انتظار صاحب، آنسو اور معذرت

انتظار صاحب کی آنکھوں میں آنسو؟ ان کے ہونٹوں پر معافی کے الفاظ؟ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟ آنکھوں دیکھی کہتا ہوں نہ کانوں سُنی۔ بلکہ اس کے لیے نیا محاورہ گھڑ لینا چاہیے، آنکھوں پڑھی۔ میں نے یوں پڑھا۔ اور پھر شش و پنج میں پڑ گیا کہ کیا واقعی؟ بے یقینی کے سے عالم میں اس صفحے کو دیکھتا گیا اور یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ اس صفحے پر آننتھ مورتی کا نام لکھا

Read more

سارا شگفتہ اور رنگ چور

فن کار طرفہ مخلوق ہے۔ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ کہاں جگ بیتی میں آپ بیتی کے رنگ نکال لائے اور کہاں آپ بیتی کے پردے میں جگ بیتی کا وقت اور مکاں کی حدود سے ماورا پھیلائو بیان کر دے۔ ماضی میں جھانکتے جھانکتے اچانک وقت کے بیج پڑھ لے یا اپنے ہنر کا ایسا جادو پھیلائے کہ سامنے کا منظر ہی اوجھل ہو جائے۔ جون 1987 میں آصف فرخی نے سارا شگفتہ کی شاعری پر یہ مضمون

Read more

آصف فرخی کا آخری وڈیو بلاگ

آصف فرخی ہمارے ملک میں ادب کے تمدنی کردار، فن کی فہم، اور تخلیق کی تکریم کے محاز پر یک فردی سپاہ کا درجہ رکھتے تھے۔ ابھی تو فوری اور نہایت تکلیف دہ صدمے کی کیفیت ہے۔ اس درد کو مرتب ہونے میں وقت لگے گا،۔ اس زیاں کا تخمینہ تو خیر کیا ہو سکے گا، ہم تو احساس زیاں سے بھی محروم لوگ ہیں۔ مارچ کے وسط میں کورونا کی ابتلا شروع ہوئی تو انہوں نے "ہم سب” پر

Read more

آصف فرخی کا ویڈیو کالم: میرا بیٹا جو میرا باپ تھا

موت کی ارزانی کے ان دنوں میں آصف فرخی زندگی، محبت اور ادب کی بات کر رہے ہیں۔ جب یہ موسم گزر جائے گا تو اردو زبان میں 2020 کے موسم بہار (بہار کیا ہے، بہار گزشت کی حکایت ہے) کی نشانی ایک مختصر سی کتاب باقی رہے گی،  تالا بندی کا روز نامچہ۔ (و – مسعود)

Read more

نئی بیماری، پرانے افسانے

دمشق کے شہر میں ایک بار ایسا قحط پڑا کہ یار لوگ عشق کرنا بھول گئے۔ شیخ سعدی کا یہ شعر ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور مصیبت کی انتہا کی نشان دہی کرتا ہے۔ دمشق کا شہر اور اس کی سرزمین تو اب خانہ جنگی اور خانہ ویرانی کے دہانے پر پہنچی ہوئی ہے لیکن ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہورہا ہے۔ جوں جوں وبا پھیل رہی ہے اور اس کی زد میں آئے ہوئے لوگوں پر

Read more

یان لیانکے، کورونا وائرس، افراد کی یادیں اور غلطیاں

عالم گیر درجے کی وبا بن جانے والی اور نسلِ انسانی کے لیے تباہ کن خطرہ بن جانے والی کورونا وائرس کی بیماری کا جب سے آغاز ہوا، باقی دنیا کی نظریں چین کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ یہ بلا چین سے پھیلی تھی اور اس کا ردِّبلا بھی وہیں سے آنا چاہیے۔ اس وائرس سے آلودہ ہونے والے بیشتر ممالک میں نئے بیمار ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جب کہ چین میں یہ تعداد کم ہونے لگی

Read more

آیا کرونا کراچی

یہ تو ہونا ہی تھا۔ کرونا کی بلا دنیا کے کسی گوشے میں سر اٹھائے، اسے کراچی پہنچنا ہی تھا۔ کراچی کے لوگ اسے بین الاقوامی شہر سمجھتے ہیں، تو پھر پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والی اس دبا کو یہاں بھی آنا تھا۔ سو آگئی ہے اور شہر والے بھی بے خبر نہیں ہیں۔ ان کی ایک آنکھ کھُلی ہے اور ایک آنکھ بند۔ ایک طرف تشویش ہے اور دوسری طرف کراچی والوں کے مخصوص روّیے۔

Read more

وبا کے دنوں میں افسانے

ایک محبت سو افسانے، بہت مرتبہ سنا تھا۔ اسی طرح ایک مرض سو افسانے بھی تو ہوسکتا ہے۔ ان دنوں کرونا وائرس کی پیدا کردہ بیماری ایک وبا کی شکل اختیار کرگئی ہے اور عالم گیر خطرہ بن گئی ہے، اس بیماری کے پھیلائو پر مجھے افسانے یاد آنے لگے۔ صحت بھی افسانہ ہے اور مرض بھی، زندگی بھی اور موت بھی۔ شاید بقا بھی افسانہ ہے اور اسی طرح فنا بھی۔ بیماری بجائے خود ایک زندہ حقیقت ہے، اندیشوں

Read more

چل کرونا کراچی

چین سے نکلی اور یہاں تک پہنچی۔ ایک ننّھے منّے، آنکھ سے نظر نہ آنے والے وائرس کے ذریعے پھیلتی ہوئی اس ہلاکت خیز بیماری کا ساری دنیا میں غلغلہ ہے اور لوگ اس سے پناہ مانگ رہے ہیں__ ایک نہ ایک دن اسے کراچی پہنچنا تھا۔ سو اب یہ ہوگیا ہے اور شہر ایک نئی بیماری کے اندیشے میں صبح کرتا ہے۔ پھر رات تک سہمتا رہتا ہے کہ دیکھیے، اس سے آگے جانے کیا ہو۔ چین میں جو

