرنے کے لیے جرگے لگاتے ہیں تو خون کے بدلے قاتل کی قریبی رشتے کی کم عمر بچی مقتول کے خاندان کے مرد کے حوالے کر دیتے ہیں!

صرف قتل کا فیصلہ ہی نہیں بلکہ ریپ، اغوا، بھاگ کر یا بھگا کر شادی کرنے کے فیصلے میں بھی مجرم قرار دیے گئے خاندان کی بچی پیش کر دی جاتی ہے!

Read more

ہوشیار خبردار نوجوان! آگے انگلی نہیں کھائی ہے

بلاول نے بلآخر ”انگلی“ کردی۔
پیچھے کھڑے مصاحبوں نے شاہ کے جملے پر قہقہہ لگایا۔
گُڈ گُڈ کہا۔
بہت سوں نے سر پیٹ لیا۔

بلاول سے امید کا دیا پیپلز پارٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس امید پر جل رہا ہے کہ بلاول نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والی ماں کی گود میں پرورش پائی ہے، جو بلاول سے بھی کم عمری میں آگ کے دریا سے گزر گئی مگر جس نے اپنی زبان نہ پھسلنے دی اور نہ اپنے مشورہ دینے والوں کی گرفت میں دی۔

Read more

نر کا بچہ وزیراعظم اور بینظیر کا صاحبہ بیٹا

”عورت“
جو پہلے پاکستانی سماج میں گالی کے طور پر استعمال ہوتی تھی اب ریاستِ پاکستان کی سرکاری طور پر منظور شدہ گالی ہے۔
کسی مرد کو گالی دینی ہو، نیچا دکھانا ہو تو اسے عورت کہہ دو۔ عورت جیسا کہہ دو۔
اسے کچھ بھی ایسا کہہ دو جس کی تشبیہہ عورت ہو۔
مردانگی کیا ہے، اس کا بھی سرکاری طور پر پچھلے دنوں اعلان کیا گیا۔

جب قومی اسمبلی میں اسد عمر جیسے نازک اندام مرد نے بڑی نزاکت و نفاست کے ساتھ فضا میں اپنی مخروطی انگلیاں بلند کرکے کسی میمبر کی جیت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ”نر کا بچہ ہے یہ۔ نر کا بچہ“ (کیونکہ اس نر کے بچے نے مادہ کے بچے کو الیکشن میں ہرا دیا تھا)۔
جواب میں نر کے بچے کے لیے خوب حکومتی ڈیسک بجے۔

Read more

خدا کرے سعودی عورت کو کوئی چھرا نہ گھونپ دے!

1975 ء میں شاہ فیصل کے قتل کے بعد 20 نومبر 1979 میں جہیمان العتیبی اور اس کے ساتھ کا انتہا پسند گروہ خانہِ کعبہ پر جو مطالبات لے کر حملہ آور ہوا تھا، وہ سعودی عرب کو گویا بظاہر اسلام کے نام پر مگر دراصل قبل اسلام کے دور میں لے جانا چاہتا تھا۔ جہیمان اپنے اکثر ساتھیوں سمیت سزائے موت کے ذریعے اپنے انجام کو تو پہنچا مگر جس خارجی بیج کو وہ شاہ فیصل کے بعد تر و تازہ کر گیا اسی سے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری جیسے انتہا پسندوں نے جنم لیا۔ اب اس انتہا پسندی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اور مغربی ممالک کے مسلسل دباؤ اور مشکل ہوتے معاشی حالات اور نئے اور جدید معاشی وسائل کی تلاش اور جدید دنیا کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے سعودی حکومت ایسے اقدامات کرنے جا رہی ہے جو شاہ فیصل کے دور میں اپنا راستہ بناتے بناتے کسی اور رُخ پر مڑ گئے۔

