ماضی کے آئینے میں اُردو صحافت کاموجودہ عکس


nasar malik (562x447)کہا جاتا ہے کہ صحافت کسی ریاست کا ایک اہم ستون ہوتا ہے ۔ اِس ستون کے حوالے سے ہم آج یہاںاُردو صحافت کی دو سو سالہ تقریبات منانے کے لیے جمع ہوئے ہیں ۔ اس موضوع پر کئی احباب پہلے ہی اظہار خیال کر چکے ہیں اور برصغیر میں اردو صحافت کی دو سوسالہ تاریخ کے مختلف پہلوو¿ں کواجاگر کرتے ہوئے اپنے مقالے پیش کر چکے ہیں۔

متحدہ ہندوستان میں اُردو اخبار نویسی کی ابتدا چھاپہ خانے کی ایجاد اور اس کے رواج پانے سے ہوئی اور ایک طویل مدت کے بعد، مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اُردو صحافت نے وہ صورت اختیار کی ہے جسے ہم آج دیکھتے ہیں۔ ہندوستان میں اردو صحافت کی ابتدا کا ذکر کیا جائے تو کلکتہ سے ۲۲۸۱ءمیں شائع ہونے والے اخبار ” جام جہاں نما“کو اردو کا سب سے پہلا اخبار مانا جاتا ہے۔ لیکن ” جام جہاں نما ‘ ‘میں اردو کے ساتھ فارسی کے صفحات بھی ہوتے تھے گویا یہ فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں ہوتا تھا۔ اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو پہلا خالص اردو اخبار ” اخبار دہلی “ تھا جسے مولوی باقر نے جاری کیا تھا ۔ یہ ہندوستانی قوم پرستی کا زبردست حامی تھا اور ۷۵۸۱ئ کی جنگ آزادی میں اس کا بڑا اہم کردار تھا اور اُس زمانے میں اِس اخبار نے سامراجی حکومت کے خلاف خوب لکھا ۔ انگریزی سرکار کے ہاں معتوب ٹھہرا لیکن کبھی بھی اپنی آزاد پالیسی پر آنچ نہ آنے دی اور یہی وجہ تھی مولوی باقر کو گولیوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح آزادی کی جدوجہد میں، اُردو صحافت کے پہلے قوم پرست اور محب الوطن شہید کا درجہ پایا ۔

ہندوستان میں اردو کادوسرا اخبار ’ سید الاخبار‘ تھا جسے سر سید کے بھائی سید محمد نے دہلی سے جاری کیا اور جس کے ذریعے خود سر سید عوام سے متعارف ہوئے ۔ اِس کے بعد اردو صحافت کاجو دور شروع ہوا اُس میں مولانا ظفر علی خان، مولاناد ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر ، مولانا حسرت موہانی اور مولانا عبدالمجیدسالک جیسے محب وطن، بیباک و نڈر قلم کاروں نے اردو صحافت کو استعماریت سے آزادی کے لیے بطور ہتھیاراستعمال کیا۔ اور لاہور، امرتسر، الہٰ آباد، لکھنو¿، آگرہ، جے پور، بمبئی، کانپور، حیدرآباد،کلکتہ اور کشمیرغرضیکہ پورے ملک میں اردو اخبارات کا بول بالا ہوا ۔

لاہور کے پیسہ اخبار، زمیندار‘ ا پرتاپ اور کوہ نورامرتسر کا وکیل اور اُدھر نور الانوار ، الہلال اورالبلاغ‘ریاست ، آصفہ الاخبار اور دبدبہ سکندری کا طوطی بولنے لگا اور روزناموں اور ہفتہ وار اخبارات و رسائل نے اردو صحافت میں ایک نیا ولولہ پیدا کر دیا جس نے لوگوں کے دلوں میں آزادی کی لہر دوڑا دی اور اردو صحافت نے ایک منفرد مقام اور لوگوں کا اعتماد حاصل کر لیا ۔

اردو اخبارات کے ساتھ، بیسویں صدی کے اردو رسائل و جرائد نے بھی سیاست و علم و ادب کی خوب آبیاری کی ۔ سر سید کا تہذیب الاخلاق، سید امتیاز علی کا کہکشاں، مولانا آزاد کا لسان الصدق، حکیم محمد یوسف کا نیرنگ خیال، خواجہ حسن نظا می کا نظام المشائخ، راشد الخیری کا عصمت، سر عبدالقادر کا مخزن، ملک محمد الدین اعوان کا صوفی ، شاہد دہلوی کا ساقی اور مولوی عبدالحق کا سہ ماہی جریدہ اردو اب وغیرہ وغیرہ۔ اس مختصر سے وقت میں کس کس کے نام لیے جائیں یہ سب رسائل و جرائد علم و ادب اور سیاست و ثقافت کی عظیم الشان تاریخ رقم کرتے رہے اور قوم کی راہبری میں پیش پیش رہے ۔ اور قوم کے سیاسی، ثقافتی اور اخلاقی معیار کی تعمیر کے لیے جد وجہد کرتے رہے ۔

ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے بعد دیش کی طرح ہندوستانی اردو اخبارات بھی بٹوارے کا شکار ہو گئے، اور وہ ہندوستانی و پاکستانی اخبارات بن گئے۔ ہندوستان کے اردو روزناموں پر اگر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو ہمیں، راشڑیہ سہارا، اردو ٹائمز، انقلاب، سیاست، ہندوستان ایکسپریس ‘آگ، سیاست، تنظیم، قومی خبریں، صحافت، سالار، اور سیاسی افق جیسے بڑے بڑے اخبارات دکھائی دیتے ہیں اور اسی طرح عصری اردو رسائل و جرائد کا بھی ایک طویل سلسلہ ہے مثلاًاردو دنیا، عالمی سہارا، شاعر، انشائ، بانگ حرا، تعمیر حیات، معارف، نیا دور، شب خون اور منصف وغیرہ ۔

ہندوستانی اردو اخبارات و رسائل و جرائد کے متعلق میری معلومات محدود ہو سکتی ہیں تاہم ایک طویل عرصے سے اردو صحافت سے منسلک رہنے اور اس شعبے میں کام کرنے کی بنا پر میں اس کے متعلق بہت کچھ کہہ سکتا ہوں لیکن اپنے تحفظات محفوظ رکھتے ہوئے، ہندوستانی اردو اخبارات کے متعلق، جرمنی میں مقیم اردو کے مایہ ناز ادیب و شاعر اور محقق وناقد اور مختلف موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف جناب حیدر قریشی کی وہ رائے پیش کرنا چاہوں گا جو انہوں نے ہندوستان کے اپنے حالیہ دورے کے بعد اپنی کتاب ’کھٹی میٹھی یادیں ‘ کے صفحہ نمبر دو سو انچاس پر’ زندگی کا یاد گار سفر‘ کے عنوان سے اپنی رپورتاژ میں تحریر کی ہے اور ایک طرح سے ’ کوزے میں دریا بند کردیا ہے۔‘ جناب حید ر قریشی لکھتے ہیں:

’انڈیا میں صحافت کے مرکزی دھارے پر انگریزی ، ہندی اور لگ بھگ ہر صوبے کی صوبائی زبان کی کمانڈ ہے ۔ عمومی طور پر ان سب میں تال میل کی ایک صورت بھی موجود ہے۔ اردو صحافت کے معاملہ میں ایسا لگا کہ یہ مرکزی دھارے سے بالکل الگ تھلگ دنیا ہے ۔ بیشک انہیں نظر انداز کیے جانے میں کئی عوامل کار فرما ہوں گے، لیکن اردو صحافیوں کو خود آگے بڑھ کر مرکزی دھارے کا حصہ بننے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے ۔ کوٹہ سسٹم کے تحت چند مراعات پر مطمئن ہو کر بیٹھ جانا اخبارات کے مالکان کے لیے، ’چلو یہ بھی غنیمت ہے‘ جیسا تو ہو سکتا ہے لیکن اردو صحافت کا مجموعی کردار اور تاثراِ س سے بہت محدود ہوتا جا رہا ہے۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ کئی اردو اخبارات کے مالکان ہندو ہیں لیکن یہ دیکھ کر تشویش بھی ہوئی کہ ہندو مالکان کے اخبارات بھی مسلمانوں میں سستی جذباتیت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں ۔ مسلمانوں کو حال مست بنائے رکھنے کی بجائے انہیں زمانے کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کاوشیں کی جائیں تو یہ ہند کے مسلمانوں کے لیے مفید ہو سکتی ہیں ۔“

یہ تھی جرمنی میں مقیم اور اپنے آپ میں ” اردو کے انسٹی ٹیوٹ “ جناب حیدر قریشی کی رائے۔اور میں اسی پر اکتفا کرتے ہوئے اب پاکستانی اردو اخبارات بلکہ یوں کہیے کہ ” اردو میڈیا“ کے بارے میں بھی کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

