ابھی انتظار کر چیف جسٹس! اب محشر میں ہو گی ملاقات

پرانے زمانے کی بات ہے
وقت کا چیف جسٹس اپنی رٹائرمنٹ والے دن شہر کی مرکزی مسجد میں لوگوں سے مخاطب تھا۔

لوگو!

میں نے تمہارا بھلا چاہا۔ تمہارے بھلے کے لیے میں نے سخت سے سخت تر قدم اٹھایا۔ پھر بھی اگر مجھ سے بھول چوک ہوگئی ہو تو مجھے معاف کردینا۔ اور مجھے اچھے الفاظ میں یاد رکھنا۔ تم سب کے درمیان یہ میرا آخری دن ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جاتے جاتے بھی تمہارے درمیان انصاف کرتا جاؤں۔ اگر کسی نے کوئی مقدمہ پیش کرنا ہے تو ابھی اٹھ کر کہہ دے۔

جمع کا دن تھا اور مسجد کا صحن کھچا کھچ بھرا تھا۔
سفید کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان اٹھ کھڑا ہوا۔

Read more

کمسن بچی کی شادی؟ خدا کا خوف کرو علی محمد!

پیارے علی محمد!

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جس اونچی کرسی پر شان سے بیٹھے ہو، اس کرسی کی جڑوں میں رینگتے سماج پر کبھی جھک کر نگاہ ڈالی ہے؟

تم اور میں جس جاگیردارانہ سماج سے تعلق رکھتے ہیں علی محمد! وہاں جرگے کے نام پر بچیوں کا لین دین ہوتا ہے، کیا تم اس سے بے خبر ہو؟

خدا کو حاضر ناظر جان کر سچ کہو کہ کیا تم نہیں جانتے کہ بڑی بڑی کلف لگی اونچی پگڑیوں والے جب محکوم رعایا کے فیصلے کرنے کے لیے جرگے لگاتے ہیں تو خون کے بدلے قاتل کی قریبی رشتے کی کم عمر بچی مقتول کے خاندان کے مرد کے حوالے کر دیتے ہیں!

صرف قتل کا فیصلہ ہی نہیں بلکہ ریپ، اغوا، بھاگ کر یا بھگا کر شادی کرنے کے فیصلے میں بھی مجرم قرار دیے گئے خاندان کی بچی پیش کر دی جاتی ہے!

Read more

ہوشیار خبردار نوجوان! آگے انگلی نہیں کھائی ہے

بلاول نے بلآخر ”انگلی“ کردی۔
پیچھے کھڑے مصاحبوں نے شاہ کے جملے پر قہقہہ لگایا۔
گُڈ گُڈ کہا۔
بہت سوں نے سر پیٹ لیا۔

بلاول سے امید کا دیا پیپلز پارٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس امید پر جل رہا ہے کہ بلاول نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والی ماں کی گود میں پرورش پائی ہے، جو بلاول سے بھی کم عمری میں آگ کے دریا سے گزر گئی مگر جس نے اپنی زبان نہ پھسلنے دی اور نہ اپنے مشورہ دینے والوں کی گرفت میں دی۔

Read more

نر کا بچہ وزیراعظم اور بینظیر کا صاحبہ بیٹا

”عورت“
جو پہلے پاکستانی سماج میں گالی کے طور پر استعمال ہوتی تھی اب ریاستِ پاکستان کی سرکاری طور پر منظور شدہ گالی ہے۔
کسی مرد کو گالی دینی ہو، نیچا دکھانا ہو تو اسے عورت کہہ دو۔ عورت جیسا کہہ دو۔
اسے کچھ بھی ایسا کہہ دو جس کی تشبیہہ عورت ہو۔
مردانگی کیا ہے، اس کا بھی سرکاری طور پر پچھلے دنوں اعلان کیا گیا۔

جب قومی اسمبلی میں اسد عمر جیسے نازک اندام مرد نے بڑی نزاکت و نفاست کے ساتھ فضا میں اپنی مخروطی انگلیاں بلند کرکے کسی میمبر کی جیت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ”نر کا بچہ ہے یہ۔ نر کا بچہ“ (کیونکہ اس نر کے بچے نے مادہ کے بچے کو الیکشن میں ہرا دیا تھا)۔
جواب میں نر کے بچے کے لیے خوب حکومتی ڈیسک بجے۔

Read more

خدا کرے سعودی عورت کو کوئی چھرا نہ گھونپ دے!