پہلا اقدام خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت کی صورت میں سامنے لایا گیا ہے۔ اس کے لیے خود سعودی خواتین اور خاص طور پر نئی نسل کی نوجوان لڑکیوں کی ایک خاموش کوشش بھی مطالبے کی صورت نظر آتی رہی ہے۔

مگر اندرونی منظر ایسا بھی نہیں ہے جیسا باہر بیٹھے ہوئے لوگ سمجھتے ہیں یا جیسا مغرب بتا رہا ہے۔ اندر ہی اندر سعودی سماج جس تبدیلی سے گزرتا رہا ہے اور جتنا سفر طے کر آیا ہے، وہ بیج دراصل کسی اور کا بویا ہوا ہے۔میری اپنی زندگی سعودی سماج کو بھی اتنا ہی قریب سے دیکھتے ہوئے گزری ہے، جتنا قریب سے میں نے پاکستانی سماج کو دیکھا ہے۔

Read more

کہیں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم صوفی تو نہیں!

خود کو بار بار یہ سوچنے سے منع کرتی ہوں مگر رہ رہ کر سوچتی ہوں کہ جیسنڈا آرڈرن نام کی یہ بی بی صوفی تو نہیں!
خود کو سمجھاتی بھی ہوں کہ وہ مسلمان تو نہیں، تو پھر صوفی کیسے ہوئی!
اوپر سے حکمران!

حکمران صوفی ہو ہی نہیں سکتا!
بلکہ حکمران اپنی حکمرانیت کے جاہ و جلال تلے اپنی روح تک کھو دیتا ہے اور صرف جسم باقی رہ جاتا ہے اور اس جسم پر ایک سریہ لگی گردن اس خوف میں تنی رہتی ہے کہ کہیں سر پر رکھا تاج گر نہ پڑے! حکمران کے دونوں ہاتھ بھی ہر وقت اپنا ہلتا ہوا تاج سنبھالنے میں مصروف رہتے ہیں۔

Read more

شادی سے بھاگنے کے لیے لڑکی کو ایک عدد گاڑی چاہیے

اپنی شادی سے بھاگ نکلتی لڑکی کے لیے گاڑی کا اشتہار دیکھ کر جن کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہے انہیں دراصل اسی زمین میں بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی عادت ہے۔
یہ اشتہار ایک ایسے سماج کے ٹھہرے پانی میں پہلے پتھر کی طرح ہے جو بیٹیوں کو شادی کے نام پر زنا بلجبر کے حوالے کرتا ہے اور اس پر شادیانے بجاتا ہے۔
جہاں لڑکی کو دباؤ میں قبول ہے کہلوایا جاتا ہے۔
جہاں یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا کہ زبردستی کی شادی سرے سے جائز ہی نہیں۔ عین شریعت و قانون کے مطابق نکاح ہوا بھی کہ نہیں!

Read more

دشمن کا شہر دلّی

دلّی دو مرتبہ جانا ہوا۔ پہلی بار اپنے ایک ڈرامے ”میری ادھوری محبت“ کی لوکیشن ریکی کے لیے ڈرامے کی ٹیم کے ساتھ۔ پہلے دن ہی ہم چاندنی چوک پہنچ گئے۔ سائیکل رکشا پر چاندنی چوک کے ہجوم سے گزرتے ہوئے جب تنگ گلیوں میں داخل ہوئی تو اچانک لگا کہ میں یہاں سے بھاگ جانا چاہ رہی ہوں۔ جوں جوں گلیاں گلیوں میں اترتی جاتی تھیں، میری گھٹن بڑھتی جاتی تھی۔

اندر سے ایک خوف سر اٹھانے لگا کہ ابھی ان تنگ گلیوں میں بلوا ہوجائے گا! ابھی کرپانیں نکلیں گی اور یہ تنگ گلیاں خون کی ندیاں بن جائیں گی! دونوں جانب کی چھوٹی چھوٹی دکانوں پر ٹنگی سُرخ و نارنجی رنگ ساڑھیاں مجھے شعلوں کی مانند دکھ رہی تھیں۔ بلوا۔ بلوا۔ چیخ و پکار۔ آہ و بکا۔ خون۔ لاشیں۔ بلآخر میں نے آگے جانے سے انکار کردیا۔

