مجھے یہ نظم نہیں لکھنی چاہیے تھی

یہ نظم لکھنے سے بہتر تھا میں کچھ دیر چھت پر چہل قدمی کرتے ہوئے چہار اطراف دور تک پھیلی اونچی نیچی بے ہنگم عمارتوں کی ساخت پر غور کرتا یا پلستر کی دراڑوں سے نکلتی چیونٹیوں کے بارے میں سوچتا کہ ان کی اوسط عمر کتنی ہے یہ نظم لکھنے سے بہتر تھا میں ریڈیو کے لیے نئے سیل خرید لاتا جو کب کے ختم ہو چکے ہیں یا پرانا ٹیپ ریکارڈر ٹھیک کرانے چلا جاتا جو کئی برسوں

Read more

ہیلی کاپٹر

قصوروار تم خود ہو کہ یہاں پیدا کیوں ہوئے پیدا ہو گئے تو جوان کیوں ہوئے جوان ہوئے تو اُس طرف کیوں گئے چلے ہی گئے تو سیلابی ریلے میں کیوں پھنس گئے قصور وار تم خود ہو اور تمہارے ساتھ بارشیں اور وہ پانی جو ریلے کی صورت بہ رہا تھا اور وہ پتھر جو سیلابی ریلے کے درمیان پڑا ہوا تھا جس پر تم نے کئی گھنٹے پناہ لیے رکھی اور آسمان کی طرف دیکھتے رہے اور کسی

Read more

مئی میں "دسمبر کی رات” اور کتابوں کی چھانٹی کا غم

کتابوں کی چھانٹی اور انہیں لائبریری بدر کرنا میرے لیے ایسا ہی عمل ہوتا ہے جیسا نئی کتابوں کا آنا اور انہیں لائبریری میں سجانا۔ آجکل میں اسی عمل سے گزر رہا ہوں۔ چاہے کوئی عام سی کتاب ہو مجھے اس کو چھانٹی کا مال بناتے ہوئے بڑا دکھ ہوتا ہے۔ کتاب دوست کی طرح ہوتی ہے اور اسے لائبریری سے رخصت کرتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے دوست کو رخصت کر رہے ہوں۔ میری عادت ہے کہ چھانٹی کے

Read more

قاضی علی، کولاج اور کتاب کی افادیت

ہمیں بہت سی کتابیں تحفتہً ملتی ہیں۔ جنہیں ہم، کبھی پڑھ کر اور کبھی پڑھے بغیر، ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ کتابیں الماریوں میں پڑی رہتی ہیں اور ہم انہیں بھول جاتے ہیں۔ اور پھر برسوں گزر جانے کے بعد الماریوں کی صفائی یا کیڑے مار دوائیوں کا اسپرے یا کتابوں کی چھانٹی کرتے ہوئے کہ نئی کتابوں کی جگہ بن سکے، کچھ کتابیں پھر سے ہمارے سامنے آ جاتی ہیں اور ہم انہیں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ میرے

Read more

ماں عظیم ہے

گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا کہ دکھ عورت ہے وہ عورت ہی تھی جس نے اُسے جنم دے کر موت کو گلے لگا لیا اور وہ بھی عورت تھی جسے وہ بستر میں سوتا چھوڑ آیا تھا اور حالتِ مرگ میں اسے دودھ اور چاول کی بھینٹ دینے والی بھی ایک عورت تھی دکھ عورت ہے اور عورت دکھ ہے۔ عورت کسی بھی روپ میں ہو عظیم ہے۔ کیونکہ دکھ عظیم ہے۔ دکھ کی ارفع ترین شکل تخلیق

