مذہبی سچ‘ روحانی سچ اور سائنسی سچ


بعض لوگوں کا ایمان ہے کہ ساری دنیا میں صرف ایک ہی سچ ہے.

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان.

اور بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سچ کو تین حصوں میں بانٹ سکتے ہیں.

مذہبی سچ‘ روحانی سچ اور سائنسی سچ

مذہبی سچ ماننے والے

دنیا کے وہ بچے جومذہبی گھرانوں اور سکولوں میں پلتے بڑھتے ہیں نوجوان ہونے تک مذہبی سچ کو ہی صحیح ماننے لگتے ہیں۔ یہ سچ موروثی سچ ہوتا ہے۔ سماجی سچ ہوتا ہے۔ اجتماعی سچ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے بچے مسلمان‘ عیسائیوں کے بچے عیسائی‘ یہودیوں کے بچے یہودی اور ہندوئوں کے بچے ہندو بن جاتے ہیں۔ دنیا کی ایک بھاری اکثریت مذہبی سچ کو مانتی ہے۔ اس سچ میں خدا پر اندھا ایمان‘ پیغمبروں‘ آسمانی کتابوں پر ایمان اور جنت دوزخ پر ایمان سبھی شامل ہیں۔ اس ایمان میں ذاتی تجربوں کی نسبت بزرگوں کی روایتوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ دنیا کے اکثر لوگ اسی مذہب کو دل سے لگائے مر جاتے ہیں جس مذہب میں وہ پیدا ہوئے تھے اور جو مذہبی سچ انہوں نے اپنے آبا و اجداد سے وراثت میں پایا تھا۔ اگر وہ اپنی روایت کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے لگیں تو احساسِ گناہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مذہبی سچ پر ایمان لانے والوں کا انسانی مسائل اور انکے حل کے بارے میں یہ موقف ہے کہ کائنات کا خالق ایک خدا ہے جس نے انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر قوم میں پیغمبر اور آسمانی کتابیں بھیجیں جو مقدس ہیں۔ جب انسان ان پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کے سچ کو مانتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں تو وہ خوشحال زندگی گزارتے ہیں اور جب وہ ان کو رد کرتے ہیں تو بے سکونی‘ بے اطمینانی اور پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

روحانی سچ ماننے والے

مذہبی گھرانوں میں پلنے والوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو روایتی مذہب کے مقابلے میں ذاتی سوچ اور تجربات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ وہ خدا تک مسجد‘ گرجے‘سناگوگ یا گردوارے کی وساطت سے اور مولوی‘ پادری‘ ریبائی یا پنڈت کے واسطے سے جانے کی بجائے خدا سے بلاواسطہ تعلق قائم کر لیتے ہیں۔ وہ روایتی مذہب سے دور اور غیر روایتی روحانیت کے قریب آ جاتے ہیں۔ وہ مذہبی سچ کی بجائے روحانی سچ پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ وہ شریعت سے دور اور طریقت کے قریب آ جاتے ہیں۔ ایسا سچ انفرادی سچ ہوتا ہے۔ ذاتی سچ ہوتا ہے۔ داخلی سچ ہوتا ہے۔

روحانی سچ پر ایمان لانے والوں کا انسانی مسائل اور ان کے حل کے بارے میں یہ موقف ہے کہ انسانی پریشانیوں کی بنیادی وجہ مادی زندگی سے قلبی لگائو ہے۔ جب انسان دولت و شہرت‘ عیش و عشرت سے دل لگاتے ہیں تو پریشان رہتے ہیں اور جب وہ دنیاوی چیزوں سے قطع تعلق ہو کر خدا سے لو لگاتے ہیں تو پرسکون زندگی گزارتے ہیں۔ ایسے لوگ آہستہ آہستہ سنت‘ سادھو اور صوفی بن جاتے ہیں۔

سائنسی سچ ماننے والے

مذہبی سچ اور روحانی سچ ماننے والوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں ایک اور اقلیت بھی پائی جاتی ہے جو سائنسی سچ مانتی ہے۔ ایسے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایسے سچ کو ماننے کے لیے تیار نہیں جس کی بنیاد روایت یا ذاتی تجربے پر ہو۔ وہ روایتی مذہبی سچ اور ذاتی روحانی سچ کی بجائے سائنسی سچ کو مانتے ہیں کیونکہ ان کی نگاہ میں سائنسی سچ ایک معروضی سچ ہے۔ اس سچ کو آپ منطق سے سمجھ سکتے ہیں اور دوسروں پر ثابت بھی کر سکتے ہیں۔ ایسے سچ کو ماننے کے لیے کسی اندھے ایمان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سائنسی سچ ماننے والے مذہبی اور روحانی سچ کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی ایسے سچ کو ماننے کے لیے تیار نہیں جو معروضی نہ ہو۔