اُس پہلی رات ہوٹل کے کمرے میں سونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے مجھ پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ میرے لاشعور میں بچپن سے بٹوارے سے متعلق کہانیاں اور نصابی تاریخ بسی ہوئی ہے! اور اب یوں لگ رہا تھا جیسے میں خود بلوائیوں کی کرپانوں اور برچھیوں سے خونم خون گزر کر، لاشوں سے لدی ریل میں سندھ کے ریلوے اسٹیشن پر اترنے کے تجربے سے گزر چکی ہوں!

جاگ کر گزاری اُس رات کمرے کے دروازے کے آگے میں نے صوفہ رکھ دیا تھا کہ کہیں بلوائی نہ گھس آئیں مجھے ڈھونڈتے ہوئے! پر میں تو سندھی ہوں! نہ میں یہاں کبھی تھی، نہ ہی میرے اجداد کبھی یہاں تھے! اس طرح کی بہت سی خودغرض تسلیاں دیں خود کو، مگر خوف کا پسینہ تمام رات بھگوتا رہا مجھے۔ اس تجربے نے مجھ پر منکشف کیا کہ خوف و نفرت کس طرح ذہنوں میں سفر کرتے ہوئے لاشعوری طور پر دشمنی کے احساس میں ڈھلتے ہیں!

Read more

بادشاہ کے سائز کی زنجیریں اور غدار شہری

قیامت، قیامت کی چال چل چکی ہے!
فضا میں معلق زمین کے گولے سمیت کائنات کے تمام گولے آپس میں ٹکرا کر ایک بِگ بینگ کے ساتھ پارہ پارہ ہوچکے!
حسبِ وعدہ روئی کے گالوں کی طرح بکھر چکا ہے جہاں!

اب حدِ نگاہ سے بھی آگے تک انسانی سروں کا لامتناہی سمندر ہے جو عالمِ نفسانفسی میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور جسم ایک دوسرے پر گرے پڑتے ہیں!
کہتے ہیں کہ بہت آگے کہیں خدا بہ ذاتِ خود ہر ایک سے سوال بھی کررہا ہے اور فیصلے بھی لکھ رہا ہے!
لیکن ابھی خدا ہماری نگاہ سے اوجھل ہے اور انسانی قطاریں ہزارہا برس جتنی طویل ہیں!

سورج سوا گز کے فاصلے سے سروں پر کھڑا ہے اور زمین کی تپش اتنی ہے کہ پیر اکھڑ اکھڑ جاتے ہیں!
میرے آگے کھڑا شخص زمین کی اس دہکتی تپش سے ننگے پیروں پر اُچھل کر میری جانب گھوم جاتا ہے۔
کیا دیکھتا ہوں کہ یہ تو میرے ملک کا بادشاہ ہے!
بادشاہ تو ہے مگر قیامت کی اس گھڑی بالکل مجھ جیسا دکھ رہا ہے!

Read more

ایف آئی آر

سردیوں کی ایک انتہائی سرد ٹھٹھرتی رات۔
سنسان اتنی کہ جیسے قبرستان۔
سناٹا ایسا کہ جیسے موت۔
اندھیرے میں خنجر کی طرح اتری ہوئی سڑک۔
سڑک کنارے پولیس اسٹیشن کی روشنی جیسے امید کی آخری کرن۔