Read more

اداکارہ بازغہ، ادبی صفحہ اور فوجی حکومت

اَسی (80) کی دہائی کا ابتدائی اور میرے شعری جوبن کا زمانہ تھا۔ مجھے اسلام آباد میں ایک تعمیراتی کمپنی کی ملازمت کرتے ہوئے تین چار سال ہو گئے تھے۔ دن بھر مٹی، اینٹوں، بلاکوں کے ڈھیروں، سریے کے جالوں اور کنکریٹ کی چھتوں پر نقشوں کے پلندے اٹھائے مصروف رہتا، شام کو اسلام آباد کی سڑکوں پر اور پارکوں میں آوارہ گردی یا سپر مارکیٹ، میلوڈی اور آب پارہ میں ونڈو شاپنگ کرتا، کسی سستے ریستوران سے رات کا

Read more

آئن اسٹائن شاعر نہیں تھا

 آئن اسٹائن کو معلوم تھا کہ کائنات پھیلتی جا رہی ہے اور انجام کار اپنے آپ میں سمٹ جائے گی آخری چرمراہٹ کے بعد لیکن آئن اسٹائن شاعر نہیں تھا اسے معلوم نہیں تھا کہ دیواروں کے آر پار دیکھ لینے سے زندگی اتنی عریاں ہو گئی ہے کہ ہماری ہڈیوں کا پگھلا ہوا گودا بھی نظر آنے لگا ہے اور زمان و مکاں کی ساری اداسی ہمارے دلوں میں سے گزرتی ہوئی صاف دکھائی دے رہی ہے اور ہمارے

Read more

کھڑکیاں انسان ہوتی ہیں

کھڑکیاں منظر دکھاتی ہیں دلوں کی ہوں، دماغوں کی کہ آنکھوں کی وہ باہر کی طرف کھلتی ہوں یا اندر کی جانب، روشنی اُس پار کی اِس پار لاتی ہیں کھڑکیاں باتیں بھی کرتی ہیں لبوں کے قفلِ ابجد کھولتی ہیں کھڑکیوں پہ رات جب تاریکیوں کے جال بُنتی ہے تو عمریں درد کی پاتال سے سرگوشیوں میں بولتی ہیں کھڑکیاں خاموش رہتی ہیں زباں بندی کے دن، بے داد کی راتیں، ستم کے دور سہتی ہیں کھڑکیاں صدیوں کے

Read more

کہانی بہت دور چلی گئی ہے 

عبداللہ حسین! ہمارے عہد کی کتھا میں الفاظ کاغذ پر نہیں اسکرین پر ابھرتے ہیں قلم کے بجائے کی بورڈ لکھتا ہے ہماری نسلیں ھیری پوٹر کی فلمیں دیکھتی ہیں اور پائلو کولو کو پڑھتی ہیں اور حقیقت سے دور بھاگتی ہیں عبداللہ حسین! ہماری نسلیں اب اداس نہیں، مایوس ہو چکی ہیں عبداللہ حسین کو اردو ادب کا کون سا شاعر، ادیب اور طالب علم ہو گا جو نہہیں جانتا ہو گا، خاص طور پر ان کے اولین  مشہور

Read more

دکھاوے کے لیے رکھی چیزیں

وائے تقدیر! کسی دوست کے کام کے سلسلے میں ایک بہت بڑے نجی ادارے کے جدید ترین وسیع و عریض دفتر میں جانا ہوا۔ دفتر کے باہر خاصے کشادہ پارکنگ ایریا کے داخلے پر جلی حروف میں درج تھا "صرف دفتری سٹاف کے لیے”۔ آدھی پارکنگ خالی پڑی ہوئی تھی لیکن سائلین اور وہ لوگ  جن کے لیے اور جن کی وجہ سے ایسے دفاتر قائم ہیں ان کو گاڑیاں اندر لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ چنانچہ پانچ دس

