مسخروں کے شہر میں قیدی مخلوق

ایک طرف سے زور کی آواز بلند ہوئی، میں چونک پڑا۔ ارے، یہ تو ہنسنے کی آواز ہے۔ میری نظریں ٹکٹکی باندھے اسکرین کی طرف جمی ہوئی تھیں۔ چونک پڑنے سے وہ تار ٹوٹ گیا۔ میں نے مُڑ کر دیکھا، یہ کون ہنس رہا ہے؟ ہنسنے کی آواز شروع تو اسکرین سے ہوئی تھی۔ جس…

Read more

نوبیل انعام کی بے ادبیاں

خوان بڑا، خوان پوش بڑا، بیچ میں سے نکلا ایک ہی بڑا۔ اس دفعہ کے نوبیل انعام برائے ادب پر یہی بات صادق آتی ہے۔ بڑے طمطراق کے ساتھ اعلان ہوا کہ اس بار ایک نہیں، دو انعامات دیے جائیں گے۔ پچھلے سال کا انعام وقت پر نہیں دیا جاسکا تھا۔ سوئیڈش اکادمی کے طریق…

Read more

سایہ ڈھل گیا۔ ڈاکٹر منیر الدین احمد

اطلاعات کی بھرمار کے اس دور میں ان کے انتقال کی خبر کئی مہینے بعد ملی۔ ڈنمارک میں مقیم ادیب نصر ملک نے توجہ دلائی کہ اپریل میں ڈاکٹر منیر الدین احمد کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی بیگم ادتا احمد کے حوالے سے اس خبر کی تصدیق کی کہ فون پر بات…

Read more

آپ کی یہ ہمّت کیسے ہوئی؟

اس لڑکی کی باتوں سے میں دہل گیا۔ بظاہر ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ میں اس طرح سہم کر رہ جائوں۔ سیدھی سادی عام سی لڑکی۔ اسکول کی بچیّوں کی طرح ایک چوٹی گوندھی ہوئی۔ نہ کوئی اہتمام نہ طمطراق۔ مگر جب اس نے بولنا شروع کیا تو جو باتیں اس کے دل میں…

Read more

کاملہ شمسی کے لیے انعام سے بھی بڑا انعام

خبر گرم نہیں ہوئی۔ بھانت بھانت کے ٹی وی چینل ہیں جو ذرا ذرا سی بات کو بریکنگ نیوز کا نام دے کر ہمارے گھروں میں پہنچا دیتے ہیں۔ اپنے گھر والوں کی پسند کے مطابق میں نے بھی چینل ادل بدل کر دیکھا، کسی بھی سرخی میں اس کی گونج سنائی نہیں دی۔ خبر…

Read more

شہزادے کی موت

شہزادے کی اس موت کی اطلاع مجھے اخبار سے ملی۔ ورنہ شاید میں اس سے بے خبر رہتا۔ بہت دن سے اس طرف سے گزرنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اس لیے میں نہیں دیکھ سکا کہ شہزادے کی لاش سڑک کے ساتھ ڈھیر پڑی ہے، اس کا ملبہ اور اینٹ گارا اٹھایا جارہا ہے۔…

Read more

آنسوؤں سے دُھلنے والا شہر

”وہ کہنے لگیں، اس شہر کو ہم نے اپنے آنسوؤں سے دھویا ہے۔ “ میں نے یہ جُملہ سنا اور میں دنگ رہ گیا۔ جیسے کسی نیزے کی انی میرے سینے پر چُبھ گئی۔ محفل کا لحاظ کیے بغیر میری آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ ہاں، یہ جُملہ قرۃ العین حیدر نے کہا تھا، میرے…

Read more

اہل کراچی، کچھ دبئی اور لاہور والوں سے سیکھ لیں

لکھنے کے لیے بہت باتیں پڑی ہیں اس لیے ابھی یہ نوبت نہیں آئی کہ دبئی کے سفر کا احوال لکھنے بیٹھ جائوں۔ جس کے پاس لکھنے کے لیے کچھ نہ ہو وہ دبئی کے سفر کا حال احوال لکھ سکتا ہے۔ یعنی آنا جانا بھی کیا اور جگہ بھی کیا۔ ایک پرانے شاعر تھے…

Read more

ہیرلڈ مر گیا، ہیرلڈ زندہ باد!

دروازہ کھلتے ہی سب کچھ ایک تعزیت میں بدل گیا۔ جیسے میں ملاقات کے لیے نہیں، ماتم کے لیے آیا ہوں۔ کراچی کی کتنی ہی پرانی اور بہت دیکھی بھالی جگہیں دیکھتے دیکھتے اس طرح بدل گئی ہیں کہ اب وہاں جانے کا مطلب اپنے آپ کو اجنبی میں تبدیل ہوتے دیکھنا ہے۔ ہارون ہائوس…

Read more

وادیِ عشق و من ۔ چراغ کے لے کہاں سامنے ہوا کے چلے

بام دنیا میں ایک مہمان خانہ مل گیا۔ استور اب میرا انتظار کر۔ فی الحال تو میں یہیں رکا جاتا ہوں۔ گھر سے استور جانے کے لیے نکلا تھا۔ جادو کے سے اثر والے نام کی جگہ، اس کی عجیب سی کشش تھی۔ وہاں جارہا ہوں، سب سے یہی کہا تھا، سب کو یہی بتایا…

Read more