1975 ء میں شاہ فیصل کے قتل کے بعد 20 نومبر 1979 میں جہیمان العتیبی اور اس کے ساتھ کا انتہا پسند گروہ خانہِ کعبہ پر جو مطالبات لے کر حملہ آور ہوا تھا، وہ سعودی عرب کو گویا بظاہر اسلام کے نام پر مگر دراصل قبل اسلام کے دور میں لے جانا چاہتا تھا۔ جہیمان اپنے اکثر ساتھیوں سمیت سزائے موت کے ذریعے اپنے انجام کو تو پہنچا مگر جس خارجی بیج کو وہ شاہ فیصل کے بعد تر و تازہ کر گیا اسی سے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری جیسے انتہا پسندوں نے جنم لیا۔ اب اس انتہا پسندی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اور مغربی ممالک کے مسلسل دباؤ اور مشکل ہوتے معاشی حالات اور نئے اور جدید معاشی وسائل کی تلاش اور جدید دنیا کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے سعودی حکومت ایسے اقدامات کرنے جا رہی ہے جو شاہ فیصل کے دور میں اپنا راستہ بناتے بناتے کسی اور رُخ پر مڑ گئے۔

پہلا اقدام خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت کی صورت میں سامنے لایا گیا ہے۔ اس کے لیے خود سعودی خواتین اور خاص طور پر نئی نسل کی نوجوان لڑکیوں کی ایک خاموش کوشش بھی مطالبے کی صورت نظر آتی رہی ہے۔

مگر اندرونی منظر ایسا بھی نہیں ہے جیسا باہر بیٹھے ہوئے لوگ سمجھتے ہیں یا جیسا مغرب بتا رہا ہے۔ اندر ہی اندر سعودی سماج جس تبدیلی سے گزرتا رہا ہے اور جتنا سفر طے کر آیا ہے، وہ بیج دراصل کسی اور کا بویا ہوا ہے۔میری اپنی زندگی سعودی سماج کو بھی اتنا ہی قریب سے دیکھتے ہوئے گزری ہے، جتنا قریب سے میں نے پاکستانی سماج کو دیکھا ہے۔

Read more

کہیں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم صوفی تو نہیں!

خود کو بار بار یہ سوچنے سے منع کرتی ہوں مگر رہ رہ کر سوچتی ہوں کہ جیسنڈا آرڈرن نام کی یہ بی بی صوفی تو نہیں!
خود کو سمجھاتی بھی ہوں کہ وہ مسلمان تو نہیں، تو پھر صوفی کیسے ہوئی!
اوپر سے حکمران!

حکمران صوفی ہو ہی نہیں سکتا!
بلکہ حکمران اپنی حکمرانیت کے جاہ و جلال تلے اپنی روح تک کھو دیتا ہے اور صرف جسم باقی رہ جاتا ہے اور اس جسم پر ایک سریہ لگی گردن اس خوف میں تنی رہتی ہے کہ کہیں سر پر رکھا تاج گر نہ پڑے! حکمران کے دونوں ہاتھ بھی ہر وقت اپنا ہلتا ہوا تاج سنبھالنے میں مصروف رہتے ہیں۔

Read more

شادی سے بھاگنے کے لیے لڑکی کو ایک عدد گاڑی چاہیے

اپنی شادی سے بھاگ نکلتی لڑکی کے لیے گاڑی کا اشتہار دیکھ کر جن کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہے انہیں دراصل اسی زمین میں بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی عادت ہے۔
یہ اشتہار ایک ایسے سماج کے ٹھہرے پانی میں پہلے پتھر کی طرح ہے جو بیٹیوں کو شادی کے نام پر زنا بلجبر کے حوالے کرتا ہے اور اس پر شادیانے بجاتا ہے۔
جہاں لڑکی کو دباؤ میں قبول ہے کہلوایا جاتا ہے۔
جہاں یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا کہ زبردستی کی شادی سرے سے جائز ہی نہیں۔ عین شریعت و قانون کے مطابق نکاح ہوا بھی کہ نہیں!

Read more

مدینہ منورہ سے واپسی کا سفر اور گدڑی کے لعل

مدینہ یا جدہ سے فلائٹ پکڑو تو آپ کو ایک اور ہی ہجوم ٹکرائے گا۔
بہت سے پہلی بار جہاز کا سفر کررہے ہوتے ہیں۔ بہت سے پہلی بار عمرہ کرکے یا مدینے میں سرکارﷺ کے حضور سلام پیش کرنے کے نشے میں اونچا اونچا اُڑ رہے ہوتے ہیں اور اس کیفیت میں انہوں نے اپنا حلیہ بھی مصنوعی اور عربی بنایا ہوا ہوتا ہے۔
اکثریت غریب، میلی، انگوٹھا چھاپ یا برائے نام پڑھی لکھی ملے گی۔
اگر فلائٹ ایمرٹس کی ہے تو پھر دبئی تک کئی اور ہمارے آس پاس کے ملکوں کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔
جیسے بنگلہ دیشی، انڈین، برمی وغیرہ۔
یہ مسافر اپنی ایکسائٹمنٹ میں اتنے لاؤڈ ہورہے ہوتے ہیں کہ جہاز مچھلی مارکیٹ کا منظر بن جاتا ہے۔ عملہ بڑی جفاکشی کے بعد انہیں نشستوں پر بٹھانے میں کامیاب ہو پاتا ہے۔

اکثر مرد تازہ تازہ گنجے ہوئے ہوتے ہیں۔ تازہ تازہ داڑھی بڑھائی ہوتی ہے۔
غور سے دیکھو تو سب مردوں کا سینہ فخر سے یوں پھولا ہوا ہوگا، جیسے ابھی ابھی میلہ لوُٹ کر لوٹے ہوں!

