کہیں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم صوفی تو نہیں!

خود کو بار بار یہ سوچنے سے منع کرتی ہوں مگر رہ رہ کر سوچتی ہوں کہ جیسنڈا آرڈرن نام کی یہ بی بی صوفی تو نہیں!
خود کو سمجھاتی بھی ہوں کہ وہ مسلمان تو نہیں، تو پھر صوفی کیسے ہوئی!
اوپر سے حکمران!

حکمران صوفی ہو ہی نہیں سکتا!
بلکہ حکمران اپنی حکمرانیت کے جاہ و جلال تلے اپنی روح تک کھو دیتا ہے اور صرف جسم باقی رہ جاتا ہے اور اس جسم پر ایک سریہ لگی گردن اس خوف میں تنی رہتی ہے کہ کہیں سر پر رکھا تاج گر نہ پڑے! حکمران کے دونوں ہاتھ بھی ہر وقت اپنا ہلتا ہوا تاج سنبھالنے میں مصروف رہتے ہیں۔

Read more

شادی سے بھاگنے کے لیے لڑکی کو ایک عدد گاڑی چاہیے

اپنی شادی سے بھاگ نکلتی لڑکی کے لیے گاڑی کا اشتہار دیکھ کر جن کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہے انہیں دراصل اسی زمین میں بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی عادت ہے۔
یہ اشتہار ایک ایسے سماج کے ٹھہرے پانی میں پہلے پتھر کی طرح ہے جو بیٹیوں کو شادی کے نام پر زنا بلجبر کے حوالے کرتا ہے اور اس پر شادیانے بجاتا ہے۔
جہاں لڑکی کو دباؤ میں قبول ہے کہلوایا جاتا ہے۔
جہاں یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا کہ زبردستی کی شادی سرے سے جائز ہی نہیں۔ عین شریعت و قانون کے مطابق نکاح ہوا بھی کہ نہیں!

Read more

مدینہ منورہ سے واپسی کا سفر اور گدڑی کے لعل

مدینہ یا جدہ سے فلائٹ پکڑو تو آپ کو ایک اور ہی ہجوم ٹکرائے گا۔
بہت سے پہلی بار جہاز کا سفر کررہے ہوتے ہیں۔ بہت سے پہلی بار عمرہ کرکے یا مدینے میں سرکارﷺ کے حضور سلام پیش کرنے کے نشے میں اونچا اونچا اُڑ رہے ہوتے ہیں اور اس کیفیت میں انہوں نے اپنا حلیہ بھی مصنوعی اور عربی بنایا ہوا ہوتا ہے۔
اکثریت غریب، میلی، انگوٹھا چھاپ یا برائے نام پڑھی لکھی ملے گی۔
اگر فلائٹ ایمرٹس کی ہے تو پھر دبئی تک کئی اور ہمارے آس پاس کے ملکوں کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔
جیسے بنگلہ دیشی، انڈین، برمی وغیرہ۔
یہ مسافر اپنی ایکسائٹمنٹ میں اتنے لاؤڈ ہورہے ہوتے ہیں کہ جہاز مچھلی مارکیٹ کا منظر بن جاتا ہے۔ عملہ بڑی جفاکشی کے بعد انہیں نشستوں پر بٹھانے میں کامیاب ہو پاتا ہے۔

اکثر مرد تازہ تازہ گنجے ہوئے ہوتے ہیں۔ تازہ تازہ داڑھی بڑھائی ہوتی ہے۔
غور سے دیکھو تو سب مردوں کا سینہ فخر سے یوں پھولا ہوا ہوگا، جیسے ابھی ابھی میلہ لوُٹ کر لوٹے ہوں!

ایسے میں اگر مجھ جیسی عورت کو سیٹ ایسی ملے کہ اسے اس طرح کے مسافروں کے بیچ میں گھس کر بیٹھنا پڑے تو گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔
اس بار بھی میری ساتھ والی سیٹ پر سادہ سے داڑھی والے بنگالی مولوی کو دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں ناک سُکیڑ لی کہ اب اس کے ساتھ جُڑ کر بیٹھنا پڑے گا!
ہر پاکستانی لبرل عورت کی طرح مجھے بھی مولوی دکھتے چہرے سے خواہ مخواہ کی جھنجھلاہٹ محسوس ہوتی ہے، جیسے ہر برائی کا ذمہ دار وہی ہو!