پولیس اسٹیشن کے اندر ایک کم عمر لڑکا پولیس انسپیکٹر کے سامنے بیٹھا ہوا۔
لڑکے کے چہرے پر ابھی جوانی نہیں اتری مگر تازہ خون کے چھینٹوں نے اس کے چہرے کو ایسا بنادیا ہے جیسے ستر برس کا بوڑھا۔
اس کی فقط ایک آنکھ سے آنسو بہہ رہا ہے۔ دوسری آنکھ خشک ہے۔
اس کا دبلا پتلا جسم سردی اور خوف سے یوں لرز رہا ہے، جیسے ماں کی گود سے چھینا گیا بچہ۔
اس کے کپڑوں پر بھی جابجا خون کے دھبے ہیں۔

Read more

میری اماں کی سلائی مشینیں اور مرغیاں اور میرا پچھتاوا

زندگی جب اپنے اختتام کی طرف رُخ موڑتی ہے، تو پچھتاوا نہ صرف ساتھ ساتھ چلنا شروع کرتا ہے بلکہ مسلسل بولنے بھی لگتا ہے۔ دیکھا، کہا تھا نا کہ ایسا مت کر۔ کتنا روکا تھا۔ ایسا نہ کیا ہوتا تو آج یوں نہ ہوتا اور اگر ویسا کیا ہوتا تو آج کچھ یوں ہورہا ہوتا۔ عورت کو عموماً زندگی کے آخری اسٹیج پر ماں کی نصیحتیں یاد آیا کرتی ہیں۔ ماں اپنے تجربے کا نچوڑ بیٹی کو جہیز میں دینا چاہتی ہے مگر زندگی کی تجربہ گاہ میں داخل ہوتی بیٹی وہ فرسودہ تجربہ قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ بہت ساری زندگی گزارنے کے بعد کہیں جاکر انکشاف ہوتا ہے کہ زندگی ہے ہی فرسودہ چیز! اسے فرسودگی سے گزارو تو مزے میں گزرتی ہے۔ مختلف راستہ پکڑو تو آگے کی کوئی گارنٹی نہیں!

میری اماں کمال کی آرٹسٹ تھیں۔ رنگوں سے کھیلنے کا فن انہیں کڑھائی کی صورت آتا تھا۔ میں نے آنکھ کھولی تو اپنے گھر میں سنگر سلائی مشین سے لے کر ہر دور کی جدید ترین سلائی مشینیں دیکھیں۔ ہر سال حج کا سفر ہماری زندگی کا حصّہ تھا ہی، مگر واپسی پر جدہ میں چند دن رہ کر جدید جرمن سلائی مشینوں کی بڑی بڑی دکانوں کی زیارت کیے بغیر ہمارا سفرِ حج گویا مکمل ہی نہ ہوتا تھا!

Read more

برگد کے آسیب زدہ درخت میں لاپتہ ہوتی آوازیں

بچپن میں ایک سندھی لوک کہانی گیت کی صورت بڑی بوڑھیاں گنگناکر سنایا کرتی تھیں۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ
ایک تھی ”ادی سونل“
اس کی شادی ہونے جارہی تھی
ایک دیو اس پر عاشق تھا
عین شادی کے دن دیو نے اسے اٹھاکر برگد کے بوڑھے درخت میں لاپتہ کردیا۔
بارات آگئی مگر ادی سونل لاپتہ تھی۔

ادی سونل کا دکھیارا بھائی اب گیت گاتے ہوئے درخت تلے کھڑا بہن کو آوازیں دینے لگا، تاکہ باراتی یہ نہ سمجھیں کہ ادی سونل موجود نہیں۔ بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ بھائی بہن کی رخصتی کے دکھ میں گیت گا رہا ہے۔

Read more

بندوقوں کے سائے میں بے نظیر کا غریب ووٹر

ایک دن گپ شپ کے دوران عائشہ صدیقہ نے پوچھا کہ بی بی کی لیگیسی کیا ہے؟ فوری جواب تو یہ بنتا تھا کہ پیپلز پارٹی! پر پتہ نہیں کیوں ایک فضول سا جواب لگا یہ۔ حال ہی میں بلاول کو دیکھتے ہوئے اپنے ہی دماغ نے یہ سوال دہرایا اور جواب سوچا کہ کیا بلاول بی بی کی لیگیسی ہے؟ اس جواب پر بھی دل نہ مانا۔ کچھ روز پہلے جب حیدرآباد سے کراچی واپس آ رہی تھی اور