Read more

بنجمن انتھونی: سجناں وی مر جانا

رُخصت کا ایک پورا سلسلہ بڑھتا، پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ میں نے اس کو محلّہ چھوڑتے دیکھا، پھر ایک ادارے سے، اس شہر سے اور ملک سے، اب بنجمن انتھونی کو دنیا سے رُخصت ہوتے دیکھ رہا ہوں، اس سفر کے لیے رخصت ہوتے جہاں سے واپسی کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں اور میرے دل میں طوفان بپا ہے۔ وہ میرا دوست تھا، بہت کچھ اور شاید کچھ نہیں۔ اپنے پیچھے یادوں کا

Read more

عبید صدیقی: مانوس اجنبی کی باتیں

تیز چھری کے وار کی طرح یہ خبر مجھے کاٹ گئی۔ دہلی سے شمیم حنفی صاحب نے اطلاع دی کہ عبید صدیقی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ صدمے کی شدید لہر مجھے اپنی لپیٹ میں لے کر گھومنے لگی۔ پھر خالد جاوید نے تصدیق کر دی۔ مجھے ایسا لگا کہ خبر یوں ہے__ دہلی میں آصف فرّخی کا انتقال ہوگیا، کراچی میں دوست احباب عبید صدیقی سے تعزیت کرلیں۔ کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ ٹیلی فون کرکے حال

Read more

کرشن چندر اور جامن کا پیڑ

کہانی بس اتنی نہیں ہے کہ ایک پیڑ گر پڑا اور اس کے بھاری تنےکے نیچے ایک آدمی دب گیا۔ بلکہ کہانی یہ ہے کہ افسانہ گرا دیا گیا اور سرکاری عتاب کے ملبے میں افسانہ نہیں مرا۔ یہ درخت جو گر گیا اور افسانہ جو نہیں مرا، یہ افسانہ کرشن چندرکا ہے اور کہانی کی کہانی کرشن چندر کے بارے میں ہے جو مرنے کے اتنے عرصے بعد ایک بار پھرمتنازع بن گئے ہیں۔ یہ کیا ماجرا ہے؟ کون سا

Read more

دوزخ نامہ: مرزا بنام منٹو

یوں بیان کیا گیا ہے کہ آسمانوں میں فرشتے ایک الوہی واقعے کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے کہ کچھ سُن گُن پا کر ابلیس نے ادھر کا قصد کرنا چاہا تو اس کا راستہ روکنے کے لیے فرشتوں نے نور اور آگ کے گولے اس کی طرف برسائے جنھیں دنیا والے شہابِ ثاقب کے نام سے جاننے لگے۔ اس طرح مرزاغالب اور سعادت حسن منٹو کی آپس کی گفتگو کی کن سوئیاں لینے کے لیے، دلِ یزداں میں

Read more

ادب اور انعامات کی عالمی سیاست

پاکستان کے سوچنے سمجھنے والے اذہان، خاص طور پر ان نادرہ روزگار افراد میں جو تہذیبی اور تمدنی مسائل پر سنجیدگی سے غور و فکر کرتے ہیں، محترم ڈاکٹر آصف فرخی کا اسم گرامی بہت اوپر آتا ہے۔ ذیل میں ڈاکٹر فرخی کا ایک گراں قدر خطبہ پیش کیا جا رہا ہے جو انہوں نے رواں مہینے کراچی میں منعقد ہونے والی عالمی اردو کانفرنس میں ارزاں کیا۔ 1945 میں احمد شاہ پطرس بخاری نے PEN کی عالمی کانفرنس منعقدہ

Read more

ہندوستان سے ایک کتاب

خاک نشین نہ خاک گزیدہ، خاکی رنگ کا ایک لفافہ ڈاک میں میرا منتظر تھا جب میں ایک مختصر سفر کے بعد واپس آیا۔ کئی رسالوں، کتابوں کے درمیان الگ سے رکھا ہوا تھا۔ اس لیے میں نے فوراً اٹھا کر دیکھ لیا۔ اس پر سرکاری مُہر لگی ہوئی تھی۔ الٹ پلٹ کر دیکھا، دفتر کا نام بھی نامانوس لگا۔ وہ بھی محفّف الفاظ کے ساتھ معمّہ بنا ہوا تھا۔ میں لاہور میں فیض میلے میں شرکت کرکے آیا تھا،

Read more

خندہ اور فراموشی کی کتاب – میلان کنڈیرا

فروری 1948 میں کمیونسٹ رہنما کلیمنٹ گوٹ والڈ، پراگ کے باروک طرز تعمیر کے ایک محل کی بالکنی پر نمودار ہوا تاکہ ان ہزاروں لاکھوں شہریوں سے خطاب کرے جو پرانے شہر کے چوک میں بھیڑ لگائے کھڑے تھے۔ یہ چیکوسلوواکیہ کی تاریخ کا فیصلہ کن لمحہ تھا—ان تقدیر ساز لمحوں میں سے ایک جو ہزاروں برس میں ایک آدھ بار ہی آتے ہیں۔ گوٹ والڈ کے دونوں جانب اس کے رفیق تھے، اور کلیمنٹس اس کے پہلو میں کھڑا

Read more

کراچی کی قتل گاہوں میں روندے گئے ہمارے علم…

جان تو عزیز ہمیشہ سے تھی لیکن اس بار واقعہ بھی سخت ہوگیا ہے۔ اس کی تاب کیوں کر لائیں گے؟ جو کچھ پیش کیا جا رہا تھا اگر اسے معمول کے مطابق چلنے دیا جاتا تو اس طرح کا واقعہ نہ بنتا۔ پہلے پہل یہاں چہ میگوئیاں ہوئیں، سوشل میڈیا پر خبر پھیلی پھر بین الاقوامی اداروں نے اس کو نشر کرنا شروع کر دیا۔ کراچی کی تہذیبی تاریخ میں (اگر اس نوع کی کوئی چیز ہوسکتی ہے!) یہ