Read more

دشمن کا شہر دلّی

دلّی دو مرتبہ جانا ہوا۔ پہلی بار اپنے ایک ڈرامے ”میری ادھوری محبت“ کی لوکیشن ریکی کے لیے ڈرامے کی ٹیم کے ساتھ۔ پہلے دن ہی ہم چاندنی چوک پہنچ گئے۔ سائیکل رکشا پر چاندنی چوک کے ہجوم سے گزرتے ہوئے جب تنگ گلیوں میں داخل ہوئی تو اچانک لگا کہ میں یہاں سے بھاگ جانا چاہ رہی ہوں۔ جوں جوں گلیاں گلیوں میں اترتی جاتی تھیں، میری گھٹن بڑھتی جاتی تھی۔

اندر سے ایک خوف سر اٹھانے لگا کہ ابھی ان تنگ گلیوں میں بلوا ہوجائے گا! ابھی کرپانیں نکلیں گی اور یہ تنگ گلیاں خون کی ندیاں بن جائیں گی! دونوں جانب کی چھوٹی چھوٹی دکانوں پر ٹنگی سُرخ و نارنجی رنگ ساڑھیاں مجھے شعلوں کی مانند دکھ رہی تھیں۔ بلوا۔ بلوا۔ چیخ و پکار۔ آہ و بکا۔ خون۔ لاشیں۔ بلآخر میں نے آگے جانے سے انکار کردیا۔

اُس پہلی رات ہوٹل کے کمرے میں سونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے مجھ پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ میرے لاشعور میں بچپن سے بٹوارے سے متعلق کہانیاں اور نصابی تاریخ بسی ہوئی ہے! اور اب یوں لگ رہا تھا جیسے میں خود بلوائیوں کی کرپانوں اور برچھیوں سے خونم خون گزر کر، لاشوں سے لدی ریل میں سندھ کے ریلوے اسٹیشن پر اترنے کے تجربے سے گزر چکی ہوں!

جاگ کر گزاری اُس رات کمرے کے دروازے کے آگے میں نے صوفہ رکھ دیا تھا کہ کہیں بلوائی نہ گھس آئیں مجھے ڈھونڈتے ہوئے! پر میں تو سندھی ہوں! نہ میں یہاں کبھی تھی، نہ ہی میرے اجداد کبھی یہاں تھے! اس طرح کی بہت سی خودغرض تسلیاں دیں خود کو، مگر خوف کا پسینہ تمام رات بھگوتا رہا مجھے۔ اس تجربے نے مجھ پر منکشف کیا کہ خوف و نفرت کس طرح ذہنوں میں سفر کرتے ہوئے لاشعوری طور پر دشمنی کے احساس میں ڈھلتے ہیں!

Read more

بادشاہ کے سائز کی زنجیریں اور غدار شہری

قیامت، قیامت کی چال چل چکی ہے!
فضا میں معلق زمین کے گولے سمیت کائنات کے تمام گولے آپس میں ٹکرا کر ایک بِگ بینگ کے ساتھ پارہ پارہ ہوچکے!
حسبِ وعدہ روئی کے گالوں کی طرح بکھر چکا ہے جہاں!

اب حدِ نگاہ سے بھی آگے تک انسانی سروں کا لامتناہی سمندر ہے جو عالمِ نفسانفسی میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور جسم ایک دوسرے پر گرے پڑتے ہیں!
کہتے ہیں کہ بہت آگے کہیں خدا بہ ذاتِ خود ہر ایک سے سوال بھی کررہا ہے اور فیصلے بھی لکھ رہا ہے!
لیکن ابھی خدا ہماری نگاہ سے اوجھل ہے اور انسانی قطاریں ہزارہا برس جتنی طویل ہیں!

سورج سوا گز کے فاصلے سے سروں پر کھڑا ہے اور زمین کی تپش اتنی ہے کہ پیر اکھڑ اکھڑ جاتے ہیں!
میرے آگے کھڑا شخص زمین کی اس دہکتی تپش سے ننگے پیروں پر اُچھل کر میری جانب گھوم جاتا ہے۔
کیا دیکھتا ہوں کہ یہ تو میرے ملک کا بادشاہ ہے!
بادشاہ تو ہے مگر قیامت کی اس گھڑی بالکل مجھ جیسا دکھ رہا ہے!

Read more

ایف آئی آر

سردیوں کی ایک انتہائی سرد ٹھٹھرتی رات۔
سنسان اتنی کہ جیسے قبرستان۔
سناٹا ایسا کہ جیسے موت۔
اندھیرے میں خنجر کی طرح اتری ہوئی سڑک۔
سڑک کنارے پولیس اسٹیشن کی روشنی جیسے امید کی آخری کرن۔

پولیس اسٹیشن کے اندر ایک کم عمر لڑکا پولیس انسپیکٹر کے سامنے بیٹھا ہوا۔
لڑکے کے چہرے پر ابھی جوانی نہیں اتری مگر تازہ خون کے چھینٹوں نے اس کے چہرے کو ایسا بنادیا ہے جیسے ستر برس کا بوڑھا۔
اس کی فقط ایک آنکھ سے آنسو بہہ رہا ہے۔ دوسری آنکھ خشک ہے۔
اس کا دبلا پتلا جسم سردی اور خوف سے یوں لرز رہا ہے، جیسے ماں کی گود سے چھینا گیا بچہ۔
اس کے کپڑوں پر بھی جابجا خون کے دھبے ہیں۔

Read more

ابھی انتظار کر چیف جسٹس! اب محشر میں ہو گی ملاقات

پرانے زمانے کی بات ہے
وقت کا چیف جسٹس اپنی رٹائرمنٹ والے دن شہر کی مرکزی مسجد میں لوگوں سے مخاطب تھا۔

لوگو!

