کرشن چندر اور جامن کا پیڑ

کہانی بس اتنی نہیں ہے کہ ایک پیڑ گر پڑا اور اس کے بھاری تنےکے نیچے ایک آدمی دب گیا۔ بلکہ کہانی یہ ہے کہ افسانہ گرا دیا گیا اور سرکاری عتاب کے ملبے میں افسانہ نہیں مرا۔ یہ درخت جو گر گیا اور افسانہ جو نہیں مرا، یہ افسانہ کرشن چندرکا ہے اور کہانی کی…

Read more

دوزخ نامہ: مرزا بنام منٹو

یوں بیان کیا گیا ہے کہ آسمانوں میں فرشتے ایک الوہی واقعے کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے کہ کچھ سُن گُن پا کر ابلیس نے ادھر کا قصد کرنا چاہا تو اس کا راستہ روکنے کے لیے فرشتوں نے نور اور آگ کے گولے اس کی طرف برسائے جنھیں دنیا والے شہابِ ثاقب…

Read more

ادب اور انعامات کی عالمی سیاست

پاکستان کے سوچنے سمجھنے والے اذہان، خاص طور پر ان نادرہ روزگار افراد میں جو تہذیبی اور تمدنی مسائل پر سنجیدگی سے غور و فکر کرتے ہیں، محترم ڈاکٹر آصف فرخی کا اسم گرامی بہت اوپر آتا ہے۔ ذیل میں ڈاکٹر فرخی کا ایک گراں قدر خطبہ پیش کیا جا رہا ہے جو انہوں نے…

Read more

ہندوستان سے ایک کتاب

خاک نشین نہ خاک گزیدہ، خاکی رنگ کا ایک لفافہ ڈاک میں میرا منتظر تھا جب میں ایک مختصر سفر کے بعد واپس آیا۔ کئی رسالوں، کتابوں کے درمیان الگ سے رکھا ہوا تھا۔ اس لیے میں نے فوراً اٹھا کر دیکھ لیا۔ اس پر سرکاری مُہر لگی ہوئی تھی۔ الٹ پلٹ کر دیکھا، دفتر…

Read more

خندہ اور فراموشی کی کتاب – میلان کنڈیرا

فروری 1948 میں کمیونسٹ رہنما کلیمنٹ گوٹ والڈ، پراگ کے باروک طرز تعمیر کے ایک محل کی بالکنی پر نمودار ہوا تاکہ ان ہزاروں لاکھوں شہریوں سے خطاب کرے جو پرانے شہر کے چوک میں بھیڑ لگائے کھڑے تھے۔ یہ چیکوسلوواکیہ کی تاریخ کا فیصلہ کن لمحہ تھا—ان تقدیر ساز لمحوں میں سے ایک جو…

Read more

کراچی کی قتل گاہوں میں روندے گئے ہمارے علم…

جان تو عزیز ہمیشہ سے تھی لیکن اس بار واقعہ بھی سخت ہوگیا ہے۔ اس کی تاب کیوں کر لائیں گے؟ جو کچھ پیش کیا جا رہا تھا اگر اسے معمول کے مطابق چلنے دیا جاتا تو اس طرح کا واقعہ نہ بنتا۔ پہلے پہل یہاں چہ میگوئیاں ہوئیں، سوشل میڈیا پر خبر پھیلی پھر…

Read more

کیا قافلہ جاتا ہے…

پاکستان میں صحافت پر ان دنوں عجب پیمبری وقت آن پڑا ہے۔ ابھی تھوڑے دن پہلے ہیرلڈ جیسے شان دار جریدے کے بند ہونے پر افسوس کیا جارہا تھا کہ اتنے میں نیوز لائن کی سناؤنی آگئی۔ صحافت کے شعبے سے اب اس طرح کی خبریں آرہی ہیں۔ پرانا شعر یاد آگیا، وہ بھی ٹکڑے…

Read more

مسخروں کے شہر میں قیدی مخلوق

ایک طرف سے زور کی آواز بلند ہوئی، میں چونک پڑا۔ ارے، یہ تو ہنسنے کی آواز ہے۔ میری نظریں ٹکٹکی باندھے اسکرین کی طرف جمی ہوئی تھیں۔ چونک پڑنے سے وہ تار ٹوٹ گیا۔ میں نے مُڑ کر دیکھا، یہ کون ہنس رہا ہے؟ ہنسنے کی آواز شروع تو اسکرین سے ہوئی تھی۔ جس…

Read more

نوبیل انعام کی بے ادبیاں

خوان بڑا، خوان پوش بڑا، بیچ میں سے نکلا ایک ہی بڑا۔ اس دفعہ کے نوبیل انعام برائے ادب پر یہی بات صادق آتی ہے۔ بڑے طمطراق کے ساتھ اعلان ہوا کہ اس بار ایک نہیں، دو انعامات دیے جائیں گے۔ پچھلے سال کا انعام وقت پر نہیں دیا جاسکا تھا۔ سوئیڈش اکادمی کے طریق…

Read more

سایہ ڈھل گیا۔ ڈاکٹر منیر الدین احمد

اطلاعات کی بھرمار کے اس دور میں ان کے انتقال کی خبر کئی مہینے بعد ملی۔ ڈنمارک میں مقیم ادیب نصر ملک نے توجہ دلائی کہ اپریل میں ڈاکٹر منیر الدین احمد کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی بیگم ادتا احمد کے حوالے سے اس خبر کی تصدیق کی کہ فون پر بات…

Read more