تحریکِ پاکستان چوک


پاکستان چوک__ اس کا نام کوئی میرے دل کی لوح پر سے کُھرچ کر مٹا نہیں سکتا لیکن بس یہ ہوگیا کہ اب وہاں جانا نہیں ہوتا۔

وہاں جاتا بھی تو کس کے پاس؟ یا پھر کوئی کام ہوتا تو جاتا۔ اتنے عرصے کے بعد وہاں جانا ہوا تو ایک دل چسپ سلسلے سے۔

اتوار کا دن تھا اور صبح کا وقت، اس لیے وہ بے ہنگم ٹریفک نہیں تھا جس کی وجہ سے وہاں جانا یا اس طرف سے گزرنا ایک عذاب بن کر رہ گیا ہے۔ سڑک کے ایک طرف چند گاڑیاں، رکشے اور لوگ، اتنے لوگ جو کراچی میں اب ہر وقت نظر آنے لگے ہیں۔ سڑک کے دو حصّوں کے درمیان ایک تکونے سے پارک میں رونق تھی۔ میں اس کی جانب کھنچا چلا آیا۔ لوہے کے بدنما جنگلے کے بجائے چھوٹی سی دیوار ہے جو سڑک کے ساتھ حد بندی قائم کررہی ہے۔ لکڑی کی بنچوں پر کراچی کے بڑے لوگوں کے نام کندہ ہیں۔ بہت سے لوگ جمع ہیں۔ کوئی تصویریں بنا رہا ہے، کوئی تصویر میں سجا رہا ہے۔ نامور آرٹسٹ فیکا سر کے اشارے سے سلام کرتا ہے، اس کی محویت میں فرق نہ آجائے کیونکہ وہ اداکارہ کی تصویر بنا رہا ہے۔ احمد انور خاکے میں شوخ رنگ بھر رہے ہیں۔ محمد جمال محسن خطاطی کے نمونے دکھا رہے ہیں۔ مجھے بتاتے ہیں کہ انھوں نے خطِ کوفی کی روایات کو برقرار رکھا ہے۔ سب لوگ باتیں کررہے ہیں، کچھ لوگ تصویروں پر تصویریں کھینچ رہے ہیں۔

پاکستان چوک پر مصوروں، فن کاروں کا چھوٹا سا میلہ لگ گیا ہے۔ آپ یہاں کیسے؟ دو ایک لوگ مجھے دیکھ کر سوال کرتے ہیں۔ میں یہاں کیسے نہ آتا؟ پاکستان چوک سے میرے والد کا اور میرے خاندان کا بڑا پرانا رشتہ ہے۔ پاکستان چوک تو ان کے لیے گھر آنگن تھا۔

ماروی مظہر اور اُن کے بعد اخبار کی ایک نمائندہ خاتون مجھ سے تفصیل پوچھتی ہیں تو مجھے بہت سی باتیں یاد آنے لگتی ہیں۔

میرے والد 5 ستمبر 1947ء کو کراچی پہنچے تو اس شہر میں ان کا کوئی جاننے والا نہ تھا۔ جب انھوں نے طے کر لیا کہ یہاں رہنا ہے تو کرائے کا مکان ڈھونڈتے ہوئے یہاں آگئے۔ ’’ہمیں پاکستان چاہئے تھا، اب پاکستان چوک مل گیا ہے‘‘ ان کا یہ جُملہ میرے چچا دُہرایا کرتے تھے کہ سارا شہر چھوڑ کر یہ محلّہ اس لیے چُنا کہ اس کے نام میں پاکستان آتا تھا۔

یہاں آس پاس بہت کالج ہیں، یہاں کا ماحول اچھا ہوگا اور چھوٹے بہن بھائیوں کو پڑھنے میں آسانی ہوگی۔ ان کے فیصلے کی دوسری وجہ یہ تھی۔ واقعی بہت سے کالج تھے۔ ایس ایم کالج۔ ڈی جے کالج۔ ڈائو میڈیکل کالج۔ جہاں ان کے بہن بھائیوں نے ہی نہیں، ان کی اگلی نسل نے بھی پڑھا۔ میرے کالج بھی وہی ہیں۔

