قبائلی سوچ سے انسان دوستی تک


زمانہِ قدیم میں انسانوں کا طرزِ زندگی نہایت سادہ تھا۔ وہ غاروں اور جنگلوں میں رہتے تھے اور اپنی بقا کے شکار کرتے تھے۔ چونکہ وسائل محدود تھے اس لیے انہیں دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں غذا کی کمی کی وجہ سے فاقہ کشی کی نوبت نہ آ جائے۔ ان میں سے بعض قدرتی آفات اور جنگلی جانوروں کے حملوں سے ناگہانی موت کا شکار ہو جاتے تھے۔ اپنی بقا اور افزائشِ نسل کے لیے وہ چھوٹے چھوٹے قبیلوں میں رہتے تھے اور ایک دوسرے کی حفاظت کرتے تھے۔ مرد اپنے تیروں اور نیزوں سے شکار کرتے اور عورتیں بچوں اور مال مویشی کی دیکھ بھال کرتیں۔ چونکہ ایک قبیلہ دوسرے قبیلے سے خوفزدہ رہتا تھا اس لیے ان میں ’ہم اور وہ‘ US AND THEM کی قبائلی ذہنیت پیدا ہوئی۔ ہر قبیلہ دوسرے قبائل کو ممکنہ دشمن خیال کرتا تھا جو ان کی عورتوں‘ بچوں اور مال مویشی کو چرا کر لے جائے گا۔ اپنے محدود وسائل کی حفاظت کے لیے وہ ہمیشہ قبائلی جنگوں کے لیے تیار رہتے تھے۔

کسی بھی قبیلے کے افراد کا قتل ایک قبائلی جنگ کا آغاز کرتا تھا اور وہ جنگ برسوں کیا، نسلوں تک جاری رہتی تھی۔ ایسی جنگ میں بہت سے مرد‘ عورتیں اور معصوم بچے اپنی جانیں گنوا بیٹھتے تھے۔ کئی مرتبہ ایک قبیلے کا مقصد صرف دشمن کو قتل کرنا نہ ہوتا تھا بلکہ ذلیل کرنا بھی ہوتا تھا۔ اپنے دشمنوں کو فوراٌ مارنے کی بجائے وہ ان کو اذیتیں دیتے تھے تا کہ وہ ایک دردناک موت مریں۔

پچھلے چند ہزار سالوں میں انسانوں نے زندگی کے بہت سے پہلوئوں میں ترقی کی ہے لیکن چند پہلو ایسے ہیں جن کے بارے میں ان کی سوچ اور رویہ آج بھی بہت فرسودہ ہے۔ اکیسویں صدی کے باسی شہروں کی بلند و بالا عمارتوں میں رہتے ہیں‘کارون ریل گاڑیوں اور جہازوں میں سفر کرتے ہیں‘کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے استفادہ کرتے ہیں لیکن ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی سوچ اور شخصیت میں ارتقا نہیں ہوا۔ وہ آج بھی قبائلی سوچ رکھتے ہیں اور قبائلی جنگ لڑنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ قبیلے کی تعریف اور قبائلی جنگ کی ساخت بدل گئی ہے۔

جدید قبائلی سوچ کے عوامل سمجھنے کے لیے ہمیں قبائلی ذہنیت کی نفسیات کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ایسی جنگ اور تشدد کا اظہار کیسے شروع ہوتا ہے اور کیسے برقرار رہتا ہے۔ ایسی جنگوں کے نفسیاتی تجزیے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ جنگیں افراد‘گروہ‘تنظیمیں‘ ادارے یا ممالک شروع کر سکتے ہیں۔ ان جنگوں کی تفصیلات اور جزئیات چاہے مختلف ہوں لیکن ان میں چند خصوصیات مشترک ہیں۔

جو لوگ جدید قبائلی جنگ کا آغاز کرتے ہیں وہ نفسیاتی طور پر غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ پھر وہ جذباتی طور پر ایک ایک قبیلے‘ جماعت یا گروہ سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور پھر وہ ’ہم اور وہ‘ US AND THEM کی ذہنیت کا شکار ہو کر یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ باقی سب ان کے دشمن ہیں اور وہ انتقام لینے یا مستقبل کے حملوں سے بچنے کے لیے دشمن پر حملہ کر دیتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  محبت پاس سے گزرے تو کہُنی مار دینا

اگر ان کے مقابل بھی قبائلی ذہنیت رکھتے ہوں تو اس سے قبائلی جنگ اور تشدد کے چکر کی شروعات ہو جاتی ہیں جو دنوں‘ ہفتوں مہینوں‘ دہائیوں بلکہ صدیوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ مختلف لوگ مندرجہ ذیل وجاہات کی بنا پر قبائلی سوچ کا شکار ہو سکتے ہیں

مذہب: یہودی‘ عیسائی‘ مسلمان‘ ہندو‘ سکھ

فرقے: مسلمانوں میں شیعہ‘ سنی عیسائیوں میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ

نسل: کالے‘ بھورے‘ گورے

جنس: مرد اور عورتیں

زبان: فرانسیسی اور انگریزی‘ اردو اور بنگالی

اگر جنگ ایک نسل سے دوسری نسل تک چلتی رہے تو دونوں دشمن اپنی اپنی قبائلی سوچ اپنی اگلی نسل میں منتقل کر دیتے ہیں۔ نئی نسل اس قبائلی جنگ کو قائم رکھتی ہے اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔ میری نظم ’اسرائیل‘ کے چند اشعار ہیں:

