آشیانہ ڈھونڈتا ہے

ایک اکیلا شہر میں۔ پہلے وائلن کی نوک دار آواز بلند ہوتی ہے۔ اس کے بعد موسیقی کے ساتھ ایک بھاری، گونجیلی آواز جو نغمے سے زیادہ اپنی شکست کی آواز معلوم ہوتی ہے اور ہوا کے ساتھ بہنے لگتی ہے۔ آب و دانہ ڈھونڈتا ہے۔ آشیانہ ڈھونڈتا ہے۔ ایک پورا منظر اس آواز کے…

Read more

ہاجرہ مسرور کی یاد میں

اس قسم کی باتیں اکثر محض رواروی میں کہہ دی جاتی ہیں لیکن ہاجرہ مسرور کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کے ساتھ اردو افسانے کا ایک پورا دور ختم ہو گیا۔ سماجی درد مندی، ڈھلے ڈھلائے واقعات، تیز تیکھا انداز بیان، سُلگتے ہوئے موضوعات اور کوچہ و بازار کی رونق…

Read more

میں لُٹ گیا کراچی کے بازار میں۔۔۔

میں لُٹ گیا، مگر میں برباد نہیں ہوا۔ قصّہ مختصر، میرے ساتھ کون سا پہلی بار ہوا ہے؟ نہ میں طفل مکتب ہوں کہ سراسیمہ ہو جاؤں۔ کراچی کا شہری ہوں، اس کی ضمانت دینے کی ضرورت پہلے بھی نہیں تھی، اب ثبوت بھی پکا ہوگیا۔ کراچی کا کون سا شہری ہے جس کے ساتھا…

Read more

یادوں کا سلسلہ نکلا

نام آیا تو پھر باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اتنی بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں جو شاید ایک بڑی روغنی تصویر کی تفصیلات ہیں، اپنی جگہ غیراہم مگر شام پڑے پرندوں کی طرح شور مچاتی ہیں، اپنے درخت پر واپس آنا چاہتی ہیں۔ ان کے شور سے خاموشی ٹوٹ جاتی ہے اور منظر کی یکسانیت…

Read more

فہمیدہ ریاض: میت سے نہ معافی منگوانا

ایک مرتبہ مجھے فہمیدہ ریاض کے بارے میں تعزیتی مضمون لکھنے کے لیے کہا گیا۔ قباحت اس میں صرف اتنی تھی کہ وہ اس وقت زندہ تھیں۔ بڑے لکھنے والے اس قسم کی ضمنی تفصیلات سے حوصلہ نہیں ہارتے۔ مگر میں اتنا بڑا بننے سے رہ گیا۔ ہوا اس طرح کہ کراچی کے ایک انگریزی…

Read more

فہمیدہ ریاض: اس ڈھلی شام کا حاصل کیا ہے؟

اتنے دن ہو گئے وہ آواز میرے ساتھ چلی آ رہی ہے۔ میں جہاں جاتا ہوں میرے کانوں میں گونجنے لگتی ہے۔ ان کی ہنسی کی کھنکتی ہوئی آواز۔ اس ہنسی کے بغیر میں ان کا تصوّر نہیں کر پاتا۔ اور میں ایسا کرنا بھی نہیں چاہتا، حالاں کہ ان مل بے جوڑ معلوم ہوتا…

Read more

میری بنیادی شناخت ادب کے قاری کی ہے : آصف فرخی

سوال:آپ افسانہ نگار ہیں، مترجم، نقاد اور مدیر بھی ہیں، کبھی کبھی آپ ہمیں اینکر بھی نظر آتے ہیں۔ آپ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں بیک وقت لکھتے ہیں۔ آپ کی فیلڈ آف اسپیشلائزیشن یعنی آپ کی شناخت کیا ہے؟ ڈاکٹر آصف فرخی: میری بنیادی شناخت اگر کوئی ہے، جس پر ایک سوالیہ نشان…

Read more

ساقی نے بِنا کی روشِ لطف و کرم اور

کہتے ہیں رات گئی، رات کی بات گئی۔ ادبی رسالوں کے بارے میں بھی بعض لوگ یہی بات کہتے ہیں۔ آج چھپے، کل دوسرا دن۔ رسالے کے چھپتے چھپتے خبریں پرانی ہونے لگتی ہیں۔ انٹرنیٹ کے دور میں انگلیوں کے اشارے پر پوری دنیا سامنے آ جاتی ہے، ساغر انتظار اور انتظار ساغر کھینچنے کی…

Read more

بستر میں لیٹنے کا عالمی دن

  کل میں بستر میں لیٹ جائوں گا، میں نے جواب دیا جب میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ اگلے دن کا ارادہ کیا ہے۔ کیوں، کل کیا خاص بات ہے؟ دوست نے سوال کے جواب میں ایک اور سوال داغ دیا۔ کل ..... ارے بھئی کل ..... کل بستر میں لیٹنے کا…

Read more

نوشتۂ دیوار دیکھ لیں

رنگ بحال ہوگئے ہیں، تصویریں مسکرانے لگی ہیں، دیوار پر گُل بوٹے ایک بار پھر اپنی بہار دکھا رہے ہیں، جو ادھر سے گزرے ان کو دیکھ لے اور ان کو سلام کر لے۔ یہ واقعہ اور کسی جگہ کا نہیں، کراچی پریس کلب کی دیوار کا ہے۔ میں پہلے ہی واضح کردوں کہ کراچی…

Read more