اس زمانے میں کراچی یونیورسٹی بھی وہیں تھی۔ یہ عمارت بعد میں اردو کالج بن گئی مگر گاندھی جی کا آشرم بھی رہ چکی تھی۔

میرے چچا اور پھپھی نے ایس ایم آرٹس کالج سے پڑھا۔ انور احسن صدیقی (انور چچا) نے طالب علموں کے لیے لوح و قلم کے نام سے رسالہ نکالا۔ سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

اس سڑک کا نام آئوٹرام روڈ تھا۔ پاکستان چوک سے ذرا آگے دکنی مسجد والی گلی میں مدریس والا بلڈنگ میں سیٹھ دھنی رام سے یہ فلیٹ میرے والد نے کرائے پر لیا۔ اس شہر میں مکان کرائے پر کون لیتا ہے، اچھے سے اچھے فلیٹ خالی پڑے ہیں، کسی میں بیٹھ جاتے__ لوگوں نے ان کو سمجھایا۔ ابّا نے جو جواب دیا وہ بھی میرے گھر والوں میں بہت دُہرایا جاتا تھا۔ ’’ہم یہاں تالے توڑنے اور قبضہ کرنے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ جو بن پڑے گا محنت کریں گے‘‘ انھوں نے کہا تھا اور کر کے دکھایا۔

پاکستان چوک کا فلیٹ ان کی محنت کا مرکز بن گیا۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو کراچی بلا لیا۔ ایک شادی شدہ بہن پہلے سے وہاں رہ رہی تھیں۔

پاکستان آتے وقت انور چچا نو برس کے تھے۔ وہ کھلے آنگن اور دالان، بہت سے کمروں والے مکان سے اٹھ کر آئے تھے۔ سُنا ہے انھوں نے یہ فلیٹ دیکھا تو پہلے پہل بہت چکرائے۔ ’’یہ فلیٹ تو اچھا ہے مگر مکان کہاں ہے؟‘‘ انھوں نے پوچھا۔

دو کمروں کا فلیٹ اور سترہ اٹھارہ لوگ ان میں رہنے والے تھے۔ میں چھوٹا تھا تو اس کا تصور بھی محال تھا۔ اتنے لوگ کیسے رہتے ہوں گے؟ چھوٹی سی ڈبیا میں جیسے ماچس کی تیلیاں بھری ہوتی ہیں۔

اس تکلیف کے باوجود خاندان والوں میں بہت قرابت تھی اور محلّے والوں کے ساتھ بھی ایسے تعلقات قائم ہوگئے جیسے سب ساتھ مل کر رہ رہے ہوں۔ محلّہ بھی تو گھر کی توسیع معلوم ہوتا تھا۔

رات کو دیر تک پڑھنا ہوتا تھا تو میرے ابّا اسی چوک کے فٹ پاتھ پر بجلی کے کھمبے کے نیچے پڑھتے رہتے۔ گھر میں مہمان داری کی گنجائش نہیں تھی۔ کوئی ملنے آجاتا تو گلی کے کونے پر ایرانی کے ہوٹل میں گھنٹوں بیٹھے گفتگو کرتے رہتے۔ وہ ہوٹل ان کا ڈرائنگ روم ہی نہیں بلکہ غیررسمی سے دفتر کا کام بھی دیتا تھا۔ لکھنا پڑھنا، شاعری اور رسالے کی ترتیب و تدوین، سبھی کام وہاں سے ہوسکتے تھے۔

