سائیکوپیتھ کون ہوتے ہیں؟


جب عام لوگ سائیکوپیتھز کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے ذہن میں ان عادی مجرموں اور سیریل کلرز SERIAL KILLERS کا تصور ابھرتا ہے جو اپنی زندگی کا بڑا حصہ کسی جیل میں گزارتے ہیں لیکن ماہرینِ نفسیات جانتے ہیں کہ سائیکوپیتھز میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دنیاوی طور پر مالدار زندگی گزارتے ہیں لیکن اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ بے ضمیر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں بہت سے بظاہر کامیاب انجینیر، ڈاکٹر، وکیل، بزنس مین، مذہبی اور سیاسی رہنما شامل ہوتے ہیں۔ بعض بین الاقوامی کمپنیوں کے صدر اور سربراہ اور بعض تو ملک کے صدر اور وزیر بھی بن جاتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں میں شخصیت کی ایسی کیا کجی ہوتی ہے جو ایک طویل عرصے تک لوگوں کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہے۔ ایسے لوگوں کی غیر مہذب اور غیر اخلاقی حرکات اپنے خاندانوں اور معاشروں کے لیے بہت سے جذباتی اور معاشرتی مسائل کھڑے کرتی رہتی ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے انسان نہ تو کوئی شرم محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی احساسِ جرم یا احساسِ گناہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی تمام غیر اخلاقی حرکات کی تاویلیں پیش کرتے رہتے ہیں۔

اگرچہ PSYCHOPATHS، SOCIOPATHS، ANTISOCIAL کی اصطلاحات جدید دور کی پیداوار ہیں لیکن ایسے اشخاص کا ذکر تاریخی کتابوں میں ملتا ہے۔ انجیل میں لکھا ہے ’ اس کی زبان پر جھوٹ اور خرافات ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں کو دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ وہ بستیوں کے قریب چھپ کر معصوموں کا انتظار کرتا ہے جیسے شیر اپنے شکار کی تاک میں رہتا ہے، وہ مجبور اور بے سہارا لوگوں کو گھسیٹ کر اپنے کچھار میں لے جاتا ہے۔ وہ ان کو کچل دیتا ہے۔ بے بس لوگ نڈھال ہو کر اس کی طاقت سے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں، ’اس کا ہاتھ سب انسانوں کی گردن پر ہوگا اور سب انسانوں کا ہاتھ اس کی گردن پر ہوگا‘۔

ارسطو کےایک شاگرد تھیوفراسٹس نے ایسی شخصیت کو ”بے اصول شخص“ کا نام دیا تھا اور کہا تھا ’ وہ لوگوں سے قرض مانگتا لیکن قرض واپس نہیں کرتا۔ وہ قصاب سے گوشت خریدتے ہوئے اپنی کسی خدمت کی یادہانی کراتا ہے تا کہ وہ اسے زیادہ گوشت دے اور اگر وہ نہیں دیتا تو جاتے ہوئے ہنسی مذاق کرتا ہوا ایک دو ہڈیاں اور بوٹیاں لے اڑتا ہے۔
انیوسیں صدی کے ماہرِ نفسیات فلپ پائنل نے لکھا تھا کہ ایسے لوگوں کی سوچ منطقی ہوتی ہے لیکن اعمال نہایت غیر مہذب اور غیر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے اعمال مریضانہ ہوتے ہیں لیکن وہ ذہنی مریض نہیں ہوتے۔

بیسویں صدی کے ماہرین نے ہمیں بتایا کہ ایسے لوگ پرسنیلٹی ڈس آرڈر کا شکار ہوتے ہیں شیزوفرینیا کا شکار نہیں ہوتے اس لیے ان کی تشخیص مشکل ہوتی ہے۔ اسی لیے بعض ماہرین ایسی شخصیت کی کجی کو اخلاقی خفقان کا نام دیتے ہیں۔

