ملک انصاف کا قبرستان ہوا

عدالتِ عالیہ کے برآمدوں میں بہت دنوں سے تعفن کی شکایت کی جا رہی تھی برآمدوں سے گزرتے لوگ اپنی اپنی ناک پر رومال رکھ کر گزرنے لگے تھے دھیرے دھیرے یہ بو قاضی القضاء کے کمرہِ انصاف تک بھی جا پہنچی بلآخر قاضی القضاء کا بیٹھنا بھی محال ہوا بالآخر ہتھوڑا انصاف کی میز…

Read more

عورت ۔۔غیرت کا سرکس اور نفس کا کنواں

غیرت کیا ہے؟ غیرت کے نام پر قتل کیوں کیا جاتا ہے؟ غیرت کیوں بلبلا اُٹھتی ہے؟ غیرت دراصل آدمی کے اندر کی فطری عُریانیت کا خود ساختہ ظاہری لباس ہے۔ غیرت کے نام پر قتل، دراصل بھائی اور باپ نامی مرد کے اندر سرایت کی ہوئی جنسی بیماری کا ردعمل ہے! جب اس کی…

Read more

مائی باپ! آپ کے بوٹ کے نیچے میرا ووٹ پڑا ہے

عالی جناب مائی باپ! سات سلام قبول ہوں۔ آپ کا اقبال بلند رہے۔ گزارش ہے کہ میں آپ کی عالیشان ریاست کا اک بندہ گندہ ہوں۔ آدھا ننگا، آدھا ڈھکا ہوا۔ آدھا خالی، آدھا بھرا ہوا۔ آپ تو مجھے نہیں جانتے ہوں گے مگر اس بندہِ خاکی کا نام عوام ہے مائی باپ! اکیلا ہوں…

Read more

آج بھی منٹو کا پاکستان اور ”کھول دو“ کی سکینہ کا کھلا ازار بند

یہ وہی پاکستان ہے نا، جس کا مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کے تحفظ کے لیے جناح صاحب نے مطالبہ کیا تھا؟
یہ وہی پاکستان ہے نا جس کا وعدہ تھا کہ یہاں بسنے والی تمام قوموں کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے؟
یہ وہی پاکستان ہے نا، جو طاقتور شہنشاہیت کی غلامی سے آزادی کا دعویدار تھا؟

Read more

زندہ ہے سندھو دریا زندہ ہے

15 ستمبر کو گھوٹکی میں ہندو پرنسپل نوتن لال پر چودہ سالہ مسلمان شاگرد کی طرف سے بلاسفیمی کے الزام کے ردعمل میں مشتعل ہجوم مندر اور اسکول پر ٹوٹ پڑا اور شدید توڑ پھوڑ ہوئی۔ صد شکر کہ انسانی جانوں کی بچت ہو گئی۔

گو کہ پاکستان میں یہ منظر اب نیا نہیں ہے، مگر الاس!
سندھ میں بھی ایسا ہوسکتا ہے!

Read more

جب شیعہ قتل ہوجائے گا

جس بے دردی سے سوشل میڈیا پر ہم شیعہ کو مذاق اور شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور وہ بھی ایسے دنوں میں جب لفظ لفظ نمایاں دِکھ بھی رہا ہے اور نشتر بن کر چُبھ بھی رہا ہے، وہ یقیناً ان لوگوں کے لیے شیعہ کا قتل آسان بنادے گا جو انہیں سمجھتے ہی کافر اور قابلِ قتل ہیں۔

جب شیعہ قتل ہوجائے گا تو ہم سوشل میڈیا ایکٹوِسٹ شدت پسند سنّیوں کی ملامت میں سوشل میڈیا پر پھر سے ٹوٹ پڑیں گے اور شیعوں کو پرسہ دے رہے ہوں گے، یہ بھول کر کہ اس قتل میں ہم بھی حصے دار ہیں!