Read more

ناؤ پانی کی موت سے ڈرتی ہے

ناؤ کے لیے پانی ضروری ہے وہ لکڑی کی ہو یا کاغذ کی اسے بہنے کے لیے پانی چاہئیے پانی اسے لذتِ سفر کی انتہاؤں تک لے جاتا ہے نئے جزیروں، نئی دنیاؤں کی سیر کراتا ہے ناؤ پانی سے پیار کرتی ہے ناؤ کو تیرتے رہنا اچھا لگتا ہے وہ پانی کے پیٹ پر گدگدی کر کے خوش ہوتی ہے اور لہریے بناتی ہوئی چلتی ہے کنارہ اسے باندھے رکھتا ہے کنارہ کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو ناؤ

Read more

ہم بچے ہیں

ہم بچے ہیں ہم اسکول جاتے ہیں پارکوں میں اچھلتے کودتے ہیں کھلونوں سے کھیلتے ہیں غباروں میں ہوا بھر کر خوش ہوتے ہیں ہم متحرک فلمیں اور کارٹون دیکھتے ہیں اور چپس اور چاکلیٹس کھا کھا کر بیمار ہوتے رہتے ہیں مگر باز نہیں آتے ہم ضدی ہیں لڑتے ہیں جھگڑتے ہیں پھر ایک ہو جاتے ہیں ہم دنیا کو اپنی آنکھوں سے، اپنے عالمِ رُویا جیسا دیکھنا چاہتے ہیں اور بڑے ہو کر اسے بدلنے کا عزم بالجزم

Read more

خوابوں کا بستہ

 بچپن کی یادوں میں ایک منظر جو اکثر دھیان میں ابھرتا ہے وہ اسکول کے راستے کا ہے۔ ہلکی ہلکی بارش اور ریتیلے راستے میں اتنے زیادہ کینچوے اور مینڈکوں کے چھوٹے چھوٹے اچھلتے کودتے بچے ہیں کہ قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔ میں احتیاط سے دیکھ دیکھ کر چل رہا ہوں مبادا کوئی کینچوا یا مینڈک کا بچہ قدموں تلے آ جائے۔ چند بڑے لڑکوں کی ٹولیاں تیزی سے آتی ہیں اور راستے کے بہتے پانی میں چھپ

Read more

منافع کی معیشت میں خسارے کا آدمی

یوسف حسن صاحب سے میرے بہت قریبی تعلقات نہیں تھے، بس گاہے گاہے کسی ادبی پروگرام میں یا کسی کے ہاں یا کسی دوست کے ساتھ ان سے ملاقات ہو جاتی تھی۔ راولپنڈی میں میرے گھر شاید وہ ایک دو بار ہی آئے ہوں گے۔ لیکن ایک احترام اور محبت کا رشتہ ہمیشہ رہا۔ مجھے نہیں یاد ان سے پہلی ملاقات کب ہوئی۔ جس زمانے میں راولپنڈی میں حلقہ ء اربابِ غالب، جس کے روحِ رواں یوسف حسن تھے، کے

Read more

کاملہ شمسی: برطانیہ میں ویمن پرائز فار فکشن جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون

برطانیہ میں 2018ء کا ویمن پرائز فار فکشن پاکستانی مصنفہ کاملہ شمسی نے جیت لیا ہے۔ تیس ہزار پاؤنڈ کی انعامی رقم کا یہ ایوارڈ جیتنے والی وہ پہلی پاکستانی نژاد خاتون ہیں۔ کاملہ کو یہ ایوارڈ ان کے 2017ء میں شائع ہونے والے ناول ہوم فائر پر دیا گیا ہے۔ ہوم فائر کاملہ کا ساتواں ناول ہے۔ اس سے پہلے انہیں مختلف ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا تھا جن میں بیلز پرائز اور اورنج پرائز شامل ہیں۔ 2017ء

Read more

پھول کالے، تتلیوں کے پر سلیٹی ہو چکے ہیں

آج ماحولیات کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام 1974ء سے دنیا بھر میں یہ دن ہر سال 5 جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے عام لوگوں میں شعور اجاگر کرنا اور بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے مسائل، گلوبل وارمنگ، موسمیاتی تبدیلیاں، صنعتی و ایٹمی تابکاری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مہلک امراض پر قابو پانے کے لیے مشترکہ عالمی کاوشوں

