مئی میں “دسمبر کی رات” اور کتابوں کی چھانٹی کا غم

کتابوں کی چھانٹی اور انہیں لائبریری بدر کرنا میرے لیے ایسا ہی عمل ہوتا ہے جیسا نئی کتابوں کا آنا اور انہیں لائبریری میں سجانا۔ آجکل میں اسی عمل سے گزر رہا ہوں۔ چاہے کوئی عام سی کتاب ہو مجھے اس کو چھانٹی کا مال بناتے ہوئے بڑا دکھ ہوتا ہے۔ کتاب دوست کی طرح…

Read more

قاضی علی، کولاج اور کتاب کی افادیت

ہمیں بہت سی کتابیں تحفتہً ملتی ہیں۔ جنہیں ہم، کبھی پڑھ کر اور کبھی پڑھے بغیر، ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ کتابیں الماریوں میں پڑی رہتی ہیں اور ہم انہیں بھول جاتے ہیں۔ اور پھر برسوں گزر جانے کے بعد الماریوں کی صفائی یا کیڑے مار دوائیوں کا اسپرے یا کتابوں کی چھانٹی کرتے ہوئے…

Read more

ماں عظیم ہے

گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا کہ دکھ عورت ہے وہ عورت ہی تھی جس نے اُسے جنم دے کر موت کو گلے لگا لیا اور وہ بھی عورت تھی جسے وہ بستر میں سوتا چھوڑ آیا تھا اور حالتِ مرگ میں اسے دودھ اور چاول کی بھینٹ دینے والی بھی ایک عورت تھی…

Read more

اداکارہ بازغہ، ادبی صفحہ اور فوجی حکومت

اَسی (80) کی دہائی کا ابتدائی اور میرے شعری جوبن کا زمانہ تھا۔ مجھے اسلام آباد میں ایک تعمیراتی کمپنی کی ملازمت کرتے ہوئے تین چار سال ہو گئے تھے۔ دن بھر مٹی، اینٹوں، بلاکوں کے ڈھیروں، سریے کے جالوں اور کنکریٹ کی چھتوں پر نقشوں کے پلندے اٹھائے مصروف رہتا، شام کو اسلام آباد…

Read more

آئن اسٹائن شاعر نہیں تھا

 آئن اسٹائن کو معلوم تھا کہ کائنات پھیلتی جا رہی ہے اور انجام کار اپنے آپ میں سمٹ جائے گی آخری چرمراہٹ کے بعد لیکن آئن اسٹائن شاعر نہیں تھا اسے معلوم نہیں تھا کہ دیواروں کے آر پار دیکھ لینے سے زندگی اتنی عریاں ہو گئی ہے کہ ہماری ہڈیوں کا پگھلا ہوا گودا…

Read more

کھڑکیاں انسان ہوتی ہیں

کھڑکیاں منظر دکھاتی ہیں دلوں کی ہوں، دماغوں کی کہ آنکھوں کی وہ باہر کی طرف کھلتی ہوں یا اندر کی جانب، روشنی اُس پار کی اِس پار لاتی ہیں کھڑکیاں باتیں بھی کرتی ہیں لبوں کے قفلِ ابجد کھولتی ہیں کھڑکیوں پہ رات جب تاریکیوں کے جال بُنتی ہے تو عمریں درد کی پاتال…

Read more

کہانی بہت دور چلی گئی ہے 

عبداللہ حسین! ہمارے عہد کی کتھا میں الفاظ کاغذ پر نہیں اسکرین پر ابھرتے ہیں قلم کے بجائے کی بورڈ لکھتا ہے ہماری نسلیں ھیری پوٹر کی فلمیں دیکھتی ہیں اور پائلو کولو کو پڑھتی ہیں اور حقیقت سے دور بھاگتی ہیں عبداللہ حسین! ہماری نسلیں اب اداس نہیں، مایوس ہو چکی ہیں عبداللہ حسین…

Read more

دکھاوے کے لیے رکھی چیزیں

وائے تقدیر! کسی دوست کے کام کے سلسلے میں ایک بہت بڑے نجی ادارے کے جدید ترین وسیع و عریض دفتر میں جانا ہوا۔ دفتر کے باہر خاصے کشادہ پارکنگ ایریا کے داخلے پر جلی حروف میں درج تھا "صرف دفتری سٹاف کے لیے"۔ آدھی پارکنگ خالی پڑی ہوئی تھی لیکن سائلین اور وہ لوگ…

Read more

ناؤ پانی کی موت سے ڈرتی ہے

ناؤ کے لیے پانی ضروری ہے وہ لکڑی کی ہو یا کاغذ کی اسے بہنے کے لیے پانی چاہئیے پانی اسے لذتِ سفر کی انتہاؤں تک لے جاتا ہے نئے جزیروں، نئی دنیاؤں کی سیر کراتا ہے ناؤ پانی سے پیار کرتی ہے ناؤ کو تیرتے رہنا اچھا لگتا ہے وہ پانی کے پیٹ پر…

Read more

ہم بچے ہیں

ہم بچے ہیں ہم اسکول جاتے ہیں پارکوں میں اچھلتے کودتے ہیں کھلونوں سے کھیلتے ہیں غباروں میں ہوا بھر کر خوش ہوتے ہیں ہم متحرک فلمیں اور کارٹون دیکھتے ہیں اور چپس اور چاکلیٹس کھا کھا کر بیمار ہوتے رہتے ہیں مگر باز نہیں آتے ہم ضدی ہیں لڑتے ہیں جھگڑتے ہیں پھر ایک…

Read more