Read more

کیا قافلہ جاتا ہے…

پاکستان میں صحافت پر ان دنوں عجب پیمبری وقت آن پڑا ہے۔ ابھی تھوڑے دن پہلے ہیرلڈ جیسے شان دار جریدے کے بند ہونے پر افسوس کیا جارہا تھا کہ اتنے میں نیوز لائن کی سناؤنی آگئی۔ صحافت کے شعبے سے اب اس طرح کی خبریں آرہی ہیں۔ پرانا شعر یاد آگیا، وہ بھی ٹکڑے ہوکر: کیا قافلہ جاتا ہے جو تو بھی چلا چاہے نیوز لائن بہت عمدہ رسالہ ہے مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ محض ایک

Read more

مسخروں کے شہر میں قیدی مخلوق

ایک طرف سے زور کی آواز بلند ہوئی، میں چونک پڑا۔ ارے، یہ تو ہنسنے کی آواز ہے۔ میری نظریں ٹکٹکی باندھے اسکرین کی طرف جمی ہوئی تھیں۔ چونک پڑنے سے وہ تار ٹوٹ گیا۔ میں نے مُڑ کر دیکھا، یہ کون ہنس رہا ہے؟ ہنسنے کی آواز شروع تو اسکرین سے ہوئی تھی۔ جس شخص کا چہرہ اسکرین پر نظرآرہا تھا، وہ ہنس رہا تھا۔ مگر اس کی ہنسی میں ہنسنے ہنسنانے والی بات کوئی نہ تھی۔ ایک وحشت

Read more

نوبیل انعام کی بے ادبیاں

خوان بڑا، خوان پوش بڑا، بیچ میں سے نکلا ایک ہی بڑا۔ اس دفعہ کے نوبیل انعام برائے ادب پر یہی بات صادق آتی ہے۔ بڑے طمطراق کے ساتھ اعلان ہوا کہ اس بار ایک نہیں، دو انعامات دیے جائیں گے۔ پچھلے سال کا انعام وقت پر نہیں دیا جاسکا تھا۔ سوئیڈش اکادمی کے طریق کار کے بارے میں سخت سوالات اٹھائے گئے اور ان کی کارکردگی مشتبہ پڑ گئی تھی۔ افواہوں کے بعد اسکینڈل کی زد میں آئی ہوئی

Read more

سایہ ڈھل گیا۔ ڈاکٹر منیر الدین احمد

اطلاعات کی بھرمار کے اس دور میں ان کے انتقال کی خبر کئی مہینے بعد ملی۔ ڈنمارک میں مقیم ادیب نصر ملک نے توجہ دلائی کہ اپریل میں ڈاکٹر منیر الدین احمد کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی بیگم ادتا احمد کے حوالے سے اس خبر کی تصدیق کی کہ فون پر بات ہوئی ہے اور انتقال کی خبر درست ہے۔ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ یہ خبر اتنی تاخیر سے یہاں پہنچ رہی ہے۔ منیر

Read more

آپ کی یہ ہمّت کیسے ہوئی؟

اس لڑکی کی باتوں سے میں دہل گیا۔ بظاہر ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ میں اس طرح سہم کر رہ جائوں۔ سیدھی سادی عام سی لڑکی۔ اسکول کی بچیّوں کی طرح ایک چوٹی گوندھی ہوئی۔ نہ کوئی اہتمام نہ طمطراق۔ مگر جب اس نے بولنا شروع کیا تو جو باتیں اس کے دل میں تھیں، زبان پر آگئیں۔ اس کی باتیں ایک پورے سیّارے کو دہلانے کے لیے بہت ہونی چاہئیں۔ میں ذکر کررہا ہوں گریٹا ٹونبرگ (یا گریٹا

Read more

کاملہ شمسی کے لیے انعام سے بھی بڑا انعام

خبر گرم نہیں ہوئی۔ بھانت بھانت کے ٹی وی چینل ہیں جو ذرا ذرا سی بات کو بریکنگ نیوز کا نام دے کر ہمارے گھروں میں پہنچا دیتے ہیں۔ اپنے گھر والوں کی پسند کے مطابق میں نے بھی چینل ادل بدل کر دیکھا، کسی بھی سرخی میں اس کی گونج سنائی نہیں دی۔ خبر ملی بھی تو کہاں سے، وہ پرانی کہانیوں والی، ہزاروں سانپ زبانوں والی زنِ پیرسالہ فیس بک سے جہاں سے اسے حال ہی میں لندن

Read more

شہزادے کی موت

شہزادے کی اس موت کی اطلاع مجھے اخبار سے ملی۔ ورنہ شاید میں اس سے بے خبر رہتا۔ بہت دن سے اس طرف سے گزرنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اس لیے میں نہیں دیکھ سکا کہ شہزادے کی لاش سڑک کے ساتھ ڈھیر پڑی ہے، اس کا ملبہ اور اینٹ گارا اٹھایا جارہا ہے۔ ایک زمانے میں ادھر سے روز گزر ہوتا تھا۔ ایک کے بعد ایک درس گاہ کا راستہ اس جگہ سے گزرتا تھا۔ عین اس کے

Read more

آنسوؤں سے دُھلنے والا شہر

”وہ کہنے لگیں، اس شہر کو ہم نے اپنے آنسوؤں سے دھویا ہے۔ “ میں نے یہ جُملہ سنا اور میں دنگ رہ گیا۔ جیسے کسی نیزے کی انی میرے سینے پر چُبھ گئی۔ محفل کا لحاظ کیے بغیر میری آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ ہاں، یہ جُملہ قرۃ العین حیدر نے کہا تھا، میرے اسی شہر کے بارے میں اور اب اتنے برس بعد میرے سامنے دہرایا جا رہا تھا۔ افسانوں کے ششدر کر جانے والے انکشاف کی طرح۔

Read more

اہل کراچی، کچھ دبئی اور لاہور والوں سے سیکھ لیں

لکھنے کے لیے بہت باتیں پڑی ہیں اس لیے ابھی یہ نوبت نہیں آئی کہ دبئی کے سفر کا احوال لکھنے بیٹھ جائوں۔ جس کے پاس لکھنے کے لیے کچھ نہ ہو وہ دبئی کے سفر کا حال احوال لکھ سکتا ہے۔ یعنی آنا جانا بھی کیا اور جگہ بھی کیا۔ ایک پرانے شاعر تھے نوح ناروی۔ انھوں نے اپنے بارے میں لکھا کہ نارہ سے نکلا اور آرہ پہنچے، آرے سے نکلے اور نارے پہنچے۔ دبئی کا معاملہ بھی

Read more

ہیرلڈ مر گیا، ہیرلڈ زندہ باد!