Read more

”عشقِ رسولﷺ“ کا دن سرکاری طور پر منانے کا اعلان

یہ 22 ستمبر 2012 کی پوسٹ ہے، جب گستاخانہ وڈیو کے ردعمل میں رحمان ملک نے ”عشقِ رسولﷺ“ کا دن سرکاری طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ نتیجے میں دن بھر ہر سوُ آگ بھڑکتی رہی۔ میں مدینے میں تھی۔ اسی دن شام کو پاکستان واپسی کے لیے جدہ پہنچی تو پاکستانی نیوز چینلز پر دن بھر کی آگ کے بعد اب اڑتی راکھ کی خبریں سننے کو ملیں۔ دل نے اس لمحے بے اختیار جو الفاظ لکھ کر

Read more

‏زرا آنکھیں کھولو کلثوم

‏زرا آنکھیں کھولو کلثوم دیکھو پاکستانی سیاست کوبھی کینسر ہوچکا ہےاور اب مصنوعی سانسیں لے رہی ہے زرا آنکھیں کھولو کلثوم دیکھو پاکستانی کس طرح لذتِ مرگ کےجنون میں مبتلا ہوچکےہیں زرا آنکھیں کھولو کلثوم دیکھو فاتحہ خوانی کا بازار خوب گرم ہے آج اورسب ہی رسمِ قُل کی خرید و فروخت میں مصروف ہیں ‏موت شرماتی ہوئی گزرتی ہے ہماری گلیوں سے کہ ننگے ہیں لوگ حیا آتی ہے ان سے خونِ آدم کی بوُ بھری ہے ان کے

Read more

چائے پاپے والی سرکار چاہیے

  وزیراعظم ہاؤس میں صرف چائے بسکوٹ (انگریزی والا بسکٹ) والی رسم کی ابتدا مذاق میں مت لیجیے. یہ بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے. اس کے پیچھے 70 سالہ تاریخ کا اضطراب دبا ہے. ٹیکنیکل، قانونی، آئینی، معاشی، ریاستی و سیاستی اور چین و ہند و امریکہ سمیت فارن پالیسی کے مسائل کا انبار ایک طرف رکھیے اور اس پر گفتگو ڈرائنگ رومز میں کیجیے اور اپنے منہ کا ذائقہ بنائیے. ڈرائنگ روم سے باہر اس ملک کی اکثریت کو

Read more

حق دبے پاؤں پیچھا کرتا ہے

حق دبے پاؤں پیچھا کرتا ہے ‏سُن ایک ہوتا ہے سچ ایک ہوتا ہے حق سچ آگے آگے چل رہا ہوتا ہے اور کہیں نہ کہیں راستہ روک لیتا ہے مگر حق! حق دبے پاؤں پیچھا کرتا ہے اور برق بن کر ٹوٹتا ہے راستہ نہیں روکتا راستے موڑ دیتا ہے سچ انسان کے ضمیر کا معاملہ ہے حق ربِ ذوالجلال کی گرفت کا معاملہ ہے ‏دکھ اس بات کا نہیں ‏دکھ اس بات کا نہیں کہ ہمیں کیا کچھ

Read more

پرانے پاکستان کا عام آدمی اور نئے پاکستان کا تھپڑ

ایک عام سفید پوش، باشعور آدمی نے بیچ سڑک پر ذلّت برداشت کی۔ تھپڑ کھائے۔ سوچا ہوگا کہ گھر پہنچ کر بیوی بچوں سے تھپڑ آلود چہرہ چھپا کر، منہ لپیٹ کر سوتا بن جاؤں گا۔ بیوی کھانے کا پوچھے گی تو کہوں گا کہ باہر سے پیٹ بھر آیا ہوں۔ طبیعت پوچھے گی تو کہوں گا کہ سینے میں جلن سی ہورہی ہے۔ شاید مرچیں زیادہ تھیں! مگر تمام رات تو انگاروں پر ہی گزرے گی کہ کیوں اتنا

Read more

انسانیت مر گئی، عشق ابھی زندہ ہے!

