اگر مجھے مرنا پڑا۔۔۔۔


naseer nasirاگر مجھے مرنا پڑا
تو میں مرنے سے انکار نہیں کروں گا
لیکن کوک کا ایک گلاس پینے کی مہلت طلب کروں گا
یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی رائلٹی یہودیوں کو جائے گی
کیونکہ میں تخمیری مشروب نہیں پیتا
چاہے وہ کسی مسلمان کے ہاتھ سے کیوں نہ پیش کیا گیا ہو

اگر مجھے مرنا پڑا
تو میں اس کے لیے بخوشی تیار ہو جاؤں گا
لیکن یہ ضرور پوچھوں گا
کہ فلسطین سے کشمیر تک
بوسنیا سے چیچنیا تک
عراق سے افغانستان تک
اور لیبیا سے شام تک
لاکھوں بے گناہوں کو
اور ان بچوں کو جو ابھی ماؤں کے شکموں میں تھے
کس ضابطہ موت کے تحت مارا گیا؟
کیا ان کی موت کو مشیتِ ایزدی سمجھا جائے؟
کیا واقعی وہ اسی طرح مرنے کے لیے پیدا ہوئے تھے؟
کیا موت اور محبت کا بھی کوئی مذہب ہوتا ہے؟
اور کیا پیدا ہوئے بغیر بھی مرا جا سکتا ہے؟
مجھے امید ہے کہ میرے ان سوالوں کو
اتنا معصوم اور سادہ نہیں سمجھا جائے گا
میں جانتا ہوں ان کا جواب کسی کے پاس نہیں
مارنے والوں کے پاس بھی نہیں
پھر بھی میں کسی اور سے نہیں تو موت سے ضرور پوچھوں گا
کہ اَن جنے بچوں کو کس خدائی قانون کی رُو سے رحم بدر کیا گیا
اور بارودی سرنگیں کس فرشتے کی ایجاد ہیں
اور وہ جنت کیسی ہو گی جو خود کش دھماکوں کے بدلے میں ملتی ہے
اور کیا جہنم کے لیے آسمان پر کوئی جگہ نہیں بچی تھی؟

اگر مجھے مرنا پڑا
تو میں بچوں سے باتیں کرتے ہوئے مرنا پسند کروں گا
اور اگر موت کو کہیں اور جانے کی جلدی نہ ہوئی
تو اسے ڈھیر ساری نظمیں سناؤں گا
شاید اس کا دل پسیج جائے
اور وہ اُس روز
میرے علاوہ باقی مرنے والوں کی جان لینا ملتوی کر دے
اور کراچی، کوئٹہ اور پشاور جانا بھول جائے

اگر مجھے مرنا پڑا
تو موت سے کچھ دیر خاموش رہنے کی درخواست کرتے ہوئے
اپنا پسندیدہ میوزک سنوں گا
اور ہمیشہ کی طرح
وائلن اور پیانو کی دھنوں پر امنڈ آنے والے
آنسو چھپانے کی کوشش ہرگز نہیں کروں گا
موت کی موجودگی میں تھوڑا رو لینا
اور پرانی یادوں کو تازہ کرنا
اور پاس بیٹھے ہوؤں سے
رسول حمزہ توف کی کوئی نظم سنانے کی فرمائش کرنا
کتنا رومانٹک لگے گا
اگرچہ یہ سب کچھ اداس کر دینے کے لیے کافی ہو گا
لیکن میں مسکراتے ہوئے دھیرے دھیرے۔۔۔۔۔
خیر چھوڑیں ابھی سے اداس ہو کر موت کا مزہ کرکرا کیوں کروں
اب تو ماں بھی نہیں رہی
جس کے آنسو کسی لائف سیونگ ڈرگ سے کم نہیں تھے

اگر مجھے مرنا پڑا
تو میں ایک ہی بار مرنے کی خواہش کروں گا
زندگی میں بار بار مرنے کا تجربہ کئی بار ہو چکا
موت کے سمے اس تجربے کو دہرانا لاحاصل ہو گا
لیکن اسے میری آخری خواہش نہ سمجھا جائے
جو میں نے خود کو بھی نہیں بتائی، نہ بتاؤں گا
اگر مجھے مرنا پڑا
تو میں موت کی ایکٹنگ نہیں کروں گا، سچ مچ مروں گا
اور ان لوگوں خصوصاً ان شاعروں کی طرح
جو زندگی ہی میں اپنی تاریخ لکھوا لیتے ہیں
مر کر بھی زندہ نہیں رہوں گا
تاہم، اے روحِ عصر! اگر مجھ سے پوچھا گیا
تو میں تاریخ کے صفحات کے بجائے
اپنی نظموں میں تمہارے ساتھ درگور ہونے کو ترجیح دوں گا!


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “اگر مجھے مرنا پڑا۔۔۔۔

  • 20-02-2016 at 1:42 am
    Permalink

    اگر مجھے مرنا پڑا
    تو میں بچوں سے باتیں کرتے ہوئے مرنا پسند کروں گا

    • 21-02-2016 at 3:55 pm
      Permalink

      وقار صاحب! اللہ آپ کو تا دیر سلامت رکھے۔ آمین!

  • 20-02-2016 at 3:35 am
    Permalink

    نصیر ناصر صاحب!!
    نظم گوئی میں آپ کو کمال حاصل ھے ـ

    • 21-02-2016 at 3:57 pm
      Permalink

      بہت شکریہ ظہور ندیم صاحب۔ یہ آپ جیسے قارئین کی محبت ہے، میں ایک معمولی سا شاعر ہوں اور بس ۔۔۔۔۔۔

  • 21-02-2016 at 10:40 am
    Permalink

    Naseer Ahmed Nasir Sir.
    Ap ke nazm”Agr mujhay mrna pra”ko kayi bar parha hae.mgr phir parhnay ko dil chahta hae.or mae hon k phir hr ster or phir hr hrf ko prhti hon.ic duni mae insani almia.dukh or derd bay andaz.hm kon kon say mzalim ko yad kraen.kic kic dukh ko roen.
    Sir jeb mae in dukhon pay roti hon to “Woh” mujhay rotay huay daekh kr hensta hae…….
    Baher hal ap nay zmanay bher k ghemon or dukhon ko shidet say mehsoos kr k jo nzm ibaret ke hae tkhleeqi bulendi ko na sirf choo rehi hae bl k ant kr re hae.adebi jehan maen maeraj o mqam pa gai hae.

  • 21-02-2016 at 3:47 pm
    Permalink

    عصمت بانو صاحبہ! اس توجہ اور اظہار کا شکریہ

Comments are closed.