دروازہ کھلتے ہی سب کچھ ایک تعزیت میں بدل گیا۔ جیسے میں ملاقات کے لیے نہیں، ماتم کے لیے آیا ہوں۔ کراچی کی کتنی ہی پرانی اور بہت دیکھی بھالی جگہیں دیکھتے دیکھتے اس طرح بدل گئی ہیں کہ اب وہاں جانے کا مطلب اپنے آپ کو اجنبی میں تبدیل ہوتے دیکھنا ہے۔ ہارون ہائوس میں واقع روزنامہ ڈان کے دفاتر بھی ایسا مقام بن گئے ہیں۔ طالب علمی کے دور میں متواتر جانا ہوتا تھا۔ سیکیورٹی کا انتظام بھی

Read more

وادیِ عشق و من ۔ چراغ کے لے کہاں سامنے ہوا کے چلے

بام دنیا میں ایک مہمان خانہ مل گیا۔ استور اب میرا انتظار کر۔ فی الحال تو میں یہیں رکا جاتا ہوں۔ گھر سے استور جانے کے لیے نکلا تھا۔ جادو کے سے اثر والے نام کی جگہ، اس کی عجیب سی کشش تھی۔ وہاں جارہا ہوں، سب سے یہی کہا تھا، سب کو یہی بتایا تھا۔ اس لیے کہ باقاعدہ بتانا پڑ رہا تھا کہ جس جگہ میں جا رہا ہوں، وہ کون سی ہے اور کہاں ہے۔ لیکن جب

Read more

پہنچنا اسلام آباد اور پھر بام دُنیا کا راستہ ناپنا

جس کا کوئی انتظار نہ کر رہا ہو۔ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اُترتے ہی ایک سرخوشی کا احساس میرے سارے بدن میں دوڑ گیا۔ خوشی جو دست برداری سے حاصل ہوئی۔ میرے قدموں کی چال دھیمی ہوگئی۔ کندھے پر لٹکا ہوا بستہ بھی جیسے لہرانے لگا۔ رکتا رکاتا میں آگے بڑھنے لگا۔ غسل خانے گیا، منھ دھویا، بال بنائے، رومال سے چہرہ رگڑتا ہوا واپس آکر سامان لانے والی بیلٹ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ میرا سامان ابھی نہیں

Read more

آزاد پرندوں کی رُکتی نہیں پرواز

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔ ان پر یہ مصرعہ ٹھیک بیٹھتا تھا۔ کوئی ان کے لیے پڑھتا تو رحیم بخش آزاد شاید خوش ہوتے۔ اس لیے کہ اس کا پہلا لفظ حق تھا۔ حق جس کی خاطر جدوجہد ان کی زندگی کا دوسرا نام تھا۔ مگر پھر مغفرت کے ذکر پر وہ ہنس پڑتے اور کوئی روکھی بات کہہ جاتے۔ وہ قلمی نام کی حد تک نہیں، صحیح معنوں میں آزاد تھے۔ اسی احساس کے ساتھ اپنی زندگی

Read more

کبوتر کیسے اُڑ گیا جمیل نقش؟

کبوتر کیسے اڑ گیا؟ نور جہاں سے پوچھے جانے والے اور مستقبل کے شہنشاہ جہاں گیر کے سوال کا جواب یہ تھا کہ ایسے اڑ گیا۔ کبوتر اڑ گیا اور اب اس کی پرواز کو فضا کی پہنائیوں میں تلاش کرتے رہ جائیے۔ یہی سوال جمیل نقش سے پوچھنے کو جی چاہ رہا ہے کہ کبوتر کیسے اڑ گیا۔ پاکستان کے اس بے مثل مصوّر کی انوکھی خصوصیت یہ تھی کہ ان کی تصویروں کے کسی نہ کسی گوشے میں

Read more

بیٹی کی "قندیل”۔۔۔ گویا دبستاں کھل گیا

ایسی باتیں اچانک ہوتی ہیں۔ جیسے کوئی قندیل آنکھوں کے سامنے جل اٹھے۔ اور اس کے پیچھے پیچھے ایک نئی دنیا کے نظارے۔ یوں ہوا کہ برق سی لہرائی، پھر ہزاروں صفحے ہوا کے ساتھ اُڑنے لگے۔ کتابوں کی جلد کھُل گئی اور وہ ترتیب سے لگے کتب خانوں کی الماریوں سے باہر نکل کر سامنے آنے لگیں، اندھیروں میں اُترنے لگیں۔ میں مبہوت ہوکر دیکھ رہا تھا۔ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ اس تلاطم کے پیچھے شاید کچھ بھی نہیں، ایک

Read more

آشیانہ ڈھونڈتا ہے

ایک اکیلا شہر میں۔ پہلے وائلن کی نوک دار آواز بلند ہوتی ہے۔ اس کے بعد موسیقی کے ساتھ ایک بھاری، گونجیلی آواز جو نغمے سے زیادہ اپنی شکست کی آواز معلوم ہوتی ہے اور ہوا کے ساتھ بہنے لگتی ہے۔ آب و دانہ ڈھونڈتا ہے۔ آشیانہ ڈھونڈتا ہے۔ ایک پورا منظر اس آواز کے پیچھے ٹھوس شکل اختیار کرنے لگتا ہے۔ دیواریں۔ بند دروازے۔ ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں۔ جلتی ہوئی روشنی میں رواں دواں سڑکیں۔ ان کے پیچھے ایک سایہ