پاپوش نگر، عزیز آباد، ناظم آباد، پیر الٰہی بخش کالونی__ گھر والوں نے بعد میں کئی مرتبہ مکان بدلے لیکن پاکستان چوک سے تعلقہ جو پہلے دن قائم ہوگیا تھا وہ اپنی جگہ برقرار رہا۔ میری پھپھی نکہت اقبال مرتے دم تک وہیں رہیں۔ میرے پھوپھا علیم اعظمی وہاں سے ٹہلتے ہوئے ڈائو میڈیکل کالج کے عین سامنے انٹرنیشنل بک ڈپو جاتا کرتے تھے۔ ان کی بیٹی جو بعد میں نیلوفر علیم اور پھر نیلو فر عباسی کے نام سے شہرت کی بلندی پر پہنچ گئیں، وہاں سے ڈی جے کالج اور ریڈیو پاکستان جاتا کرتی تھیں جہاں کے ڈراموں سے ان کی آواز نشر ہو کر گھر گھر سُنی جاتی تھی۔

ان کا گھر خاندان بھر کی باتوں اور یادوں کا مرکز تھا۔ میں ان کے گھر جاتا تو طرح طرح کی چیزوں سے خاطر کی جاتی تھی اور میں حیران ہو کر دیکھتا کہ جو چیز کھانا چاہو، فوراً آجاتی ہے۔ فریسکو کی مٹھائیاں اور برنس روڈ کا کباب پراٹھا بھلائے نہیں بھولتا۔ میری پھپھی بہت ملنسار اور گھلنے ملنے سے بہت خوش ہونے والی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ خاندان کے سارے بچّوں کو سمیٹ کر فلم دکھانے لےگئی تھیں۔ ان کے جانے کے بعد جیسے وہ دور ختم ہوگیا۔ اس مکان کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہوگئے۔ وہ عمارت اور وہ گلی اسی طرح قائم ہے۔ اب وہ پہلوان کے نام سے جانی جاتی ہے جو موچ اور چوٹ کا علاج کرتا ہے۔

مگر اس سے پہلے سب لوگ بکھر گئے۔ نکہت اقبال اس دنیا سے چلی گئیں اور علیم اعظمی بھی رخصت ہو گئے۔ ان کی بیٹی نیلوفر اب نیویارک میں رہتی ہیں۔ انور چچا نے اس محلّے کا بڑا دل چسپ حال لکھا تھا مگر اپنی سرگزشت ادھوری چھوڑ گئے۔ پاکستان چوک میں میری بہت سی یادیں رہتی ہیں، میں وہاں موجود لوگوں کو بتانے لگتا ہوں۔

اس عرصے میں یہ علاقہ بُرے حالوں کو پہنچ چکا تھا۔ یہ جس جگہ اب پارک کو صاف کیا گیا ہے، یہ کوڑا پھینکنے اور سرعام پیشاب کرنے کی جگہ بن گئی تھی۔ نشہ کرنے والے براجماں رہتے تھے اور چوری کی واردات یہیں سے شروع ہوتی، ماروی مظہر مجھے بتا رہی ہیں۔ ان باہمّت ماہر تعمیر خاتون نے یہاں درخت لگوائے۔ پیسوں کا انتظام کیا۔ لوہے کا جنگلا ہٹا دیا۔ ’’اب یہ اندھیری جگہ نہیں رہی‘‘ وہ مجھے بتاتی ہیں۔ سامنے کے گھروں سے عورتیں آتی ہیں اور اس کو اپنا آنگن سمجھ کر یہاں بیٹھتی ہیں۔ محلّے کے لوگ صبح سویرے آکر بیٹھتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں۔ اتوار کی صبح یہاں فن کاروں کو جمع ہو جاتے ہیں اور اسکیچ بناتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ عمارتوں اور چہروں کا خاکہ کیسے بناتے ہیں۔

ماروی مظہر اور ان کے ہم خیال دوستوں نے اس ’’پبلک اسپیس‘‘ کو بحال کیا ہے جس طرح ایک زندہ شہر کے رستے بستے چوک کو ہونا چاہیے۔

اس منصوبے کا نام انھوں نے Pakistan Chowk Initiative رکھا ہے۔ تفصیلات آپ اس کی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔

https://web.facebook.com/PKChowkInitiative/


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