            نفرت بھی عجب اور محبت بھی عجب تھی

            اس شہر میں قربت کی روایت بھی عجب تھی

            دیواریں تھیں ہمراز مگر دل میں خلیجیں

            ہمسایوں کی آپس میں رقابت بھی عجب تھی

            اک باپ کی اولاد مگر خون کے پیاسے

            دشمن تھے مگر ان میں شباہت بھی عجب تھی

             ہر نسل نئی نسل کو دیتی رہی ہتھیار

            اس شہر میں خالدؔ یہ وراثت بھی عجب تھی

 ایسی قبائلی جنگ میں جب ایک قبیلہ دشمن قبیلے کی آگ کا جواب آگ سے دیتا ہے تو وہ رفتہ رفتہ نفسیاتی طور پر اپنے دشمن کے قالب میں ڈھلتا رہتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دشمن کی طرح بن جاتا ہے اور اس کی شخصیت اور سیاسی حکمتِ عملی کو اپنانے لگتا ہے۔

 اکیسویں صدی میں جہاں قبائلی سوچ رکھنے والے انسان موجود ہیں وہیں ایسے لوگ بھی ہیں جو جذباتی‘ سماجی اور تہذیبی طور پر ارتقا یافتہ ہیں اور انہوں نے انسان دوستی کے فلسفے کو اپنا لیا ہے۔ ایسے لوگوں کی بنیادی شناخت ان کا انسان ہونا ہے۔ ان کی ثانوی شناخت مذہب‘ نسل‘ زبان اور قومیت کے حوالے سے ہوتی ہے لیکن جب بھی بنیادی اور ثانوی شناخت میں تضاد پیدا ہوتا ہے تو وہ بنیادی شناخت کے مطابق سوچتے اور عمل کرتے ہیں۔ انسان دوستی کا یہ فلسفہ انہیں قبائلی جنگ سے بچاتا ہے‘ دانشمندانہ فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے اور اپنے مدِ مقابل سے بھی باہمی رضامندی سے فیصلے کرنے میں ممد ثابت ہوتا ہے۔ انسان دوستی کا فلسفہ قبائلی سوچ سے بالا ترہو کر زندگی گزارنے کا حوصلہ دیتا ہے اور تضادات کو پرامن طریقے سے حل کرتا ہے۔ ایسے لوگ تعلقات میں اختلاف کی بجائے مماثلت پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ایسا فلسفہ سیاسی سطح پر جنگ کی روک تھام کرتا ہے اور سماجی طور پر ایک پر امن طرزِ حیات تشکیل دیتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  مسلمانوں جیسے نام....

 ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی ہم میں سے بہت سوں کے تحت الشعور میں ایک قبائلی انسان سو رہا ہے اور جب ہم سماجی یا سیاسی خطرہ محسوس کرتے ہیں تو وہ بیدار ہو جاتا ہے اور قبائلی جنگ لڑنے کے لیے کمر بستہ ہو جاتا ہے۔

 اکیسویں صدی میں سیاسی‘ مذہبی اور معاشی جنگیں لڑی جا رہی ہیں جو غریب ممالک کا استحصال کر رہی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ وہ غریب ممالک جن کے پاس اپنے عوام کو کھانے کو روٹی نہیں وہ ایٹمی ہتھیار تیار کر رہے ہیں۔

 جب ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے لاشعور میں چھپے قبائلی انسان کا ادراک ہو جائے تو ہم شعوری طور پر انسان دوستی کے فلسفے کو اپنا سکتے ہیں اور قبائلی جنگیں لڑنے کی بجائے اپنے اختلافات سے بالا تر ہو کر اپنے انفرادی‘ سماجی اور سیاسی تضادات کو پرامن طریقوں سے حل کر سکتے ہیں۔ اپنے ہمسائے سے محبت کرنا صدیوں سے لوک دانائی کا حصہ رہا ہے۔اکیسویں صدی میں ہمیں ہمسایے کے دامن کو وسیع کرنا ہوگا تا کہ اس میں مختلف اقوام اور ریاستوں کے افراد شامل ہو سکیں۔ اکیسویں صدی میں ہم ایک عالمی گائوں میں زندہ ہیں جہاں سب انسان ہمارے ہمسائے اور رشتہ دار ہیں کیونکہ وہ سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

 اب ہمیں اپنے بچوں کو یہ درس دینا ہے کہ ہماری بنیادی شناخت ایک انسان ہونا ہے۔ ہمیں ان کو رنگ‘ نسل‘ زبان‘ مذہب اور قومیت کی بنیاد پر مبنی قبائلی سوچ سے بالاتر ہو کر زندہ رہنا سکھانا ہوگا۔ ہمیں انہیں گھروں‘ سکولوں اور کالجوں میں بتانا ہوگا کہ ہماری سوچ جو ہمیں ایک حوالے سے یکجا کرتی ہے وہی سوچ ہمیں عالمی برادری سے جدا بھی کرتی ہے۔

 اب جبکہ انسان ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہے وہ اس قبائلی سوچ پر عمل کرتے ہوئے اجتنماعی خود کشی کا مرتکب بھی ہو سکتا ہے۔ انسان دوستی کا فلسفہ ہمارے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر ایک مکمل انسان بننے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اب ہم میں سے ہر ایک کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور اگلی نسلوں کے پر امن مستقبل کے لیے قبائلی سوچ سے بالا تر ہو کر ساری انسانیت کو گلے لگا نا ہوگا۔

 (ترجمہ۔۔۔طاہر امین)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