Read more

ہاجرہ مسرور کی یاد میں

اس قسم کی باتیں اکثر محض رواروی میں کہہ دی جاتی ہیں لیکن ہاجرہ مسرور کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کے ساتھ اردو افسانے کا ایک پورا دور ختم ہو گیا۔ سماجی درد مندی، ڈھلے ڈھلائے واقعات، تیز تیکھا انداز بیان، سُلگتے ہوئے موضوعات اور کوچہ و بازار کی رونق کے ساتھ کرداروں کی اندرونی دنیا کی ہلچل۔ یہ سب عناصر اب کتابوں میں ملتے ہیں۔ اور یہ بات بھی کتابی معلوم ہوگی کہ ایک

Read more

میں لُٹ گیا کراچی کے بازار میں۔۔۔

میں لُٹ گیا، مگر میں برباد نہیں ہوا۔ قصّہ مختصر، میرے ساتھ کون سا پہلی بار ہوا ہے؟ نہ میں طفل مکتب ہوں کہ سراسیمہ ہو جاؤں۔ کراچی کا شہری ہوں، اس کی ضمانت دینے کی ضرورت پہلے بھی نہیں تھی، اب ثبوت بھی پکا ہوگیا۔ کراچی کا کون سا شہری ہے جس کے ساتھا ایسا نہیں ہوا۔ لوگ تو سات سات آٹھ آٹھ بار اس آزمائش سے گزر چکے ہیں۔ اپنی جگہ پکے ہو گئے ہیں۔ سبھی کے ساتھ

Read more

یادوں کا سلسلہ نکلا

نام آیا تو پھر باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اتنی بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں جو شاید ایک بڑی روغنی تصویر کی تفصیلات ہیں، اپنی جگہ غیراہم مگر شام پڑے پرندوں کی طرح شور مچاتی ہیں، اپنے درخت پر واپس آنا چاہتی ہیں۔ ان کے شور سے خاموشی ٹوٹ جاتی ہے اور منظر کی یکسانیت بھی۔ یوں ہی بیٹھے بٹھائے یاد آیا۔ سات آٹھ سال پہلے کی بات ہوگی، یا اس سے بھی زیادہ پرانی۔ کسی نجی ٹی وی چینل،

Read more

فہمیدہ ریاض: میت سے نہ معافی منگوانا

ایک مرتبہ مجھے فہمیدہ ریاض کے بارے میں تعزیتی مضمون لکھنے کے لیے کہا گیا۔ قباحت اس میں صرف اتنی تھی کہ وہ اس وقت زندہ تھیں۔ بڑے لکھنے والے اس قسم کی ضمنی تفصیلات سے حوصلہ نہیں ہارتے۔ مگر میں اتنا بڑا بننے سے رہ گیا۔ ہوا اس طرح کہ کراچی کے ایک انگریزی روزنامے کے لیے میں مضامین، تبصرے وغیرہ لکھتا رہا ہوں۔ اس کے ادارتی عملے میں نووارد ایک خاتون نے مجھے ٹیلی فون کیا اور یہ

Read more

فہمیدہ ریاض: اس ڈھلی شام کا حاصل کیا ہے؟

اتنے دن ہو گئے وہ آواز میرے ساتھ چلی آ رہی ہے۔ میں جہاں جاتا ہوں میرے کانوں میں گونجنے لگتی ہے۔ ان کی ہنسی کی کھنکتی ہوئی آواز۔ اس ہنسی کے بغیر میں ان کا تصوّر نہیں کر پاتا۔ اور میں ایسا کرنا بھی نہیں چاہتا، حالاں کہ ان مل بے جوڑ معلوم ہوتا ہے موت کے موقع پر ہنسی کو یاد کرنا۔ ان کا نام سُن کر جگہ جگہ پہنچ جانے کی کوشش کرتا ہوں، میں فہمیدہ ریاض

Read more

میری بنیادی شناخت ادب کے قاری کی ہے : آصف فرخی

سوال:آپ افسانہ نگار ہیں، مترجم، نقاد اور مدیر بھی ہیں، کبھی کبھی آپ ہمیں اینکر بھی نظر آتے ہیں۔ آپ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں بیک وقت لکھتے ہیں۔ آپ کی فیلڈ آف اسپیشلائزیشن یعنی آپ کی شناخت کیا ہے؟ ڈاکٹر آصف فرخی: میری بنیادی شناخت اگر کوئی ہے، جس پر ایک سوالیہ نشان ہے، وہ پہلی شناخت ہے۔ اور جس پر مجھے اصرار ہے وہ ایک پڑھنے والے کی ہے۔ ادب کے ایک قاری کی ہے۔ ایک ایسا

Read more

ساقی نے بِنا کی روشِ لطف و کرم اور

کہتے ہیں رات گئی، رات کی بات گئی۔ ادبی رسالوں کے بارے میں بھی بعض لوگ یہی بات کہتے ہیں۔ آج چھپے، کل دوسرا دن۔ رسالے کے چھپتے چھپتے خبریں پرانی ہونے لگتی ہیں۔ انٹرنیٹ کے دور میں انگلیوں کے اشارے پر پوری دنیا سامنے آ جاتی ہے، ساغر انتظار اور انتظار ساغر کھینچنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن میں ایک رسالے کے حوالے سے تقریب میں شریک ہوکر آیا ہوں جس کو چھپے ہوئے دوچار برس نہیں، بیاسی برس سے

Read more

بستر میں لیٹنے کا عالمی دن

  کل میں بستر میں لیٹ جائوں گا، میں نے جواب دیا جب میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ اگلے دن کا ارادہ کیا ہے۔ کیوں، کل کیا خاص بات ہے؟ دوست نے سوال کے جواب میں ایک اور سوال داغ دیا۔ کل ….. ارے بھئی کل ….. کل بستر میں لیٹنے کا عالمی دن ہے! میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا جواب دوں اور کیسے کہوں کہ یہ تو میری ہر دن کی خواہش ہوتی ہے۔