پچھلی رات عابدہ پروین کو رو بروُ سن رہی تھی اور اپنے گرد بیٹھے ہر عمر کے لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو بڑی محویت کے ساتھ عابدہ پروین کو سُن رہے تھے اور سر دھُن رہے تھے، چاہے وہ اردو کلام گا رہی ہو، سندھی ہو یا پنجابی۔ بس عشق کا جادو تھا جو عابدہ پروین کے ذریعے حاضرینِ محفل کی جانب منتقل ہو رہا تھا۔ پھر اس نے ہمیشہ کی طرح اپنا پسندیدہ اور ایک سادہ لفظوں والا

Read more

بہشت کے دروازے پر

میری اور اس کی ملاقات بہشت کے بند پڑے دروازے پر ہوئی تھی۔ میں اُس سے ذرا دیر پہلے، بڑی لمبی اور کٹھن مسافت کے بعد، پیچیدہ در پیچیدہ راستوں سے گزرتی، اپنے لہولہان پُرزوں کا بوجھ اُٹھائے، تھکن سے چوُر بہشت کے بند پڑے دروازے تک پہنچی تھی اور ٹوٹ چکی سانس کے ساتھ دروازے کے سامنے یوں آ گری تھی، جیسے شکار ہو چکا پرندہ! مجھ سے کچھ ہی دیر بعد وہ بھی لہولہان، ایک ہاتھ میں اپنا

Read more

پھانسی کا پھندہ تیار ہے، بادشاہ کی گردن بھی

فجر کی اذان میں ابھی کچھ دیر باقی ہے جلّاد فرض کی ادائگی کے لیے پہنچ چکا ہے پھندے پر ہاتھ پھیر کر یقیں کر چکا ہے پھندہ بلکل صحیح دکھتا ہے سزائے موت کی منتظر گردن کا منتظر ہے پھندہ عین بادشاہِ وقت کی گردن کے مطابق ہے پھندہ بادشاہ وقت پر جرم ثابت ہو چکا ہے گو کہ جرائم کی فہرست بہت بہت طویل ہے مگر پھر بھی مختصراََ مختصراََ وہ قاتل ہے، جیب کترا ہے لُٹیرا ہے

Read more

سیاسی آتشدان میں کارکنوں کی راکھ اور ہاتھ تاپتے سیاستدان

الیکشن سر پر ہے، گویا قیامت آنے کو ہے! سیاستدان جیتنے سے پہلے جیت کے نشے سے سرشار ہیں اور ان کے جانثار مداح ان ہی کی اس لذت سے مدہوش ہوکر ایک دوسرے کی مائیں بہنیں گالیوں کی صورت نوچ کھا رہے ہیں۔ مگر قیامت سے پہلے ایک قیامت ہے جو مختلف پارٹیوں کے کارکنوں پر گزر رہی ہے۔ ان کی حالت میلے میں کھوچکے اس بچے کی سی ہے جو میلے کے بے پناہ ہجوم میں اس ہاتھ

Read more

آنکھوں کی سوکھ چکی شبنم

گئے دنوں کی بات ہے کہ پاکستان میں ایک شبنم ہوا کرتی تھی، لاکھوں لوگوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی مانند۔ بنگال کا جادو اس کی آنکھوں میں بھرا تھا۔ اردو بنگالی لب و لہجے میں ایک ٹھہراؤ کے ساتھ ادا کرتی تھی، جس میں اس کی آواز کی مدھر سی لرزش عجب سا جلترنگ بھر دیتی تھی۔ پاکستان فلم انڈسٹری کی ایک بلکل ہی مختلف اور اسٹائلش ہیروئن، جس کے ہر انداز میں جدید دور کی ماڈرن عورت نظر