سائنسی سچ ماننے والوں کا یہ موقف ہے کہ انسانی مسائل ان کے نفسیاتی‘ سماجی‘ معاشی‘ معشرتی اور سیاسی حالات سے جڑے ہوئے ہیں۔ انسان ان حالات کا منطقی طور پر تجزیہ کر سکتا ہے اور ان کے حل تلاش کر سکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اکیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے انسانی شعور نے اتنا ارتقا کر لیا ہے کہ اب اسے کسی خدا‘ کسی پیغمبر‘ کسی آسمانی کتاب کی ضرورت نہیں رہی۔ اب وہ اپنی عقل‘ اپنے ضمیر اور سماجی شعور کی روشنی میں اپنے مسائل کا حل تلاش کر سکتا ہے‘ایک بہتر انسان بن سکتا ہے اور انفرادی اور اجتماعی طور پر ایک پرسکون اور پر امن زندگی تخلیق کر سکتا ہے۔۔

جب ہم مختلف لوگوں اور قوموں کے باہمی رشتوں کا مطالعہ اور تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص ‘ گروہ یا قوم اپنے سچ کو ازلی ‘ ابدی اور حتمی سچ سمجھ کر پیش کرتا ہے اور دوسرے کے سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس رویے سے دوسرا شخص یا گروہ یا قوم اپنی ہتک اور بے عزتی محسوس کرتا ہے ۔ اس طرح ایک نظریاتی تضاد کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ نظریاتی تضاد دو انسانوں ‘ دو گروہوں یا دو قوموں کے درمیان جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ نظریاتی تضاد کسی بھی گروہ یا قوم میں قتل و غارت کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔

پچھلی چند صدیوں میں ساری دنیا میں جو سماجی‘ سیاسی ‘ معاشی اور نظریاتی تبدیلیاں آئی ہیں ان میں سے ایک اہم تبدیلی روحانی سچ ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ روحانی سچ کی مقبولیت میں بدھا کی تعلیمات اور بلھے شاہ‘ کبیر داس‘ رابندرناتھ ٹیگور‘ ولیم بلیک‘ والٹ وٹمین اور جلال الدین رومی جیسے سنت‘ سادھو اور صوفی شعرا کی شاعری نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

روحانی سچ کے ساتھ ساتھ سائنسی سچ ماننے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ۱۹۰۰ میں ساری دنیا میں صرف ایک فیصد لوگ ایسے تھے جو یہ کہتے تھے کہ وہ کسی مذہبی یا روحانی سچ کو نہیں مانتے۔ اس گروہ کی تعداد ۲۰۰۰ میں ایک فیصد سے بڑھ کر پندرہ فیصد ہو گئی ہے۔ کینیڈا میں ایسے لوگوں کی تعادا بیس فیصد اور سکنڈینیوین ممالک میں ان کی تعداد پچاس فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔

ان لوگوں کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ سائنسی تحقیقات اور معلومات کی مقبولیت ہے۔ ان تحقیقات میں

چارلز ڈارون کی حیاتیاتی تحقیق

سگمند فرائڈ کی نفسیاتی تحقیق

کارل مارکس کی معاشی تحقیق

سٹیون ہاکنگ کی افلاکی تحقیق

اور دوربینوں اور خوردبینوں کے مشاہدات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان ماہرین حیاتیات‘ نفسیات‘ سماجیات‘ معاشیات اور افلاکیات کی تحقیق نے انسانوں پر یہ واضح کیا ہے کہ وہ انسان اور کائنات کے رشتے کو معروضی انداز سے سمجھ سکتے ہیں‘ مذہب اور روحانیت کے بغیر بھی بہتر انسان بن سکتے ہیں اور کرہِ ارض پر انسان دوستی کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے ایک پرامن معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔

اگر ہم اکیسویں صدی کے سات بلین انسانوں کا تجزیہ کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ان سات ارب انسانوں میں سے چار ارب مذہبی سچ کو‘ دو بلین روحانی سچ کو اور ایک بلین سائنسی سچ کو مانتے ہیں۔ اگر ہم انسانی شعور کے ارتقا کا معروضی تجزیہ کرنے کی کوشش کریں تو یوں لگتا ہے جیسے ساری دنیا کے انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر آسمانی سچ سے زمینی سچ‘ مذہبی سچ سے روحانی سچ اور روحانی سچ سے سائنسی سچ کی طرف سفر کر رہے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “مذہبی سچ‘ روحانی سچ اور سائنسی سچ

Comments are closed.