Read more

نوشتۂ دیوار دیکھ لیں

رنگ بحال ہوگئے ہیں، تصویریں مسکرانے لگی ہیں، دیوار پر گُل بوٹے ایک بار پھر اپنی بہار دکھا رہے ہیں، جو ادھر سے گزرے ان کو دیکھ لے اور ان کو سلام کر لے۔ یہ واقعہ اور کسی جگہ کا نہیں، کراچی پریس کلب کی دیوار کا ہے۔ میں پہلے ہی واضح کردوں کہ کراچی پریس کلب سے میرا براہ راست کوئی تعلّق نہیں ہے۔ اتنا بھی نہیں کہ وہاں کی کینٹین میں بیٹھ کر ایک پیالی چائے کا آرڈر

Read more

چڑیا اُڑ گئی

حکومت کا گرنا سنبھلنا، سیاسی جوڑ توڑ، چوری اور سینہ زوری کے واقعات، پولیس کی نامعلوم افراد سے آنکھ مچولی، موبائل فون کی چھینا جھپٹی، دن دہاڑے کی لوٹ مار، کوڑا کچرا، تجاوزات کا انہدام، ملبہ، سڑکوں کی بدحالی، پانی اور بجلی کا فقدان ___ کراچی کے واقعات خبروں کا موضوع بنتے رہے یہاں تک کہ لوگوں نے ان کو زندگی کا معمول سمجھ لیا ہے۔ مگر ان سے بڑا سانحہ ہوا ہے، اس کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ اور

Read more

ملبے کا مالک

شہر کے رواں پیش منظر میں ایک اور اضافہ ہوا ہے۔ بدرنگ، بے ڈھب، آڑی ترچھی عمارتوں کے درمیان اور ٹوٹی پھوٹی ادھڑی مگر بے حد مصروف سڑکوں کے دونوں طرف جگہ جگہ ملبے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ پتّھر، روڑے، سیمنٹ کے ٹوٹے ہوئے بلاک، اینٹیں، اینٹ کا چورا، بُھربھری ریت کی ڈھیریاں۔ یہ راتوں رات اُگ نہیں آئے۔ آپ ان کو دیکھتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ یہ انجام ہے تجاوزات کے خلاف اس مہم کا جو ابھی

Read more

الطاف فاطمہ سے گفتگو

کہیں کہیں کسی گھرانے میں ایک بہن ہوتی ہے، خاموش طبع، مدہم، گہری اور ذمہ دار۔ بولنا ہے تو ضرورت کے برابر اور نیچی آواز میں۔ مانو، گھر میں ایک سایہ سا موجود ہے۔ مگر یہ کہ سب کام پورے۔ تعلیم بھی حاصل کی۔ سب کی خدمت کی۔ سب سے محبت کی۔ سب کے کام آئی۔ کئی نسلوں کو تعلیم دی۔ کسی سے دشمنی نہیں رکھی۔ کسی جھگڑے میں نہیں پڑی۔ سب کے دکھ میں روئی۔ سب کی خوشیوں میں شریک ہوئی۔ بظاہر چپ کی چادر تلے دنیا کو غور سے دیکھا اور یہاں رہنے کا حق کہانیوں کی صورت میں ادا کیا۔ ناول لکھے۔ نواسی برس کی عمر گزار کر ایک روز چپکے سے رخصت ہو گئی۔ الطاف فاطمہ ہم پاکستان والوں کے لئے کچھ ایسی ہی تھیں۔ اب چلی گئی ہیں تو گھر والوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ جسے سب سے کم سوچا تھا، اسی نے زندگی کا حقیقی حق ادا کیا۔ ایسے لگتا ہے گویا گھر کی ایک دیوار گر گئی۔

Read more

ذکیہ مشہدی: کہانی سے ملاقات

ذکیہ مشہدی نے لکھنؤ یونیورسٹی سے نفسیات کی اعلیٰ تعلیم پائی، کچھ عرصہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں، شفیع مشہدی سے شادی اور بچوں کی پیدائش کے بعد لکھنے کے ارادے کو ایک طویل عرصہ تعویق میں رکھا۔ پختہ عمر میں قلم سے تجدید کی۔ کم لکھا ہے مگر جو لکھا، وہ کاغذ پر افسانہ اور پتھر پر نقش ہوگیا ہے۔ عجب نہیں کہ آصف فرخی کی زیر نظر تحریر اردو افسانہ پڑھنے والوں کے لئے بہت سے نئے

Read more

نورانی نور ہر بلا دور

کراچی میں اب دیواروں پر لکھے نعرے بھی قابل اعتبار نہیں رہے۔ نہ جانے کون راتوں رات آ کر ایسی باتیں لکھ جاتا ہے تو ہمارے آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتی ہیں۔ پھر ایک نئی حیرت کے ساتھ ہم ٹیلی وژن کے بہت سارے چینلز پر وہی ایک خبر گھومتی ہوئی دیکھتے ہیں کہ کراچی میں وال چاکنگ۔ جو لکھ دیا گیا ہے اسے نوشتۂ دیوار سمجھیے۔ لیکن کراچی والوں کے دل کا حال جاننا ہو تو بس، رکشا اور ٹرک پر لکھی ہوئی عبارتیں بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ ہر دوسری یا تیسری بس کے پیچھے لکھا ہوا نظر آئے گا:

نورانی نور ہر بلا دور
یا پھر یوں لکھا ہوگا:
جیے شاہ جبل میں شاہ

Read more

امیر علی ٹھگ، تاریخ اور افسانہ کے سنگم پر

رسوائی کا افسانہ عام طور پر عمر کی مدّت سے لمبا ہوتا ہے۔ زندگی کی کتاب سے ورق خشک پتّوں کی طرح ایک ایک کرکے جھڑتے جاتے ہیں، لیکن بعض ناموں کے ساتھ رسوائی کی ایک ایسی داستان وابستہ ہو جاتی ہے جو ان کی موت کے وقفے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ امیر علی ٹھگ بھی ایسے ہی رسوائے زمانہ ناموں میں سے ایک ہے جن کی بدنامی ان کے ساتھ انجام کو پہنچنے کے بجائے، وقت کے