Read more

میرے نامکمل حج اور پرانا مکہ

میں نے آنکھ کھول کر دنیا کو دیکھا تو ہر سال کا حج زندگی کا لازم حصّہ پایا۔
بابا اور اماں کی زندگی مکہ اور مدینہ کے گرد منڈلاتی تھی دو پروانوں کی طرح۔
تیسری میں آ گئی جسے ان کی انگلی پکڑ کر اس مرکزِ حیات کے گرد منڈلانا ہوتا تھا۔

بابا سرکاری ملازم تھے۔ ہر سال حج کے لیے ان کی چھٹی کا معاملہ پھنس جاتا۔ اعتراض آتا کہ ابھی پچھلے سال تو گئے ہو! اُدھر چھٹی کی درخواست چیف سیکریٹری کی ٹیبل پر پڑی پھڑپھڑا رہی ہوتی اور اِدھر وہ بے چین ہوئے پھرتے اور اماں کو سفر کی تیاری کا کہہ رہے ہوتے۔ مزاجاً بابا optimist تھے اور اماں pessimist۔ اماں بھر آئی ہوئی آواز میں مایوسی کے ساتھ کہتیں کہ اس بار بلاوا نہیں آیا! اس بار ہمیں یاد نہیں کیا گیا! ہاں اتنی بھیڑ میں ہم کہاں یاد ہوں گے! اور بھی کئی چاہنے والے پہنچے ہوئے ہوں گے وہاں۔ وہی ہم سے زیادہ عزیز ہوں گے!

Read more

62-63  کا حمام اور ننگے صادق و امین

اس ملک کا پہلا صادق و امین جنرل ضیاء تھا۔

جو خود ایک ایسا نفسیاتی مریض تھا جسے بھٹو دشمنی میں جل کر سیاہ ہو چکے مولویوں اور فتویٰ سازوں نے وردی کے اوپر امیرالمومنین کی شیروانی پہنائی تھی۔

انہوں نے اسے اس ذہنی بیماری میں مبتلا کر دیا تھا کہ ایک بھٹو کو پھانسی چڑھا کر تم بخشے جا چکے ہو۔ تمہارے تمام پوشیدہ گناہ کبیرہ بھی اور صغیرہ بھی معاف ہو چکے ہیں۔ اب تم باوضو ہو۔

ہر انسان کی طرح وہ بھی اپنی ذاتی زندگی میں گناہوں اور خطاؤں سے گزرا ہی ہو گا۔

Read more

بلاول، آصفہ، بختاور۔ لب آزاد کرو بیٹا

جب بھی سندھ کے حالات پر بات کرو تو غیر سندھی یہ کہتے ہوئے ٹوٹ پڑتے ہیں کہ اور بولو زندہ ہے بھٹو!
سندھ کے سیاسی، انتظامی، سماجی، معاشی حالات پر بات کرو تو یہ جواب تو آتا ہی ہے لیکن اگر قتل کا بھی کوئی انفرادی عمل سوشل میڈیا پر سامنے آ جائے تو ہر طرف سے آوازے کسے جاتے ہیں کہ اور بولو زندہ ہے بھٹو۔
ایسا صرف تب ہوتا ہے جب بولنے والا یا لکھنے والا سندھی ہوتا ہے۔
اور لہجہ یہ ہوتا ہے کہ بھُگتو۔ اور بھُگتو۔ اور ووٹ دو پیپلز پارٹی کو۔ !

Read more

ابھی انتظار کر چیف جسٹس! اب محشر میں ہو گی ملاقات

پرانے زمانے کی بات ہے
وقت کا چیف جسٹس اپنی رٹائرمنٹ والے دن شہر کی مرکزی مسجد میں لوگوں سے مخاطب تھا۔

لوگو!

میں نے تمہارا بھلا چاہا۔ تمہارے بھلے کے لیے میں نے سخت سے سخت تر قدم اٹھایا۔ پھر بھی اگر مجھ سے بھول چوک ہوگئی ہو تو مجھے معاف کردینا۔ اور مجھے اچھے الفاظ میں یاد رکھنا۔ تم سب کے درمیان یہ میرا آخری دن ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جاتے جاتے بھی تمہارے درمیان انصاف کرتا جاؤں۔ اگر کسی نے کوئی مقدمہ پیش کرنا ہے تو ابھی اٹھ کر کہہ دے۔

جمع کا دن تھا اور مسجد کا صحن کھچا کھچ بھرا تھا۔
سفید کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان اٹھ کھڑا ہوا۔

Read more