ایسے میں اگر مجھ جیسی عورت کو سیٹ ایسی ملے کہ اسے اس طرح کے مسافروں کے بیچ میں گھس کر بیٹھنا پڑے تو گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔
اس بار بھی میری ساتھ والی سیٹ پر سادہ سے داڑھی والے بنگالی مولوی کو دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں ناک سُکیڑ لی کہ اب اس کے ساتھ جُڑ کر بیٹھنا پڑے گا!
ہر پاکستانی لبرل عورت کی طرح مجھے بھی مولوی دکھتے چہرے سے خواہ مخواہ کی جھنجھلاہٹ محسوس ہوتی ہے، جیسے ہر برائی کا ذمہ دار وہی ہو!

Read more

دشمن کا شہر دلّی

دلّی دو مرتبہ جانا ہوا۔ پہلی بار اپنے ایک ڈرامے ”میری ادھوری محبت“ کی لوکیشن ریکی کے لیے ڈرامے کی ٹیم کے ساتھ۔ پہلے دن ہی ہم چاندنی چوک پہنچ گئے۔ سائیکل رکشا پر چاندنی چوک کے ہجوم سے گزرتے ہوئے جب تنگ گلیوں میں داخل ہوئی تو اچانک لگا کہ میں یہاں سے بھاگ جانا چاہ رہی ہوں۔ جوں جوں گلیاں گلیوں میں اترتی جاتی تھیں، میری گھٹن بڑھتی جاتی تھی۔

اندر سے ایک خوف سر اٹھانے لگا کہ ابھی ان تنگ گلیوں میں بلوا ہوجائے گا! ابھی کرپانیں نکلیں گی اور یہ تنگ گلیاں خون کی ندیاں بن جائیں گی! دونوں جانب کی چھوٹی چھوٹی دکانوں پر ٹنگی سُرخ و نارنجی رنگ ساڑھیاں مجھے شعلوں کی مانند دکھ رہی تھیں۔ بلوا۔ بلوا۔ چیخ و پکار۔ آہ و بکا۔ خون۔ لاشیں۔ بلآخر میں نے آگے جانے سے انکار کردیا۔

اُس پہلی رات ہوٹل کے کمرے میں سونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے مجھ پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ میرے لاشعور میں بچپن سے بٹوارے سے متعلق کہانیاں اور نصابی تاریخ بسی ہوئی ہے! اور اب یوں لگ رہا تھا جیسے میں خود بلوائیوں کی کرپانوں اور برچھیوں سے خونم خون گزر کر، لاشوں سے لدی ریل میں سندھ کے ریلوے اسٹیشن پر اترنے کے تجربے سے گزر چکی ہوں!

جاگ کر گزاری اُس رات کمرے کے دروازے کے آگے میں نے صوفہ رکھ دیا تھا کہ کہیں بلوائی نہ گھس آئیں مجھے ڈھونڈتے ہوئے! پر میں تو سندھی ہوں! نہ میں یہاں کبھی تھی، نہ ہی میرے اجداد کبھی یہاں تھے! اس طرح کی بہت سی خودغرض تسلیاں دیں خود کو، مگر خوف کا پسینہ تمام رات بھگوتا رہا مجھے۔ اس تجربے نے مجھ پر منکشف کیا کہ خوف و نفرت کس طرح ذہنوں میں سفر کرتے ہوئے لاشعوری طور پر دشمنی کے احساس میں ڈھلتے ہیں!

Read more

بادشاہ کے سائز کی زنجیریں اور غدار شہری

قیامت، قیامت کی چال چل چکی ہے!
فضا میں معلق زمین کے گولے سمیت کائنات کے تمام گولے آپس میں ٹکرا کر ایک بِگ بینگ کے ساتھ پارہ پارہ ہوچکے!
حسبِ وعدہ روئی کے گالوں کی طرح بکھر چکا ہے جہاں!

اب حدِ نگاہ سے بھی آگے تک انسانی سروں کا لامتناہی سمندر ہے جو عالمِ نفسانفسی میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور جسم ایک دوسرے پر گرے پڑتے ہیں!
کہتے ہیں کہ بہت آگے کہیں خدا بہ ذاتِ خود ہر ایک سے سوال بھی کررہا ہے اور فیصلے بھی لکھ رہا ہے!
لیکن ابھی خدا ہماری نگاہ سے اوجھل ہے اور انسانی قطاریں ہزارہا برس جتنی طویل ہیں!

سورج سوا گز کے فاصلے سے سروں پر کھڑا ہے اور زمین کی تپش اتنی ہے کہ پیر اکھڑ اکھڑ جاتے ہیں!
میرے آگے کھڑا شخص زمین کی اس دہکتی تپش سے ننگے پیروں پر اُچھل کر میری جانب گھوم جاتا ہے۔
کیا دیکھتا ہوں کہ یہ تو میرے ملک کا بادشاہ ہے!
بادشاہ تو ہے مگر قیامت کی اس گھڑی بالکل مجھ جیسا دکھ رہا ہے!

Read more