Read more

تیرا نہ میرا گھر

’’تو پھر یسوع مسیح  نے جواب دیا کہ لومڑیوں کے لیے بھٹ ہیں اور ہوا میں اُڑتے پھرنے والے پرندوں کے لیے آشیانے لیکن آدمی کے بیٹے کے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں ہے جہاں اپنا سر ٹکا سکے۔۔۔‘‘ (میتھیو 8:20) انجیل مقدس کے یہ الفاظ میں نے مدّتوں پہلے پڑھے تھے۔ پھر بھول بھال گیا۔ اب یہ الفاظ پوری شدّت کے ساتھ یاد آنے لگے جب میں نے فیس بک پر ایک پرانے دوست کا پیغام دیکھا۔ ایسے کتنے ہی

Read more

سنہری معبد کا شہر

جو لوگ ٹوکیو دیکھ کر چلے جاتے ہیں، انھیں جاپان کی روح دکھائی نہیں دیتی۔ اس کام کے لیے ان علاقوں کو دیکھنا لازم ہے جو اس قدیم روح سے قریب ہیں، کیوٹو ان میں سے ایک ہے۔ سویا مانے مجھے بتاتے ہیں۔ اسٹیشن سے باہر نکل کر ہم شہر کی سڑکوں پر چل رہے ہیں۔ یہاں کی فضا بدلی ہوئی ہے۔ پرانی وضع کی بے شمار عمارتیں نظر آرہی ہیں۔ اس شہر میں تین ہزار سے زیادہ مندر ہیں،

Read more

دو بوڑھوں کی تصویر

ایک تصویر میری آنکھوں کے سامنے آئے جا رہی ہے۔ آنکھوں کے راستے سے جیسے ذہن میں چپک گئی ہے۔ میں اس کو بار بار جھٹکتا ہوں، ایک آدھ لمحے کے لیے وہ دور ہو جاتی ہے مگر پھر واپس چلی آتی ہے۔ آنکھوں میں جم کر رہ گئی ہے۔ جیسے خون جم جاتا ہے۔ تصویر بہت واضح ہے۔ یوں اس میں کوئی ایسی خاص بات بھی نہیں ہے۔ دو بوڑھے ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈالے معانقہ کررہے

Read more

حلیم کا خدا حافظ!

پہلے خدا حافظ کا خدا ہی حافظ ہوا، اب اس کی باری ہے۔۔۔ لیکن چھوٹتے ہی اس چیز کا نام کیسے لکھ دوں، کوئی پکار اٹھے گا کہ ابتداء ہی بدعت سے کی ہے۔ اس کا بھلا سا نام ہے۔ کسی چیز کا نام بھول جائے تو کیسی الجھن ہوتی ہے۔ شکل ذہن میں آرہی ہے، تصویر سی بن رہی ہے مگر نام ہے کہ زبان کی نوک پر آتے آتے پھسل جاتا ہے۔ میرے چچا چیزوں کے نام بھول جانے کا مذاق

Read more

میری کتاب سو برس بعد پڑھی جائے گی

ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ پل کی خبر بھی ہے اور سو برس کا سامان بھی۔ یہ قصّہ کسی اور کا نہیں، مارگریٹ ایٹ وڈ سے شروع ہوتاہے، کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ادیب اور ناول نگار جنہوں نے اپنے ناولوں میں بنی نوعِ انسان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا تخیّلاتی احوال اس کمال سے رقم کیا ہے کہ ان کو موجودہ زمانے کے سربرآوردہ لکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی کتابیں

Read more

میرے نئے پڑوسی

میرے نئے پڑوسی آگئے ہیں۔ میں نے ان کو کھڑکی سے دیکھ لیا ہے۔ میں ان سے ملنے نہیں گیا اور نہ میرا کوئی ارادہ ہے۔ انجیل مقدس میں لکھا ہے کہ اپنے پڑوسی سے محبّت کرو۔ میں ان سے محبّت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہاں ہم دردی ضرور کرسکتا ہوں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ پڑوسی کے بڑے حقوق ہیں۔ پڑوسی اگر بھوکا رہے تو اس گھر کے لوگوں کی عبادت قبول نہیں ہوگی۔ ان نئے پڑوسیوں کی

Read more

حکایت اور اخبار

ایک نئی محبّت کے آغاز کے لیے، انگریزی کے شاعر جان ڈن نے نو وارد محبوبہ کے لیے میری نو دریافت سرزمین کے الفاظ استعمال کیے۔ سولہویں صدی کا شاعر نفیس اور پیچیدہ الفاظ میں محبت کے اسلوب میں زندگی کے عمل کے اظہار میں کمال رکھتا تھا مگر یہ الفاظ مجھے بھی اس وقت مناسب لگ رہے ہیں جب میں اس نئی کتاب کا ذکر لے بیٹھا ہوں جو کسی خزانے کی دریافت سے کم نہیں۔ مگر میں اس

Read more

ابن خلدون، الف لیلہ کی شہرزاد اور پیتل کا شہر

جب چار سو باسٹھویں رات آئی تو میں نے دل ہی دل میں پوچھا، آج رات کون سی کہانی بیان کروں؟ کہانیاں تو بہت سی تھیں مگر جو کتاب ہاتھ آئی وہ ابن خلدون کی یہ ’’ذہنی سوانح عمری‘‘ تھی جو حال میں چھپی ہے اور اس کے لکھنے والے رابرٹ ارون ازمنۂ وسطیٰ کے عربی مطالعات میں بڑا معروف نام ہیں۔ خاص طور پر الف لیلہٰ اور پرانی داستانوں پر ان کا کام بڑا دل چسپ ہے۔ اس کی

Read more

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

بڑے بوڑھے ایسے موقعوں پر کہا کرتے تھے، باولے گائوں میں اونٹ آگیا ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہتے۔ لیکن یہ دیکھ رہے ہیں اور خوش ہورہے ہیں کہ کس دھوم دھڑکے سے کوک اسٹوڈیو کا نیا سیزن آیا ہے۔ یعنی غالب کے بقول اس انداز سے بہار آئی، کہ ہوئے مہرو مہ تماشائی۔ واقعی ہم بھی تماشائی بن گئے۔ اور کیوں نہ ہو۔ فیس بک پر اطلاعات کی بھرمار ہے، دوست ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کررہے ہیں، لائک