Read more

ہیپی مدرز ڈے

عدنان خان کاکڑ کا میسج آیا کہ مدرز ڈے پر کچھ لکھیے۔ مدرز ڈے پر کیا کچھ لکھوں! زندگی اور زندگی کا تجربہ، ایک لکھنے والے کو (چاہے وہ مرد ہو یا عورت) کس طرح ایک ماں کا دل عطا کرتا ہے! اور ماں کا دل حاصل کرنے کے بعد کس طرح ایک محدود نظریاتی انسان، انسانیت کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے! کس طرح ماں کا دل عطا ہونے کے بعد ایک لکھنے والا آفاقیت کی وسعتوں میں پرواز

Read more

انسانیت مر گئی، عشق ابھی زندہ ہے!

پچھلی رات عابدہ پروین کو رو برو سن رہی تھی اور اپنے گرد بیٹھے ہر عمر کے لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو بڑی محویت کے ساتھ عابدہ پروین کو سُن رہے تھے اور سر دھُن رہے تھے، چاہے وہ اردو کلام گا رہی ہو، سندھی ہو یا پنجابی۔ بس عشق کا جادو تھا جو عابدہ پروین کے ذریعے حاضرینِ محفل کی جانب منتقل ہو رہا تھا۔ پھر اس نے ہمیشہ کی طرح اپنا پسندیدہ اور ایک سادہ لفظوں والا

Read more

ہم۔۔۔ صاحب لوگ کی ملازم نما پاکستانی قوم

اس پاکستانی قوم کا منظر نامہ کچھ یوں ہے۔۔۔ جیسے ایک شاندار گھر میں خاموشی سے چلتے پھرتے ملازم۔ جیسے صاحب لوگ کی پارٹی چل رہی ہو۔ باتیں، قہقہے، کمنٹس، ایک دوسرے پر نگاہ۔ زیادہ تر انگریزی زبان کا استعمال۔ اس دوران ملازم گونگے بہرے بنے مشروب پیش کر رہے ہوں۔ مجال ہے کہ ایک لفظ بھی سمجھ میں آ جائے۔ بس صاحب لوگ کا سوٹ بوٹ اور بیگم لوگ کا بے لباس، لباس ایک عجب کشش رکھتا ہو۔ اوپر

Read more

خدا کرے سعودی عورت کو کوئی چھرا نہ گھونپ دے!  (2)

برسوں پہلے میری ایک سعودی دوست کی شادی تھی اور وہ 1980 کی دہائی تھی۔ تب پتہ چلا کہ لڑکی کو قاضی کے سامنے پیش ہونا پڑتا ہے اور حلفیہ بتانا پڑتا ہے کہ اس کے ساتھ زبردستی نہیں ہو رہی۔ اور یہ کہ اس نے لڑکے کو دیکھا بھی ہے اور پسند بھی کیا ہے۔ سعودی سماج میں بوڑھی اور بیوہ عورت کا کسی سے بھی نکاح کرنا معیوب بات نہیں سمجھی جاتی اور اکثر اس طرح کے واقعات

Read more

زندہ باد ….۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر

ذوالفقار علی بھٹو نے سب کو پریشان کر دیا ہے۔ گویا وہ ہم سب کی مشترکہ پراپرٹی ہو جو اب ہماری بندر بانٹ میں ہمارے حصے میں آ نہیں پا رہی۔ ہم ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں۔ تلملا رہے ہیں۔ مگر کمال کر دیا اس بچے نے! پاکستانی سماج، پاکستان میں مذہب کے بیوپاریوں، پاکستانی سیاست اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے منہ پر ایک طمانچہ دے مارا ہے اس نے۔ سب انجانے میں اپنا اپنا رخسار سہلا رہے ہیں۔ سب سسک

Read more