جس طرح میں نے ہندوستان کی موجودہ اردو صحافت کے بارے میں اپنی محدود معلومات کا ذکر کیا ہے، پاکستان کی موجودہ اردو صحافت کے متعلق بھی میرا یہی خیال ہے ، لیکن یہ کہنا ہرگز جائز نہیں اور نہ ہی میرا مقصد ہے کہ پاکستان میں صحافت سے منسلک لوگ آزادی اظہار یا حرف کی حرمت سے آگاہ نہیں۔ میرا مقام و مرتبہ یہ نہیں کہ میں پاکستان جیسے ملک کے وسیع شعبہ¿ صحافت سے وابستہ لوگوں کی دیانت، ذہانت اور پیشہ وارانہ صلاحیت کا جائزہ لوں۔ تو آئیے پہلے دیکھتے ہیں کہ اس بارے میں خود پاکستان کے اپنے تجزیہ کار کیا کہتے ہیں۔

شکیل چوھدری پاکستان کے بڑے معتبر اور معروف سیاسی تجزیہ کار اور محقق و سیاسی مبصرہیں ان کے تجزیے عالمی اخبارات و جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ پاکستان میں اردو صحافت سے متعلقہ اُن کے تجزیے کا ایک اقتباس پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں ۔ ان کا یہ تجزیہ معروف انگریزی جریدے “VIEW POINT” میں ابھی چند ماہ پہلے ہی شائع ہوا ہے۔ شکیل چوھدری اپنے اس تجزیے میں اردو صحافت کو درپیش مسائل کا بڑی گہرائی سے تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

” پاکستان کا اردو میڈیا ، شاید دنیا میں سب سے زیادہ غیر ذمہ دار، لاپرواہ اور ورغلانے والا میڈیا ہے ۔ یہ دن رات سازشی نظریات و تخیلات کوفروغ دیتا ہے ۔ علمِ صحافت کے ماہرین کی بجائے زیادہ تر مقالہ نویس اور کالم نویس خام پروپیگنڈے، جذباتیت اور تعصب اور مفروضات پر انحصار کرتے ہیں اور یہ حقائق ایک غیر جانبدار، بے باک و نڈر صحافت کی راہ میں کنکریٹ کی دیوار ہوتے ہیں ۔ حقائق کی تحقیق و تصدیق تو دور کی بات ہے اِس کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ کچھ پاکستانی اخبارات جن میں قومی سطح پر شائع ہونے والے اخبارات بھی شامل ہیں، لاپرواہ اور خود متضاد رویہ رکھتے ہیں۔“

یہ تو تھامحقق و مبصر جناب شکیل چوھدری کا تجزیہ ۔ بر صغیر میں اردو صحافت نے بیسویں صدی میں جو زندہ و بیدار قومی شعور پیدا کیا تھا، پاکستان کے قیام کے بعد اردو اخبارات وہ کردار ادا کرنے میں ناکام ہو گئے اور چند ہی سال بعد وہ حکومتی، سیاسی سازشی عناصر کا شکار ہوگئے یہاں تک کہ یہاں

دہلی ہی سے پاکستان منتقل ہوجانے والاایک اخبار جو آج پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ شمار ہوتا ہے وہ بھی خود کو محفوظ نہ رکھ سکا۔ اور یہی وجہ ہے پاکستان کے عوام آج تک اُن وعدوں کے پورا ہونے کے منتظر ہیں جو قیام پاکستان کی تحریک کے دوران ان کے قومی رہنماو¿ں، سیاستدانوں اور علمائے کرام نے اُن سے کیے تھے اور جس خوش بختی کے لیے انہیں سہانے خوب دکھائے گئے تھے ۔ خیر!