Read more

۔۔۔شاید نہ بہار آئے

جب ذہن خالی ہو تو ایسی باتوں پر نظریں ٹہرجاتی ہیں۔ گھر سے باہر نکلنے کے خیال سے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ گلی کے ہر کونے پر لوگ بڑھ کر ہاتھ ملائیں گے اور پوچھیں گے، آپ اس مرتبہ کس کو ووٹ دے رہے ہیں۔ اس سے زیادہ گھبراہٹ اس خیال سے ہوتی ہے کہ گلی کے کونے پر کوئی بھی نہیں ہوگا جو یہ سوال پوچھے گا، اس مرتبہ کی بے رونقی پر مجھے اور زیادہ کوفت ہوگی۔ گھر

Read more

میرا شہر پیرس بن گیا تو میرا کیا بنے گا؟

حماقت کی حدوں کو چھو لینے والے غیر ذمہ دارانہ بیانات ہمارے گھر کی کھیتی ہیں اور جوں جوں الیکشن کا سورج سوا نیزے پر آرہا ہے، اس فصل کا خاص پھل۔ میڈیا پر رائج آج کل کی زبان میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہماری کاٹیج انڈسٹری ہیں۔ آئے دن کی بات ہے۔ اس لیے کانوں کو اب تک ان کا عادی ہوجانا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ آپ یہ کر سکتے ہیں ایک کان سے سُن کر

Read more

ڈائو میڈیکل یونیورسٹی میں استقبال یوسفی

محترمی و مکرمی مشتاق احمد یوسفی صاحب محترم وائس چانسلر ڈائو میڈیکل یونیورسٹی، محترم اساتذئہ کرام اور ڈائو میڈیکل کالج کے ساتھیو جو ہم سبق بھی ہیں، ہم مشرب بھی اور ہم راز بھی۔ محترم شعرائے کرام اور سامعینِ مشاعرہ، خواتین و حضرات، آج میں گھر سے نکلا تو راستے میں ایک دیوار آگئی۔ سچ مچ کی دیوار نہیں، ورنہ میں اس سے سر پھوڑ کر وہیں بیٹھ رہتا اور آج کی محفل سے بچ نکلنے کا ایک معقول بہانہ

Read more

میں یہ کتاب نہ پڑھنے کے لیے مرا جا رہا ہوں

  اپنے ملک سے مجھے بہت سی شکایتیں لاحق رہی ہیں لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ یار لوگ کتابیں نہیں پڑھتے۔ یا پھر اتنی نہیں پڑھتے جس قدر پڑھنا چاہئیں۔ اتنے کروڑوں کی آبادی والے ملک میں نئی کتاب کی آمد روز روز کا واقعہ نہیں ہوتی۔ نئی کتاب چھپتی بھی ہے تو چند ہزار نہیں چند سو۔ پھر زیادہ تر کتابوں کے نسخے کتاب فروش کی الماری میں رکھے رکھے گرد آلود ہو جاتے ہیں۔ ان کی

Read more

کیا اب محبت کی شاعری ہو سکتی ہے؟

ایک نظم پڑھتے پڑھتے یہ خیال ایک سوال بن کر اٹھا۔ اور نظم پڑھتے ہوئے اس شدت سے اٹھا کہ میرے دل و دماغ کو جیسے لرزا گیا۔ جیسے کوندا سالپک گیا۔ پھر شدید احساسِ زیاں۔ جیسے کوئی بے حد قیمتی چیز، جس سے شدید جذباتی لگائو رہا ہو، دیکھتے دیکھتے کوئی ہاتھوں سے لے جارہا ہے۔ یہ خیال جس نظم سے ابھرا ہے، اس کا نام ہے جہاں زاد۔ اور یہ نظم عشرت آفرین نے لکھی ہے۔ یہ نظم

Read more

گرمی اور گرما گرمی

کراچی میں گرمی کا زور ٹوٹ گیا خدا خدا کرکے۔ لیکن کب تک؟ گرمی گئی اس طرح ہے کہ پلٹ کر پھر آئے گی۔ اور جب دوبارہ آئے گی تب بھی ہم اسی طرح کی باتیں کرتے رہیں گے، گرم موسم میں گرما گرم باتیں۔ ہوش و حواس اڑا دینے والی گرمی تھی۔ کراچی میں ایسی گرمی سُنی اور نہ دیکھی۔ اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک آدھ دن گرم ہوا چل گئی تو بہت تھا، پھر شام

Read more

بے ادب آمر

وہ اٹھے اور ہماری زندگی میں شامل ہوگئے۔ ہم ان کو روک سکتے تھے اور نہ ان کے نشان مٹا سکتے ہیں۔ ہم ان کے سائے میں پل کر جوان ہوئے ہیں۔ خنجر کی طرح یہ آمر بھی ہمارا قومی نشان رہے ہیں۔ ہماری کیا مجال کہ ان کے لکھے ہوئے یا بولے ہوئے لفظ پر نکتہ چینی کرسکیں۔ ان کی داستان کس قدر طولانی ہے اور کتنی روح فرسا، یہ بات اب سمجھ میں آسکتی ہے کہ ایک نئی

Read more

انتظار صاحب‘ آنسو اور معذرت

انتظار صاحب کی آنکھوں میں آنسو ؟ ان کے ہونٹوں پر معافی کے الفاظ؟ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟ آنکھوں دیکھی کہتا ہوں نہ کانوں سُنی۔ بلکہ اس کے لیے نیا محاورہ گھڑ لینا چاہیے، آنکھوں پڑھی۔ میں نے یوں پڑھا۔ اور پھر شش و پنج میں پڑ گیا کہ کیا واقعی؟ بے یقینی کے سے عالم میں اس صفحے کو دیکھتا گیا اور یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ اس صفحے پر آننتھ مورتی کا نام

Read more