Read more

جنگجُو کرد عورتوں کا گیت

ہم قطار در قطار پہاڑوں اور جنگلوں سے گزرتی ہیں اور ہوا کی طرح مشکل راستوں پر چلتی ہیں ہمارے قدموں کی دھمک سے موت رقص کرنے لگتی ہے اور ہماری بندوقوں کا رخ دشمن کی طرف ہو جاتا ہے ہم رات کی طرح دشمن علاقوں میں پھیل جاتی ہیں اور ہماری صبح مورچوں میں طلوع ہوتی ہے ہماری آنکھیں تتلیوں کی مانند لمبی گھاس اور خاردار جھاڑیوں میں بلا دقت گھومتی اور آسمان پر پرندوں سے تیز اُڑتی ہیں

Read more

آخری لفظ کے بے کار ہونے تک لکھتے رہو!

کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے دکھ کے مقابلے میں خوشی ناقابلِ حصول ہے یہ سچ ہے کہ چاند اور ستارے اب روشنی کی امید نہیں، بلکہ شب کی علامتیں ہیں جو کثرتِ استعمال سے کلیشے ہو چکی ہیں وقت کے تاریک سمندر میں سورج کے ابھرنے اور ڈوبنے سے بھی اب کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن آخری حرف کے طلوع ہونے کا انتطار تو کیا جا سکتا ہے زمین کائنات کا قبائلی علاقہ ہے، ازلی گنہ گاروں کی آماجگاہ

Read more

ندیاں شاعروں کو جانتی ہیں

بعض احباب فیس بک اِن باکس میں بڑی دلچسپ باتیں اور سوالات پوچھتے رہتے ہیں۔ بالخصوص خواتین۔ کچھ تو باتوں باتوں میں ذاتی معلومات پر مبنی پورا انٹرویو لینا شروع کر دیتی ہیں۔ ادبی زندگی میں تو مَیں انٹرویو کم ہی دیتا ہوں لیکن اس طرح کے غیر رسمی ہلکے پھلکے پُر تجسس سوالوں کا محظوظ کُن جواب لکھنے میں بڑا لطف آتا ہے۔ ایسی ہی ایک مختصر سی تازہ ترین حقیقی چٹ چیٹ ملاحظہ فرمائیے: سوال: آپ کے اتنے

Read more

میرا بیٹا پڑھے گا

پتا نہیں کیوں آج جب میں لکھنے بیٹھا تو ابا جی یاد آ گئے۔ عام طور پر مجھے امی زیادہ یاد آتی ہیں اور ابا جی نسبتاً کم۔ شاید اس لیے کہ ماں ہر معاملے میں بچوں کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے۔ ابا جی سخت گیر تھے اور عملی طور پر زمینداری نہ کرنے کے باوجود گاؤں کا زمیندار ان کے اندر سے زندگی بھر نہیں نکل سکا تھا۔ میں ضلع گجرات کے ایک دور افتادہ گاؤں ناگڑیاں کے

Read more

کائنات کا آخری اداس گیت

مجھے دوستوں نے بالکل تنہا کر دیا ہے وہ میرے لفظوں کو سانس بھی نہیں لینے دیتے اور ان پر اپنی قبروں کی مٹی ڈال دیتے ہیں اس کے باوجود ایک لفظ کبھی کبھی اتنا پھیل جاتا ہے کہ آنکھیں اُس کا نصف محیط بھی نہیں دیکھ سکتیں دیکھو، میں ایک بار پھر تمھارے سامنے ہوں ایک ازلی خواب نامہ رقم کرتے ہوئے روشنی میرے ہاتھوں کی لکیروں میں گرم گرم سیال لاوے کی طرح بہہ رہی ہے اداسی ایک

Read more