پاکستان کے تین بڑے اردو میڈیا گروپ اور بیشتر دوسرے روزانہ اخبارات اور ہفتہ وار نیم سیاسی و ثقافتی رسائل و جرائد خوب بنا سنوار کر جو ’ ہفتہ وار خصوصی ایڈیشن‘ مختلف عنوانات کے تحت مثلاََ اسلامی ایڈیشن، ادبی و سیاسی ایڈیشن وغیرہ شائع کرتے ہیں ان میں بے ضرر سطحی معلومات اورعام طور پرلسانی و مذہبی فرقہ بندی کو ہوا دی جاتی ہے۔اور سیاسی ایڈیشن تو محض اُن سیاسی حلقوں کو خوش کرنے کے لیے ہوتے ہیں جن سے اخبارات کے مالکان کا مفاد وابستہ ہوتا ہے ۔ اور پھر تضاد کی حد ہے کہ ایک طرف تو یہ بڑے بڑے اخبارات ملک میں عریانی و فحاشی بڑھ جانے کے خلاف علمائے کرام کی تقاریرو فتوے شائع کرتے ہیں اور دوسری طرف خود ایسے ’ فلمی ایڈیشن ‘شائع کرتے اور خواتین فلمی ستاروں کی ایسی ایسی نیم عریاں رنگین تصاویر شائع کرتے ہیں جوان کے متضاد رویے کی گواہی دے رہی ہوتی ہیں ۔ ہندوستان کی طرح پاکستان کے بھی کسی اردو اخبار کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں ہوتا کہ یہ کن عناصر کی سرپرستی میں کن سیاسی پارٹیوں یا مذہبی دھڑوں کا ساتھ دے رہا ہے اور کیوں عوام کی آواز بلند کرنے میں ان کا ساتھ نہیں دیتا ۔ پاکستان کے اردو اخبارات کا یہ رویہ قیام پاکستان کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا البتہ نوائے وقت ، کوہستان اور چند ایک دوسرے اخبارات کچھ حد تک صحافیانہ ایمانداری کی روش پر قائم رہے ۔لیکن جب صدر جنرل محمد ایوب خان نے مارشل لاءلگا کر ڈیڑھ اینٹ کی اپنی مسجد کی بنیاد رکھی تو ہر کسی کو ایک ہی پلڑے میں ڈال دیا گیا۔ اس عہد کی پاکستانی صحافت کی تاریخ بڑی تلخ ہے جب کئی ایک اخبارات کو بحق سرکار ضبط یا بند کردیا گیا اور ایک نیشنل پریس ٹرسٹ قائم کرکے اخبارات پر حکومتی اجارہ داری ٹھونس دی گئی ۔ اور پھر یکے بعد دیگرے مارشل لائی حکومتوں اور خود جمہوری منتخب شدہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مختصر دور حکومت اور اُس کے بعد آمر مطلق جنرل محمد ضیا¿ الحق کے دور میں اخبارات اور صحافیوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا گیا، ان پر کوڑے برسائے گئے، کئی ایک اخبارات کو بند کردیا گیا ،یہ ایک بڑی لمبی اور دکھ بھری کہانی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں صحافت کو آزادی ملی تو ملک میںمتعدد ٹیلیویژن اورایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم ہو جانے کے ساتھ ساتھ اردو اخبارات بھی بڑی تعداد شائع ہونے لگے۔ ڈیکلریشن جاری ہوئے لیکن اس دور میں بھی آمرانہ سوچ صحافت پر اپنی گرفت رکھنے میں کسی نہ کسی طرح متحرک رہی اور جیو جیسے ٹی وی کی نشریات بند کر دی گئیں، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔

موجودہ صورت حال کے متعلق سری لنکا کے عالمی شہرت یافتہ میڈیا ایکسپرٹ شری رنگا کلان سوریہ نے برصغیر کی صحافتی صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خطے میں پاکستان صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک ہے ۔ ان کی اِس رائے سے جینوا میں صحافیوں کی عالمی فیڈریشن بھی متفق ہے۔ شری رنگا کلان سوریہ اپنے تجزیے میں لکھتے ہیں کہ پاکستان میں اب تک جتنے صحافیوں کو مارا جا چکا ہے اگر اُس تعداد کو سامنے رکھا جائے تو ملک میں ہر اڑتیس دن کے بعد ایک صحافی قتل کردیا جاتا ہے ۔ پاکستانی صحافیوں پر مذہبی تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ تشدد پسند اور دہشتگرد تنظیموں کا دباو¿ تو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن اس کے علاوہ صحافی خود اخباری صنعت کے اس شدید دباو¿ کا بھی شکار ہیں جو اخبارات کو ایک ” کارپوریٹ “ میں بدل دیے جانے سے ان کے کندھوں پر آن گرا ہے ۔پاکستانی صحافت کو پابندیوں کے ایک طویل دور کے بعد اب جہاں کچھ آزادی نصیب ہوئی ہے اور وہ اپنے پاو¿ں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہی ہے وہاں میڈیا مالکان، سرمایہ کار اور مشتھرین کے درمیان ’ کاروباری گٹھ جوڑ‘ نے ذرائع ابلاغ کی سچ لکھنے اور غیر جابندارانہ رائے کا اظہار کرنے اور خبریں مرتب کرنے کی صلاحیتوں کو جکڑ رکھا ہے اور انہیں محدود کردیا ہے، کیونکہ تجارتی مفادات و اقدار صحافتی اخلاقیات اور پیشہ وارانہ رپورٹنگ کو برقرار رکھنے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں اور پاکستانی صحافی ان زنجیروں کو توڑنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں اور اس میں بہت حد تک کامیابی حاصل کر رہے ہیں ۔ فی الوقت چالیس نیوز چینلز، ایک سو پنتالیس ریڈیو اسٹیشنوں اور قومی و علاقائی اخباروں کی بہت بڑی تعداد میدان میں ہے لیکن اب اس متحرک صحافت میں خبر کی درجہ بندی کو صورت حال کی عکاسی کے لیے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں ایک نیا رجحان در آیا ہے ۔ خبروں میں ذریعہ خبر کا فقدان، سنسی خیزی کی لا محدود ملاوٹ، پاگل پن کی حد تک چلا چلا کر ٹی وی پر خبریںپڑھنے کا انداز، اردو املا و تلفظ کی غلطیاں، اور سنسنی خیزی کے لیے خبروں کی نشریات میں موسیقی اور بے حس گرافکس کا بے انتہا استعمال ” صحافت کے ڈھانچے کو ایک تھیئٹر میں بدل رہا ہے ۔ ایڈور ٹائزنگ بریک کے طویل دورانئیے اور اخبارات کے صفحہ اول پر آدھ آدھ صفحے کے رنگین اشتہارات سامعین و قارئین کی سماعت و اخباری بینی پر بھاری بوجھ ہی نہیں نفسیاتی بوجھ بھی ہیں ۔ حکومت اب بھی اخبارات اور دیگرذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنے میں پیچھے نہیں اور سرکاری اشتہارات تک دسترس حاصل کرنے والے حکومتی خواہشات کو پورا کرنے میں کوئی کمی نہیں رہنے دیتے ۔ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کا ایک نشان ” پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیرٹی “ یعنی پیمرا نامی ادارہ بھی ہے ۔ قصہ مختصر بظاہر جوآزادی دکھائی دیتی ہے وہ بھی اُس کارپوریٹ کا حصہ ہے جو فی الوقت پاکستانی صحافت چھائی ہوئی ہے ۔ اب ان حالات میں آگے بڑھنے اور اردو صحافت اور صحافیوں کے لیے کیا راستہ ہے؟

۔ اردو اخبارات ہی نہیں ہرقسم کے میڈیا سے منسلک صحافیوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔

۔ اخبارات و الیکٹرانک میڈیا سے منسلک صحافیوں کو مستقل بنیادوں پر ملازمت مہیا کی جائے اورجدید طریقوں سے اُن کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو مزید بڑھانے کے لیے مختلف کورسوں اور سمیناروں کا ، سال میں کم سے کم ایک بار بندوبست کیا جائے ۔

۔ صحافیوں کو صحافت کی کمرشلانہ کارپوریٹ اور سرکار کے دباو¿ سے محفوظ رکھنے کے لیے کسی فریم ورک کے تحت ایسے اصول و ضوابط بنائے جائیں جنہیں قانونی تحفظ حاصل ہو تاکہ وہ اثر و رسوخ اور دباو¿ اور تعصب سے ہٹ کر خبر کو خبر کے طور پر پیش کر سکیں اور تجزیہ نگار کسی ڈر خوف کے بغیر سیاسی تجزیہ نگاری کر سکیں ۔

۔ پاکستان میں ذرئع ابلاغ کے ایڈیٹروں اور صحافیوں کوپیشہ وارانہ آزادی و خود مختاری کا احساس دلایا جائے ۔ تاکہ وہ کسی اثر رسوخ یا سیاسی اور اخبار مالکان کے دباو¿ سے آزاد ہو کر اپنی خبریں ، تبصرے اور تجزیے لکھ سکیں ۔

اور سب سے آخر میں ایک بات جو میں اس پلیٹ فورم سے ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے اخبارات کے مالکان سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے صحافیوں کو اپنے اپنے ہاں مدعو کیا جائے تاکہ انہیں ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملے ۔ یہ اس طرح بھی کیا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کے کچھ صحافیوں کاگروپ پاکستان میں جاکروہاں کے اخبارات کے ساتھ ایک آدھ ہفتے کے لیے کام کرے اور اسی طرح پاکستان کے صحافیوں کو یہاں ہندوستان کے کسی اخبار میں ویسا ہی موقع مہیا جائے ۔ اس طرح تعصب و عداوت کی کی دیوار کو گرانے میں مدد مل سکے گی۔

( محترم نصر ملک صاحب کا یہ مضمون پانچ تا سات فروری نئی دہلی میں ” قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان“ کے تحت ایک عالمی اردو کانفرنس میں پیش کیا گیا )


Comments

FB Login Required - comments