سائیکوپیتھز کے بارے میں جو کتاب سب سے زیادہ مقبولِ عام ہوئی وہ 1950 میں ہاروی کلیکلی HARVEY CLECKLEY کی کتاب THE MASK OF SANITY ہے۔ یہ کتاب ایسی پراسرار شخصیات کو سمجھنے میں سنگِ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ کلیکلی نے اس کتاب میں سائیکوپپیتھک شخصیت کے مالک لوگوں کی کہانیاں لکھیں اور ثابت کیا کہ ایسے لوگ صرف مجرموں کی صفوں میں ہی کھڑے نظر نہیں آتے بلکہ کئی کامیاب بزنس مین اور سیاسی رہنما بھی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اکثر اوقات اس لیے پہچانے نہیں جاتے کیونکہ وہ قانون کی زد میں نہیں آتے۔ کلیکلی کا خیال تھا کہ ایسے لوگ ایک نارمل زندگی کا روپ دھارے یا ماسک پہنے رہتے ہیں۔ اسی لیے اس نے اپنی کتاب کا نام THE MASK OF SANITY رکھا تھا۔ 1980 میں ایک اور ماہرِ نفسیات رابرٹ ہیر ROBERT HARE نے کلیکلی کی کتاب کو بنیاد بنا کر ایک سوال نامہ تیار کیا جس کی مدد سے ماہرینِ نفسیات پولیس افسر، جیلوں اور عدالتوں میں کام کرنے والے لوگ ایسی شخصیت کو پہچان سکتے ہیں۔ ہیر HARE نے ہمیں بتایا کہ سائیکوپیتھز کی شخصیت میں جو کجی ہوتی ہے اس کی وجہ سے ان کی شخصیت میں مندرجہ ذیل خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں۔

1۔ شخصیت کی سطحی کشش SUPERFICIAL CHARM
2۔ غرور و تکبر
3۔ تفریح کی غیر موجودگی میں جلد بور ہو جانا
4۔ حد سے زیادہ جھوٹ بولنا
5۔ مکاری اور چالبازی
6۔ احساسِ شرم اور احساسِ جرم کا فقدانLACK OF SHAME AND GUILT
7۔ خوشی اور غم کا سطحی پن
8۔ اوروں سے ہمدردی کا فقدان LACK OF EMPATHY
9۔ اوروں کے سہارے زندگی گزارنا
10۔ جلد آپے سے باہر ہو جانا
11۔ بہت سے لوگوں سے بیک وقت جنسی تعلقات رکھنا
12۔ اوائلِ عمر سے ہی بے راہ روی
13۔ غیر ذمہ داری کی زندگی گزارنا
14۔ اپنے اعمال کے نتائج کو قبول نہ کرنا

چونکہ سائیکوپیتھز بے ضمیر ہوتے ہیں اس لیے وہ نہ تو مذہب کا احترام کرتے ہیں اور نہ قانون کا لیکن چونکہ وہ بہت ذہین ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنی چالاکی اور مکاری سے قانون کی زد سے بچ جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایسی کشش بھی ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ انہیں ’نہ، نہیں کہہ سکتے اور وہ اپنی شخصیت کی کشش کا ناجائز فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ سائیکوپیتھز آخری دم تک اپنے مقاصد کے لیے جائز اور ناجائز طریقوں سے لڑتے رہتے ہیں۔

دنیا کے جن ممالک میں نفسیات کی تعلیم عام ہو رہی ہے وہاں زیادہ سے زیادہ لوگ ایسی شخصیات کو پہچاننے لگے ہیں تا کہ وہ ان کے جال میں نہ پھنسیں۔ ایسے لوگ نہ صرف اپنے لیے نفسیاتی اور سماجی مسائل پیدا کرتے ہیں بلکہ اپنے خاندانوں اور معاشروں کو بھی پریشان رکھتے ہیں۔

ماہرینِ نفسیات امید رکھتے ہیں کہ جوں جوں نفسیات کی تعلیم عام ہوگی توں توں ایسے لوگوں کی کجی بے نقاب ہوگی اور عوام ایسے لوگوں کی چالاکی اور مکاری سے بچ سکیں گے۔

اگر ہم عالمی سیاست کا جائزہ لیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ نجانے کتنے عالمی مذہبی، سماجی، معاشی اور سیاسی رہنما ایسے ہیں جو سائیکوپیتھز ہیں اور عالمی امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے غریب ممالک کا استحصال کرنا اور اپنی انا کی تسکین کے لیے ان گنت معصوم جانوں کا قتل کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ایسے لوگ بے ضمیر ہیں اور وہ کسی مذہبی، قانونی یا اخلاقی روایت کا احترام نہیں کرتے۔ ایسے لوگ انسانیت کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