میں نے تمہارا بھلا چاہا۔ تمہارے بھلے کے لیے میں نے سخت سے سخت تر قدم اٹھایا۔ پھر بھی اگر مجھ سے بھول چوک ہوگئی ہو تو مجھے معاف کردینا۔ اور مجھے اچھے الفاظ میں یاد رکھنا۔ تم سب کے درمیان یہ میرا آخری دن ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جاتے جاتے بھی تمہارے درمیان انصاف کرتا جاؤں۔ اگر کسی نے کوئی مقدمہ پیش کرنا ہے تو ابھی اٹھ کر کہہ دے۔

جمع کا دن تھا اور مسجد کا صحن کھچا کھچ بھرا تھا۔
سفید کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان اٹھ کھڑا ہوا۔

Read more

میری اماں کی سلائی مشینیں اور مرغیاں اور میرا پچھتاوا

زندگی جب اپنے اختتام کی طرف رُخ موڑتی ہے، تو پچھتاوا نہ صرف ساتھ ساتھ چلنا شروع کرتا ہے بلکہ مسلسل بولنے بھی لگتا ہے۔ دیکھا، کہا تھا نا کہ ایسا مت کر۔ کتنا روکا تھا۔ ایسا نہ کیا ہوتا تو آج یوں نہ ہوتا اور اگر ویسا کیا ہوتا تو آج کچھ یوں ہورہا ہوتا۔ عورت کو عموماً زندگی کے آخری اسٹیج پر ماں کی نصیحتیں یاد آیا کرتی ہیں۔ ماں اپنے تجربے کا نچوڑ بیٹی کو جہیز میں دینا چاہتی ہے مگر زندگی کی تجربہ گاہ میں داخل ہوتی بیٹی وہ فرسودہ تجربہ قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ بہت ساری زندگی گزارنے کے بعد کہیں جاکر انکشاف ہوتا ہے کہ زندگی ہے ہی فرسودہ چیز! اسے فرسودگی سے گزارو تو مزے میں گزرتی ہے۔ مختلف راستہ پکڑو تو آگے کی کوئی گارنٹی نہیں!

میری اماں کمال کی آرٹسٹ تھیں۔ رنگوں سے کھیلنے کا فن انہیں کڑھائی کی صورت آتا تھا۔ میں نے آنکھ کھولی تو اپنے گھر میں سنگر سلائی مشین سے لے کر ہر دور کی جدید ترین سلائی مشینیں دیکھیں۔ ہر سال حج کا سفر ہماری زندگی کا حصّہ تھا ہی، مگر واپسی پر جدہ میں چند دن رہ کر جدید جرمن سلائی مشینوں کی بڑی بڑی دکانوں کی زیارت کیے بغیر ہمارا سفرِ حج گویا مکمل ہی نہ ہوتا تھا!

Read more

برگد کے آسیب زدہ درخت میں لاپتہ ہوتی آوازیں

بچپن میں ایک سندھی لوک کہانی گیت کی صورت بڑی بوڑھیاں گنگناکر سنایا کرتی تھیں۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ
ایک تھی ”ادی سونل“
اس کی شادی ہونے جارہی تھی
ایک دیو اس پر عاشق تھا
عین شادی کے دن دیو نے اسے اٹھاکر برگد کے بوڑھے درخت میں لاپتہ کردیا۔
بارات آگئی مگر ادی سونل لاپتہ تھی۔

ادی سونل کا دکھیارا بھائی اب گیت گاتے ہوئے درخت تلے کھڑا بہن کو آوازیں دینے لگا، تاکہ باراتی یہ نہ سمجھیں کہ ادی سونل موجود نہیں۔ بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ بھائی بہن کی رخصتی کے دکھ میں گیت گا رہا ہے۔

Read more

بندوقوں کے سائے میں بے نظیر کا غریب ووٹر

ایک دن گپ شپ کے دوران عائشہ صدیقہ نے پوچھا کہ بی بی کی لیگیسی کیا ہے؟ فوری جواب تو یہ بنتا تھا کہ پیپلز پارٹی! پر پتہ نہیں کیوں ایک فضول سا جواب لگا یہ۔ حال ہی میں بلاول کو دیکھتے ہوئے اپنے ہی دماغ نے یہ سوال دہرایا اور جواب سوچا کہ کیا…

Read more